فوج کی اہمیت

فوج کی اہمیت

Importance of the Army

(فوج سے متعلق میرے دو مضمون اس سے قبل شائع ہوچکے ہیں لیکن افغانستان میں ہونیوالی حالیہ حیران کن تبدیلی نے ایک بار پھر ، نہ صرف کسی بھی آزاد ملک اور قوم کے لئےفوج کی اہمیت واضح کردی بلکہ یہ سوال بھی ابھرکر سامنے آگیا ، کہ ، کیا ایک مضبوط اور بہادر فوج کے بغیر کسی ملک و قوم کی بقاء ( Existence ) ممکن ہے ؟ )

تحریر :

سیدزادہ سخاوت بخاری

تاریخ انسانی کا مطالعہ کیا جائے تو علم ہوگا کہ جب سے تہذیب و تمدن نے جنم لیا ہے ، انسان نے اپنے جان و مال کے تحفظ پہ توجہ دینی شروع کی اور کسی نہ کسی شکل میں اپنے گرد دفاعی حصار ( Defense Shield )  قائم کئے تاکہ لوٹ مار ، چھینا جھپٹی اور بیرونی حملہ آوروں سے محفوظ رہ کر پرامن زندگی بسر کی جاسکے ۔

پروفیسر سبط حسن ، اپنی معروف کتاب  ” ماضی کے مزار ” میں ، انسان کی ابتدائی زندگی کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ، انسانی زندگی کا آغاز  ” غاروں کے دور ” سے ہوا اور شعبہ زراعت خالصتا عورتوں کی دریافت ہے ۔  یہ زراعت ہی ہے جس نے انسان کو ایک جگہ رک کر قیام کرنے پہ مجبور کیا ورنہ وہ پیٹ بھرنے کے لئے شکار کے پیچھے جنگلوں میں مارا مارا پھرتا تھا ۔

سبطِ رقمطراز ہیں کہ جب انسان نے پھول ، پودے اور خوردنی اجناس کی کاشت سیکھ لی  تو وقت کے ساتھ ساتھ مختلف فصلوں کا اگاو بڑھنے لگا ۔ یہی وہ مقام تھا جہاں سے چھینا جھپٹی ، چوری چکاری اور ڈاکہ زنی شروع ہوئی کیونکہ معاشرے کے سب لوگ محنت مشقت نہیں کرتے تھے بلکہ سوسائیٹی کا ایک حصہ ، دوسروں کی اگائی ہوئی فصلیں کاٹ کر کھا جاتا تھا ۔ جب یہ وباء عام ہوئی تو لوگوں نے اس چوری کو روکنے کے لئے ، اپنے میں سے ہی کچھ مضبوط جسم و جان کے نوجوانوں پر مشتمل پہریدار فورس قائم کرکے ان کا بٹائی میں ایک حصہ مقرر کردیا تاکہ وہ ان کے کھیتوں کھلیانوں کو لوٹ مار سے محفوظ رکھ سکیں ۔

کھیت کھلیان کی حفاظت کے لئے اپنایا جانیوالا خیال ہی وقت کے ساتھ ساتھ  بتدریج آ گے بڑھتا ہوا

باقائدہ فوج کی شکل اختیار کر گیا اور آج کئی ھزار سال بعد ہمیں دنیاء بھر میں مسلح اور جدید طرز پر تربیت یافتہ افواج ، قوموں اور ملکوں کی حفاظت اور نگہبانی کرتی نظر آتی ہیں ۔

اگر ہم تاریخ سے ہٹ کر بھی افواج کی ضرورت پر نظر دوڑائیں تو یہ معروف فلسفہ سامنے آ کھڑا ہوتا ہے کہ ،

“کمزوری جارحیت کو دعوت دیتی ہے”

 بدن کمزور ہو تو بیماریاں حملہ کردیتی ہیں ۔ بستی میں کوئی خاندان کمزور ہو تو ہر ایک اس کا استحصال ( Exploitation ) کرتا ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی پوری قوم کمزور ہو تو طاقتور ملک اس پہ چڑھ دوڑتے ہیں ۔ قصہ مختصر ، جس طرح ایک عام  انسان کی

 بقاء اور ارتقاء

(Survival & Elevation) 

کے لئے اس کا مضبوط ہونا ضروری ہے اسی طرح قوموں اور ملکوں کی سلامتی اور دفاع کے لئے ،  بحیثیت مجموعی ایک مضبوط ، بہادر اور محب وطن فوج کا وجود ہر وقت اور ہر حال میں ناگزیر ہے ورنہ جس کا جب جی چاہے چڑھ دوڑے گا ۔

میں آپ کو جنگ عظیم اول یا دوم کی مثالیں اسلئے نہیں دونگا کہ وہ ہمارا آنکھوں دیکھا حال نہیں ، لیکن کیا ، عراق ، شام ، لیبیاء ، یمن ، صومالیہ ، فلسطین اور افغانستان میں جو کچھ ہوا یا ہورہا ہے ، وہ اس بات کا ٹھوس ثبوت نہیں کہ ان ممالک پر صرف اس لئے مصیبت آئی کہ ان کے پاس اپنے دفاع کے لئے مضبوط افواج نہ تھیں یا وہ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے ۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ابھی چند روز قبل افغانستان کی تقریبا 3 لاکھ مسلح اور تربیت یافتہ فوجی صرف 75 ہزار طالبان کو آتا دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوئے اور ابھی تک ان کا سراغ نہیں مل رہا ۔

ان تاریخی حقائق اور مثالوں سے ثابت ہوا کہ اگر دنیاء میں عزت ، وقار  اور  آزادی سے جینا ہے تو آپ کے پاس ایک مضبوط فوج ہونی چاھئے جو آپ کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ رکھے ۔

Pak Army

الحمدللہ ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمارے بزرگوں نے ہمیں ایک عظیم فوج ورثے میں چھوڑی جس کی  بہادری ، جرآت اور کارناموں کا پوری دنیاء اعتراف کرتی ہے لیکن افسوس صد افسوس ، ہم میں سے ہی کچھ غیر ملکی ایجنٹ اور کچھ سادہ لوح افراد ان کے جھانسے میں آکر ، دن رات ، الیکٹرونک و سوشل میڈیا پر اپنی ہی فوج کی تضحیک و تذلیل کرتے نہیں تھکتے ۔ جب انہیں روکو ٹوکو تو دلیل یہ دیتے ہیں کہ ہم فوج کے خلاف نہیں بلکہ جرنیلوں کے خلاف ہیں ۔ یہ دلیل ایسے ہی ہے کہ جیسے آپ کا دشمن ، آپ کے دروازے پر کھڑے ہوکر آپ کے والدین اور دادا دادی کو گالیاں بکنا شروع کردے اور جب آپ اسے روکیں تو کہے ، جی آپ بہت اچھے ہیں ، آپ کے بہن بھائی بلکہ آپ کا خانساماں ( Cook ) بھی بہت نیک انسان ہے اور ہم آپ کے سارے گھر کو پیار کرتے ہیں ، ہم آپ کے خاندان کے خلاف نہیں لیکن آپ کے والدین چور اور ڈاکو ہیں ۔

یادرکھیں ، یہ دھوکہ ہے ، عام آدمی کو اُلّو ُبنانے کی خاطر یہ فوج دشمن جو دراصل ملک دشمن ہیں ، جرنیلوں کا نام لیکر ہماری فوج کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں اور یہ ایجنڈہ ہمارے دشمن کا ہے جو پاک فوج کی موجودگی میں ہم سے آزادی نہیں چھین سکتا ۔ اب تو ہندوستان کے معروف پاکستان دشمن میجر گورو آریا نے بھی ٹی وی پر آکر تسلیم کرلیا ہے کہ پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی ، دنیاء میں نمبر 1 ہے ۔ وہ چاھتے یہ ہیں کہ پاکستانی عوام کو ان کی اپنی فوج کے خلاف کرکے پاک فوج کا مورال گرادیا جائے ۔ یاد رکھیں فوج کو صرف ہتھیاروں اور تربیت ہی کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ قوم کا اس کی پشت پہ کھڑا ہونا ہی ان کے لئے سب سے بڑا ھتھیار اور سرمایہ ہوتا ہے ۔

SAS Bukhari

سیّدزادہ سخاوت بخاری

سرپرست اٹک ای میگزین

سیّد زادہ سخاوت بخاری

شاعر،ادیب،مقرر شعلہ بیاں،سماجی کارکن اور دوستوں کا دوست

Next Post

"قصیدہ نور کا" (حصہ اول)

جمعہ اگست 27 , 2021
قصیدہ نور کا "نہ صرف شفیق رائے پوری کے عشق و وجدان کا مظہر بن کر ان کے حسیں جذبات کا عکاس ہے  بلکہ ان کے فنی، تکنیکی جہتوں اور نزاکتوں کا آئینہ دار بھی ہے۔
Madina