“شب ہجر” میری نظر میں

“شب ہجر” میری نظر میں

18 دسمبر اٹک کتاب میلہ میں ارسلان خان ارسل نے زیر نظر کتاب عنایت کی. آپ اٹک کے نوجوان شاعر ہیں. پہلے تو مبارک باد دیتا ہوں.
جستہ جستہ مطالعہ کے بعد حاصل مطالعہ یہ ہے کہ عاصی نے عجلت پسندی کا مظاہرہ کیا ہے کیونکہ کئی مقامات پر اوزان کی اغلاط نظر سے گزریں جو تھوڑی سی محنت سے درست ہو سکتی تھیں, اس کے باوجود کلام کا نمایاں حصہ معیاری اور پختہ ذہنی تجربے کا غماز نظر آتا ہے.

“شب ہجر” میری نظر میں

ان کی بحور کلاسیکل شعرا سے مستعار لی گئی ہیں. پیر نصیر الدین نصیر رحمہ اللہ کا رنگ بھی واضح دکھائی دیتا ہے. عاصی اردو کی کلاسیکل روایت سے لابلد نہیں ہے. اس کتاب میں اردو نعتیں, غزلیں, پنجابی کلام اور قافیاں شامل ہیں. کم عمری میں ان کی محنت اور کتاب سے وابستگی خوش آئند ہے. میں ان کا خیر مقدم کرتا ہوں. “شب ہجر” سے چند اشعار پیش خدمت ہیں. قارئین بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ارسلان عاصی کا ذہن کتنا زرخیز ہے اور یہ اردو شاعری کے وسیع و عریض میدان میں اپنا مقام بنانے کی سکت رکھتا ہے:
قابل نہیں میں آپ کی تعریف کے لیے
کیسے وجود خام کو مدحت سرا کروں

چند لمحوں میں وہ قوسین کی منزل اللہ
اوج سدرہ سے بھی آگے ہے اجارہ تیرا

نگاہ میں ہے لطف پنہاں
کہاں وہ لذت شراب میں ہے

قلب پرنم تو اک سمندر ہے
یادپیہم کی ہی روانی ہے

سامنے رہ کے بھی وہ کتنے حجابوں میں رہے
جیسے مبہم کوئی تحریر کتابوں میں رہے
ہو کے اوجھل ترا اس آنکھ سے دل میں رہنا
ہو کہ مکتوم مہک کیسے گلابوں میں رہے

آپ سے کیا کریں شکایت ہم
آپ ہی کے ستائے ہوئے ہیں

sarmad

سجاد حسین سرمد
مدیر سہ ماہی دھنک رنگ فتح جنگ
19 دسمبر 2022ء

سجاد حسین سرمد

Next Post

لباس و پہناوا

جمعہ دسمبر 23 , 2022
لباس انسان کی فطری ضرورت اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے-
لباس و پہناوا

مزید دلچسپ تحریریں