اسلام میں عیدین کا تصور

آج یکم شوال المکرم ۱۴۴۳ ہجری بمطابق ۳ مئی ۲۰۲۲  ء پوری دنیا میں بسنے والے مسلمان ہجری تقویم کے مطابق چودہ سو بیالیسویں عید الفطر منا رہے ہیں۔ اسی مناسبت سے ہماری یعنی میری، ایڈیٹرز اور اس ویب میگزین کے لکھاریوں کی طرف سے عید مبارک قبول فرمائیے۔

لفظِ عید عربی زبان کا لفظ ہے۔ جس کے معنی خُوشی و مسرت کے ہیں۔ لفظِّ عید کا بنیادی مادہ   ; عَوَدَ ؛ ہے ۔ جس کے معنی لوٹ یا پلٹ کر آنا ہے۔ یعنی جو دن خُوشی و انبساط لیے بار بار لوٹ کر آئے۔ لفظِ عید اصطلاحی اعتبار سے اپنے اندر بہت وسعت سمیٹے ہوئے ہے۔ وہ دن کہ جس روز فرد یا معاشرہ یا قوم و ملت مشکلات یا تکالیف سے نکل کر خُوشیوں کی طرف لوٹ آئے روزِ عید ہی کہلائے گا۔

انسانی تاریخ کے عمیق مطالعے سے معلوم ہو گا کہ ہر دور میں مختلف مذاہب کے ماننے والے اور ہر ثقافت سے تعلق رکھنے والی قومیں مختلف تہواروں کی شکل میں عیدیں مناتے آئے ہیں۔ عیسائی آج بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے یومِ ولادت کو عید کے طور پر مناتے ہیں۔ دورِ جاہلیت سے نجات اور اسلام کی حقانیت پھیلنے کے بعد عیدِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ پوری مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ پورے عالمِ اسلام میں عید کے طور پر منایا جاتا ہے۔ عید کے لفظ کے ساتھ قُرآن ِ مجید میں صرف ایک ہی آیت ملتی ہے جو کہ سورۃ المائدہ کی آیت ۱۱۴ ہے۔ جو ہمارے لیے عید کے مفہوم و معنی کو زیادہ بہتر اور واضح انداز میں سمجھنے کے لیے مددگار ہو گی ارشاد باری تعالیٰ ہوا کہ

قَالَ عِيْسَی ابْنُ مَرْيَمَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا اِنْزِلْ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِيْدًا لِّاَوَّلِّنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّنْكَ ج وَارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَيْرُالرَّازِقِيْنَ *

المائدہ ۱۱۴

تب عیسیٰ ابنِ مریم نے دعا کی! اے اللہ : اے  ہمارے پروردگار! ہمارے لیے آسمان سے کھانا نازل فرما۔ تا کہ ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے وہ دن عید اور تیری طرف سے نشانی قرار پا جائے۔ اور ہمیں رزق دے کہ تو ہی بہترین رزق دینے والا ہے۔

سورۃ المائدہ کا عنوان بھی آیت ۱۱۲ سے ۱۱۴ تک دو بار المائدہ یعنی خوان/ کھانا ہے۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اصحاب کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے) نے اُن سے کہا کہ کیا آپ کا رب  ہمارے لیے آسمان سے کھانا نازل فرما سکتا ہے؟ یاد رہے کہ یہ سوال حواریوں کی طرف سے اس وقت اُٹھایا گیا جب وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان کا اعلان کر چکے تھے۔ پھر بھی اُن کی طرف سے ایسا مطالبہ کیوں ہوا تو اسی کے جواب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو جب تم ایمان لا چکے ہو تو ایسا مطالبہ کیوں۔ ؟ اللہ سے ڈرو۔

لیکن حواریوں نے اپنے مطالبہ کے جائز ہونے۔ نیک نیتی پر مبنی ہونے اور ایمان کے منافی نہ ہونے پر یہ دلائل پیش کیے۔ * اس خوان سے کھا کر ہمارے دلوں میں اطمینان آئے گا  * آپ کی نبوت کی صداقت پر ایک اور تازہ معجزہ سامنے آئے گا  * دوسروں کے لیے ہم آپ کی نبوت کی گواہی دیں گے۔ اس سیاق کے بعد مندرجہ بالا آیت بتا رہی ہے کہ اُن کے منطقی دلائل حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے قبول کیے۔ اور نزولِ مائدہ کی دعا فرمائی اور فوائد کی طرف اشارہ بھی فرمایا کہ * نزولِ مائدہ پوری امت کے لیے عید بن جائے۔* اُمتِ عیسیٰ علیہ السلام کے لیے خصوصی نشانی کی حیثیت اختیار کر لے * اللہ تعالیٰ کی طرف سے براہِ راست رزق کی سعادت سے مالا مال ہو جائے۔ ان تمام مطالب کو بیان کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہم عید کے معنی و مطالب سے درست طور پر آگاہ ہو سکیں اور میرے خیال میں عید کے معنی کے ساتھ ساتھ مقاصد بھی اس آیت سے واضح ہو رہے ہیں اور میری اس کے بعد کی گذارشات کو سمجھنے میں یہ مطالب ممد و معاون ثابت ہوں گے۔

خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ  کے مکہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے دوسرے سال  پہلی دفعہ مسلمانوں پر روزے فرض کیئے گئے۔ ماہِ صیام کے اختتام پر شوال المکرم کا چاند دیکھنے کے بعد حضور نبی مکرم ﷺ  نے اہلِ مدینہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔

ہر قوم کے لیے عید تھی اور ہے۔ تم بھی مختلف تہواروں کی صورت میں عیدیں مناتے تھے۔ اللہ نے یکم شوال کو تمہارے لیے روزِ عیدالفطر قرار دیا ہے۔ اور آپ ﷺ نے اہلِ ایمان کو اس دن غسل کرنے ، صاف ستھرا لباس پہننے اور خوشبو لگا کر صبح طلوعِ آفتاب کے بعد نماز عید کا حکم دیا۔ یوں یہ تمام اعمال سنت مؤکدہ قرار پائے۔ تب سے آج تک اور آج سے قیامت تک مسلمان یہ عید مناتے رہیں گے

فرمان رسول اکرم ﷺ

مندرجہ بالا آیت کے مطالب پر غور کریں تو واضح ہو گا کہ رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے نزولِ مائدہ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اس ماہِ مبارک میں غریب سے غریب مسلمان کے گھر پر رزق کی جیسے بارش ہوتی ہے۔ بشرطیکہ روزہ دار ہوں۔ جیسے آسمان سے کھانے نازل ہو رہے ہوں رمضان المبارک کی کرامت سے ایسے مائدہ یعنی خوان ملتے ہیں کہ پورا سال بندہ حیرانی میں مبتلا رہتا ہے کہ یہ قسم قسم کے کھانے آتے کہاں سے ہیں۔ اور رزق میں اس قدر برکت کیسے ہوتی ہے۔ اور آیت کے مطابق اگر امتِ محمدی ﷺ پر تطابق کیا جائے تو ماہِ رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی نعمتِ کبیرہ ہے۔ اسی ماہِ مبارک میں ایک رات ایسی بھی رکھ دی گئی کہ جسے قُرآن نے ہزار راتوں سے افضل قرار دیا۔ اور اپنے بندے کو دعاء واستغفار کے نتیجے میں بخشش کی نوید دی۔ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نبوت پر تا بہ قیامت یہ رمضان المبارک اور شبِ قدر محکم دلیل بن گئی۔ اور آپ ﷺ کے رحمۃ اللعالمین ہونے کی نشانی کی حیثیت اختیار کر گئی۔

رمضان المبارک اپنے دامن میں تجلیاں، رعنائیاں، رونقیں، برکتیں، رحمتیں، عفو سمیٹے تشریف لاتا ہے۔ اور صاحبان معرفت کو تزکیۂ ِ نفس اور تازگیءِ ایمان کی خوشی و مسرت دے کر چلا جاتا ہے۔ روزہ ایسی عبادت ہے جو امتِ مسلمہ کو بھوک اور پیاس کی شدت کا احساس دلا کر ایثار و قربانی، نظم و ضبط اور صبر و تحمل و بردباری پر آمادہ کرتا ہے۔ جو انسان کو صابر و شاکر بنا دیتا ہے۔ اور اگر یہ روزہ ہمارے اندر یہ محاسن و خوبیاں پیدا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو ہمیں عید منانے کا بھی کوئی حق نہیں ہے۔

رمضان المبارک کے دوران اسلامی تعلیمات ہمیں صدقہ و خیرات اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم بھی دیتی ہیں ۔ صاحبِ حیثیت مخیِر حضرات کو اللہ کے دیئے ہوئے مال سے مستحق غرباء و مساکین میں تقسیم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ چنانچہ سورۃ البقرہ کی ابتدا میں ہی ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ یہ قُرآن مجید وہ کتاب ہے جو شک و شبہ سے بالاتر ہے اور صرف متقین کے لیے ہدایت ہے اور پھر تیسری آیت میں متقین کی تین نشانیاں بیان فرمائیں کہ وہ غیب پر ایمان رکھتا ہے اور نماز قائم کرتا ہے اور پھر فرمایا کہ متقی وہ ہے جو کہ

وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ * جو کچھ کہ ہم نے اُنہیں عطا کیا اُس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتا ہے۔

یہ آیات اور تقویٰ بذاتِ خود بہت تفصیلی مضمون کی متقاضی ہیں لہٰذا اس موضوع پر آئندہ اِن شآءاللہ کچھ لکھنے کی کوشش کروں گا فی الحال ضرف جاری موضوع پر بات کرتے ہوئے اتنا کہوں گا کہ کتنا مہربان رب ہے وہ اللہ رب العزت کہ مال بھی خود ہی عطا فرماتا ہے اور اپنے دیئے ہوئے مال میں سے معاشرے کے مستحق افراد میں تقسیم کرنے پر مومن کی سَند بھی عطا فرماتا ہے۔

اسی معاشرتی اخوت و مؤدت کی خاطر رمضان المبارک کے اختتام پر فطرہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس ادائیگی کے عمل کو رمضان المبارک کے دوران کی گئی تمام دعاؤں اور عبادات کی قبولیت کی سند قرار دیا گیا۔ اور پھر اختتامِ رمضان المبارک۔ کامیابی سے اللہ تعالیٰ کے احکامات کی بجا آوری کی خوشی میں عید منانے کا حکم دیا گیا اللہ کریم نے عید کی خوشیوں کو محض ذاتی اور نجی یا خاندانی سطح تک محدود کرنے کی بجائے ان خوشیوں میں اُن تمام اہلِ اسلام کو بھی بلا امتیاز شامل کرنے کا حکم دیا ہے کہ جو کسمپرسی، بے کسی ، عُسرت، مجبوری یا معذوری کی وجہ سے عید منانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

معزز و محترم قاری! آئیے آج یومِ عیدالفطر کی اس چہل پہل میں اُن چہروں کو تلاش کریں کہ جن پر یاس و حسرت کی زردی جھلک رہی ہو۔ آپ کے شہر، گاؤں اور قصبہ میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو مستحق ہیں مگر عزت اور سفید پوشی کے بھرم میں ہاتھ نہیں پھیلا سکتے۔ اگر ایسے حقیقی مستحق افراد تک آپ کی زکوٰۃ، صدقات اور خیرات نہ پہنچ پائے تو روزہ داری اور عبادات شاید درجہءِ قبولیت تک نہ پہنچ پائیں اور عید کی حقیقی خوشیاں بھی نہ مل پائیں۔

رمضان المبارک کا مہینہ جو عظمت و شرف میں تمام مہینوں سے افضل و اعلیٰ ہے۔ وہ فضیلتوں کا مقدس مہینہ ہم سے رخصت ہوا۔ اگلے برس اللہ کے اس مقدس مہمان کی میزبانی کا شرف کسے حاصل ہوتا ہے؟ یہ راز اس عالم الغیب کے سوا بھلا کون جان سکتا ہے۔ ہمارے بہت سے اقرباء و احباب گذشتہ برس ہم میں موجود تھے لیکن اب کے برس نہیں ہیں۔ اور جو آج موجود ہیں کسے خبر کہ وہ اگلے برس ہوں گے یا نہیں۔ یہ خاص سلسلہ تو دائمی نظام کا پابند چلا آتا ہے۔ جو رخصت ہوئے اُن کے لیے بخشش کی دعا جو ہیں صحت و سلامتی کی دعا۔

رمضان المبارک اور عیدالفطر ہمیں باہمی محبت، اُلفت، یگانگت اور اخوت کا درس دیتی ہے۔ یہ عید مساواتِ محمدی ﷺ کے عملی مظاہرے کا دن ہے۔ وہ درسِ مساوات کیا تھا۔؟ یہ کہ ہم سب اللہ کے بندے ہیں۔ غربت و ناداری اور دولت و اقتدار کے باوجود پروردگار عالم کی بارگاہ میں یکساں جواب دہ ہیں۔ اور ہاں ان عید کی خوشیوں میں کشمیر و فلسطین، شام و لبنان اور یمن کے مظلوموں کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں۔ جو غلامی سے چھٹکارے  کے لیے برسرِ پیکار ہیں آئیے ہم اپنی آزادی کی حفاظت اور استحکام پاکستان کی خاطر اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق کو قائم رکھیں۔ اللہ تعالیٰ تا بہ قیامت ہمارے وطن پاکستان کو قائم و دائم رکھے اور تمام طاغوتی طاقتوں کی غلامی سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین 

جاری ہے

اگر زندگی رہی تو اِن شآءاللہ  عید الاضحیٰ پر یہ مضمون مکمل ہو جائے گا ۔

monis raza

سیّد مونس رضا

معلم،مدبر،مصنف

مونس رضا

ریٹائرڈ او رینٹل ٹیچر گورنمنٹ پائیلیٹ ہائر سیکنڈری اسکول اٹک شہر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Next Post

عید

منگل مئی 3 , 2022
عید عربی زبان ک لفظ ہے جو عود مصدر سے مشتق ہےجس کے معنی بازگشت ،لوٹنے ، واپس ہونےاور پلٹنے کے ہیں یعنی ایسا خوشی کا دن جو بار بار پلٹ کر آئے
عید