آؤ جھوٹ کو عام کریں 

تحریر :

سیّدزادہ سخاوت بخاری

سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ” ٹک ٹوک ” پر نظر پڑی تو ایک درگاہ کے سجادہ نشین ، جن کا رخ انور ، داڑھی مبارک سے مزین ، سر پر عمامہ اور ھاتھ میں عصاء ، کسی مسجد کے منبر سے ، مسلمانان پاکستان سے مخاطب تھے ۔

ٹک ٹوک کے قانون کا خیال رکھتے ہوئے ، اپنے مختصر دورانئیے کے بیان میں انہوں نے جس مہارت سے دریاء کو کوزے میں بند کیا ، یقینا قابل داد ہے ۔

حضرت سجادہ نشین صاحب فرماتے ہیں :

” حضرات !  میں حال ہی میں مکہ مدینہ سے ہوکر آیا ہوں ۔ وہاں  مجھے درجنوں افراد ملے اور اب ان کے ٹیلیفون آرہے ہیں  بلکہ ایک بزرگ جو مدینہ شریف میں روضہء رسول ﷺ  کی خدمت پر مامور ہیں ،  انہوں نے مجھے فون کرکے بتایا کہ

 حضور پاک ﷺ نے انہیں خواب میں آکر فرمایا

عمران خان ایک فتنہ ہے جو ملک پاکستان اور اس کی افواج کو بدنام کررہا ہے لھذا اس کے خلاف آواز اٹھاؤ

اور یہ کہ

عمران خان جب بھی میرے روضے پر آتا ہے تو میں اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیتا ہوں ۔

( بحوالہ ٹک ٹوک کلپ بتاریخ 28 مئی 2022 صبح 9 بجے ،  از غلام حسنین سجادہ نشین دربار لطیفیہ امام بری سرکار اسلام آباد )

قارئین کرام

دین اسلام کا اس طرح سے استعمال کوئی نئی بات نہیں ۔ اس سے قبل مولوی فضل رحمان صاحب

 ماشاء اللہ اپنے ایک خواب میں ( بقول ان کے ) حضرت آدم علیہ السلام  سے ٹیلیفون پر تفصیلی گفتگو کرچکے ہیں ۔

سجادہ نشین صاحب کا کلپ سننے کے بعد مجھے اپنا ایک تحقیقی مقالہ یاد آگیا جو میں نے 80 کی دہائی میں ” فن کذب بیانی ” کے عنوان سے تحریر کیا تھا ۔ اپنی اس تحریر میں یہ بات باور کرانے کی کوشش کی ، کہ جب ہم سب کا اوڑھنا بچھونا جھوٹ ہی ٹھہرا ، تو کیوں نہ ہم جھوٹ کو باقائدہ فن کا درجہ دے دیں ۔  اسے ایک مفید علم و فن تسلیم کرکے ( Regularised ) کردیا جائے ۔ ریگولرائیزڈ کا مطلب ہوتا ہے ، کسی بھی کام کے قائدے ، قانون اور ضابطے مقرر کرنا تاکہ اس سے خلق خدا کو نقصان کی بجائےفائدہ حاصل ہو ۔  ۔ مثال کے طور پر عصمت فروشی ، زنا یا رنڈی بازی ، ہر دین اور ہر معاشرے میں ممنوع ہے لیکن جب صدیوں کے تجربے سے یہ بات عیاں ہوئی کہ اسے ختم نہیں کیا جاسکتا تو بہت سارے ممالک نے اسے ایک پیشہ تسلیم کرکے  Regularised  یا باقائدہ بنادیا ۔ اس کے لئے قائدے اور قانون بنائے گئے ۔ مثال کے طور پر

طوائف کی عمر 18 سال سے کم نہیں ہوگی ۔

کسی عورت کو زور زبردستی اس کام کے لئے مجبور نہیں کیا جائیگا ۔

طوائفوں کے لئے الگ محلہ یا علاقہ مختص ہوگا تاکہ معاشرے کی دیگر خواتین اس وباء سے متاثر نہ ہوں ۔

طوائف ہر مہینے اپنا میڈیکل چیک اپ کرائے گی تاکہ گاہکوں کو متعدی امراض سے بچایا جاسکے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔

انگریز نے جب برصغیر میں قدم گاڑ لئے تو چکلے ( Red Light Areas) کا قانون پاس کرکے ہندوستان بھر کے شہروں کلکتہ ، بمبئی ، دلی ، لاہور اور کراچی میں قانون کے مطابق طوائفوں کو لائیسینس جاری کئے۔ یہ سلسلہ ہمارے ہاں ایوب خان کے دور تک قائم رہا جبکہ بھارت میں آج بھی یہ قانون موجود ہے ۔

معاف کیجئے میرا آج کا موضوع عصمت فروشی یا ریڈ لائٹ ایریاز نہیں بلکہ مثال دے کر اپنی بات سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں کہ جب کسی معاشرے میں  کوئی انفرادی اور ذاتی فکر ، خیال ، عادت یا رسم  عام ہوجائے اور اسے روکنا ممکن نہ ہو تو دنیاء اسے نظریہ ضرورت کے تحت  ایک قائدے میں ڈھال دیتی ہے جیسا کہ عصمت فروشی اور شراب نوشی وغیرہ ، جن کے با ضابطہ پرمٹ جاری کئے جاتے ہیں ۔

عجب تماشہ ہے ، رنڈی بازی اور شراب نوشی ، کہ جس میں  معاشرے کا ایک چھوٹا سا طبقہ ملوث ہوتا ہے  اس کے لئے تو قانون بناکر ان اعمال کو محفوظ بنا دیاگیا جبکہ جھوٹ جیسی عادت کہ جس میں اکثریت غرق ہے ، اس پر توجہ ہی نہیں دی گئی بلکہ اس فعل کو چھپانے کے لئے مزید جھوٹ بولا جاتا ہے ،  سرکاری قومی اور عالمی سطح پر جھوٹ کے انبار لگا دئیے جاتے ہیں ۔

آؤ جھوٹ کو عام کریں 
Imagen de mohamed matar en Pixabay

امریکی صدر جورج بش نے یہ جھوٹ بول کر عراق پر چڑھائی کردی کہ صدام کے پاس خوفناک تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں جبکہ وہاں سے ایک پٹاخہ بھی برآمد نہ ہوسکا ۔  اسی طرح مودی سرکار نے ہمارے آزاد کشمیر پر یہ کہ کر حملہ کرایا کہ یہاں دہشت گردوں کا کیمپ ہے لیکن وہاں جنگلی درختوں کے سوا کچھ نہ تھا ۔ کیا یہ سب عالمی سطح کے جھوٹ نہ تھے ۔ اس قسم کی سینکڑوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں جہاں دن کی روشنی میں عالمی راہنماوں نے جھوٹ بولے ۔

باہر کی دنیاء کو چھوڑئیے ، مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ، عام آدمی سے لیکر خواص تک ، ہر ایک دھڑلے سے جھوٹ بولتا ہے لیکن مانتا کوئی نہیں کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں ۔

سیاستدان ، ہر مرتبہ نیا جھوٹ بول کر ووٹ لے لیتا ہے ۔

واعظ ، قرآن کی غلط تفسیریں اور جھوٹی احادیث سناکر مسلمانوں کو فرقوں میں بانٹتا ہے ۔

دوکاندار ، کم تولتا ہے لیکن نرخ بڑھاکر سودا بیچتا ہے ۔

 تاجر ، ذخیرہ اندوزی کے ذریعے مصنوعی قلت دکھاکر اپنا مال من مانے نرخوں پر بیچتا ہے ۔

 کاریگر ، ایک دن کا کام دو دن میں مکمل کرکے دیہاڑی بناتا ہے ۔

 وکیل ، اپنے موکل کو فائدہ پہنچانے کے لئے جسقدر پڑھا لکھا اور باوقار جھوٹ بولتا ہے اس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی ۔

ڈاکٹر ، یہ صاحب پیسے بنانے کی خاطر دو کی جگہ چار ٹیسٹ لکھ کردینگے ۔

 پیر فقیر ، استاد اور منصف غرضیکہ ہر بندہ جھوٹ کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے لھذا اگر آپ میرے دلائل سے متفق ہیں تو  علم منطق ( Logic ) کی روء سے ہم پہ لازم آتا ہے کہ اب جھوٹ کو معاشرے کی ایک اہم ضرورت تسلیم کرتے ہوئے اس کے قوائد و ضوابط وضع کئے جائیں ۔ جو پڑھے لکھے ، تجربہ کار اور

 مہا جھوٹے ( Master Liers ) ہیں ان سے اسکول کے بچوں کے لئے جھوٹ سیکھنے کے لئے نصابی کتابیں مرتب کرائی جائیں ۔ چھوٹے بچوں کو نرسری سے جھوٹ کی تعلیم دی جائے تاکہ وہ زندگی کے امتحان میں کامیاب ہوسکیں ۔ جب پورا معاشرہ جھوٹ کی گرفت میں ہے  ، سب کے سب جھوٹ بول رہے ہیں تو آنے والی نسل کو سچ کا سبق دینا ان کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہوگا ۔

جھوٹ کی پہلی کتاب نرسری سے شروع ہو اور اس مضمون میں آگے چل کر ایک بچہ گریجویشن ، ایم اے اور پی ایچ ڈی کرسکے ۔ جھوٹ کی افادیت پر سیمینار اور مباحثے منعقد ہوں ۔ ملک بھر کے سیاستدانوں اور قانون دانوں کو مہمان لیکچرار کے طور پر بلاکر نئی نسل کو جھوٹ سکھانے کا اہتمام بہ آسانی کیا جاسکتا ہے کیونکہ ہمارے ہاں اسپیشلسٹس کی کمی نہیں ۔ اس طرح جہاں  ریٹائرڈ سیاستدانوں اور  قانون دانوں کو بڑھاپے میں روزی روٹی کا ایک وسیلہ مہیاء ہوگا وہیں ہماری آنیوالی نسلیں ان کے جھوٹ سے مستفید ہونگی ۔

مضمون پسند آئے تو آگے شئر کردیں تاکہ جھوٹ کو عام کیا جاسکے ۔

SAS Bukhari

سیّدزادہ سخاوت بخاری

سرپرست اعلی آئی اٹک ای میگزین

سیّد زادہ سخاوت بخاری

شاعر،ادیب،مقرر شعلہ بیاں،سماجی کارکن اور دوستوں کا دوست

Next Post

نکہ کلاں، میرا گاؤں میرا عشق

اتوار مئی 29 , 2022
جب بھی اپنے گاؤں نکہ کلاں کا نام لیا جاتا ہے تو ایک سیدھی سادی زندگی کا تصور اب بھی میرے ذہین میں آتا ھے جہاں دھوکہ جھوٹ مکر و فریب سے پاک سماج آباد تھا
نکہ کلاں، میرا گاؤں میرا عشق