مرزا جی

صبح کے آٹھ بجے تھےابھی چائے سامنے آئی ہی تھی کہ مکان کے قریب ایک ہنگامہ بپا ہوگیا تھا۔تیری ماں۔۔۔۔۔۔۔اور تیری بہن۔۔۔۔۔۔یا الہٰی خیر میں چائے چھوڑکر فوراً باہر دوڑا۔سامنے سے ایک بزرگ ایک ہاتھ میں عصائے پیری لیئے ہوئے دوسرے ہاتھ میں کانچ کے پیلے دانے کی تسبیح تن زیب کا لمبا کرتہ ۔گہرے ہرے رنگ کی تہبند پیروں  میں  لکڑی کی چٹی سر پر گوشیہ ٹوپی پہنے ہوئے آتے دکھائی دئیے۔ان کے پیچھے دس بارہ لڑکوں کا ایک دستہ تسبیح کی حرکت تو  بند تھی مگر مذکورہ بالا وظیفہ ابھی تک جاری تھا۔

میں نے کہا السلام علیکم مرزا جی۔

وعلیکم السلام بھائی (عین کو پوری قوت کے ساتھ نکالتے ہوئے)مرزا جی نے جواب دیا۔

خیریت  ہے مرزا جی؟ میں نے پوچھا

 کیا خاک خیریت ہے دیکھ رہے ہیں آپ ان شیطانوں کے  بچوں کو صبح سے حرام زادے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔

            میں نے کسی لڑکے کو ڈانٹ بتائی کسی کو سمجھایا بچوں یہ بات بہت نا مناسب ہے مرزا جی ایک سن رسیدہ بزرگ ہیں۔بزرگوں کو پریشان نہیں کیا کرتے۔جب تم لوگ بوڑھے ہو گے تو تم کو بھی تمہارے بچے پریشان کریں گے جاؤ اپنے اپنے گھر آیئندہ مرزا جی کو مت پریشان کرنا ۔دو چار لڑکے اِدھر اُدھر ٹہل گئے دو ایک میرے چبو ترے پر بیٹھ گئے، ایک دو دیوار سے لگ کر کھڑے ہوگئے ۔ میں نے کہا مرزا جی آئیے دس پانچ منٹ ہمارے پاس بیٹھ جائیے ایک پیالی چائے پیجئےجب تک یہ بدمعاش بھی دفعاں ہو جائیں گے ۔کیا مضائقہ ہے آئیے کہہ کر مرزا جی کمرے میں آکر کرسی پر بیٹھ گے۔

mirza ji
Image by Devanath from Pixabay

            کیا بات ہے مرزا جی یہ لڑکے آپ کو کیوں پریشان  کرتے ہیں ۔میں نے چائے کی پیالی ان کو پیش کرتے ہوئے پوچھا ۔ابھی مرزا جی جواب بھی نہ دینے پائے تھے کہ ایک لڑکا دیوار کی آڑ سے دروازے کے سامنے آکر کہنے لگا کوئی بات نہیں صاحب ہم  نے  کہا مرزا جی سوئیاں کھائیگا بس مرزا جی لگے وظیفہ پڑھنے۔

            دیکھا آپ نے یہ کمبخت ابھی تک یہ دفعاں نہیں ہوئے  میں کہتا ہوں انھیں موت بھی نہیں آتی۔

ارے ارے مرزا جی آپ تو کوسنے لگے ۔آخر یہ سب آپ ہی بچے ہیں  میں نے بہت سنجیدگی سے کہا

            واہ صاحب بچے ہوں گے تو آپ کے میرے کوئی بچے وچے نہیں یہ سب شیطان کے بچے ہیں۔

            میں حیران رہ گیا کہ مرزا جی بھی طرفہ تماشاہیں ۔ بچوں کے ساتھ مجھے بھی لے ڈالا۔ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد میں نے کہا مرزا جی اگر لڑکوں نے آپ سے سوئیاں کھانے کے لئے پوچھا تو اس میں برائی کیا کی،میں ہوتا  تو کہتا  کہ لاؤ ضرور کھاوں گا۔

            ہاں آپ کو ضرور کہتے اور یہ آپ کو ضرور کھلاتے ۔میں کہتا ہوں قسم خدا کی اگر میری جگہ آپ ہوتے تو ادھوں سے سر پھوڑکر جان دے دیتے یہ میرا جگر ہے جو یہ سب برداشت کر رہا ہوں اور جی رہا ہوں۔

            سوئیاں پینے اور پلانے میں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے کہ کوئی سر پھوڑ کر جان دے دے ،آپ تو ناحق پریشان ہوتے ہیں ۔کمرے کے ایک گوشے سے کئی آوازیں بلند ہوئیں ناحق صاحب ناحق۔

            اب جو دیکھا تو سب لڑکے میرے کمرے میں کھڑے ہنس رہے ہیں۔مرزا جی پسینہ پسینہ ہو گئے میں نے کہا لڑکو یہ بات ٹھیک نہیں ہےتم لوگ ادھر آکر کرسیوں پر بیٹھ جاؤ۔سب لڑکے کرسیوں پر مرزا جی کے قریب ہی قریب بیٹھ گئے مرزا جی نے کہا اچھا اب مجھے اجازت دیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

            میں ابھی کچھ کہہ بھی نہ پایا تھاکہ ایک لڑکا مرزا کے بغل  میں ہین بیٹھا ہواتھا اٹھا اور مرزا کی کو رومال پیش کرتے ہوئے بولا  مرزا جی پسینہ تو پونچھ لیجئے ۔تڑاخ کی ایک زوردار آوازنے سب کو چونکا دیا۔

            جل تو جلال تو۔صاحب کمال تو ۔ آئی بلا کو ٹال تو۔پیچھے سے کوئی کہہ رہا تھا۔

میں نے کہا مرزا جی یہ کیا بات ہوئی۔مرزا جی بولے دیکھ نہیں رہےہیں آپ ان کی بدمعاشیاں ۔اجی آپ نے مجھے یہاں بٹھا کر اور مصیبت میں ڈال دیا  لاحول ولاقوۃ میں کہتا ہوں کتے کے پلےّ ہیں یہ سب آدمی کے بچے نہیں۔ایک لڑکے نے کہا مگر حضرت ہم تو آپ ہی کے بچے ہیں ۔ہرگز نہیں کبھی نہیں ۔اگر تم ہمارے بچے ہوتے تو ہم خداکی قسم سب کو گلا دبا کر مار ڈالتے ۔مگر   حضرت اگر  آپ ہم سب کو مار ڈالتے تو خدا کی قسم ہم کبھی کتے کے پلےّ نہ کہلاتے ۔اب مرزا جی کو تاو آیا تو اللہ دے اور بندہ لے۔مرزا جی اپنا ڈنڈا ہلانا شروع کر دیا اور ہمارے کمرہ میں وہ دھما چوکڑ ی مچی کہ اللہ کی پناہ ۔کوئی تو کرسی کے اوپرمنہ کے بل پڑا ہوا تھا اور کوئی زمین پر چت پڑا ہوا تھا  اور اس پر کرسی اوندھی ہوئی تھی دو ایک کرسیاں  بھی ٹوٹیں مگر مرزا جی کا ڈنڈا ابھی تک آپے سے باہر تھا میں نے اپنے جی میں کہا لاحول ولا قوۃ ،میں نے بھی کیا مصیبت مرزا جی کو یہاں بلاکر مول لے لی۔خیر کسی صورت سے مرزاجی کو سمجھا بجھا کر اور لڑکوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر ہنگامے کو رفع کیا  اور بڑی مشکل سے مرزاجی کو بیٹھنے پر راضی کر پایا جب مرزا جی اطمینان سے  کرسی  پر بیٹھ گئے تو میں نے ان کے سامنے پان پیش کرتے ہوئےپوچھا مرزا  جی سوئیاں کھانے میں کیا حرج ہے؟

            لا حول ولاقوۃ آپ بھی کمال کرتے ہیں صاحب کون کمبخت سوئیاں کھلاتا ہے مرزا      جی چھلاّ کر بولے ۔

            میں نے کہا ابھی تو یہ لڑکے کہہ رہے تھےکہ میں نے کہا مرزا جی سوئیاں کھائیے گا بس   مرزا جی گالیاں سنانے لگے۔

            جی ہاں آپ کو کچھ پتہ بھی ہے یہ بڑے حرامزادے ہیں محض چڑھانے کے لئے کہتے ہیں مرزا جی نے تسبیح کے دانوں کو پھیرتے ہوئے کہا تو آپ چڑھتے کیوں ہیں میں نے سمجھانے کے انداز میں کہا۔

            لاحول ولاقوۃ آپ بھی عجیب آدمی ہیں کویں چڑھتا ہوں یہ لونڈے چڑھاتےہیں۔

            آپ کی عقل کچھ موٹی معلوم ہوتی ہے مرزا جی نےکہا۔

                             ہو سکتا ہے مگر کیا قصہ ہے آخر سوئیوں کا کچھ میں بھی تو سنوں۔ایک لڑکا بولامیں بتاؤں میں ڈانٹ کر کہا نہیں تم سب خاموش  رہو۔میں مرزا جی سے پوچھ رہا ہوں مرزا جی بتلائے اب میں کیا بتاؤں انھیں حرامزادوں سے پوچھئے اور مجھے اجازت دیجئے۔لیجئے اور پان نوش فرمائیے۔مرزا جی نے   بڑت اطمینان سے  یہ  یک وقت دو پان نوش فرمائے اور تمباکو کی ڈبیہ کھولنے میں مشغول ہو گئے۔

            میں نے کہا دیکھو لڑکو تم میں سے ایک لڑکا جو سوئیوں کی حقیقیت سے کما حقہ واقف ہو  اس پر روشنی ڈالے اور  خبر دار اگر کوئی دوسرا لڑکا درمیان میں بولا اور یہ بھی خیال رہے کہ ایسی کوئی بات نہ کہی جائے جس سے مرزا کی کی شان میں گستاخی ہو۔واقعہ صرف واقعہ کے طور پر بیان کیا جائے۔ایک لڑکے نے کہا  ہم بیان کریں دوسرا بولا ہم بیان کریں  گے تیسرا بولا ہم بیان کریں گے۔

            ہم نے کہا بکواس بند کرو تم میں سے صرف ایک لڑکا بیان کر ے گا ورنہ کوئی بھی نہیں۔

مرزا جی بولے ارے میاں صاحب آپ بھی کہاں الجھ بیٹھے ہیں ان میں ایک سے ایک شیطان ہے یہ آپ کو بھی نگنی کا ناچ نچا دیں  گے۔کسی نے کہا شیطان نہیں شیطان کا بچہ کہئے دیکھا پھر حرامزادے نے چوٹ کی۔ ارے مرزا جی جانے دیجئے بچے ہیں۔اچھا تم  واقعہ بیان کرو سامنے بیٹھے ہوئے لڑکے سے ہم نے کہا۔

            وہ بڑے ادب سے کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ صاحب بات اصل میں یہ ہے کہ رمضان شریف کا مہینہ تھا میں نہیں کہہ سکتا کہ مرزا جی روزہ رکھے تھے یا نہیں مگر نماز ضرور پڑھتے تھے۔

            ہت تیرے مردے کی دیکھا تو ہمت یہاں تک آ گئی کہ میرے روزے نماز پر بھی حملہ کرنےلگےہیں شیطان کہیں کے۔اتنا کہنا تھا کہ کمرے میں پھر ایک بار دھما چوکڑی مچ گئی۔میں نے کہا ارے مرزا صاحب  اس نے روزے کے متعلق اپنی لا علمی کا اظہار کیا کوئی حملہ نہیں کیا۔

            ہاں صاحب آپ بھی ان حرامزادوں کو شہ دیجئےتوبہ توبہ مرزا صاحب  یہ آپ کیا فرما رہے ہیں میں اور ایسی گستاخی کر سکتا ہوں۔

ہاں بچے پھر کیا ہوا  بھئی دیکھوں ذرا  احتیاط سے واقعہ بیان کرو۔میں یہ کہہ رہا تھا کہ مرزا جی نماز ضرور پڑھتے تھے  خاص کر نماز مغرب میں مجھے دیکھنے کا زیادہ اتفاق ہوا ہے۔مرزا جی کا روزانہ کا معمول ہے کہ نماز مغرب سے چند منٹ پیشتر ہی مسجد پہنچ جایا کرتے ہیں ۔ایک روز کا ذکر ہے کہ سارے روزہ دار روزہ افطار کرکے نماز کے لئےکھڑے ہو چکے تھے اتنے میں ایک صاحب ایک پیالے میں کچھ لے کر آئے مرزا جی ابھی تک افطار ی کھانے میں مشغول تھے اور جماعت میں شامل نہیں  ہوئے تھے لپک کر پیالہ ہاتھ میں لے لیا آؤ دیکھا نہ تاؤ فوراً منہ مار دیا میں نے تو صاحب یہ دیکھا کہ مرزا جی پیالے میں مُنہ لگاتے  ہی فوراً اچھل پڑےمگر صاحب کیا مجال جو پیالہ ہاتھ سے چھوڑا ہو جس طرح بنا اس کو ختم کرکے ہی چھوڑا حالانکہ اس چکر میں مرزا جی ایک رکعت سے بھی محروم ہوگئے جب نماز ختم کرکے مرزا جی واپس ہوئے تو میں نے پوچھا مرزا جی کیا سوئیاں گرم تھیں کہنے لگےبڑے کمبخت ہیں جانتے ہیں افطار اور نماز کے درمیان کتنا کم وقفہ ہوتا ہے پھر بھی اتنی گرم چیزیں بھیج دیتے ہیں اتنے عرصے میں کوئی ان چیزوں کو ٹھنڈا کرے یا کھائے اگرٹھنڈا کرے تو کھا نہیں سکتا اور اگر کھانے لگے نماز جاتی رہے چنانچہ ایک رکعت جاتی رہی غضب خدا کا کتنی گرم! پھاپ تک نکل رہی تھی مگر آفریں ہے آپ کی ہمت کو کہ آپ نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی حالانکہ دیکھئے آپ کے ہونٹ پر چھالا پڑ گیا ہے۔مرزا جی نے انگلی سے ٹٹولا جلدی سے روانہ باشد ہو گئے ۔چہہ سات روز کے بعد دیکھا کہ مرزا جی اپنی پرانی ہئیت کذائی کے ساتھ منہ پت لگام چڑہائے  ہوئے چلے آرہے ہیں ۔میں نے پوچھا مرزا جی یہ کیا بات ہے کہنے لگے آبلہ تھا پک گیا ہے پٹی باندھ رکھی ہے،ہم نے کہا سوئیاں منگاؤں؟

                        مرزا جی بولے چڑھاتاہے یہ کہہ کر ہمیں کھرید لیا ہم سمجھے مرزا جی کو سوئیاں بہت پسند ہیں اب جب ملاقات ہوتی ہے تو پوچھ لیتے ہیں سوئیاں کھائیے گا تو مرزا جی  آپے سے باہر ہو جاتے ہیں ۔’’اب آپ ہی بتایئے ہم لوگ کیا گناہ کرتے ہیں مرزا جی سے پوچھ لیجئے یہ واقعہ صحیح ہے یا غلط۔‘‘

                                    میں نے کہا مرز اجی یہ ٹھیک کہتے ہیں؟

            مرزا  جی بولے۔ ارے صاحب ی ٹھیک ہے کہ سوئیاں میں نے پی۔لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ یہ کمبخت مجھے چڑھائیں۔

            میں نے کہا مرزا جی اگر آپ چڑھنا چھوڑدین تو یہ قصّہ ختم ہو جائے۔

لاحو ولاقوۃ میں کہہ چکا ہوں کہ یہی حرامزادے چڑھاتے ہیں۔میں کہاں چڑھتا ہوں آپ کی یا تو عقل موٹی ہے یا آپ بھی انھیں میں سےایک ہیں۔یہ کہتے ہوئے مرزا جی کرسی چھوڑ کر کھڑے ہو گئے میں نے کہا مرزا جی لیجئے یہ پان تو  کھاتے جایئے۔ مرزا جی خفا ہو کر چل دیئے۔ پھروہی  مرزا جی تھے اور وہی لڑکوں کا دستہ مرزا جی سوئیاں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہت تیری ماں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہت تیری بہن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

wasfi bahraichi

عبد الرحمن خاں وصفیؔ بہرائچی

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

جنید احمد نور

Next Post

حضرت عبد الرحمن خاں وصفی ؔ بہرائچی

جمعہ اکتوبر 22 , 2021
عبد الرحمن خاں وصفیؔ بہرائچی ضلع بہرائچ کے ایک مشہور استاد تھے۔ وصفی ؔصا حب کی پیدائش ۲۲؍اکتوبر ۱۹۱۴ءکو شہر کے محلہ میراخیل پورہ بہرائچ میں ہوئی تھی۔
حضرت عبد الرحمن خاں وصفی ؔ بہرائچی

مزید دلچسپ تحریریں