کاروانِ قلم کے روحِ رواں‎

اٹک شہر کی معروف ادبی تنظیم “کاروان قلم” کے روح رواں نزاکت علی نازک 18 فروری 1971ء کو اٹک شہر میں پیدا ہوئے اور اسی شہر میں تعلیم حاصل کی۔ آپ کو اردو ادب سے پیار تھا۔ اس لیے اپنے شوق کو پایہ ء تکمیل تک پہنچانے کے لیے آپ نے اٹک شہر میں ایک ادبی تنظیم “کاروان قلم ” کی بنیاد 21 جنوری 2000ء کو رکھی جو کہ آج تک ادب کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔اس ادبی تنظیم میں بہت سارے شاعر اور ادیب  سامنے آئے جن میں سے ایک میں بھی ہوں۔ نزاکت علی نازک صاحب نئے بندے کو متعارف کرانے میں دیر نہیں لگاتے ہیں جس کی وجہ سے بعض ہم عصر ان کو کہتے رہتے ہیں کہ پہلے اس کا کلام تو چیک کر لیتے۔ لیکن نزاکت علی نازک کسی کی پرواہ کیے بغیر نو واردان ادب کو قلم ،کاغذ اور سٹیج پر مائیک تھما دیتے ہیں جس کے بہت مثبت اثرات دیکھے گئے ہیں۔عسکری فرائض کی بجا آوری کے بعد میں اٹک میں اسی ادبی تنظیم کے درخشاں ستارے نزاکت علی نازک سے ملا جن کی ادب پروری ،محبتوں اور شفقتوں نے مجھے اس شہر میں متعارف کرایا ۔محبتیں بانٹنے والا یہ ادیب ہمیشہ اپنی شفقت سے پہچانا جاتا ہے۔اٹک اور بیرون شہر سے ادیب کاروان قلم میں آ کر اپنا کلام سنانا فخر سمجھتے ہیں۔کیونکہ اس پلیٹ فارم نے ان سب کو بہت عزتوں سے نوازا ہے۔ کتابوں کی رونمائی ہو یا کوئی نعتیہ مشاعرہ،غزل خوانی ہو یا نظمیہ بزم ہر قسم کے مشاعرے کرانا نزاکت علی نازک کا خاصہ ہے۔

nazakat

اپنے معزز مہمانوں کو کھانا اور ٹی بریک سے انٹرٹین کرنا بھی اپنے کندھے پر ہی برداشت کرتے ہیں۔ اردو ادب کی دنیا میں ان کی خدمات قابل ستائش ہیں۔نزاکت علی نازک آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نعت گوئیکرتے ہیں اس کے علاوہ سلام،نوحہ،منقبت،غزل،نظم سرائیکی پنجابی اور اردو میں بھی لکھتے ہیں ان کی مدحت اور سلام میں ایک عجیب سرشاری اور طمانیت ملتی ہے جو سر مستی وکیف پیدا کرتی ہے۔ جس میں وفور عشق اور جزب  کا ایک مسلسل بہاو ہوتا ہے  جو کہ مدحت کے ہر حرف کو گوہر آبدار کی طرح  رکھتا ہے۔ آپ چونکہ پچپن ہی سے علمائے کرام کو سنتے آ رہے ہیں  اس لیے آپ کی شخصیت انتہائی متوازن ہے۔آپ کے سلام میں والہانہ پن،سلاست، سہل ممتنع اور گداز کی کیفیت پائی جاتی ہے۔  ان کا اکثر کلام غزل کے بے تاج بادشاہ غلام علی کے شاگرد فخر اٹک جناب نسیم علی صدیقی نے بھی گایا ہے جو کہ یو ٹیوب پر ایک کلک سے بڑی آسانی کے ساتھ مل جاتا ہے۔نزاکت علی نازک نے ابتدا میں لاہور پاک ٹی ہاوس میں حلقہ ارباب ذوق کے اجلاسوں میں شرکت کی ہے۔ احمد ندیم قاسمی سے بھی ان کی ملاقاتیں رہیں ہیں۔ آپ قندیل ادب کےجنرل سیکرٹری بھی رہے۔ ان کا کلام مختلف ادبی رسالوں میں چھپا جن میں سے اٹک کا مایہ ناز ادبی مجلہ “جمالیات” حضرو کا ادبی رسالہ “تیسرا رخ” اٹک سے شائع ہونے والا نعتیہ مجلہ “فروغ نعت اور سرگودھا سے شاکر کنڈان کے ادبی رسالہ “عقیدت”  گوجرانوالہ کے ادبی رسالے “مفیض” اور پنجابی کے ادبی رسالے ورولے میں بھی شائع ہوا۔ آپ نے 30 صفحات پر مبنی ایک کہانی” عشق نہ پچھے ذات” بھی لکھی جس پر ایک تنقیدی اجلاس بھی قندیل ادب میں بیٹھا۔روزنامہ نوائے وقت اور اب روزنامہ اساس میں بھی ان کا کلام شائع ہوتا ہے۔خیبر پختون خواہ کے پہلی سے تیسری جماعت کے لیے بھی بچوں کے لیے نظمیں ان سے مانگی گئیں جن کی اشاعت کی ابھی تک خبر نہیں ہے۔کاروان قلم کے آغاذ میں نزاکت علی نازک نے ایک سہہ ماہی رسالہ “حروف” بھی شروع کیا جس کا بس ایک ہی شمارہ منصہءشہود پر آ سکا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ کاروان قلم کے سال بھر کے مشاعروں اور تنقیدی اجلاسوں کی کاروائیوں کو بھی آپ نے “روداد سفر” کے نام سے شائع کیا۔ جس کا انتساب بھی “نوواردان ادب” کے نام پر کیا جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نئے آنے والے ادیبوں کو کس طرح خوش آمدید کہتے ہیں۔نزاکت علی نازک پیشے کے اعتبار سے جیولر تھے۔ جن کی اٹک صرافہ بازار میں ایک “بسم اللہ جیولر”کے نام سے دوکان ہوتی تھی۔ میں نے بعض ادیبوں سے سنا ہے۔کہ سارے ادیب اسی دوکان میں جا کر بیٹھتے تھے اور اردو ادب پر گفتگو ہوتی تھی۔چائے کا دور بھی روزانہ چلتا تھا نزاکت علی نازک ادب پروری کے ساتھ ساتھ مہمان نواز بھی تھے۔ اس لیے معروف ادیب اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں شعبہ ء اردو کے پروفیسر جناب ارشد محمود ناشاد صاحب “بسم اللہ جیولرز” کو “نزاکت کیفے” کے نام سے پکارتے تھے۔ اور دوسرے ادیب اس کو “اٹک ٹی ہاوس” کے نام سے یاد کرتے جس کی دلفریب یادیں آج بھی ادیبوں کےدلوں میں زندہ ہیں۔ اس ضمن میں ان کے یہ دو شعر ہمیشہ یاد دلاتے رہیں گےوہ ہستی ایسی ہستی ہے تصور میں جو آ جائےمیں سر کو رکھ کے سجدے میں اٹھانا بھول جاتا ہوںکسی بیوہ کی جب خالی کلائی دیکھ لوں نازکسہاگن کے لیے کنگن بنانا بھول جاتا ہوںنزاکت علی نازک کی ادب پروری کو اٹک میں اور اٹک سے باہر بھی تسلیم کیا گیا اور ان کو تین ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔سب سے پہلے میونسپل کمیٹی حضرو نے ان کو معروف ادیب انور مسعود کے ہاتھوں “امن ایوارڈ” دیا۔دوسرا کامرہ شہر کی ادبی تنظیم “قلم قبیلہ” کی طرف سے “حسن کارکردگی” پہ ایوارڈ دیا۔تیسرا اٹک میونسپل کمیٹی نے ان کو منصور آفاقی کے ہاتھوں  ایوارڈ دیا۔یہ تینوں ایوارڈ نزاکت علی نازک کے ادب سے لگاو اور حسن کارکردگی کو دیکھ کر دیئے گئے۔

جن کو اردو ادب کے ستاروں نے سراہا۔آل پاکستان شعرا کا سلام پر مبنی کلام بھی آپ نے اکھٹا کیا ہوا ہے جس کا عنوان “ہمارے ہیں حسین علیہ اسلام” ہے جو کہ زیر اشاعت ہے۔ اس کے علاوہ ان کی کتاب “اٹک کے نعت گو شعرا “بھی زیر ترتیب ہے۔میرے خیال کے مطابق اٹک میں اردو ادب کی پہلی تنظیم “محفل شعروادب” تھی۔ جس کے بانی معروف ادیب اور درویش جناب نزر صابری رح تھے۔ جس کی دھوم بہت دور دور تک سنی جاتی تھی۔ جس میں باقاعدہ شعرا کی تربیت کی جاتی تھی۔ محفل شعروادب کے بعد سب سے زیادہ پزیرائی “کاروان قلم” نے حاصل کی۔مجھے کاروان قلم میں جن ادیب و شعرا یا ادب سے لگاو رکھنے والے افراد کو سننے اور ملنے کا موقع ملا ان میں ارشد محمود ناشاد، سعادت حسن آس،پروفیسر غلام ربانی ،پروفیسر مشبر حسین سید، مشتاق عاجز،سید شاکر القادری، سید ناصر زیدی، دلاور علی آزر، طاہر اسیر، خوشبوئے اٹک حسین امجد،نزاکت علی نازک،سجاد حسین ساجد،محسن عباس،احسان بن مجید،پروفیسر نصرت بخاری،ثقلین انجم، نادر وحید،ارشاد علی، ڈاکٹر شجاع اختر اعوان، سردار ایاز خالد،اقبال زرقاش،کیپٹن عبداللہ، میجر یاسین، مونس رضا شاہ،خرم خلیق،عبدالماجد،احسن الدین،سید تصور بخاری،شمشیر حیدر،راشد علی زئی، فرحین چوہدری، اور بہت سے شعرا شامل ہیں۔مجھے کاروان قلم کے سارے قلم کاروں سے مل کر وہ محبت ملی کہ اس شہر سے باہر کہیں جانے کو دل ہی نہیں کرتا۔کاروان قلم کے پلیٹ فارم سے 2019ء کے محرم الحرام کے سلسلے میں پانچ پروگرام ریڈیو ایف ایم نائینٹی پوائنٹ فور دبنگ ریڈیو سٹیشن پر نزاکت علی نازک نے کرا کر اپنا لوہا منوایا۔ جس میں اٹک شہر کے علاوہ کامرہ،حضرو، حسن ابدال،ٹیکسلا اور واہ کے شاعر بھی شامل تھے۔ فروغ ادب اور خصوصا اردو ادب کے فروغ کے لیے نزاکت علی نازک سب سے زیادہ متحرک شخصیت ہیں ۔ان کی ادب پروری پر ہم سارے ادیب ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔میرے ایک سوال کے جواب پر نزاکت علی نازک صاحب نے مجھے کہا کہ وہ اردو ادب کے فروغ کے لیے مستقبل قریب میں اپنی کوشش مزید تیز کر رہے ہیں۔ کیونکہ کہ موجودہ نسل سوشل میڈیا کی وجہ سے اپنی روشن اقدار کو بھلا رہی ہے اسے پھر قلم کی طرف لانا ہو گا۔ اس میں پھر سوچ کا انقلاب برپا کرنا ہو گا ۔سوچنے کے متعلق اللہ تعالی نے بھی قران پاک میں کئی بار حکم دیا ہے۔ اور موبائل سے نوجوان نسل کو ہٹا کر قلم کی طرف لانا ہو گا کیونکہ اس “قلم” کی رب نے بھی قسم کھائی ہے۔کاروان قلم کے ہر فرد اور نزاکت علی نازک کے لیے خصوصا میں دعاگو ہوں کہ خدا وند غفار ان کو ہمیشہ قائم رکھے۔ اور ان کی توفیقات میں اضافہ فرمائے تا کہ قلم بھی زندہ رہے اور کتاب بھی زندہ رہے اور یہ محبتوں کے قافلے دھنک رنگ بنتے رہیں ۔آمین

حبدار قائم

سید حبدار قائم

اٹک

حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے ١1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

Next Post

عالمی نعتیہ مشاعرہ

پیر جون 7 , 2021
پیر نصیر الدین نصیر رحمۃ اللہ علیہ کے طرحی مصرعے " تھى جس کے مقدر مىں گدائی ترے در کی" پر اىک آن لائن انٹرنیشنل مشاعرہ منعقد ہوا
madina