میں کسی کو امیر نہیں بنا سکتا
گزشتہ دنوں ایک دوست عرصے بعد ملا۔ گلے ملا، چائے کا آرڈر دیا، اور پھر سیدھا مدعے پر آ گیا۔
کہنے لگا: "یار بس کوئی کام کی بات بتاؤ۔ یہ لیکچر بعد میں دینا۔”
میں سمجھا کہ شائد بزنس کی بات کرے گا۔ میں نے تھوڑا سا اخلاقی درس دے دیا کہ "بیٹا سوچ سمجھ کر خرچ کیا کرو، آمدنی سے زیادہ اڑاؤ گے تو یہی ہو گا۔” وہ فوراً اٹھ کر بیٹھ گیا اور بولا: "یہ تو کتابی بات ہے۔ مجھے کوئی عملی بات بتاؤ۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ پیسہ آتا ہے اور پھر غائب ہو جاتا ہے!”
میں نے ہنستے ہوئے کہا: "بس؟ اس کا حل بہت آسان ہے۔ پیسے والے کمرے کے باہر دو شیر باندھ دو۔”
وہ مجھے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگا۔ میں ایک دم ڈر گیا کہ شائد اس نے مجھے ہی شیر سمجھ لیا یے۔ کچھ دیر وہ خاموش رہا۔ پھر اس کے چہرے پر تجسس نمایاں ہو گیا۔ وہ اٹھا، میرے قریب آیا اور التجائیہ انداز میں بولا: "تفصیل سے بتائیں نا۔”
میں نے فلسفیانہ انداز میں پوری کہانی سنا دی۔ کہا: "دیکھو بھائی، پیسہ کمانا ایک شیر کا کام ہے۔ لیکن اس کی نگرانی اور حفاظت کرنا دو شیروں کا کام ہے۔ جب جیب کے باہر شیر کھڑے ہوں گے تو نوٹ نکالنے سے پہلے سو بار سوچو گے۔”
وہ بہت حد تک ٹھنڈا ہو گیا۔ سر ہلاتے ہوئے بولا: "بات تو وزن والی ہے۔”
میں نے سمجھا جان چھوٹی۔ لیکن یہاں سے اصل مصیبت شروع ہوئی۔
شائد وہ ملینئر بننے کا "نسخہ” ڈھونڈ رہا تھا۔
اس دن کے بعد وہ روزان تین چار بار فون کرتا ہے۔ سلام دعا نہیں، سیدھا سوال: "سر، میں کیسے "ملینئر Millionaire بن سکتا ہوں؟” میں اگر کوئی کتابی بات بتا دوں جیسے "محنت کرو، بچت کرو، انویسٹ کرو” تو وہ آگے سے دس سوال داغ دیتا ہے: "کتنی بچت؟ کہاں انویسٹ کروں؟ کتنے مہینے لگیں گے؟” وغیرہ وغیرہ!
شائد میری باتوں کا اسے "نشہ” ہو گیا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں کوئی خفیہ فارمولا جانتا ہوں۔ یا میرے پاس کوئی "گیدڑ سنگھی” ہے جو میں اس سے چھپا رہا ہوں۔
کل تو اس نے حد ہی کر دی۔ فون آیا۔ ہیلو، کوئی سلام دعا نہیں۔ سیدھا بولا: "آپ نے جتنے بندے ٹرین کیے تھے نا، سارے امیر ہو گئے ہیں۔ پلیز مجھے بھی کوئی گر سکھا دیں۔” میں جھنجھلا کر بولا: "چاچا، وہ گر میرے پاس نہیں ہے۔ ہوتا تو میں خود امیر نہ بن جاتا۔”
وہ ایک دم رونی آواز میں بولا: "اچھا چھوڑیں۔ یہ بتائیں، کسی پیسے والی ‘سامی’ کو قابو کرنا ہو تو کیا کروں؟” میں نے فورا "اللہ اکبر” پڑھا اور جان چھڑانے کے لیے کہا: "اسے عزت دو، اچھا کھانا کھلاؤ، اور اخلاق سے پیش آؤ۔” ساتھ دو چار دلائل بھی دے دیئے کہ رشتے اور تعلق صرف ‘پیسے’ سے نہیں بنتے۔
بس پھر کیا تھا۔ سوال پر سوال۔ "کون سا کھانا؟ کتنی عزت؟ کتنا اخلاق؟”
آخر تنگ آ کر میں چلایا: "بھائی میں کسی کو امیر نہیں بنا سکتا!” اور فون بند کر دیا۔
دو منٹ بعد دوبارہ کال آ گئی۔ میں نے کاٹ دی۔ تیسری بار میسج: "سر ناراض نہ ہوں۔ کھانے پر آئیں۔ میں بل دوں گا۔”
لگتا ہے کہ رات و رات امیر بننا ہمارا "قومی فریضہ” بن گیا ہے۔ یہ صرف میرے دوست کا مسئلہ نہیں۔ ہر دوسرا آدمی امیر بننے کے "شارٹ کٹس” ڈھونڈ رہا ہے۔ کوئی یوٹیوب پر جلدی امیر بننے کے طریقے سرچ کر رہا ہے۔ کوئی واٹس ایپ گروپ میں "100 روپے بھیجیں 1000 پائیں” والے میسج فارورڈ کر رہا ہے۔ کوئی پیر صاحب سے تعویز لے رہا ہے، اور کوئی ‘کرپٹو’ کا خواب دیکھ رہا ہے۔
لیکن کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ "محنت کیسے کروں؟” "اخلاق کیسے بہتر کروں؟” اور "اپنا علم کیسے بڑھاؤں؟”
ہم چاہتے ہیں کوئی آ کر جادو کی چھڑی گھمائے اور ہم فورا امیر ہو جائیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ امیری کا کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ امیری کا راستہ تین "شیر” مانگتا ہے: پہلا شیر محنت ہے۔ مسلسل محنت اور جدوجہد ناممکن کو بھی ممکن بنا سکتی ہے۔ دوسرا شیر بچت ہے۔ جو آتا ہے اسے سنبھالنا سیکھو۔ تیسرا شیر صبر یے۔ یاد رکھو درخت ایک دن میں پھل نہیں دیتا۔
میں نے دوست کو آخر میں ایک ہی بات کہی: "بیٹا، باہر شیر باندھنے کی ضرورت نہیں۔ خود شیر بن جاؤ۔ جو اپنی خواہشات کا شکار کر لے، جو فضول خرچی کو مار دے، جو روپے روپے کا حساب رکھے، اصل میں وہی امیر ہے۔
وہ اب بھی فون کرتا ہے۔ میں اب بھی کتابی باتیں بتاتا ہوں۔ اور وہ اب بھی "کوئی کام کی بات” مانگتا ہے۔ تو جناب، اگر آپ بھی مجھ سے پوچھیں کہ "امیر کیسے بننا ہے”، تو میری طرف سے معذرت ہے۔ میں کسی کو امیر نہیں بنا سکتا۔
امیر آپ کو خود بننا پڑے گا۔ اپنی محنت سے، اپنی عقل سے، اور اپنے دو شیروں سے، ورنہ پیسہ جتنی آسانی کے ساتھ آئے گا وہ اتنی ہی آسانی سے چلا بھی جائے گا، جیسے میرے دوست کی جیب سے جاتا ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں