بلدیہ فتح جنگ کی تاریخ- حصہ اول

  تحریر :آصف جہانگیر خان ، فتح جنگ

1-اگر ہم انتخابات کی تاریخ کا جایٗزہ لیں تو کیٗ سو سال پہلے بھی اسی طرح کا جوش و خروش انتخابات کے وقت ہوتا تھا لیکن حقیقی تبدیلی تب سے اب تک عوام کا مقدر نہ بن سکی۔اگر ہم اسلامی اصولوں کے مطابق غور کریں تو واضح ہوتا ہے کہ عوام کا لیڈر ان کا ہی عکاس ہوتا ہے اس لیے اب بحثیت عوام ہمیں بھی اپنے بارے میں غوروفکر کرنی چاہیے۔

2-سمال ٹاؤن کمیٹی فتح جنگ  پندرہ نومبر 1923ء میں وجود میں آییٗ۔ اس کا ابتدایٗ نام  نوٹیفایٗیڈ ایریا-1910-  تھا۔ اس کا پہلا اجلاس پندرہ نومبر  1923میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس کے ممبران میں خان سمندر خان اور لالہ نہال شاہ شامل تھے۔
اس اجلاس میں پہلی دفعہ..
  حیثیت ٹیکس  لگایا گیا تھا- ٹیکس ادا کرنے والوں  احمد ولد جیون تیلی، جوالا سنگھ، دھرم سنگھ اور رام سنگھ شامل تھے۔.

3-سیکرٹری  سمال ٹاوٗن کمیٹی  نرایٗن داس کو انگریز سرکار کی پہلی چٹھی 11 اگست 1924ء کو موصول ہویٗ۔ اس چٹھی کے مضمون کے مطابق جملہ ممبرزمنتخب سمال ٹاوٗن کمیٹی کے لیے تاج برطانیہ کا حلف اٹھایا جانا تھا۔ اور تاج برطانیہ سے وفاداری اور اطاعت کا حلف تمام حاضرین اجلاس کے لیے ضروری تھا۔
4- سمال ٹاوٗن کمیٹی کا افتتاحی اجلاس انتیس اگست 1924 کو  منعقد ہوا -اس اجلاس  میں  شرکت کرنے والے ممبران میں لالہ نہال چند، لالہ ارجن داس، خان محمد خان(ذیلدار) اور خان سمندر خان شامل تھے۔اس اجلاس میں تاج برطانیہ سے اطاعت کا حلف اٹھایا جانا ضروری تھا تو کچھ ممبران اجلاس میں شریک نہیں ہوےٗ جس کی وجہ سے اجلاس منسوخ کردیا گیا۔

بلدیہ فتح جنگ کی تاریخ- حصہ اول
بلدیہ فتح جنگ – تصویر بشکریہ معروف شاعر طاہر اسیرؔ

5-تین ستمبر 1924ء کو کمیٹی کا اگلا اجلاس منعقد ہوا۔ اس میں سمال ٹاوٗن ایکٹ  کےتحت تحصیل دار صاٖحب کو بلدیہ کا پریذیڈنٹ مقرر کیا گیا۔اور  تحت خان سمندر خان پہلے وایٗس پریذیڈنٹ مقرر ہوےٗ۔

6- اس اجلاس میں میلہ سایٗں حاضرحضو ر کے ٹھیکے  کی منظوری دی گیٗ۔اس ٹھیکے کی مالیت ستانوے روپے تھے اور اس ٹھیکے کو عبداللہ ولد محمد تیلی نے لیا تھا۔
اسی اجلا س میں تجویز پیش کی گیٗ کہ دفتر کے لیے مکان کرایہ پر لیا جاےٗ۔ ایک ممبر لالہ نہال شاہ نے تجویز دی کہ چار کے بجاےٗ تین روپے ماہوار پہ دفتر پرکرایہ پر لیا جاےٗ۔
7-اس اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ شہر میں تنگ گلیوں کی وجہ سے آیئندہ کسی کو گلی میں پوڑھی یا تھلی بنانے کی اجازت نہ دی جاےٗ۔اور اس اجلاس میں ایک درخواست بھی زیر غور لایٗ گیٗ جو کہ  جو جے رام ولد لکھی رام (موجودہ گھر صفدر حسرت بامقابل ویٹرنری ہسپتال) نے پیش کی تھی۔
8-سمال ٹاوٗن کمیٹی کا اگلا اجلاس ۵ فروری 1925ء کو منعقد کیا گیا۔اس اجلاس میں درخواست دی گیٗ کہ شہر کی چوکیداری کے لیے ایک گورکھا(نیپالی ہندو) کو بھرتی کیا جاےٗ۔ آج کل چوکیداری کے لیے پٹھان حضرات کو ترجیح دی جاتی ہے جبکہ ان وقتوں میں گورکھا اس مقصد کے لیے رکھے جاتے تھے۔بہرحال کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ چونکہ ان کے پاس فنڈ نہیں اس لیے جنرل پبلک اپنی طرف سے کویٗ چوکیدار رکھ لے۔
9-پانچ مارچ 1925ء کو ریزولوشن منظور ہوا۔ جس کے تحت کرانچیوں (بیل گاڑیاں) کا شہر میں داخلہ ممنوع قرار دیا گیا اور ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے احکامات صادر کیے گےٗ جوکہ آج تک فتح جنگ شہر میں ایک سردردبنے ہوےٗ ہیں۔
اس اجلاس میں کمیٹی کے پہلے بجٹ کی منظوری دی گیٗ جس کے لیے آمدن کا تخمینہ 446 روپے لگایا گیا۔
10-ٹاوٗن کمیٹی کا اگلا اجلاس ۱۳میٗ 1925 کو منعقد ہوا۔اس اجلاس مں شوالہ کٹو شاہ مندر کے حوالے سے درخواست پیش کی گیٗ۔جس کا مضمون تھا کہ فتح جنگ سمال ٹاوٗن کمیٹی کوڑاکرکٹ جمع کرنے کی جگہ کا ایک ڈھیر متصل  شوالہ کٹو شاہ ہے۔اس کو ہٹانے کی منظوری دی جاے .
اس کی زمین غیر متوازن ہے۔جانب شرق شوالہ کٹو شاہ اور جانب جنوب ڈھیری بابا گرمکھ سنگھ جہاں ہروقت اہل ہنود بغرض مذہبی پرستش جمع ہوتے ہیں۔ اس سے متصل کنوا ں شیواوالا ہے جہاں سے مسلمان اور ہندو پانی بھرتے ہیں۔اور ساتھ ہی تالاب ہردیال(بڑی بن) واقع ہے۔
11-ٹاوٗن کمیٹی کا اگلا اجلاس تیس جون 1925 کو منعقد کیا گیا۔ جس میں خان سمندر خان، خان محمد خان، احمد خان، ولی داد خان، لالہ ارجن داس، لالہ ایشر داس اور لالہ نہال شاہ ممبران شامل تھے۔ اس اجلاس میں ممبرکمیٹی خان محمد خان نے تجویز پیش کی کہ وسط بازار میں ایک وسیع چوک ہے(موجودہ فاروق ہوٹل اور جامع مسجد مین بازار) جوکہ کمیٹی کی ملکیت ہے اگر اس کا ٹھیکہ دیا جاےٗ تو کمیٹی کو اچھا مفاد حاصل ہوسکتا ہے۔
12-بلدیہ فتح جنگ کا اگلا اجلاس اٹھایٗس اگست 1930ء کو بمقام سرکاری بنگلہ (موجودہ ٹی ایم اے بلڈنگ)  منعقد کیا گیا۔ اس اجلاس کی صدارت پیر حیدر شاہ صاحب نے کی۔ اس اجلاس میں افسر مال ، تحصیل دار فیض محمد خان، خان محمدخان،سردار نواب خان(دادا صبیح خان آف گڑھی حسو خان)اور خان لال خان نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں تاج برطانیہ سے وفاداری کا حلف اٹھایا گیا۔
13-اسی سال فتح جنگ میں امرتسر سے دو  ہندو موہن چند اور گوپال لکڑی کی بنی کنگھیاں خریدنے لے لیے آےٗ۔ یہ دونوں  کٹر کانگریسی تھے  – اس وقت پاکستان کی کھل کے  حمایت کرنے والوں میں فتح جنگ میں استاد محب النبی تھے جوکہ مسلم لیگ سے تعلق رکھتے تھے۔اس دور میں مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان یہاں بھی تنازعہ ہوا کرتا تھا۔ ایشر داس ممبر کمیٹی کا بیٹا بھگت رام کانگریس سے تعلق رکھتا تھا اور پاکستان کا سخت مخالف تھا۔
14-بلدیہ کا اگلا اجلاس انتیس اگست 1933کو منعقد ہوا جس میں اتفاق راےٗ سے پریذیڈنٹ مقرر کیا گیا۔اجلا س کی صدارت ملک محمد مراد بخش  افسر مال  نے کی۔ ممبران میں خان محمد خان، خان لال خان،خان نواب خان، سردار نواب خان، لالہ ایشرداس، لالہ نہال شاہاور لالہ جگدیش رام شامل تھے۔اس اجلاس میں پنجاب سمال ٹاوٗن ایکٹ اور تاج برطانیہ سے وفاداری کا حلف اٹھایا گیا۔
اس اجلاس میں گودڑ سنگھ نامی سکھ کی طرف سے درخواست دی گیٗ کہ اسکو ٹیکس میں چھوٹ دی جاےٗ۔کہ اس نے سراےٗ لدھا رام کرایہ پر لی ہویٗ ہے۔جس کا کرایہ ڈیڑھ سو روپے سالانہ ہے۔
15-نوٹ۔موجودہ شیخ غلام قادر کی مارکیٹ  اس وقت ساری کی ساری سراےٗ تھی۔ موجودہ ریاض ہوٹل اور ملحقہ تمام دکانیں اس میں شامل ۔تھیں
16-یکم دسمبر 1933ء کو ڈپٹی کمشنر نے بلدیہ کو ایک چٹھی بھیجی کہ کنگ ایڈورڈ کالج کو تعمیر کے لیے چندہ دیا جاےٗ۔ جس کے لیے بیس روپے چندہ دیا گیا۔دوبارہ کہنے پر حسن ابدال کمیٹی کی طرح چندہ دینے سے معذرت کرلی گیٗ۔
17-موجودہ ٹی ایم اے کی بلڈنگ کی جگہ دفتر جولایٗ 1947ء کو قایٗم کیا گیا تھا۔یہ بنگلہ دوہندووٗں منوہر چند اور سندر شاہ ماٹا کی زیر ملکیت تھا ان کے چلے جانے کے بعد خورشید مہاجر کو الاٹ ہواتھا جنہوں نے بعد میں اسے بیچ دیا تھا۔ اور گورنمنٹ نے اسے خرید لیا تھا۔
18-فتح جنگ کی ان وقتوں میں چلنے والی ٹرانسپورٹ کا نام نندہ ٹرانسپورٹ تھا۔جس کے مالک بالا، کرشن اور ہری چند تھے۔
فتح جنگ کے دو سکھ حکیم  گورمکھ سنگھ اور بشن سنگھ بھی بہت مشہو رتھے  جن کی دوکانیں موجودہ حکیم اعظم شاہ اور پرانے بغدادی دواخانے جو کہ اب ختم ہوگیا ہے کی جگہ موجود تھیں۔
19-ہندو ملکیت کی چند عمارتوں میں موجودہ چیف صاحب کی دوکان ایشر داس کی ملکیت تھی۔ جس  کے ساتھ بڑے بڑے لوہے والی دوکانیں ہواکرتی تھیں۔ادھر ہی تین ہندو بھایٗ مالک رام، پارس رام اور جے رام تھے جن کے والد کا نام لال شاہ تھا۔
20-دس اگست 1934 کے ایک سرکاری ڈاکومنٹ کے مطابق فتح جنگ کی آبادی چار ہزار کے قریب تھی۔ جس کے لئے ایک سول ہسپتال تو موجود تھا لیکن اموات بچگان بہت زیادہ تھیں۔ اور ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر اور نرس کی سہولت دستاب نہیں تھی۔
فتح جنگ کی پہلی واٹر سپلایٗ سکیم  10جولایٗ 1934ء کو منظور کی گیٗ۔جس کے لیے 2368روپے منظور کیے گےٗ۔
19-پاکستان بننے کے بعد منعقدہ اجلاس:
18 اگست کومنعقد ہونے والے اجلاس میں میلہ باباسایٗیں حاضر حضور کی منظوری مالیت 152 روپے میں دی گیٗ۔
12 ستمبر 1948 کو قایٗداعظم کی وفات پر تعزیتی اجلا س منعقد کیا گیا۔17 اگست 1950 کو منعقدہ اجلاس میں مہاجرین میں سے سید منظور حسین شاہ  کو ممبر بلدیہ کمیٹی منتخب کیا گیا۔اور پھر قایٗد ملت لیاقت علی خان کی شہادت پر قرارداد منظور کی گیٗ۔
20-انیس مارچ 1953کو  بلدیہ کے نےٗ الیکشن ہوے ٗ جن میں جو ممبران منتخب ہوےٗ ان میں قاضی محمد عبد الباری، فیروز سنبل، مولوی خیر محمد، غلام رسول، محمد اقبال خان، محمد یونس اور حیات محمد شامل تھے۔ پہلے منتخب پریذیڈنٹ محمد اقبال خان تھے جبکہ وایٗس پریذیڈنٹ قاضی عبدالباری تھے۔اس سے ایک سال بعد ایک سرکاری ملازم نے پریذیڈنٹ محمد اقبال خان پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔
21-بلدیہ فتح جنگ کے اگلے انتخابات 1959ء میں ہوےٗ۔ جس میں چیٗرمین چودھری غلام محمد۔ عزیز احمد خان، چودھری نورمحمد، شیخ رحمت اللہ، عبدالحمید، صوبیدار سلطان خان، حسو خان، میاں غلام جیلانی، مولوی خیر محمد اور سیٹھ حیات محمد کامیاب ہوےٗ۔
22-اکتیس دسمبر  1962عیسوی کو فتح جنگ میں بجلی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے درخواست کی گیٗ – 1964میں فتح جنگ میں بجلی مہیا کی گیٗ۔
23-سن 1964 میں بلدیہ کے اگلے الیکش ہوےٗ جن میں شیخ غلام فاروق چیٗرمین مقرر ہوےٗ۔اور اسی طرح 1979 میں ایک با ر پھر شیخ غلام فاروق چیٗرمین منتخب ہوےٗ۔
24-سن  ,1983 کے ہونے والے الیکشن میں فضل کریم چیٗرمین منتخب ہوےٗ۔ جبکہ1987 ء میں ملک اقبال چیٗرمین منتخب ہوےٗ۔
–1991میں مولا بخش طاہر چیٗرمین منتخب ہوےٗ۔بلدیہ فتح جنگ کی تاریخ میں شیخ غلام فاروق تین مرتبہ چیٗرمین جبکہ ایک دفعہ وایٗس چیٗرمین منتخب ہوےٗ۔
25-سن 1991 کے بعد بلدیہ فتح جنگ کے الیکشن نہیں ہوےٗ اور پھر پرویز مشرف نے ایک نیابلدیاتی نظام متعارف کرایا جس میں سردار افتخار احمد خان(مٹھوخان) جو کہ فتح جنگ کی جانی پہچانی شخصیت عزیز احمد خا ن کے صاحبزادے ہیں،تحصیل ناظم کے طور پر منتخب ہوےٗ۔
موجودہ چیٗرمین ملک عابد داود ہیں جوکہ فتح جنگ کی ترقی کے لیے کوشاں ہیں

آصف جہانگیر

Next Post

نیک بندے کی روحِ معطر کا آسمان کی طرف سفر

جمعہ جون 17 , 2022
خون دل سے آرائشِ بہارِ نمازِ شب کرنے والے ہی (متقی لوگ) جنت میں جائیں گے اور آئمہ طاہرینؑ کی راہ پر نہ چلنے والے بدکار لوگ جہنم کی وادی میں دھکیل دئیے جائیں گے۔
نیک بندے کی روحِ معطر کا آسمان کی طرف سفر