Tag: مسقط

  • سند باد

    سند باد

    تحریر و تحقیق : شاندار بخاری

    مقیم مسقط

    سندباد کا نام سنتے ہی ذہن میں خیال آتا ہے کہ کوئی ایسا شخص ہوگا جو کشتی میں سوار دنیا کی سیر کرتا تھا ، بھٹکے ہوئے بحری جہازوں کو راستہ دکھاتا تھا ، بحری قزاقوں سے لڑتا تھا ، ان سے لوٹا ہوا خزانہ مال و جواہر کسی دوردراز خفیہ جزیرے پر جمع کر رکھتا تھا ، دیوہیکل وہیل مچھلیوں کے ساتھ تیرتا تھا تو اگر ایسا تھا تو آپ کا خیال بالکل درست ہے کچھ ایسے ہی تھے حضرت سندباد صاحب تو آئیے آج میں آپ کو ان کی کہانی اور ان سے منسوب دیگر کہانیوں کو تحریری شکل دے کر آپ سے ان کی ملاقات کرواتا ہوں جو کہ یقینا آپ کو پسند آئے گی۔

    سندباد جہازی
    سندباد جہازی

    یوں تو سندباد کو لے کر کئی  کہانیاں موجود ہیں جن میں سرفہرست ألف ليلة وليلة ہے کہا جاتا ہے کہ ایران کے بادشاہ شہریار اپنی بیگمات کو ایک مخصوص مدت کے بعد قتل کروا دیتے تھے تو موت سے بچنے کیلئیے ایران کی ملکہ شہرزاد نے یہ الف لیلا کی کہانیوں کا سلسلہ شروع کیا اور ہر روز ایک نئی کہانی سنا کر اپنی جان بچا لیتی تھی ، اس کے علاوہ ھارون الرشید کے زمانے کے قصوں میں بھی سند باد کا ذکر ملتا ہے ، ہالی ووڈ میں اس پر فلمیں بھی بنیں اور کئی مصوروں نے اپنی حکایات میں ان کی تصویریں بنا کر شامل کیں لیکن جو واقع اور قصہ سب سے دلچسپ ہے وہ سر زمین عرب میں واقع ملک سلطنت عمان سے وابستہ ہے تو آئیے آپ کو وہاں لے چلتے ہیں۔

     بادشاہ شہر یار اور ملکہ شہرزاد
    بادشاہ شہر یار اور ملکہ شہرزاد

    عمان جنوب مغربی ایشیا میں ایک ملک ہے جو جنوب مشرقی جزیرہ نمائے عرب پرواقع ہے۔ اس کا سرکاری نام سلطنت عمان ہے۔ اس کی سرحدیں شمال مغرب میں متحدہ عرب امارات سے ملتی ہیں، مغرب میں سعودی عرب سے جبکہ جنوب مغرب میں اس کی سرحدیں یمن سے ملتی ہیں۔ سلطنت عمان کا دار الحکومت مسقط ہے۔ اس کا ساحل جنوبی اور مشرقی بحر ِ عرب اورشمال مشرقی علاقے میں خلیج ِ عُمان تک پھیلاہواہے۔

    سلطنت عمان
    سلطنت عمان

    سن 80 کی دہائی میں ایک آئرش محقق ٹم سیورن ( ٹیموتھی سیورن ) نے سندباد کی کہانیاں سن کر متاثر ہو کر اس پر تحقیق کی اور یہ کھوج لگالی کہ سندباد زمانہ قدیم میں جس علاقہ میں مقیم تھا وہ آج کا عمان اور بالخصوص شہر صحار ہے اور اس کی پیدائش بھی صحار کی بتائی جاتی ہے حالانکہ اس کا کوئی تحریری جواز موجود نہیں ہے اور الف لیلا کے قصوں میں سندباد کا تعلق عراق کے شہر بغداد سے بتایا گیا ہے ، خیر ٹم سیورن کی تحقیق اور مطالعہ نے اسے اس بات پر قائل کر لیا کہ سندباد صحار کا رہنے والا تھا۔ زمانہ قدیم میں عمان کے ایک اور ملاح احمد بن ماجد بہت مشہور ہوئے ہیں جنہوں نے کئی سمندری سیاحوں اور بھٹکے ہوئے قافلوں کو صحیح سمت بتا کر ان کی جان بچائی انہیں میں سے ایک قافلہ ہندوستان سے تعلق رکھتا تھا اور انہوں نے اپنی یاداشتوں میں اس عمانی ملاح احمد بن ماجد کا ذکر بھی کیا ہے اور لکھے ہوئے یہ ورق یہاں کے ایک مقامی عجائب گھر میں موجود ہیں۔

    ٹم سیورن اور علی مانکفان 80 کی دھائی ، کشتی کی تعمیر کے دوران خوشگوار موڈ میں
    ٹم سیورن اور علی مانکفان 80 کی دھائی ، کشتی کی تعمیر کے دوران خوشگوار موڈ میں

    ٹم سیورن نے دن رات کی کوششوں سے ایک پلان مرتب کیا اور اسے عمان کے بادشاہ وقت سلطان الخالد السلطان قابوس بن سعید کے دیوان میں پیش کیا کہ رواں سال سالانہ جشن کے موقع پر ہم سندباد کی استعمال کی ہوئی کشتی کی نقل بنا کر ایک بار پھر تاریخ کو دہرائیں گے اور بحر عرب سے بحر چین تک کا سفر خیر سگالی کی بنیادوں پر مکمل کریں گے جسے شاہی منظوری مل گئی اور یوں سندباد کی اس پرخطر اور دلچسپ سمندری سفر کا کئی دہائیوں کے بعد پھر سے آغاز ہوا۔

    السلطان قابوس بن سعید  ؒ

    اب اگلا مرحلہ ٹیم کی تشکیل کا تھا جس میں انہیں لکشوادیپ کے جزیرے مینیکوئے میں مقیم علی مانکفان کو شامل کرنے کا کہا گیا بتایا جاتا ہے کہ مانکفان صاحب کی وجہ شہرت ان کے ان پڑھ ہونے کے باوجود ان کی کمال ذہانت اور 14 زبانوں پر عبور حاصل تھا اور وہ لکڑی سے بنی کشتیوں کو بنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔

    کشتی کا ماڈل

    ٹم سیورن نے علی مانکفان کو اس 30 رکنی کاریگروں کی ٹیم کا سربراہ مقرر کردیا اور یوں کئی ماہ کی ان تھک محنت کے بعد 80 فٹ لمبی اور 22 فٹ چوڑی کشتی جس میں کسی قسم کے لوئے کا استعمال نہیں کیا گیا اور کیلوں کے بجائے مخصوص پیڑوں کی چھال اور لکڑی کا استعمال کیا گیا تیار کر لی گئی۔

    سند باد کی کشتی کا ماڈل صحار
    سند باد کی کشتی کا ماڈل صحار

    یہ کشتی 6 ماہ کی مدت میں صحار سے صور براستہ ہندوستان ، سری لنکا اور وہاں سے ہوتے ہوئے چین پہنچی جس کا وہاں پر تپاک استقبال کیا گیا اور واپسی پر اس کشتی کو مسقط شہر میں البستان پیلس کے سامنے چوراہے میں نصب کر دیا گیا۔

    موجودہ بادشاہ السید ھیثم بن طارق ' صحار ' کشتی کا ماڈل دیکھتے ہوئے
    موجودہ بادشاہ السید ھیثم بن طارق ‘ صحار ‘ کشتی کا ماڈل دیکھتے ہوئے

    اس کشتی کا نام عمان کے سابقہ درالخلافہ اور سندباد کی جائے ولادت سے منسوب شہر کے نام پر ‘ صحار ‘ رکھا گیا۔

    سند باد تو عرصہ ہوا تاریخ کی کتابون کے صفحات میں کھو گئے اور گذشتہ سال دسمبر میں ٹم سیورن بھی 80 سال کی عمر میں چل بسے جبکہ رواں سال کے پہلے مہینے جنوری میں علی مانکفان جو کہ اب بھی حیات ہیں کو ان کے ملک نے تیسرے بڑے اعزاز سے نوازا۔  آپ کا اگر کبھی سلطنت عمان آنے کا اتفاق ہو تو شہر مسقط میں موجود اس شاہکار کو دیکھنے ضرور جائیے گا جو کہ آج عرصہ 40 سال سے زائد گزر جانے کے باوجود اپنی اب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔

    موجودہ بادشاہ السید ھیثم بن طارق اور ٹم سیورن سندباد کی کشتی سے منسوب تصویری نمایش کے دوران
    موجودہ بادشاہ السید ھیثم بن طارق اور ٹم سیورن سندباد کی کشتی سے منسوب تصویری نمایش کے دوران
  • ٹھنڈا پانی

    ٹھنڈا پانی

    کاتب : شاندار بخاری

    مقیم مسقط

    میری آج کی یہ مختصر سی تحریر ایک اہم اور سنجیدہ مسلئے کے بارے میں ہے جو کہ عام طور پر مسئلہ لگتا نہیں مگر ہوتا ہے صرف ہماری جانب سے غفلت اور عدم توجہی کا شکار ہے۔

    یہ بات آپ کے مشاہدے میں بھی آئی ہوگی کہ اکثر لوگ ایک دوسرے کا نام بگاڑ کر انہیں مخاطب کرتے ہیں جو کہ اکثر اوقات تو بڑے عجیب و غریب و معیوب ہوتے ہیں اور اکثر نہایت ہی منفرد ، بعض اوقات کچھ نام ہمیں تو عجیب لگتے ہیں مگر پکارنے والے اور پکارے جانے والے شخص کو بوجوہ پسند اور قبول ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سن اسی کی دہائی میں جو عزت ماب سفیر صاحب یہاں تعینات تھے ان کا پورا اور اصل نام تو مجھے اس وقت یاد نہیں آرہا لیکن ان کو لوندخوڑ صاحب کہ کر پکارا جاتا تھا یہ نام جو کہ ان کی علاقائی نسبت کی وجہ سے تھا  لیکن جو لوگ مردان کے اس گاوں سے واقف نہیں تھے انہیں بڑا دلچسپ لگتا تھا۔ اسی طرح ہمارے معاشرے میں عموما عبدللہ کو دولا ، سلیم / سلمان کو سلو اسی طرح یاد آیا مشہور گلوکار نصرت فتح علی کا پیدایش کے بعد نام پرویز تھا جو کہ بعد میں بدل کر نصرت رکھا گیا اور ان کے پرانے دوست احباب آج بھی انہیں پرویز کا مختصر پیجی ( پے جی ) ہی کہ کر یاد کرتے ہیں۔

    نام خواہ وہ کسی شخص کا ہو یہ پھر جگہ کا ہو اس سے اس کی پہچان ہوتی ہے ہمارے شہر اٹک کا نام جوکہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے لیکن برٹش دور میں اس وقت کےفوجی افسر کیمپبل کے نام پر کیمپبل پور رکھ دیا گیا تھا اور سن ستر کی دہائی میں پھر سے بدل کر پرانا نام اٹک رکھ دیا گیا تو جیسے لوگوں کے نام اکثر بوجوہ بدل دیے جاتے ہیں اسی طرح کئی ملکوں اور شہروں کے نام بھی اب بدل چکے ہیں سبیل مثال ساہیوال کا پرانا نام منٹگومری تھا ، فیصل آباد کا پرانا نام لائل پور تھا اسی طرح دنیا کے بیشتر ممالک کے نام مختلف زبانوں میں مختلف ہیں یہاں عرب ممالک میں جرمنی کو المانیا کہتے ہیں ، اٹلی کو ایطالیا ، فرانس کو فرنسا اور آسٹریا کو نمسا کہتے ہیں ، سعودیہ عرب کا نام 1932 سے پہلے مملکہ حجاز و نجد تھا ، مدینہ منورہ کا پرانا نام یثرب تھا جوکہ رسول ﷺنے بدل کر مدینہ رکھ دیا یثرب میں بخار کی وباء عام تھی بڑی شدت کا بخار ہوتا تھا اکثر آنے والے اس میں مبتلا ہو جاتے تھے رسول ﷺنے یثرب کی مشقتیں جھیلنے پر جنت کی بشارت سنائی اور اس کا نام طیبہ رکھ دیا تو نام بدلنے کی برکت سے مدینہ منورہ کی فضاء اللہ کے فضل و کرم سے خوشگوار ہو گئی۔ رسول ﷺنے خواب میں دیکھا کہ کالی کلوٹی عورت مدینہ منورہ سے نکل کر حجفہ جہاں یہودیوں کی آبادی تھی کی طرف چلی گئی آپ ﷺنے فرمایا کہ وہ وباء جو ہوا کے خراب ہونے سے پھیلتی تھی یہاں سے منتقل ہو گئی ہے اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کے ناموں کا منفی ور مثبت اثر ہوتا ہے۔ اسی طرح آپ نے کئی صحابہ کرام کے نام بھی بدلے اور کئی صحابہ کرام اور اہل بیت کو پیار سے مختلف ناموں سے پکارا، بات نکلی ہے تو میں آپ کو چند ایک چیدہ چیدہ برگزیدہ ہستیوں کے اصل نام اور القاب بتاتا چلوں کیونکہ عربوں میں القاب یا کنیت کا بڑا روج رہا جو کہ آج بھی ہے ، سب سے پہلے شہید ہونےوالی صحابیہ ام عمار ( عمار کی والدہ ) کا اصل نام سیدتنا سمیہ ر۔ض تھا ، ابو ھریرہ ر۔ض  کا اصل نام عبدالحمن تھا ، حضور ﷺکے چچا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے والد حضرت ابی طالب کا اصل نام عمران تھا۔

    شیکسپیئر نے کہا تھا ” نام میں کیا رکھا ہے ” لیکن ہم اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کیونکہ نام سے ہی تو پہچان ہوتی ہے اور اسلام کے اصولوں کے مطابق کسی کا نام بگاڑنا ایک بڑا گناہ ہے۔   بحث کو سمیٹتے ہوئے حاصل یہی ہے کہ کسی شخص کو پکارتے ہوئے یا کسی جگہ کی نشاندھی یا حوالہ دیتے ہوئے اچھے اور مہذب الفاظ کا چناو کریں یہاں یاد آیا ایک مرتبہ ایک قانونی معاملہ کیلئیے جمع کروائے گئے فارم میں گواہ کا نام لکھنا تھا تو گواہ صاحب نے مجھ سے قلم مانگا اور اپنے نام سے پہلے حضرت مولانا فلاں بن فلاں لکھ دیا جو کہ بہت ہی تعجب کی بات تھی اور کسی شخص میں اتنی خود پسندی میں نے پہلے نہیں دیکھی تھی ، ایک اور واقع یاد آ گیا ہوا یوں کہ مجھے دفتر کے کام کے سلسے میں ایک جگہ جانے کا اتفاق ہوا اور وہاں کہ متعلقہ افسر نے میرے آتے ہی باآواز بلند کہا ٹھنڈا پانی ! میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مجھے طلب نہیں ہے جس پر وہ صاحب مسکرائے اور کہا کہ مین تو اپنے دفتر کے ملازم کو بلا رہا ہوں جس کا اصل نام تو ڈنڈا پنی ہے لیکن اب بگڑ کر ٹھنڈا پانی ہوگیا ہے۔

  • صحابی رسولؐ  کے مزار پر

    صحابی رسولؐ کے مزار پر

    ( عمان کے تاریخی اور مذھبی مقامات ، تاریخ اور محل وقوع پر ایک طائرانہ نظر )

    تحریر :
    سیدزادہ سخاوت بخاری

    سلطنت عمان جسے پاکستان میں اس کے دارالحکومت ، مسقط ، کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے اور جہاں میں گزشتہ 45 برس سے مقیم ہوں ، جزیرہ نماء عرب ، خلیج فارس یا عریبین گلف کے ، بحیرہ عرب کی سمت ، آخری سرے پر واقع ایک مستطیل نماء ملک ہے ۔ اگر آپ خلیجی ملکوں کے نقشے پر نظر ڈالیں تو ایسا محسوس ہوگا کہ جیسے بحیرہ احمر ( Red Sea) اور بحیرہ عرب ( Arabian Sea ) کے درمیان زمین کی ایک چادر بچھائی گئی ہے جس کے نچلے سرے پر عمان اور یمن ایک جھالر کے طور پر دکھائی دیتے ہیں ۔ اس ملک کی زمینی سرحدیں ، یمن ، سعودی عرب اور عرب امارات ( دوبئی ابوظھبی ) سے اور بحری ، عرب امارات ، یمن ، ایران اور پاکستان سے ملتی ہیں ۔ رقبے کے لحاظ سے اس خطے میں ، سعودی عرب کے بعد یہ دوسرا بڑا ، عرب اسلامی ملک ہے ۔
    اس کی تاریخ قبل مسیح تک پھیلی ہوئی ہے ۔ بس اتنا جان لیں کہ اس علاقے کی عرب ریاستوں میں یمن اور عمان ہی ایسے ملک ہیں کہ جو ھزارھا سال سے اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہیں ۔ ان کے علاوہ خلیجی ریاستوں کے جتنے نام آپ سنتے آرہے ہیں وہ چھوٹے چھوٹے راجواڑے تو تھے مگر ان دو ملکوں کی طرح اپنی تاریخی شناخت نہیں رکھتے ۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ عمان اگرچہ ایک طرف سے بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع ہے لیکن اس کی پاکستان کی طرف واقع سمندری حدود کو خلیج عمان ( Gulf of Oman ) کہتے ہیں جو بحیرہ عرب میں پاکستان کی سمندری حدود ختم ہونے کے بعد شروع ہوتی ہے ۔ سلطنت عمان ، پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی شھر گوادر کے عین سامنے فقط 600 ناٹیکل میل کی دوری پر واقع ، ہمارا قریب ترین پڑوسی ہے ۔

    سلطنت عمان کی جغرافیائی حیثیت و اہمیت کا اگر زکر کیاجائے تو بے جاء نہ ہوگا ، کیونکہ ، یہ ملک ایک طرف ، عرب دنیاء کا حصہ ہے تو دوسری طرف سے عجمی دنیاء یعنی ایران اور پاکستان سے بھی مشترک سمندر رکھتا ہے ۔ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz )
    (جہاں سے عرب شیخوں اور ایران کے تیل بردار جہاذ گزر کر یورپ ، جاپان ، چین اور دیگر ممالک کو جاتے ہیں ، اس اہم شاھراہ پر ایران اور عمان کا کنٹرول ہے ۔ ایرانی شھر بندر عباس اور عمان کے صوبہ مسندم کے درمیان یہ پانی فقط 21 میل چوڑا ہے جہاں سے دنیاء کی ضرورت کا تقریبا 20% خام تیل گزار کر لیجایا جاتا ہے ۔ اس لحاظ سے یہ سمندری راستہ دنیاء بھر میں اہم حیثیت ، حساسیت اور پہچان کا مالک ہے ۔

    عمان کی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو آپ کو علم ہوگا کہ چھوٹی سی یہ عرب قوم شروع سے محنت ، جفاکشی اور بہادری کا استعارہ رہی ہے ۔ پیٹرول اور دیگر معدنیات کی دولت تو بہت بعد میں ان کے ھاتھ آئی جبکہ بے آب و گیاہ ، خشک و بنجر تپتے صحراوں اور سنگلاخ پہاڑوں سے نکل کر انتہائی بے سروسامانی کے دور میں ان سورماوں نے ایسٹ افریقہ کے کئی علاقوں پر اپنا قبضہ جمایا اور صدیوں تک وہاں حکمران رہے ۔ یہی نہیں بلکہ پاکستان کے ساحل مکران پر واقع وادی گوادر کا علاقہ 1958 تک ان کی سلطنت کا حصہ تھا ۔

    اگرچہ سن پچاس کی دھائی میں یہاں پیٹرول دریافت ہوچکا تھا لیکن 1970 تک اس دولت سے کوئی قابل ذکر فائدہ نہ اٹھایا جاسکا تا آنکہ جدید عمان کے بانی سلطان قابوس بن سعید رحمة اللہ نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی اور اپنے 50 سالہ سنہری دور میں صحراوں کو لہلہاتے کھیتوں میں تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ ، عمانی معاشرے کو زیور تعلیم و ھنر سے آراستہ کرکے دنیاء کی عظیم قوم بنادیا ۔ جہاں اسکول تھے نہ ھسپتال ، پکی سڑکیں تھیں نہ زندگی کی دیگر آسائیشیں ، آج اس کا شمار دنیاء کی جدید ترین ریاستوں میں ہوتا ہے ۔ اپنی مٹی اور قوم سے عشق رکھنے والے اس سلطان نے ، نہ صرف تعمیرات اور جدید آسائیشوں کی فراھمی سے اس ملک کی ھیئت بدل دی بلکہ ایک ایسا مثالی معاشرہ بھی قائم کردیا جہاں قانون کی حکمرانی ہے ۔ ہم پاکستانی ہمیشہ سے قانون کی حکمرانی ، قانون سب کے لئے ، دو نہیں ایک پاکستان کے نعرے سنتے آرہے ہیں لیکن اگر اس کی عملی تعبیر دیکھنا ہو تو ایک مرتبہ سلطنت عمان کی زیارت ضرور کریں ۔ ہم نے تاریخ میں عادل اور رعایا پرور بادشاھوں کے قصے بہت پڑھے لیکن میں یہ بات دعوے سے کہ سکتا ہوں کہ مرحوم سلطان قابوس رحمة اللہ کا ثانی ملنا محال ہے ۔ یہاں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیتے دیکھے گئے ہیں ۔
    جرائم انسانی فطرت کا خاصہ ہے لیکن اگر دنیاء کے دیگر معاشروں سے موازنہ کیا جائے تو یہاں جرائم کی شرح آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ انصاف صرف ہوتا نہیں بلکہ چلتا پھرتا دکھائی دیتا ہے ۔

    جنوری 2020 میں اس عظیم سلطان کی وفات کے بعد ان کی وصیت کے مطابق ان ہی کے چچا زاد بھائی ، آکسفورڈ کے گریجویٹ جلالة السلطان ھیثم بن طارق آل سعید تخت نشین ہوئے اور اعلان کیا کہ مرحوم سلطان کی پالیسیوں کا تسلسل قائم رکھا جائیگا ۔ یاد رہے سلطان قابوس مرحوم کی دانشمندانہ اور میانہ رو پالیسیوں کی بدولت اس سلطنت کو اقوام عالم میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ عالم عرب کے اندرونی تناذعات ہوں یا علاقائی جھگڑے ، عمان نے ہمیشہ ثالث کا کردار ادا کیا ۔

    خشک صحراوں ، پہاڑوں ، میدانوں ، قدرتی چشموں ، کھجور کے باغات ، حسین و جمیل اور صاف و شفاف ساحلوں پر مشتمل ، اس ملک کے کونے کونے اور ذرے ذرے میں تاریخ کے خزانے دفن ہیں ۔ یمن کی سرحد کے قریب عمان کا دوسرا بڑا شھر صلالہ ، جسے انبیاء کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے ، مقدس زیارات اور تاریخی مقامات کا خزینہ ہے ۔ بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع اس شھر کی آب و ہواء باقی ملک سے مختلف ہونے کی بناء پر یہاں عرب کے معروف درخت کھجور کی بجائے ناریل کے باغات ہیں ۔ لبان ، پپیتا اور کیلا وافر مقدار میں پیدا ہوتا ہے ۔ ایک مرتبہ باغات کی سیر کرتے ہوئے مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہاں پان کا پتہ بھی اگایا جارہا ہے ۔
    ناریل ، پپیتے ، کیلے اور پان کے پتے اگانے والے اسی شھر کے وسط میں حضرت عیسی علیہ السلام کے نانا اور سیدہ مریم سلام اللہ کے والد جناب عمران علیہ کا مزار واقع ہے ۔ یہ قبر غیر معمولی طور پر 30 میٹر طویل ہے جہاں زائرین اور معتقدین کا میلہ لگا رھتا ہے ۔ شھر کے گرد پہاڑ کی چوٹی پر اللہ کے نبی حضرت ایوب علیہ السلام محو استراحت ہیں اور قریب ہی نشیب میں وہ چشمہ ہے جہاں آپ بیماری کی حالت میں غسل کیا کرتے تھے ۔

    اسی شھر کے ایک محلے میں وہ غار ہے جہاں حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹی کو ذبح کیا گیا تھا ۔ وھاں موجود ایک بڑی چٹان پر معجزاتی طور پر اونٹنی کے قدموں کے نشان اور خون کے دھبے اب بھی موجود ہیں ۔ صلالہ شھر ہی میں تاریخ کے معروف جادوگر سامری کے محل کے کھنڈرات بھی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔ شھر سے دور پہاڑوں کے اندرحضرت ھود علیہ السلام کا مزار واقع ہے ۔ اسی شھر کے نواع میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے قصے اور تخت بلقیس سے منسوب ، یمن کی رانی ، ملکہ بلقیس کے محل کے کھنڈرات ہیں ۔ میں نے وھاں ایک حمام ( Bathroom ) اور اس میں نصب پتھر سے تراشیدہ وہ خوبصورت ٹب بھی دیکھا، جسے ، روائت کے مطابق ملکہ بلقیس اپنے غسل کے لئے استعمال کرتی تھی ۔

    ملکہ بلقیس کے محل کی طرف جاتے ہوئے راستے میں پہاڑ کے ساتھ ایک ایسا میدان ہے جہاں مقناطیسی قوت پائی جاتی ہے اسے ( Gravity Point) بھی کہتے ہیں ۔ اس میدان کا کمال یہ ہے کہ آپ اپنی گاڑی ( Motor Car ) کا انجن بند کرکے گاڑی کو نیوٹرل کردیں تو گاڑی خود بخود چلنے لگتی ہے اور اس کی رفتار بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ کچھ لوگ اسے پہاڑ کے اندر مقناطیسی قوت کے اظھار سے تعبیر کرتے ہیں جبکہ بعض مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہاں جنات کا ڈیرہ ہے اور وہ گاڑی کو دھکا لگاکر چلا دیتے ہیں ۔

    صلالہ کی داستان طویل ہوگئی ، آئیے واپس مسقط چلتے ہیں ۔ مسقط شھر کے نواع میں بوشر گاوں سے متصل پہاڑ کے اوپر ایک روائت کے مطابق فاتح خیبر مولا علی علیہ کی قدم گاہ ہے ۔ بہت اونچا پہاڑ ہے اور راستہ بھی دشوار مگر عقیدت مند چوٹی تک جاکر سلام کرنا اپنے لئے باعث سعادت سمجھتے ہیں ۔ کئی برس پیشتر مجھے بھی اس قدم گاہ تک جانے کا شرف حاصل ہوا ۔ پہاڑ کے دامن میں چھوٹے چھوٹے سوراخوں سے ابلتا ہوا پانی نکلتا ہے ۔ مرد و خواتین کے لئے بلدیہ نے الگ الگ غسل خانے تعمیر کرادئیے ہیں اور معجزاتی طور پر جلدی امراض (Skin Dieses) میں مبتلاء افراد اس پانی سے غسل کرکے شفاء یاب ہوتے ہیں ۔

    قارئین کرام

    کبھی کبھی بات سے بات نکلتی چلی جاتی ہے ۔ لکھنا تو صحابی رسول ص کے مزار کے بارے میں چاھتا تھا لیکن کہانی طول پکڑ گئی ۔ چلیں اس بہانے آپ نے سلطنت عمان کی سیر کرلی ۔ اب آتے ہیں موضوع کی طرف ۔ عرض ہے کہ عمان ان خوش نصیب ملکوں میں شامل ہے کہ جہاں کے لوگوں نے حضور نبی کریم ص کی زندگی میں اور براہ راست ان کی ذات سے اسلام کی روشنی حاصل کی ۔ ہوا کچھ یوں کہ مسقط شھر سے تقریبا ایک گھنٹے کی ڈرائیو پہ نزوی (Nizwa ) روڈ پر واقع گاوں سمائیل ( Smail )کے ایک بت پرست شخص نے جب سنا کہ مکہ میں ایک سچا نبی آیا ہے ، اپنی اونٹنی پر سوار ہوکر مکہ چل دیا ۔
    تاریخ میں اس واقعے سے کئی باتیں منسوب ہیں مثلا ، ان کی والدہ بیمار تھی اور وہ جس بت کی پوجا کرتے تھے اس سے استدعاء کی کہ میری والدہ کو شفاء دیدے لیکن ان کی والدہ فوت گئی اور نہوں نے اس بت کو توڑ دیا ۔ یہ کہ اسی بت نے انہیں بتایا کہ مکہ میں ایک سچا نبی آیا ہے وھاں جاکر اس کی بیعت کرو وغیرہ وغیرہ ۔ قصہ مختصر ، یہ شخص مکہ پہنچا اور حضور ص سے ملاقات کی ۔ ان کے ھاتھ پر بیعت کرکے مسلمان ہوگیا ۔ یہی نہیں بلکہ

    اس بندہ خدا نے حضور علیہ السلام سے درخواست کی کہ میرے ملک عمان کے لئے خصوصی دعاء فرمائیں تاکہ وھاں امن اور خوشحالی ہو چنانچہ اللہ کے نبی نے اس نو مسلم کی خواھش پر ، سلطنت عمان کے لئے خصوصی دعاء فرمائی اور مجھے یقین ہے کہ اسی دعاء کے نتیجے میں آج عمان ایک خوشحال اور پرامن ملک بن کر دنیاء کے سامنے موجود ہے ۔

    مازن بن غضوبہ نام کا یہ بت پرست شخص جب حضور ص کے ھاتھ پر براہ راست بیعت کرکے مکہ سے لوٹا تو صحابی رسول کہلایا ۔ مسلمان تو ہم سب ہیں ۔ ہم سے پہلے والے بھی مسلمان ہی تھے لیکن کیا کہنے اس شخصیت کے ، جسے محمد عربی ص کے ھاتھ پر ھاتھ رکھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی ۔

    آج سے کم و بیش 25 برس قبل مجھے میرا ایک دوست ان صحابی کی آرام گاہ پر لے کر گیا اور جب سے ابتک مجھے بیسیوں مرتبہ وھاں جانے کا شرف حاصل ہوچکا ہے ۔

    سمائیل جو کبھی کھجور کے باغات میں روپوش ایک چھوٹا سا گاوں تھا اب ایک جدید شھر بن چکا ہے اور ہر طرف خوشحالی ہی خوشحالی نظر آتی ہے ۔ اس کی پرانی اور تاریخی آبادی میں پہاڑ کے ساتھ کھجور کے باغ میں صحابی رسول ص بابا ماذن محو خواب ہیں ۔ شروع میں جب ہم گئے تو قبر کچی تھی مگر اب پاکستانی عقیدت مندوں نے اسے پختہ کرکے ارد گرد چار دیواری کھڑی کردی ہے ۔

    جس باغ میں مزار واقع ہے یہ ان ہی کی ملکیت تھا اور ابتک ان ہی کے نام ہے ۔ مزار کے سامنے والی آبادی میں ان کی تعمیر کردہ عمان کی پہلی مسجد یے جہاں باقائدہ جمعہ کی نماذ ادا کی جاتی ہے ۔ مسجد کے قریب ہی بابا جی کے آبائی گھر کی باقیات ہیں جنھیں محفوظ بنا دیا گیا ہے ۔ یاد رہے یہ جگہ دو پہاڑوں کے درمیان ایک تنگ وادی ہے اور پہاڑوں سے نکل کر آنیوالا چشموں کا پانی پورے گاوں کے باغات کو سیراب کرتا ہے ۔ مذھبی حوالے سے ھٹ کر بھی یہ چھوٹی سی وادی ، کھجور کے باغات اور بہتا ہوا پانی ایک بہترین پکنک پوائینٹ ہے ۔ عمان میں مقیم افراد اپنے اھل خانہ اور دوستوں کے ہمراہ ویک انڈ پر وھاں کی سیر کے لئے جاتے ہیں ۔ جمعرات اور جمعہ کے دن مزار پر زائرین اور عقیدت مندوں کی بھیڑ دیکھنے کو ملتی ہے ۔ عمان میں رھنے والوں کے لئے بہترین موقع ہے کہ وہ سمائل جاکر صحابی رسول ص کے مزار پر حاضری کے ساتھ ساتھ قدرتی مناظر سے بھی لطف اندوز ہوں ۔

  • پاکستان کیوں ٹوٹا ؟

    پاکستان کیوں ٹوٹا ؟

    تحریر :سیدزادہ سخاوت بخاری 
    ہماری نئی نسل تاریخ سے آگاہ نہیں ۔ نصابی کتابوں میں بھی اس بات کی کوشش نہیں کی گئی کہ آنیوالی نسلوں کو حقائق سے روشناس کرایا جاسکے ۔ یہی نہیں بلکہ 1971 کے بعد سے پاکستان میں جس سیاسی طرز عمل اور سوچ نے اودھم مچایا ، اس کے نتیجے میں سچ اور جھوٹ گڈ مڈ ہوکر رہ گیا اور آج کا ہمارا نوجوان یہی سمجھتا ہے کہ جنرل نیازی ڈرپوک تھا ، اس نے ھتھیار ڈال دئے ۔ یحیی خان غدار تھا اس نے ڈھاکہ ڈبو دیا ۔ ہمارے 90 ھزار فوجی قید کرلئے گئے وغیرہ ، جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں ۔ 
    کہانی کو ٹاپ گئیر لگانے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ دسمبر 71 میں جب سقوط ڈھاکہ ( Fall of Dhaka )ہوا تو میں پنجاب یونیورسٹی سے  گریجویشن کرچکا تھا لھذا بہ قائمی ہوش و حواس اس سارے منظر کا چشم دید گواہ ہوں ۔ میری باتیں کتابی اور سنی سنائی نہیں بلکہ آنکھوں دیکھا حال ہے ۔ 
    آئیے تھوڑا سا پیچھے جاکر تاریخ سے پوچھتے ہیں کہ بنگال کی اصل کہانی ہے کیا ؟ اور وہ اس لئے کہ مغربی اور مشرقی پاکستان تو 1947 میں ، معرض وجود میں آئے جبکہ متحدہ بنگال کا  معاشرہ اور سیاست اس سے بہت پہلے سیاسی اتھل پتھل کا شکار ہوچکے تھے ۔
    برطانوی ھند میں بنگال سب سے بڑا صوبہ تھا ۔ تقریبا 2 لاکھ مربع میل رقبہ اور ساڑھے آٹھ کروڑ آبادی لھذا اس وقت کے وائسرائے ھند لارڈ کرزن کی سفارش پر اسے 1905 میں ،  دو انتظامی حصوں ،  یعنی مشرقی اور مغربی بنگال میں تقسیم کردیا گیا کیونکہ اتنے بڑے علاقے اور آبادی کی صحیح طرح سے دیکھ بھال اور کنٹرول مشکل کام تھا ۔ یاد رہے متحدہ بنگال میں  عددی اکثریت ھندو ہی کی تھی لیکن مشرق میں مسلمان اکثریت میں آباد تھے لھذا جب مشرقی بنگال ( بعد میں مشرقی پاکستان ) وجود میں آیا تو مغربی بنگال / کلکتہ کا ھندو سٹپٹا اٹھا کیونکہ اس وقت صنعت ، تجارت ، وکالت اور صحافت پر ان کی مکمل اجارہ داری تھی لھذا انہیں خوف محسوس ہوا کہ اب مشرقی حصے کا مسلمان ، جو وھاں اکثریت میں تھا ،  ان تمام شعبوں میں آگے آکر ہمارے مالی مفادات کو نقصان پہنچائیگا ۔ ڈھاکہ ھائیکورٹ قائم ہوئی تو کلکتہ کے ھندو وکیل بے روزگار ہونگے ۔ نئے اخبارات شائع ہوئے تو کلکتہ کی صحافت گئی ۔ اسی طرح تجارت اور صنعت بھی الگ ہوگی تو ہم کہاں جائینگے ۔ ان سب عوامل کو لیکر بنگالی ھندو نے  واویلہ شروع کردیا اور انگریز کے اس فیصلے کے خلاف باقائدہ تحریک شروع ہوگئی جسے سودیشی تحریک کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چلائی گئی تاکہ انگریزوں پر زور ڈال کر تقسیم کا فیصلہ منسوخ کرایا جاسکے ۔ مانچیسٹر چیمبر آف کامرس کو باقائدہ خط لکھ کر کہا گیا کہ اگر بنگال میں تجارت کرنی ہے تو برطانیہ اپنا یہ فیصلہ واپس لے ۔ جب اس پہ بھی بات نہ بنی تو ایک مذھبی کٹر پنتھی گروہ ، دھارمک چورن لیکر میدان میں آگیا کہ بنگال کی تقسیم دراصل ہماری ماں ” کالی ماتا ” کی تقسیم ہے جسے برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔ آپ جانتے ہونگے کہ بنگال کا ھندو کالی ماتا ” کالی کلکتے والی ” کا پجاری ہے اور اس کے نزدیک سارا بنگال ماں کی سرزمین ہے ۔ قصہ مختصر مصنوعات کے بائیکاٹ اور ھنگاموں کے خوف سے انگریزوں کو  بالآخر 1911 میں تقسیم بنگال کا فیصلہ واپس لینا پڑا ۔ اسی عرصے میں جب مسلمانوں نے ھندووں کا یہ رویہ دیکھا کہ وہ ہمیں خوشحال نہیں دیکھ سکتے تو 1906 میں اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے ، ڈھاکہ میں نواب سلیم اللہ خان کے گھر پر جمع ہوکر مسلم لیگ کے نام سے ایک جماعت قائم کرلی ۔ اس جماعت کے تاسیسی صدر نواب وقار الملک اور باقائدہ صدر سر آغا خان سوئم ( شش امامی ، اسماعیلی شیعہ)  منتخب ہوئے ۔ 
    یہاں چند نکات قابل غور ہیں ۔
    1. کلکتہ کےھندو نے ، مسلم اکثریتی علاقے مشرقی بنگال کی خود مختاری کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتے ہوئے قبول نہ کیا ۔
    2. مسلم لیگ بنگالیوں نے ڈھاکہ میں بنائی اگرچہ اس میں ملک بھر کے مسلم ذعماء شریک تھے لیکن ان میں قائد اعظم کا نام شامل نہیں کیونکہ وہ بعد میں اس جماعت کے رکن بنے ۔ 
    اوپر بیان کئے گئے تاریخی حقائق اور نکات کو ذھن میں رکھ کر آجائیے یوم آذادی 14 اگست 1947 تک ۔ پاکستان بن گیا لیکن زمینی لحاظ سے دو حصوں میں تقسیم اور ان دو ٹکڑوں کے درمیان ایک ھزار میل یا 1600 کلومیٹر کا فاصلہ ۔ ایک دوسرے سے کٹے ہوئے ، زبان الگ ، کلچر الگ ، موسم الگ ، خوراک الگ اس کے باوجود اگر کوئی رابطہ یا رشتہ ڈھونڈا جاسکتا ہے تو وہ تھا اسلام ۔ میرے خیال سے یہی سب سے بڑا رشتہ تھا،  اور ہے ، لیکن اے کاش ہم سچے مسلمان بھی ہوتے تو وہ دن نہ دیکھنا پڑتا جس کی یاد میں مجھے یہ سطور لکھنا پڑرہی ہیں ۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ تقسیم ھند کے فارمولے کو تسلیم کرتے وقت بعض مسلم ذعماء نے قائد اعظم سے کہا تھا کہ مشرقی بنگال کے بدلے دلی تک کا علاقہ لے لیں کیونکہ بنگال زمینی طور پر اس ٹکڑے سے جڑا ہوا نہیں جو مغرب میں ہمیں دیا جارھا ہے ، لیکن قائد کا جواب تھا کہ تحریک آذادی کی بنیاد بنگالی مسلمانوں  نے رکھی انہیں کس طرح چھوڑ دیا جائے ۔ 
    آذادی کے بعد پہلا اختلاف قومی زبان پر اٹھا ۔ جب قائداعظم نے اردو کو واحد قومی زبان قرار دیا تو ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلباء نے اس پر اعتراض اٹھادیا ۔ یاد رہے ان طلباء کی قیادت اس وقت کے طالب علم راھنماء اور بعد میں بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کررہے تھے ۔ 
    وجہء تناذعہ صرف زبان ہی نہ بنی بلکہ تقریبا پوری کی پوری بیوروکریسی ، تقسیم کے وقت وھاں مہاجر بن کر آنے والے بہاری اور اڑیسہ وغیرہ کے مسلمانوں سے لی جاتی یا مغربی پاکستان سے بھیجی جاتی رہی جن میں اردو اسپیکنگ اور پنجابی شامل ہوتے تھے ۔ اس بات کا برا نہ منایا جائے تو حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کے ابتدائی ایام میں سول افسران کی اکثریت ان ہی لوگوں پر مشتمل تھی جو یو پی ، بھوپال ، بہار ، دلی ، حیدر آباد دکن اور مشرقی پنجاب سے ھجرت کرکے اپنے نئے وطن پاکستان آئے تھے اور یہ رسم آخر تک جاری رہی ۔ اس صورت حال میں بنگالی یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ سفید انگریز گئے اور کالے یا بھورے آگئے ۔ آخر آذادی کہاں ہے ؟  دارالحکومت پہلے کراچی اور پھر اسلام آباد ۔ یہاں اس بات کا بھی ذکر کردوں کہ ہمارے نوجوان جو آج صدیق سالک ، صفدر محمود  اور کئی دیگر لکھاریوں کی کتابوں کے حوالے دیکر مشرقی پاکستان کی محرومیوں کا ذکر کرتے ہیں انہیں ان لکھاریوں سے یہ بھی پوچھ لینا چاھئے تھا کہ آپ پنجابی اور اردو اسپیکنگ ہوکر وھاں کیا لینےگئے تھے ۔ 
    پنجابی اور اردو اسپیکنگ افسران کے بارے حقائق پیش کرتے ہوئے مجھے احساس ہے کہ بعض قارئین اس کا غلط مطلب بھی لے سکتے ہیں لیکن میں یہ بات بھی واضع کردینا چاھتا ہوں کہ ان ہی افسران نے اپنی قابلیت ، ذھانت اور تجربے کی بنیاد پر اس نوزائیداہ ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا ۔ یہاں بات بنگال کی ہورہی ہے کیونکہ وہاں معاملہ الگ تھا ۔ ایک مکمل بنگالی معاشرے پر آپ نے سب کے سب یا بھاری اکثریت میں وہ لوگ بٹھا دئیے جو  ان کی زبان جانتے ہیں ، ثقافت سے واقف ہیں اور نہ ہی وھاں کے رسم و رواج کا علم رکھتے تھے ۔  اور کیا بنگالی اتنے گئے گزرے تھے کہ سول افسر تک نہ بن سکیں ۔ کیا آج وہی بنگالی بنگلہ دیش کو نہیں چلا رہے ؟ 
    اب آجائیں شروع میں بیان کی گئی تقسیم بنگال کی کہانی کی طرف ۔ جب بنگالیوں میں احساس محرومی بڑھنا شروع ہوا تو کالی ماتا کے پجاری جو انگریز کے زمانے سے تقسیم بنگال کے خلاف تھے ، بنگالیوں کے احساس محرومی کا ھتھیار لیکر  پروپیگنڈے کے میدان میں اتر آئے  ۔ انہوں نے پاکستانیت کے خلاف بنگالی نیشنل ازم کو ابھارا ، پیسے کے زور پر اپنے ایجنٹ پیدا کئے اور اس طرح علیحدگی پسندی پروان چڑھنا شروع ہوئی لیکن ہمارے سیاست دان خواب خرگوش کے مزے لیتے رہے ۔ کسی نے بنگالیوں کے دکھوں کا مداوا نہ کیا ۔ یہ کہ دینا تو آسان ہے کہ بنگالی غدار تھے ، شیخ مجیب شروع سے علیحدگی پسند خیال کا حامی تھا لیکن کیا کسی نے ان کو برابر کا پاکستانی بنانے کی بھی کوئی کوشش کی ؟  
    یہ سچ ہے کہ شیخ مجیب الرحمان شروع سے بنگالی نیشنل ازم کے پرچارک تھے لیکن اگر انہیں قومی دھارے میں لے آیا جاتا تو وہ کبھی بھی علیحدگی کی طرف نہ جاتے ۔ ھندوستان  ابتداء  سے پاکستان کے وجود کے مخالف تھا اور اب بنگالیوں تئیں ہمارے غیر منصفانہ روئییے نے اس کے ھاتھ میں بنگالی کارڈ تھما دیا ،  جسے اس نے خوب خوب کھیلا ۔ اگرچہ ایوب خان کے دور میں ہماری خفیہ ایجنسی نے مغربی بنگال کے شھر اگر تلہ میں ایک پاکستان مخالف تحریک کا سراغ لگالیا جس کے نتیجے میں شیخ مجیب کو اگرتلہ سازش کیس میں گرفتار کرلیا گیا لیکن اس وقت کے تمام سیاست دانوں نے ایوب خان پر پریشر ڈال کر اسے رھائی دلادی ۔ اگر اس وقت شیخ مجیب کو رہا کرانے کی بجائے مشرقی پاکستان میں اصلاحات کی جاتیں , بنگالیوں کو سول سروس اور دیگر ذمہ داریوں پر بٹھا دیا جاتا ، ان کے جائز مطالبات مان لئے جاتے تو شیخ مجیب کے غبارے سے ہوا نکل جاتی اور آگے چل کر صورت حال مختلف ہوسکتی تھی ۔ 
    نہائت اختصار کے ساتھ لکھ رہا ہوں لیکن بات طویل ہوتی چلی جارہی ہے ۔ ایوب خان رخصت ہوئے ، جنرل یحیی خان تشریف لائے اور 1970 کے الیکشن میں شیخ مجیب نے مشرقی پاکستان سے دو کے علاوہ تمام نشستیں جیت لیں ۔ مغربی پاکستان سے ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی بڑی جماعت بن کر ابھری ۔ اب یہاں کل پاکستان کی سطح پر شیخ مجیب کی جماعت پہلے نمبر پر تھی اور پیپلزپارٹی دوسرے نمبر پر لیکن بھٹو مرحوم نے نعرہ لگایا ، ” ادھر ہم ادھر تم ” اور اسی ہم تم نے کام تمام کردیا ۔ 
    اس وقت کے تمام سیاسی تبصرہ نگاروں کا خیال تھا کہ اگر شیخ مجیب کو وزیراعظم بنا دیا جاتا تو سانحہ مشرقی پاکستان سے بچا جا سکتا تھا لیکن ہمارے یہاں کے سیاسی راھنماوں کو اس کے 6 نکات پر اعتراض تھا کہ اس سے فیڈریشن کمزور ہوجائیگی ۔ یہ الگ بات کہ بعد میں ملک ہی ٹوٹ گیا ۔ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ ہم شیخ مجیب کو ساتھ رکھ کر ایک ڈھیلی ڈھالی کنفیڈریشن بنالیتے تاکہ ہمارے دو قومی نظریئے کا بھرم قائم رھتا ۔ پاکستان ٹوٹنے سے بچ جاتا اور اندرا گاندھی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملتا کہ ، 
    ” آج ہم نے دو قومی نظریئے کو خلیج بنگال میں ڈبودیا ” 
    قصہ کوتاہ ، فلم ” ادھرہم ادھر تم ” اور ہماری آپسی لڑائی کے  منظرنامے پر ھندوستان کی گہری نظر تھی لھذا انہوں نے پہلے سے اپنے زر خرید ھندو و مسلم بنگالیوں پر مشتمل جو خفیہ تنظیم ،  ” مکتی باھنی ” یا نجات دھندہ قائم کرکے پاکستان مخالف پروپیگنڈہ شروع کررکھا تھا اسی کے ذریعے گوریلا وار کی ابتداء کردی ۔ ہماری فوج پر حملے ہونے لگے ۔ پلوں کو اڑایا جانے لگا ۔ اور بالآخر جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کی قیادت میں بھارتی فوج مشرقی پاکستان میں داخل ہوگئی کیونکہ وہ زمینی طور پر جڑے ہوئے تھے جبکہ ہم 1000 میل دور بیٹھ کر کچھ بھی کرنے کے قابل نہ تھے ان حالات میں  جنرل نیاذی کے پاس ھتھیار پھینکنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ۔ انہیں بزدل اور ڈرپوک کا طعنہ دینا اس لئے مناسب نہیں کہ ایک تو انڈیا کے مقابلے میں وھاں ہماری فوج بہت کم تھی دوسرا کمک پہنچانے کا کوئی راستہ نہ تھا تیسرا اور اہم عنصر یہ کہ بھٹو مرحوم نے ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ لگاکر بنگالیوں کو ،  جو الیکشن جیت چکے تھے ،  یہ پیغام دیدیا کہ تمہارا وزیر اعظم نہیں بن سکتا ۔ بنانا ہے تو وہیں بنالو ۔ اس بات پر بنگالی بپھر گئے ۔
    پیپلز پارٹی کے موجودہ جیالے اس بات کی نفی کرتے ہیں لیکن میں (راقم ) اس وقت پیپلز پارٹی کے بانی و متحرک اراکین میں شامل اور عھدیدار تھا اس لئے بھٹو مرحوم کا یہ بیان براہ راست ان کی زبان سے سنا ۔ یہی نہیں بلکہ جب یحیی خان نے منتخب قومی اسمبلی کا اجلاس ڈھاکہ میں بلانے کا اعلان کیا تو یہ بھٹو صاحب ہی تھے جنہوں نے جلسہء عام میں کہا کہ جو ممبر ڈھاکہ جائیگا اس کی ٹانگیں توڑ دی جائینگی ۔ رہی یحیی خان کی بات کہ وہ کیا کررہے تھے تو عرض ہے ایک تو سیاست دانوں نے ملکی حالات کو اس مقام پر پہنچادیا تھا کہ جہاں سے واپسی ممکن نہ تھی دوسرا یہ ،  کہ ،  اس محمد شاہ رنگیلا ثانی کو گجرات کی حسینہ اقلیم اختر رانی عرف جنرل رانی سے فرصت ہی کب تھی کہ اس طرف توجہ دیتے ۔  یہاں آپ کے علم کے لئے یہ بھی بتاتا چلوں کہ آج کا معروف گلوکار و اداکار فخر عالم ، اسی اقلیم اختر رانی کا نواسہ ہے ۔ 
    اس حقیقت کے باوجود کہ یحیی خان ، شراب اور شباب کا رسیا تھا ،  ایک فرد کی کوتاہی کو پوری پاک فوج کے کھاتے میں نہیں ڈالا جاسکتا کیونکہ ہمارے بہادر افسروں اور سپاھئیوں نے مشرقی پاکستان کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے اور زندہ بچ جانیوالوں نے دو سال تک  بحیثیت جنگی قیدی ، بھارت کے کیمپوں میں گزارے ۔ میرا تعلق فوجی خطے سے ہے اور میں ایسے متعدد فوجیوں کے بارے جانتا ہوں کہ جو مشرقی محاذ سے کبھی واپس نہ لوٹ سکے ۔ ان کی مائیں اپنے بیٹوں کا انتظار کرتے کرتے اس دنیاء سے رخصت ہوگئیں ۔ میرے دو چچا زاد بھائی  سرور حسین شاہ اور اصغر علی شاہ جو پاک نیوی میں خدمات انجام دے رہے تھے ۔ مشرقی پاکستان کی فوجی بندرگاہ چاندپور سے گرفتار ہوکر جنگی قیدیوں کی حیثیت سے کیمپ نمبر 94 رام گڑھ بھارت پہنچ گئے ۔ مجھے وہ لمحات یاد ہیں جب ہمارے گھروں میں خواتین آہ و بکا کرتی تھیں ۔ 
    مختصرا یوں سمجھ لیں کہ سانحہ مشرقی پاکستان کی بنیادی وجوھات میں ، بھارت کا روز اول سے پاکستان کو توڑنے کا خواب ، شیخ مجیب کے اندر علیحدگی کے جراثیم ، جنہیں بنگالیوں کے ساتھ ہمارے روئیے نے توانائی بخشی ، اور ذولفقار علی بھٹو کی حوس اقتدار ، اس سانحےکو ، منطقی انجام تک لے گئی ۔ عجیب اتفاق ہے کہ پاکستان کو توڑنے میں مددگار ثابت ہونے والے یہ تین کردار ، اندرا گاندھی ، شیخ مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو میں سے کوئی بھی طبعی موت نہیں مرا ، بلکہ شیخ مجیب کو خود بنگالی میجر ڈالم نے ، ان کی دھان منڈی ڈھاکہ والی ، رھائیش گاہ کے اندر گھس کر ، پورے خاندان سمیت گولیوں سے بھون ڈالا ۔صرف حسینہ واجد بیرون ملک ہونیکی وجہ سے بچ گئیں جو اب شیخ مجیب کی  اکلوتی بیٹی اور نشانی ہیں ۔ اندرا گاندھی کو ان کے سکھ باڈی گارڈز نے ،  دربار صاحب امرتسر پر فوج کشی کرنے کی پاداش میں ،  ان کی رھائیش گاہ صفدر جنگ روڈ دلی کے احاطے میں اسٹین گن سے موت کے گھاٹ اتار دیا اور ذوالفقار علی بھٹو ، نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل کا حکم دینے کے الزام میں ، تارا مسیح کے ھاتھوں پنڈی جیل میں سولی پر لٹکا دئے گئے ۔ میں نہیں جانتا کہ ذوالفقار علی بھٹو گنہگار تھے یا بے گناہ لیکن تاریخ اسی طرح رقم ہوئی ۔ 
    یہاں ایک غلط فہمی کا اذالہ بھی کرتا چلوں ، کہ ، مشرقی پاکستان میں ہماری فوج کی تعداد  زیادہ نہ تھی . 90 ھزار قیدی ،  سویلین افسران ، ان کے اھلخانہ اور دیگر پاکستانیوں کو ملا کر بنتے ہے ، یہ سب لڑاکا فوجی نہ تھے ۔
    آخر میں اس طرف  اشارہ کرتا چلوں کہ ھندوستان یا کالی ماتا کے پجاری اب بلوچستان میں بھی وہی کھیل کھیل رہے ہیں ۔ ہماری فوج کے خلاف پروپیگنڈہ بھارت ہی کے ایجنڈے کا حصہ ہے ۔ یہی کام انہوں نے مشرقی پاکستان میں کیا جو اب یہاں کیا جارہا ہے ۔ وھاں مکتی باھنی جیسی تنظیم قائم کی گئی اور بلوچستان میں BLA یا بلوچ لبریشن آرمی تشکیل پائی ہے ۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے لیکن ہم نادان بنے ہوئے ہیں ۔ خود ہمارے اپنے لوگ جرنیلوں کے نام لے لے کر عوام کو فوج کے خلاف گمراہ کررہے ہیں ۔ ہمیں جاگ جانا چاھئیے ورنہ کسی اور سانحے کا سامنا ہوسکتا ہے اور پھر ،  اللہ نہ کرے ، پوچھتے پھرینگے 
    ” پاکستان کیوں ٹوٹا "

    سیّدزادہ سخاوت بخاری
    سیّدزادہ سخاوت بخاری ، سرپرست اعلی اٹک میگزین
  • رُوٹھ جاؤں تو مناتا ہے وہی

    رُوٹھ جاؤں تو مناتا ہے وہی

    دیر ہونے پر خود آتا ہے وہی

    رُوٹھ جاؤں تو مناتا ہے وہی

    میری منزل کا نشان بھی خود ہے وہ

    میرے رَستے بھی بناتا ہے وہی

    دیر تک سونے نہیں دیتا کبھی

    وقت پر مجھ کو جگاتا ہے وہی

    ساری تعبیریں بھی اُس کے پاس

    خواب بھی سارے دکھاتا ہے وہی

    دوڑنےبھی وہ نہیں دیتا مجھکو

    گر پڑوں تو خود اُٹھاتا ہے وہی

    دن کو بن جاتا ہے بِینائی میری

    رات کو اندھا بناتا ہے وہی

    میری سوچوں پر اُسی کا راج ہے

    اپنی مرضی پر نچاتا ہے وہی

    میرے تو بس ہونٹ ہلتے ہیں اسٓد

    در حقیقت گیت گاتا ہے وہی

    کلام: عمران اسد

    عمران اسد
    عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان

  • زُبانِ شِیریں مُلک گِیری

    زُبانِ شِیریں مُلک گِیری

    تحقیق : شاندار بخاری

    مسقط

    1442 ھ

    آج کل موسم بدل رہا ہے اور میں کیونکہ ایک گرم ملک میں مقیم ہوں اس لئیے کچھ زیادہ ہی ٹھنڈ محسوس کرتا ہوں اس بات سے یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ جانے انجانے چاہتے نا چاہتے ہمارے ماحول کا ہم پر اثر ہوتا ہے ۔ صفائی نصف ایمان ہے یہ ہمیں بچپن سے دکھایا جاتا ہے لیکن اس کا عملی نمونہ ہمیں وہاں دکھائی دیتا ہے جہاں دکھا یا نہیں جاتا تو نتیجہ یہ نکلا کے کہنے اور کرنے میں فرق ہے یہ مثال بھی آج اپنی اصل شکل میں میں آپ کےسامنے لے آیا ہوں شکریہ آپ کی تالیوں کا ۔ اگر ہم اپنے ماحول کو صاف رکھیں تو ماحول خوشگوار ہونے کیساتھ ساتھ ہمارے مزاج کا موسم بھی خوشگوار رہے گا اور اس کا مثبت اثر ہم سے جڑے لوگوں اور ان کے ہمارے ساتھ اور آگے ان سے جڑے لوگوں کیساتھ رویوں پر بھی پڑتا ہے ۔اگر آپ دفتر یا گھر میں کسی کو جھڑک دیں گے تو اس شخص میں اگر آپ کو جواب دینے کی ہمت نہیں احترام یا باعث مجبوری تو وہ آگے اپنے ماتحتوں سے بھی اسی رویے سے پیش اے گا اور ایک سلسلہ چل پڑے گا اب بجائے مسئلہ حل ہونے کہ مسائل میں تبدیل ہوجائے گا اور سب کا دن بڑا گزرے گا تو بات کرتے ہوئے کسی مسئلہ کو حل کرتے ہوئے اسے افھام و تفہیم سے حل کریں بےشک اگر کسی کی غلطی ہو اسے پہلے سن ہیں پورا موقع دیں اور پھر دانشمندی سے فیصلہ کریں کہ بات سمجھ میں آ جائے اور کسی کی دل ازاری بھی نا ہو مجھے یہاں ایک شاعر کا واقع یاد آگیا ” رسولِ خدا  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدنی دور میں کسی گستاخ شاعر نے نبی کریؐم کی شان کے خلاف گستاخانہ اشعار لکھے ۔ اصحاب نے اس گستاخ شاعر کو پکڑ کر بوری میں بند کر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پھینک دیا ۔

    شاندار بخاری
    شاندار بخاری

    سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا ” اس کی زبان کاٹ دو "

    تاریخ لرز گئی ، مکہ میں جو پتھر مارنے والوں کو معاف کرتا تھا. کوڑا کرکٹ پھینکنے والی کی تیمار داری کرتا تھا اسے مدینے میں آکے آخر ہو کیا گیا ۔

    بعض صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللی علیہ وآلہ وسلم، میں اس کی زبان کاٹنے کی سعادت حاصل کروں؟

    حضور صلی اللی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں ، تم نہیں

    تب رسولِ خدا صلی اللی علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو حکم دیا اس کی زبان کاٹ دو ، حضرت علی علیہ السلام بوری اٹھا کر شہر سے باہر نکلے اور حضرت قنبر سے کہ کہ میرا اونٹ لے کر آئیے اونٹ آیا مولا نے اونٹ کے پیروں سے رسی کھول دی اور شاعر کو بھی کھولا اور 2000 درہم اس کے ہاتھ میں دیے اور اس کو اونٹ پہ بیٹھایا ، پھر فرمایا تم بھاگ جاؤ ان کو میں دیکھ لونگا اب جو لوگ تماشا دیکھنے آئے تھے حیران رہ گئے کہ یا اللہ ، حضرت علی علیہ السلام نے تو رسول صلی اللی علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کیی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شکایت لے کر پہنچ گئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، آپ نے فرمایا تھا زبان کاٹ دو ، علی علیہ السلام نے اس گستاخ شاعر کو 2000 درہم دیے اور آزاد کر دیا حضور صلی اللہ  علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور فرمایا علی علیہ السلام میری بات سمجھ گئے افسوس ہے کہ تمہاری سمجھ میں نہیں آئی ۔ وہ لوگ پریشان ہوکر یہ کہتے چل دیے کہ یہی تو کہا تھا کہ زبان کاٹ دو علی علیہ السلام نے تو کاٹی ہی نہیں اگلے دن صبح، فجر کی نماز کو جب گئے تو کیا دیکھتا ہے وہ شاعر وضو کررہا ہے پھر وہ مسجد میں جا کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاؤں چومنے لگتا ہے ۔ جیب سے ایک پرچہ نکال کر کہتا ہے حضور صلی اللہ  علیہ وآلہ وسلم آپ کی شان میں نعت لکھ کر لایا ہوں اور یوں ہوا کہ حضرت علی علیہ السلام نے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گستاخ زبان کو کاٹ کر اسے مدحتِ رسالت والی زبان میں تبدیل کردیا "

    ‘ زندگی لفظوں کی شطرنج ہے ‘ ابنِ صفی نے زندگی کی عملی تفسیر پانچ لفظوں میں بیان کردی تھی سارا کھیل ہی لفظوں کا ہے پہلی بازی سے آخری چال تک نیکی بدی ،  دِن رات ، روشنی تاریکی کی طرح لفظوں کے سفید و سیاہ مُہرے اپنی مثبت اور منفی چالوں کے ساتھ ہمارے اندر اور ہمارے باہر ہمیں مضبوط یا کم زور بنارہے ہیں ۔ شاطر کھلاڑیوں کو علم ہوتا ہے کہ کب کون سی چال چلنی ہے اور اناڑی سوچتے رہ جاتے ہیں ۔ ’’ہاں‘‘  یا  ’’نہیں‘‘  میں اُلجھے رہتے ہیں اور بازی ہار جاتے ہیں لفظوں کی طاقت مثبت بھی ہوتی ہے اور منفی بھی ۔ دنیا کا سب سے طاقت ور منفی لفظ ’’No‘‘  ’’نہیں‘‘ ہے۔ اور سب سے طاقتور مثبت لفظ ’’Yes‘‘  ’’ہاں‘‘ ہے ۔ ہمارے اطراف کا ماحول اگر اچھا ہوتا ہے اور ہم شروع سے اچھی باتیں سنتے اور اچھے رویّے دیکھتے آتے ہیں تو شعور سنبھالنے کے ساتھ ہم لاشعوری طور پر زندگی کے اچھے راستوں پر چلنا شروع کردیتے ہیں، لیکن اگر ہم نے بچپن سے ہی بُری زبان اور گالی گلوچ سنا ہو اور اپنے بڑوں کو ہمیشہ آپس میں لڑتے جھگڑتے دیکھا ہو اور ہمارے چاروں طرف ہر چھوٹا بڑا اپنی اپنی زبان کے تیروں بھالوں اور تلواروں سے ہر کسی کو مجروح کرتا ہوا ملا ہو تو بچپن، لڑکپن اور نوجوانی کے بار بار کے سُنے ہوئے منفی الفاظ اور برتے ہوئے کسیلے رویّے ہمارے دل و دماغ میں ہمیشہ کے لیے پیوست ہوجاتے ہیں اور ہم اپنے آپ اور اپنے ماحول کو بدلنے کے بجائے، سنوارنے کی بجائے معاشرے کے اُسی اُلٹے گھومنے والے منفی نظام / پہیے کا حصّہ بن جاتے ہیں سوچے سمجھے بِنا جو بات کی جاتی ہے، اس میں اکثر اوقات ایسے لفظ، ایسے جُملے شامل ہوجاتے ہینَ جو سامع کا دل دُکھا دیتے ہیں یا اسے پسند نہیں آتے۔ اسی لیے دنیا کے ہر مذہب، ہر تہذیب، ہر قوم، ہر نسل کے دانا اور بزرگ یہی کہتے آئے ہیں کہ ’’ پہلے تولو، پھر بولو ‘‘ اور یہ کہ ’’ جوں جوں دانائی بڑھتی ہے، گفتگو کم ہوتی جاتی ہے۔‘‘ اور یہ کہ ’’جو زیادہ بولتا ہے وہ اپنے راز کھولتا ہے ۔ اور جو اپنے راز کھولتا ہے وہ اپنے ارادوں میں ناکام ہوتا ہے ‘‘ اور یہ کہ ’’ تلوار کا گھاؤ بھر سکتا ہے ، زبان کا گھاؤ نہیں بھرسکتا ‘‘ اور اسی نوعیت کی ہزاروں حکمت و فراست سے بھرپور باتیں ۔

    بولے گئے اور لکھے گئے لفظ دُنیا کے ہر خطّے کے ہر انسان کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر متاثر کرتے ہیں۔ بچپن سے لے کر بڑھاپے تک ہمارا، ایک دوسرے سے رابطہ، بات چیت، گفتگو یا تحریروں سے رہتا ہے۔ ڈھائی تین سال کی عمر سے بچّے کو بولنا اور پڑھنا سکھایا جاتا ہے، حرف سے لفظ اور الفاظ سے جملوں تک۔ پیار، محبت ، توجہ اور خیال سے بچّے کو ایک ایک لفظ سکھا کر بولنا سکھایا جاتا ہے۔ بچّے کا دماغ، سادہ سلیٹ کی طرح ہوتا ہے۔ وہ جس زبان میں جو الفاظ سنتا ہے، وہ اُس کے دماغ میں محفوظ ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ چرچل کی بات یاد آئی کہ نازیبا الفاظ نگل لینے سے آج تک کسی کا معدہ خراب نہیں ہوا ۔ شیریں کلامی سے دُنیا مُسخّر ہوجاتی ہے اور بد زبانی سے سب بیزار ہوجاتے ہیں ۔

    اس کیساتھ مجھے دو بہت ہی دلچسپ اقوال یاد آ رہے ہیں ،

    1۔ ہمارسوچ ہمارے الفاظ بن جاتے ہین ، ہمارے الفاظ ہماری بات ، ہماری بات ہمارا عمل اور ہمارا عمل ہمارا کردار بن کر سامنے آتا ہے ۔

    2۔ کوئی بات کہنی ہو تو اسے سب سے پہلے ان تین دروازوں سے گزاری ۔۔ کیا یہ بات درست ہے ؟ کیا اس بات کے کرنے کی ضرورت ہے ؟ کیا یہ بات اس بات سے کوئی مثبت رد عمل ہوگا ؟ اگر نہیں تو پھر پاکستان میں ایک دور میں جب ٹیلیفون کمپینوں کے اشتہارات کی بھرمار تھی تو ہر روز ایک دوسرے کے مقابلے میں کم سے کم ریٹ کے اعلان ہوتے تھے جس سے تنگ آ کر اس معاملے کو ختم کرنے کیلئیے ایک کمپنی نے کیا ہی زبردست اعلان / اشتہار بنایا

     ‘ اس سے سستی ۔۔  صرف خاموشی ‘

    آخر میں اتنا کہوں گا کہ منفی لفظ کانٹوں کی مانند ہوتے ہیں اور کسی کے راستے میں یوں کانٹے نا بچھاہین کہ کہیں اچانک وقت بدلے اور آپ کو اسی راستے پر چل کر اس شخص کے پاس جانا پڑے اور آپ جا نہ سکیں ۔

    ناطق ؔ لکھنوی نے کیا خوب کہا تھا

    کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت

    جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے

  • ہجرت

    ہجرت

    ایک جگہ سے دوسری جگہ یا ایک وطن سے کسی نئے وطن کی طرف منتقل ہوجانے کو ہجرت کہا جاتا ہے۔

    منٹو نے بھی اس موضوع پر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے اس پاگل خانے کی داستان لکھی تھی جسمیں تقسیم کے بعد مذہبی بنیادوں پر زیر علاج لوگوں کو زبردستی ملک بدر کر دیا گیا تھا ، کہنے کو تو وہ دنیا والوں کی نظروں میں پاگل تھے مگر اپنی مٹی سے جڑے ہوئے تھے اور اسی طرح محبت کرتے تھے جیسے ہم کرتے ہیں. ہجرت خود اختیاری عمل نہیں ہے بلکہ آدمی بہت سے مذہبی ، سیاسی اور معاشی حالات سے مجبور ہوکر ہجرت کرتا ہے ۔ میں نے اس مختصر تحریر میں ہجرت کی مجبوریاں اور اس کے دکھ درد کو موضوع بنایا ہے۔

    دیار غیر میں مقیم کئی ہم وطنوں اور پردیسیوں کو اس تلخ تجربے سے گزرنا پڑتا ہے۔ کئی سال کہیں رہنے کے بعد ہم اس ماحول سے مانوس ہو جاتے ہیں اپنی تہذیب کے رنگوں میں اس دیس کے رنگ بھی شامل کر لیتے ہین اور ان رنگوں میں رنگ جاتے ہیں رچ بس جاتے ہیں۔

    ہجرت

    اس سال کرونا نے جہاں کئی پیاروں کو لقمہ اجل بنایا وہیں لاک ڈاون کی وجہ سے کئی کاروبار متاثر ہوئے اور کمپنیاں بند ہو گئیں جس کی وجہ سے کئی گھروں کے چولہے بھی بجھ گہے شو مئی قسمت اس کی زد میں میرے ایک دیرینہ ساتھی بھی شامل ہیں جو پچھلی چار دہایوں سے یہاں مقیم تھے ہنستا بستا گھر تھا اور ایک دن اچانک نوکری سے فارغ کر دئیے گئے ، کہیں اور کام بھی نہیں ملا کوئی تعلق کام نا آیا ویزہ ختم ہوگیا اور سواے واپس جانے کے اور کوئی راستہ بھی نہیں بچا گھر کا سامان بک گیا اور کچھ تقسیم کر دیا گیا مجھ سے کہنے لگے یار ایک پل میں سب کچھ چھن گیا سب ختم ہوگیا گھر والے بہت پریشان تھے لیکن اب تسلی دیتے ہیں بچے اس وقت ایکسائیٹڈ ہیں اور طرح طرح کے سوال پوچھتے ہیں ۔میں اپنے وطن تو جا رہا ہوں لیکن میں وہاں کبھی رہا نہیں مجھے تو یہ جگہ اپنا وطن لگتا ہے نہ مجھے کوئی وہاں جانتا ہے نہ میں راستوں سے واقف ہوں اپنے ملک جا کر بھی اجنبیت محسوس کروں گا اس لمحے مجھے برصغیر اور دنیا کی تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی انسانی ہجرت کا خیال آیا کہ اسی طرح لاکھوں لوگ در بدر ہوے قربانیاں دیں اور اب ان کی تیسری نسل اس دکھ اور عذاب سے نا آشنا ہیں جس سے ان کے بزرگ گزرے اور ہر روز کسی راستے کسی شخص کسی چیز کو دیکھ کر ان کو ان کا آبائی وطن یاد آتا ہوگا۔

    اب جب کہ میرا وہ دوست جا چکا ہے لیکن رابطے میں ہے اور اپنے پرانے ساتھیوں کی خبر لیتا ہے ، وہاں ایڈجسٹ نہیں ہو پا رہا لیکن وقت گزر رہا ہے اس تلخ حقیقت کو وہ قبول کر رہا ہےاور کہتا ہے کہ اکثر سوچوں میں گم تصور میں ہم وہاں بیٹھ کر چائے پیتے ہیں گیا وقت کچھ دیر کیلئیے پلٹ آتا ہے اور دل بہل جاتا ہے مجھے بھی آتے جاتے وہ محلہ جہاں وہ رہتا تھا وہ گلی اور وہ پیار سے سجایا ہوا گھر جو اسی کی یاد سے اب بھی آباد ہے اسی کی یاد دلاتا ہے جیسے مغل بادشاہ تو نہ رہے لیکن تاریخ میں اب بھی موجود ہیں ان عمارتوں ان کھنڈروں میں ۔

    Shandaar bukhari

    شاندار بخاری

    مسقط

    ۱۴۴۲