پروفیسر ڈاکٹر اکبر علی غازی سے مکالمہ

پروفیسر ڈاکٹر اکبر علی غازی ، سیالکوٹ

انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات ، سیالکوٹ

انٹرویو کنندہ: مقبول ذکی مقبول ، بھکر پنجاب پاکستان

سب سے پہلے پروفیسر ڈاکٹر اکبر علی غازی کا تھوڑا سا تعارف کروانا ضروری سمجھتا ہوں ۔ گاؤں چھبیل پور تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ کے رہائشی ہیں ان کا خاندانی نام اکبر علی ہے ، تخلص غازی اور قلمی نام اکبر علی غازی ہے ۔ والد کا نام میاں عاشق علی ہے ان کے والد صاحب بھی فوجی تھے ۔ انہوں نے سن 65 اور 71 کی جنگ عملی طور پر لڑے تھے ۔ اور میڈل بھی وصول کیا تھا ۔ آغاز میں اپنا قلمی نام اکبر علی اکبر ڈسکوی بھی لکھتے تھے ۔ ان کی پیدائش 12دسمبر 1971ء کو فیصل آباد کے ایک گاؤں چک 56 گ ب جڑانوالہ میں ہوئی جہاں ان کی دادی جی کے گھر والے سکونت پذیر تھے ۔ 1971ء کی جنگ کی وجہ سے ننھیال دودھیال والے شکرگڑھ سے ہجرت کر کے فیصل آباد میں ان کی دادی کے بھائی کے پاس پناہ لیے ہوئے تھے ۔ ان کے والد ریزرو فوجی کے طور پر اگلے محاذ پر تھے ۔ وہ شہادت کا شوق لے کر گاؤں اور گھر والوں سے آخری ملاقات کر کے اچھی خاصی رقم دان کر کے جا چکے تھے ۔ وہاں اگلے مورچوں پر ان کو ان کے دادا جان کی چٹھی پڑھ کر سنائی گئی ۔ چٹھی پر اکبر علی غازی کا چھوٹا سا انگوٹھا بھی ثبت تھا ۔ خبر سن کر ساری یونٹ نے اللّٰہ اکبر کا نعرہ لگایا اور اکبر علی زندہ آ باد کی صدا بلند کی ۔ چند روز قبل ان سے ملاقات کی گئی ہے جو ادبی حوالے سے گفتگو ہوئی وہ نذر قارئین ہے ۔
سوال : آپ کا بچپن اور ابتدائی تعلیمی سفر کیسا رہا ۔؟
جواب : جب میں چار سال کا تھا ۔ تو مجھے میرے گاؤں سوجووال کے ایک امام مسجد میں شکر دین جی کے پاس ناظرہ پڑھنے کے لیے ڈال دیا گیا ۔ رواج کے مطابق کافی بڑا ہوا تو مجھے گورنمنٹ پرائمری اسکول سوجووال میں داخل کروا دیا گیا ۔ چوتھی جماعت میں تھا کہ میرے ددھیال والے چھبیل پور ، سیالکوٹ میں آن بسے ۔ پہلے کا تو مجھے پتہ نہیں ہے البتہ نورانی قاعدہ بھی میں نے اپنے محلے کی مسجد کے امام اور ہمسایہ مولوی غلام رسول صاحب سے پڑھنا شروع کیا ۔ وہ بتاتے ہیں کہ بڑی مشکل سے انھوں نے مجھے ناظرہ پڑھایا ۔ جب کہ اسکول میں بھی زیادہ کامیاب نہیں تھا ۔ والد صاحب جب سابقہ سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ایران کے دورے پر گئے تھے یہ بھی ان کی حفاظتی ٹیم میں شامل تھے ۔ واپسی پر اپنے ضلع سیالکوٹ میں بھیجنے کی بجائے ان کو سندھ میں ہی روک لیا گیا اور ان کی خدمات سندھ پولیس کے حوالے کر دی گئیں ۔ جس وجہ سے وہ حیدر آباد میں نوکری کرنے لگے ۔ چھٹی نہ ملنے کی وجہ سے میرا سرٹیفکیٹ نہ لایا جا سکا اور مجھے پھر سے گورنمنٹ پرائمری اسکول آڈھا میں پہلی جماعت میں داخل ہونا پڑا ۔ اس طرح چار جماعتیں مجھے دو بار پاس کرنا پڑیں ۔ ایک سال میں دو جماعتیں بھی پاس کیں مگر وہ فرق ختم نہ ہو سکا جس کی وجہ سے میں اپنی جماعت میں سب سے بڑا اور لمبا تھا ۔ گورنمنٹ مڈل اسکول کوٹلی امیرعلی سے مڈل کرنے کے بعد میں نے گورنمنٹ ہائی اسکول گھوئینکی میں داخلہ لیا جہاں مجھے ماسٹر غلامِ مصطفٰے اور شاکر صاحب جیسے استاد ملے ۔ ماسٹر صاحب نے میری پوری زندگی کو متاثر کیا جبکہ شاکر صاحب نے میرے دل میں ادب سے محبت کا بیج بویا ۔ 1990ء -91 میں میٹرک پاس کرنے کے بعد میں نے 1992ء میں گورنمنٹ جناح اسلامیہ کالج سیالکوٹ میں داخلہ لیا مگر تنظیمی سیاست کی وجہ سے میرا دل اُچاٹ ہو گیا ۔ 1993ء میں کالج چھوڑ کر فوج میں بھرتی ہوا ۔ 1995ء میں فوج میں رہتے ہوئے گوجرانوالہ بورڈ سے ایف اے پاس کیا اور1997ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کا امتحان بالاجزا پاس کر لیا ۔ایم اے میں مضمون چننے کا مرحلہ آیا تو میرے سامنے کئی مسائل تھے جن میں سے سب سے اہم یہ تھا کہ میں راہنمائی کس سے اور کیسے لے پاؤں گا ۔ آخر کار میں نے وہ مضمون چنا جس کے ساتھ مجھے بچپن سے لگاؤ تھا ۔ اس طرح میں نے ایم اے پنجابی میں داخلہ لیا اور 2000ء میں میں نے ایم اے پاس کرلیا ۔ میرا خیال تھا کہ میری تعلیم مکمل ہو چکی ہے مگر خالی دن گزار نے میرے لیے مشکل ہو چکے تھے ۔ اپنی اکتاہٹ دور کرنے کے لیے میں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم فل کرنے کا فیصلہ کیا ۔ 2006 ء میں مَیں نے داخلہ لیا اور 2009 ء میں مجھے ایم فل کی ڈگری جاری کر دی گئی ۔ ایم فل کا مقالہ لکھنے کے بعد مجھ پر ایک بار پھر بیکاری کا وقت آیا ۔ اس لیے میں نے بی ایڈ میں داخلہ بھیج دیا ۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ کرنے کے بعد میں نے آخری سال پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے اردو کا داخلہ بھیج دیا فائنل رزلٹ ریٹائرڈ ہونے کے بعد2011ء میں آیا ۔ 2012ء میں میری ماں کی دعاؤں کی طفیل مجھے لیکچرر پنجابی کے طور پر پی پی ایس سی نے چُن لیا ۔پی ایچ ڈی لے لیے 2015ء میں میرا داخلہ ہوا 2021ء میں مجھے AIOUکی طرف سے ڈاکٹر قرار دے دیا گیا ۔ اس کے علاوہ میں نے ملٹری کالج آف ایجوکیشن مری نے سپیشل ا نگلش لینگوایج کورس اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے پشتو ، سندھی ، بلوچی اور پنجابی بول چال کا کورس بھی کیا ہوا ہے ۔
سوال : اپنے ادبی سفر کا آغاز کی داستان قارئین کی نذر کیجیئے ۔؟
جواب : فوج میں ملازمت کے دوران میں نے پڑھائی کے ساتھ ساتھ ناول پڑھنے اور تحقیق و تنقید کا شوق بھی پالا ہوا تھا ۔ایم اے پنجابی کرنے کے بعد میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ مجھے پنجابی زبان کی خدمت کا فرض ادا کرنے کے لیے کم از کم ایک کتاب ضرور لکھنی چاہیے ۔ سو میں کام شروع کر دیا ۔ 2001ء میں میری پہلی کتاب شائع ہوئی ۔ 2005ء میں میری دوسری کتاب”ماں بولی دے وارث“ شائع ہوئی تو میرے آفیسر کمانڈنگ میجر آصف خان نے مجھے شاباش دی ، شاباش کا لیٹر جاری کیا اور ساری کمپنی کے سامنے ذکر کیا۔ اس کے بعد میرا سفر تیز تر ہو گیا ۔
سوال : آپ کی تصانیف کون کون سی ہیں ۔؟
جواب : علم و ادب کے حوالے سے میں نے 2001ء میں اپنا پہلا سنگ میل اس وقت عبور کیا جب میری پہلی کتاب ”اک انملا شاعر واصف بڈیانوی حیاتی تے شاعری“ شائع ہوئی۔ اس حوالے سے مرحوم واصف بڈیانوی کا خلوص اور محبت قابل ستائش ہے کہ انہوں نے مذکورہ بالا کتاب کی اشاعت کا بندوبست کیا جب کہ اس پر نظر ثانی احسان اللّٰہ طاہر نے کی تھی اور اس کا فلیپ ڈاکٹر امجد علی بھٹی صاحب نے انگلش میں لکھا تھا ۔ اس کے بعد میں نے تحقیقی اور تنقیدی مضامین لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا ۔
1 “اک انمُلا شاعر واصف بڈیانوی ” تنقیدی ، بڈیانہ ، بزم واصف بڈیانہ ، سیالکوٹ ، 2002ء
2 “ماں بولی دے وارث ” تحقیقی و تنقیدی ، گوجرانوالہ ، فروغِ ادب اکادمی ، 2005ء
3 ” اک نویکلا صوفی شاعر شاہ دین سروری قادری ” تحقیقی ، سیالکوٹ ، خواجہ شاہ دین اکیڈمی سیالکوٹ ،2006ء
4 “چوہدری نواب الدین شخصیت اور فن ” تحقیقی ، لاہور ، لہراں ادبی بورڈ ، 2010ء
5 “ملک وال دے ہیرے ” تحقیقی و تنقیدی ، گجرات ، روزن پبلشرز ، 2013ء
6 “ملک وال کے ہیر ” تحقیقی و تنقیدی ، لاہور ، حسیب پبلشنگ ہاؤس ، 2014ء
7 “اُڑتے پتے ” تدوین ، لاہور ، ادارہ پنجابی لکھاریاں ، 2015ء
8 “تذکرہ شعرائے منڈی بہاؤالدین ” تحقیقی و تنقیدی ، لاہور ، ادارہ پنجابی لکھاریاں ، 2015ء
9 “مہینوال دی وار تے ماں بولی دا پیار ” تخلیقی ، لاہور ، ادارہ پنجابی لکھاریاں ،2018ء
10 “نعت بھیالی سیالکوٹ “لاہور ، ادارہ پنجابی لکھاریاں ،2021ء
12 “قدر شناس سخن دے “اشتراک ، گوجرانوالہ ، فروغِ ادب اکادمی ، 2022ء
13 “پاکستانی زبانوں میں حمد نگاری کی روایت ایک تحقیقی جائزہ ” تحقیقی ، اسلام آباد ، AIOU ، مقالہ برائے M. Phil ،2009ء، کمپوزڈ
14 “پنجابی ادب وچ قصہ سوہنی مہینوال ایک تحقیقی جائزہ ” اسلام آباد ، AIOU ، مقالہ برائے Ph.D.،2021ء کمپوزڈ
15 “واصف بڈیانوی شخصیت اور فن ” تحقیقی ، قلمی ، کمپوزڈ
16 “پنجابی حمد نگاری اور واصف بڈیانوی ” تحقیقی ، قلمی ، کمپوزڈ
17 “چیچ ووہوٹیاں ” تدوین ، زیر اشاعت
18 “گلزار اکبر” قلمی، کمپوزڈ

پروفیسر ڈاکٹر اکبر علی غازی سے مکالمہ
پروفیسر ڈاکٹر اکبر علی غازی ، مقبول ذکی مقبول کو اپنی کتابوں سے نواز رہے ہیں ، عارف یاد سوہلوی گجراتی بھی ساتھ گھڑے ہیں


میری پہلی کتاب”اک انملا شاعر واصف بڈیانوی حیاتی تے شاعری“ 2002 ء میں شائع ہوئی جس کے 84 صفحات ہیں ۔ دوسری کتاب ”ماں بولی دے وارث“2005ء میں شائع ہوئی۔اس کے 192صفحات ہیں ۔اس میں میرے وہ مضامین اکٹھے کر کے شائع کیے گئے ہیں جو کہ مختلف اوقات میں مختلف رسائل میں شائع ہو تے رہے ہیں ۔ اگلی کتاب سیالکوٹ کے مایہ ناز مترجم ، عظیم شاعر اور روحانی پیش وا مولوی شاہ الدین سروری قادری کے بارے میں ہے جسے ایک علم دوست شخص محمد بوٹا سہیل قادری نے شائع کروایا تھا ۔میری کتاب”چوہدری نواب الدین گجر : شخصیت اور فن“ کو لہراں ادبی بورڈ لاہور کی طرف سے سید اختر حسین اختر مرحوم نے بڑی محبت سے شائع کیا تھا ۔ اس کے صفحات 320 ہیں ۔”ملک وال دے ہیرے“ میرا ایک تذکرہ ہے جس میں تاریخ کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔ اس تذکرہ میں تحصیل ملک وال کے 17شعراء کا ذکر کیا گیا ہے جن میں سے اکثر کو پہلی بار کسی تذکرہ میں شامل کیا گیا ہے ۔اس کتاب پر مصنف کو مسعود کھدر پوش ٹرسٹ لاہور کی طرف سے تحقیق اور تنقید کا دوسرا انعام بھی مل چکا ہے۔”ملک وال کے ہیرے“ میں پوری تحصیل ملک وال کے 115شعراء کو شامل کیا گیا ہے ۔ سید مسعود گیلانی نے اس کتاب کو لاہور سے شائع کروایا ۔اس کے پبلشرحسیب پبلشنگ ہاؤس لاہور ہے جس نے یہ کتاب 2014ء میں شائع کی۔”اُڑے پتے“ ایک کتاب جس میں ملک وال شہر کے ایک مرحوم شاعر عاصی گیلانی کا منتخب اردو کلام شامل ہے ۔ 128صفحات کی اس کتاب کو ادارہ پنجابی لکھاریاں لاہور نے 2015ء میں شائع کیا ۔ ”تذکرہ شعرائے منڈی بہاؤالدین“ ایک ایسی کتاب ہے جسے سب سے ضخیم قرار دیا جا سکتا ہے ۔ اس میں ضلع منڈی بہاؤالدین کے386 شعراء کے بارے میں معلومات دی ہیں ۔ اس تذکرہ کو دوسرے تذکروں سے ایک فوقیت حاصل ہے کہ اس کے آخر پر ایک سمری پیش کر دی گئی ہے ۔ اس سمری میں شعراء کے پتہ جات اور ٹیلی فون نمبرز بھی پیش کر دیئے گئے ہیں ۔”مہینوال دی وار تے ماں بولی دا پیار“ میں میری ایک طویل پنجابی نظم اور ماں بولی پنجابی کے حوالے سے تین چھوٹے چھوٹے مضامین شامل ہیں ۔ اس کے 32 صفحات ہیں ۔”نعت بھیالی سیالکوٹ“ میں سیالکوٹ کے نعت نگاروں اور ان کی نعتیہ کتب کو موضوع بنایا گیا اے ۔”قدر شناس سخن دے“ ڈاکٹر احسان اللّٰہ طاہر ، میجر ڈاکٹر خالد محمود وڑائچ اور میری مشترکہ کاوش ہے جس میں عظیم پنجابی محقق ، نقاد اور شاعر ڈاکٹر حفیظ احمد کی شخصیت اور فکر و فن کو زیر بحث لایا گیا ہے ۔”پاکستانی زبانوں میں حمد نگاری کی روایت میرا ایم فل کا مقالہ ہے جس میں پاکستان کی اٹھارہ پاکستانی زبانوں اور اردو کی حمد نگاری کی روایت کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ ”پنجابی قصہ سوہنی مہینوال : ایک تحقیقی جائزہ“ میں اردو ، فارسی اور پنجابی کے ایک سو ساٹھ شعراء کے قصوں کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ اگلی دونوں کتابیں الحاج واصف بڈیانوی کے فکر و فن کے حوالے سے ہیں جب کہ ”چیچ ووہٹیاں“ سیالکوٹ کے ایک پنجابی شاعرحافظ محمد انیس طارق کے پنجابی کلام پر مشتمل ہے ۔ ”گلزار اکبر“ میری ایک ایسی کتاب ہے جس میں میری تخلیقی نثر اور اردو پنجابی شاعری شامل ہے ۔ یہ کتاب ترتیب پا چکی ہے کسی بھی وقت شائع کی جا سکتی ہے۔
سوال : آپ نے ادب کو کیا دیا اور ادب نے آپ کو کیا دیا ۔؟
جواب : ذکی صاحب ! جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ میں نے ادب کو کیا دیا تو اس کا جواب میں آپ کو دے چکا ہوں ۔ یعنی میری کتابیں رہی بات کہ ادب نے مجھے کیا دیا ہے تو الحمد للہ آج میں جو کچھ ہوں اسی ادب کی وجہ سے ہوں ۔ ادب معاشرتی حوالے سے ہو یا علمی ادبی حوالے سے ، مجھے جو کچھ حاصل ہوا وہ اسی ادب کی وجہ سے حاصل ہوا ۔ حتی کہ علم حاصل کرنے میں بھی میں اسی ادب کی وجہ سے کامیاب ہوا ۔ اب بھی میں جہاں تک جانا جاتا ہوں اسی ادب کی وجہ سے جانا جاتا ہوں ۔
سوال : آپ نے ماں بولی کے فروغ کو زیادہ وقت دیا اس کی کیا وجہ ۔؟
جواب : دنیا کی ہر زبان اور اس کے بولنے والوں کی ترقی کی رفتار کا جائزہ لیا جائے تو اس اہم بات کا پتہ چلتا ہے کہ وہی قومیں سب سے آگے ہیں جن کے بولنے والوں کی پڑھائی اور عملی زندگی میں مادری زبان ہی سب کچھ ہوتی ہے ۔ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے ۔ میں ضروری سمجھتا ہوں کہ پنجاب میں پنجابی کو وہی مقام حاصل ہو جو دوسری قومیں میں ان کی مادری زبان کو حاصل ہے ۔ تاکہ ہم بھی بلکہ پورا پاکستان ترقی یافتہ قوموں میں شامل ہو سکے ۔ اس میں ہماری بہتری بھی ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کی بھی ۔
سوال : محقق ، نقاد ، شاعر ، اور ادیب کے طور پر آپ کو کون کون سی مشکل مراحل سے گزرنا پڑا ۔؟
جواب : ایک محقق ، نقاد ، شاعر اور ادیب کے طور پر مجھے خاص دقتوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ پہلے مرحلے پر ہی مجھے محمد اقبال نجمی اور ڈاکٹر احسان اللّٰہ طاہر جیسے مخلص دوستوں کا ساتھ میسر آ گیا اور پھر اور دوست اور اساتذہ کرام بھی شامل ہوتے رہے ۔ البتہ چھوٹی موٹی مشکلات اب بھی سامنے آ جاتی ہیں مگر ان کو میں نے کبھی مسئلہ نہیں بننے دیا ۔
سوال : کلام اقبال میں زیادہ تر فلسفہ پایا جاتا ہے ۔ آپ کیا کہیں گے ۔؟
جواب : علامہ ڈاکر محمد اقبال ایک عظیم شاعر ، ادیب اور قوم کے رہنما تھے ۔ انھوں نے جس سطح پر قوم کے افراد کی ذہن سازی کی وہ کسی اور کے بس کی بات نیں ۔ غالب اور دیگر اردو اور فارسی شعراء میں سے کوئی بھی ان کی برابری کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور صرف اور صرف ان کے فکر و فلسفہ کی وجہ سے ہے ۔ بلاشبہ فلسفہ ان کے ہاں زیادہ ہے اور یہی ان کی شناخت بھی ہے اور پیغام بھی ۔
سوال : اقبال اور فیض کے شہر سیالکوٹ میں ادبی حوالے سے آج کے نمایاں نام کون کون سے ہیں ۔؟
جواب : ماضی قریب کی بات کی جائے توں مولانا ظفر علی خان ، ڈاکٹر عبدالحمید عرفانی ، پروفیسر اصغر سودائی ، سائیں محمد حیات پسروری اور ریاض چوھدری ادب کے بڑے نام رہے ہیں ۔ اس دور میں محمد ایوب صابر ، شاہد ذکی ، خواجہ اعجاز بٹ اورقاضی عطاء اللّٰہ عطاء کے نام لیے جا سکتے ہیں ۔ سیالکوٹ ایک ذرخیز دھرتی ہے ، یہاں سینکڑوں کے حساب سے شعراء ، ادباء اور اہل قلم موجود رہے ہیں ۔ میری کتاب”پنجابی ادب دی روایت : سیالکوٹ وچ“ میں 435 پنجابی شعراء کا تعارف پیش کیا جا رہا ہے ۔
سوال : ماشاء اللّٰہ
آپ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں آپ کو گولڈ میڈل سے بھی نوازا جاچکا ہے ۔ اس کے بارے میں آپ کچھ کہنا پسند کریں گے ۔؟
جواب : الحمد اللّٰہ میرے کام اور میری ادبی خدمات کے اعتراف میں درجنوں ایوارڈز اور اسناد مل چکی ہیں جن میں دو گولڈ میڈل بھی ہیں۔ پہلا گولڈ میڈل کارِ خیر گوجرانوالہ کی طرف سے دیا گیا جب کہ دوسرا گولڈ میڈل انٹرنیشنل بھیل ادبی سنگت ننکانہ صاحب کی طرف سے زاہد اقبال بھیل نے نعت بھیالی سیالکوٹ پر دیا ۔ میری ایک کتاب کو مسعود کھدر پوش ٹرسٹ لاہور کی جانب سے سال کی دوسری بہترین کتاب کا حقدار قرار دیا جا چکا ہے جب کہ ایچ ای سی نے میری تین کتب کو تحقیقی مضامین کا درجہ بھی دیا ہوا ہے ۔ ویسے میرے نصف درجن سے زائد حقیقی مضامین ایچ ای سے منظور شدہ تحقیقی رسائل میں شائع ہو چکے ہیں ۔
سوال : آج کل ادب کی پرواز کافی بلند دکھائی دے رہی ہے اس پر تھوڑی روشنی ڈالیں ۔؟
جواب : آج کل میں اپنی کتاب”پنجابی ادب دی روایت : سیالکوٹ وچ“ کی اشاعت اور دیگر مراحل کی تیاری میں مصروف ہوں مگر تحقیق کا سفر جاری ہے ۔ انہیں مہینوں میں زیادہ تحقیقی مضامین بھی لکھے گئے ہیں جبکہ مشاعروں، مذاکروں اور ادبی محافل میں بھی شمولیت کا موقع ملتا رہتا ہے ۔ پچھلے مہینے میں نے خود بھی ایک اعلی سطح کی پنجابی کانفرنس منقعد کی تھی جس میں پنجابی زبان و ادب کے کم از کم آٹھ پی ایچ ڈی اساتذہ شامل ہوئے تھے ۔الحمد للہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ کام بھی بڑھ رہا ہے۔

maqbool

مقبول ذکی مقبول

بھکر، پنجاب، پاکستان

مقبول ذکی مقبول

Next Post

نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی سے مقبول ذکی مقبول کی ملاقات

منگل دسمبر 13 , 2022
استاد الشعراء جناب نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی سے مقبول ذکی مقبول کی ملاقات
نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی سے مقبول ذکی مقبول کی ملاقات

مزید دلچسپ تحریریں