منتہاۓ فکر اور پیغام باکمال

تحریر : سجاد ساجن انصاری ، شیخوپورہ

“منتہاۓ فکر “شعری مجموعہ کہ جس کا میں بار بار مطالعہ کر چکا ہوں ۔ پھر بھی جی کرتا ہے ۔ مطالعہ کرنے کو کتاب کو پڑھتے ہوئے آنکھیں تھکاوٹ میں نہیں آتیں ۔ منتہاۓ فکر” ایک بہت بڑے عاشق رسول صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کا شاہکار ہے ۔ “منتہاۓ فکر “اردو شاعری کی زینت ہے ۔ پوری کتاب میں مقبول ذکی مقبول صاحب کی قابلیت کی جھلک دکھائی دیتی ہے ۔ اس مجموعہ کلام میں اللّٰہ تعالی کی تعریف حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ سلم سے محبت اور واقعہ کربلا کا ذکر ملتا ہے ۔ دو شعر ملاحظہ فرمائیں

سرمد سرمد رہنے والا
واحد اللّٰہ خالق سب کا
قاصر بندہ دیکھ نہ پایا
دل کے اندر مالک اپنا

پوری کتاب میں قافیہ ردیف اور مطلع مقطع کا خیال رکھا گیا ہے ۔ انسان کو دنیا اور آخرت کی فکر کا احساس دلاتی ہے ۔ شاعری میں روانی بھی ہے ۔ پنجتن پاک علیہ السلام کے گھرانے سے عقیدت اور حضرت امام حسین علیہ السلام سے محبت کا درس دیتی ہے ۔

حسین (ع)کربل خدا کی حجت
حسین (ع)قابل خدا کی حجت
چراغ گل کر جو جانا چاہیے
امام عادل خدا کی حجت
لہو سے کرب و بلا میں شاہ نے
مٹایا باطل خدا کی حجت

علم سمندر ہے یوں دیکھا جائے تو ادب کا میدان بہت وسی ہے ۔ شاعر کن کن مشکلات سے گزر کر شاعری کو وجود بخشتا ہے ۔ کوئی شاعر اچھا شاعر بن سکتا ہے ۔ بڑی غزل کہنے سے بڑا شاعر بن سکتا ہے ۔ لفظوں کو گھمانے سے بڑا شاعر بن سکتا ہے ۔ میرے نزدیک بڑا شاعر ہونا ضروری نہیں بڑا انسان ہونا ضروری ہے ۔ مقبول ذکی مقبول صاحب بڑا انسان بھی ہے اور بڑا شاعر اور عاشق رسول بھی ۔
نعت شریف کے دو شعر ملاحظہ فرمائیں

آپ ﷺ کے دم سے عالم سنوارا گیا
ذکر سے کام بنتا ہمارا گیا

ذکی صاحب کے قلم کی روانی اور جولانی اس بات کا پتا دے رہی ہے کہ یہی منتہاے فکر اس کو “سجدہ ” کے راستے اپنے فن کی معراج پر پہنچائے گی۔اور اس کی ادبی مقبولیت میں انشاءاللہ آئے روز اضافہ کرئے۔دعا ہے
اللّٰہ کرے زور ِ رقم اور زیادہ

سانس چلنے لگی حق کے پیغام کی
ایسے دل میں عمل کو اتارا گیا
آمین

سجاد ساجن انصاری

شیخوپورہ، پنجاب، پاکستان

سونیا بخاری

Next Post

حضرت امام جعفر صادق ؑ اور خوفِ خدا

جمعہ مئی 20 , 2022
مالک بن انسؒ فقیہ مدینہ کہتے ہیں کہ میں اکثر اوقات جناب امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ جب بھی میں ان کے پاس گیا ہوں
حضرت امام جعفر صادق ؑ اور خوفِ خدا