خالی جیب، بھرا دل
علی نے بنا سوچے سمجھے اپنی گھڑی، موبائل اور پیسے چور کے حوالے کر دیے اور بولا: "یہ لو! بس اس بچے کو چھوڑ دو، پلیز!!”
چور سامان لے کر بچے کو دھکا دے کر بھاگ گیا۔ بچہ گر گیا۔ علی نے اسے اٹھا کر مٹی صاف کی اور پوچھا: "بیٹا چوٹ تو نہیں لگی؟”
بچے نے کہا: "نہیں، میں ٹھیک ہوں۔ میرا گھر یہیں پاس میں ہے۔”
علی بچے کو اس کے گھر چھوڑنے گیا۔ اس کے ہاتھ میں بس ماں کی رپورٹس تھیں۔ گھر کے سامنے پہنچ کر علی نے کہا: "تم اندر جاؤ، میں کھانے کا سامان لے کر ابھی آتا ہوں۔”
بچے نے خوشی سے پوچھا: "کیا میں آپ کو بھائی کہہ سکتا ہوں؟”
علی مسکرا کر بولا: "ہاں کیوں نہیں۔”
اتنے میں لاٹھی ٹیکتے ہوئے ایک بوڑھا شخص باہر آیا: "احمد بیٹا، تم آگئے؟”
احمد دوڑ کر بولا: "جی دادا جان۔ معاف کرنا، آج کھانے کے لیے کچھ نہ لا سکا۔”
دادا نے کہا: "کوئی بات نہیں بیٹا، یہ نصیب کی بات ہے۔”
علی آگے بڑھا اور بولا: "نہیں! اب آپ کے نصیب میں بھوکا رہنا نہیں لکھا۔ آپ میرے باپ جیسے ہیں۔ جب تک میں ہوں، آپ کو بھوکا نہیں سونے دوں گا، انشاءاللہ۔”
دادا نے پوچھا: "تم کون ہو بیٹا؟”
احمد بولا: "یہ آج میرے بڑے بھائی بن گئے ہیں۔ انہوں نے آج میری دو بار جان بچائی ہے۔”
دادا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ بولے: "بیٹا علی شکریہ۔ ایک حادثے میں بیٹا بہو چلے گئے، میں نابینا ہو گیا۔ بڑی مشکل سے احمد کو پالا ہے۔”
علی نے کہا: "کوئی احسان نہیں کیا۔ آج سے میں بھی آپ کا بیٹا ہوں۔”
دادا کی دعاؤں سے علی کے دل کو سکون ملا۔ جانے سے پہلے کہا: "میں جلدی آؤں گا، اس بار خالی ہاتھ نہیں۔”
علی گھر آیا اور رپورٹس دراز میں رکھ دیں۔ سوچنے لگا ماں اور بہن کو کیا جواب دے گا؟ نوکری نہیں ملی، پیسے چور لے گیا، اور ماں کی دوائیاں 20,000 کی ہیں۔
اسی سوچ میں تھا کہ پیچھے سے ماں کی آواز آئی: "علی، تم کب آئے؟”
علی چونک گیا۔
جاری ہے…
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔