’شمشیر وسناں‘ کی تفسیر ۔ شاہکارِ توفیق

ممتاز کھلاڑی، لکھاری، مصنف، کالم نگار و ادبی شخصیت محمد توفیق کی کتاب ہو اور قاری کا دل بھر جائے یہ ممکن نہیں، اسے ان کے قلم کی تاثیر کہیے یا کثرتِ مطالعہ کا اثر کہ ان کا لکھا بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے کہاجاتا ہے کہ شاعری ہو یا نثر ، عمدہ تحریر اپنے آپ کو خود پڑھواتی ہے۔ تاریخ کو ایک خشک مضمون سمجھا جاتا ہے مگر جب توفیق کے قلم سے ادا ہوتا ہے تو پڑھنے والا تاریخ کی سحر انگیزیوں میں مبتلا ہوتا چلا جاتا ہے۔ انہیں پڑھتے ہوئے باربار یہ شعر زبان پر آجاتاہے:
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
تُو بہت دیر سے ملا ہے مجھے
خیر اتنی دیر بھی نہیں ہوئی اس شناسائی کو لگ بھگ دو دہائیاں بیت چکیں ماشآاللہ ساڑھے چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد، سرخ وسپید رنگت ، منفرد طرزِ خطابت کو بار بار دیکھنے اور سننے کو جی مچلتا ہے ۔ یہ ان کی محبت اور شفقت ہے کہ مجھ ایسے کم علم کو اپنی تقریات میں بلانا کبھی نہیں بھولتے، حال ہی میں ان کی پاکستان آرڈننس فیکٹریز سے متعلق دفاع پاکستان کے تاریخی تناظر میں ’’شمشیر و سناں اول‘‘ کے زیر عنوان ایک اور شاہکار کی تقریبِ پذیرائی میں بوجوہ حاضر نہ ہو سکا۔ اگلے روز الصبح ایک بھاری بھرکم سماعتوں سے ٹکرائی اور پیار بھرے لہجے میں گلہ کیا کہ آپ تقریب میں کیوں نہ آئے؟ ظاہر ہے میرے پاس کوئی عذر نہ تھا لہٰذا معذرت پر اکتفا کیا۔ یہ محض کتاب نہیں ایک ادبی شاہکار ہے، ایک خزانہ ہے علم وآگہی کا ! محمد توفیق نے پی او ایف میں اپنی سروس کے دوران جہاں امورِ ملازمت بطریق احسن نبھائے وہاں ملک کے اس قابل فخر دفاعی ادارے کے بارے ایسے ایسے گم گشتہ اور مستور راز بھی سپردِ قرطاس کیے جن سے عام پاکستانی اور قاری کبھی بھی روشناس نہ ہو سکتا ۔ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتیں ہیں ان دنوں بندہ فقیر کا اوڑھنا بچھونا صرف اور صرف کتابیں ہیں اور سب سے بڑھ کر قرآن حکیم فرقان حمید کے پوشیدہ خزانوں سے میرے روز و شب کو فیض ملتا ہے ۔ قرآن پاک کی سورہ ’العادیات‘ میں رب تعالیٰ مجاہدین اسلام کے ان گھوڑوں کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ جب وہ میدانِ جنگ میں دوڑتے ہیں تو ان کے سینوں سے ایک خاص قسم کی آواز نکلتی ہے جو دشمنوں کو مرعوب کر دیتی ہے اور جب وہ اپنے بھاری بھرکم سُم پتھروں پر زور سے مارتے ہیں تو ان سے آگ کی چنگاریاں نکلنے لگتی ہیں اور جب وہ دشمنوں کی صفوں میں گھستے ہیں تو ساری فضا گردوغبار سے اٹ جاتی ہے۔‘‘ ان آیاتِ ربانی سے واضح ہے کہ ہر زمانے کے غازیوں کے سامانِ حرب کی اللہ پاک قسم اٹھاتا ہے اس زمانے میں اللہ کے مجاہد گھوڑوں پر سوار ہو کر اسلام کا جھنڈا بلند کیا کرتے تھے آج گھوڑوں کی جگہ جدید ہتھیاروں اور ٹینکوں نے لے لی ہے ٹینک کی دھمک اور گڑگڑاہٹ جب بلند ہوتی ہے تو دشمنوں کے سینے دہل جاتے ہیں اور ان سے آگ کے شعلے بھی برآمد ہوتے ہیں۔
یہ نہ ہو بات کہیں اور نکل جائے ہم نے اپنے موضوع کے ساتھ انصاف بھی کرنا ہے اور تخلیق کار کی محنت اور کاوشوں کا ذکر بھی۔ جیسا کہ فقیر نے کہا کہ مصنف تاریخ کو اس لطیف پیرائے میں بیان کرتے ہیں کہ قاری آغاز سے انتہا تک ان کی پراثرتحریر کے سحر سے نکل ہی نہیں پاتا۔ محمد توفیق اس تاریخی کتاب میں جنگوں کے ارتقائی مراحل سے لے کر ففتھ جنریشن وار، عہد حاضر میں عسکری حکمت عملی کے علاوہ عالمی دفاعی منظرنامہ کا بھی طائرانہ جائزہ لیا ہے انہوں نے کتاب میں سپر پاور امریکہ پر بھی سیر حاصل گفتگو کی ہے جبکہ پاک بھارت دفاعی تقابلی جائزہ عمیق نظر سے کیا ہے ۔ کتاب میں عالمی امن کے قیام میں پاکستانی فوج کے کردار کو بہت احسن انداز میں پیش کیا ہے ۔ قوموں کی ترقی، حریتِ فکر اور سائنس و ٹیکنالوجی پر بھی قلم آرائی کی ہے صرف یہی نہیں بلکہ دفاعی میدان میں مسلمانوں کی تحقیقی اور تخلیقی انحطاط پر روشنی ڈالتے ہوئے صفحہ نمبر35پر رقمطراز ہیں ’’مسلمان عددی اعتبار سے ساری دنیا کا ایک چوتھائی ہیں مگر اس کے باوجود دنیا کی صرف چھ فیصد دولت کے مالک ہیں۔ وہ لوگ جن کی یومیہ آمدنی دوڈالر سے کم ہے اب دنیا کی آبادی کا ایک تہائی حصہ ہیں اور یہ سب مسلمان ہیں۔ پچھلے تیس سالوں میں مسلمان ممالک کے درمیان مختلف جنگوں کے نتیجے میں25لاکھ افراد ہلاک ہوئے اور یہ سب مسلمان تھے ۔ دنیا میں وہ لوگ جن کا کوئی ملک نہیں اور نہ ہی کوئی آسرا ہے ان کی تعداد کئی لاکھ ہے مگر ان میں80%وہ ہیں جنہیں دنیا مسلمان کہتی ہے۔ آج اگر تمام اسلامی ممالک اپنی آمدن کا10%سائنس اور ٹیکنالوجی بالخصوص دفاعی تحقیق پر لگادیں تو یہ صرف دس سال میں امریکہ کے برابر عسکری طاقت بن جائیں گے! لیکن یہ کرے گا کون؟؟؟ بھیڑیں کبھی اتحاد نہیں کر سکتیں اور نہ ہی بکریاں قصائی کے سامنے سر اٹھا سکتی ہیں۔‘‘ آگے چل کر فرماتے ہیں ’’مسلمانوں کی زبوں حالی کی ایک بڑی وجہ کتاب سے دوری بھی ہے۔ آج ہم ہزاروں روپے کا جوتا خرید لیتے ہیں دوسو روپے کی کتاب نہیں خرید تے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کو کتاب سے زیادہ جوتوںکی ضرورت ہے۔ سکندراعظم نے کہا تھا’’کتب خانے روحانی دواخانے ہیں‘‘ جبکہ لارڈ میکالے نے خواہش ظاہر کی تھی ’’کاش مجھے موت کتب خانے میں آئے۔‘‘
کتاب میں انڈین آرڈننس فیکٹریز کا مقابلہ پاکستانی آرڈننس فیکٹریز سے کیا گیا ہے اور واہ آرڈننس فیکٹری کے قیام کا ایک اجمالی جائزہ بھی لیا گیا ہے ۔ عالمی طاقتیں اسلحہ کی فراہمی کو مختلف خطوں اور ممالک پر اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لئے کس طرح استعمال کرتی ہیں اس کی ایک جھلک اس قطعہ میں نظرآئے گی:
بڑا منصف ہے امریکہ اسے اللہ خوش رکھے
بزعمِ خویش وہ سب کو برابر پیا ردیتا ہے
کسی کو حملہ کرنے کے لئے دیتا ہے میزائل
کسی کو ان سے بچنے کے لئے راڈار دیتا ہے
محمد توفیق نے جہاں پی او ایف کے سربراہان کا ذکر کیا ہے وہاں انہوں نے مزدوروں اور ان کی تنظیموں کا بھی مفصل ذکر کیا ہے۔ ویرانوں سے بستیوں کی تعمیر کا دلربا قصہ بھی اس کتاب کے حسن کو دوبالا کرتا ہے ۔ پاکستان آرڈننس فیکٹریز کے سربراہان کی تعداد 22ہے جناب غلام فاروق سے لے کر موجودہ چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل علی عامر اعوان ، ہلال امتیاز (ملٹری) کے ادوار کا تفصیل سے ذکر ملتا ہے۔ مصنف نے اس شاہکار تصنیف کا انتساب سابق چیئرمین پی او ایف و موجودہ سفیر سعودی عرب لیفٹیننٹ جنرل(ر) بلال اکبر ،ہلال امتیاز( ملٹری ) کے نام کیا ہے۔ کتاب میں خاصے کی شے جو مجھے نظر آئی وہ ہے ’’واہ کا نور بابا‘‘! مصنف جنرل بلال اکبر کے بارے رقمطراز ہیں ’’اللہ نے انہیں امتیازیت و نرگسیت کی ٹھمک سے آزاد کر رکھا ہے کسی کی فرمائش ہو یا کتنا ہی غیر منطقی مطالبہ وہ انکار نہیں کر سکتے ۔ کسی سیانے کے بقول’’ جاہل کی بات کو برداشت کرنا عقل کا صدقہ‘‘ ہے ۔ عزت نفس کی پامالی کو اپنی سُبکی گردانتے ہیں ، وہ لوگوں کے سروں پر نہیں دلوں پر راج کرتے ہیں۔ یوں بھی رومی نے کہا تھا ’’میرا مزار زمین پر نہیں، لوگوں کے دلوں میں ڈھونڈو۔‘‘ بقول اشفاق ہاشمیؔ
ایک سے بڑھ کر مکاں بنتے رہے
امن تھا جن میں وہی بس گھر ہوئے
خوب ہوں گے ہر جگہ انساں مگر
واہ میں جنرل بلال اکبر ہوئے
محمد توفیق اعوان کے فنِ تحریر کا مداح تو پہلے سے ہوں اس کتاب نے مجھ ایسے کم علم کے لئے بہت سی نئی قندیلیں روشن کر دی ہیں۔ میری رائے میں اس کتاب کو نوجوان نسل تک پہنچانے کے لئے اسے کالجز اور یونیورسٹی نصاب کا حصہ بنایا جائے اور پاکستان کی کوئی لائبریری اس کتاب کے بغیر تشنہ نہ رہے کیونکہ یہ کتاب تاریخ کے طالبعلم کے لئے کسی انمول نعمت سے ہرگز کم نہیں۔ محمد توفیق اب ریٹائر ہو چکے ہیں لیکن ان کے پاؤں میں ’’ٹائر‘‘ لگے ہوئے ہیں وہ سیلانی شخصیت ہیں، ہماری دعا ہے کہ وہ زندگی کے لمحات میں اپنی تحریر کے ذریعے لوگوں کے لئے مسکراہٹ اور محبتوں کے سفیر بنے رہیں۔ ’’شمشیر و سناں‘‘ کی اس سے شاندار تفسیر کوئی دوسرا نہیں لکھ سکے گا۔

AWAN

شاہد اعوان

شاہد اعوان

Next Post

18اپریل ...تاریخ کے آئینے میں

پیر اپریل 18 , 2022
18اپریل ...تاریخ کے آئینے میں
18اپریل …تاریخ کے آئینے میں