“بساط”امید کی ایک کرن

“بساط”امید کی ایک کرن

حسیب احمد اعوان

مصروفیت کے اس کٹھن دور میں انسان کا قلم اور کتاب سے رابطہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ اب انسان سہل پسندی کو زیادہ محبوب سمجھتا ہے۔ حتیٰ کہ طالب علم بھی کتاب سے اپنا تعلق اور واسطہ ختم کیے بیٹھے ہیں اور اس گمان میں ہیں کہ دور جدید میں ہر چیز انٹر نیٹ کے ذریعے بآسانی مل جاتی ہے۔ ایسے حالات میں بساط کا منظر عام پر آنا امید کی کرن کے مصداق ہے کہ اس کی بہ دولت حضرت انسان کا کتاب سے تعلق بنا رہے گا اور اس تعلق کو مزید تقویت ملتی رہے۔ گی۔ یہ مجلہ گورنمنٹ بوائز انٹر کالج میرپورہ (نیلم) کا ہے جس کے سر پرست پرنسپل ادارہ پروفیسر محمد رفیق شیخ صاحب ہیں۔ اس کے مدیر اعلا اسی ادارے میں اردو لیکچرر کے فرائض سر انجام دینے والے میرے استادِ محترم فرہاد احمد فگار صاحب ہیں۔ میرے لیے یہ بات خوشی کا باعث ہے کہ موصوف فرہاد احمد فگار صاحب نے یہ مجلہ خصوصی طور پر مجھے بھیجا۔ اس پر میں ان کا ممنون رہوں گا۔ اس مجلے کے مدیر بشارت خان کیانی صاحب ہیں۔ یہ مجلہ 124 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کی مجلسِ مشاورت میں احباب کے نام پڑھ کر دلی مسرت ہوئی کہ جن کا تعلق اردو زبان وادب سے ہے اس ایک بات سے مجلے کی صحت اور اس کی کام یابی کا اندازہ بہ خوبی لگایا جا سکتا ہے۔۔ سید معراج جامی(کراچی)، راجا شوکت اقبال ( مظفر آباد)، پروفیسر وجاہت گردیزی (باغ)، اردو شاعری میں نمایاں مقام رکھنے والی شخصیت ڈاکٹر ماجد محمود (راولاکوٹ)، ڈاکٹر یوسف میر صاحب ( مظفرآباد)، اردو زبان وادب اور شاعری میں منفرد لب و لہجے کے شاعر پروفیسر اعجاز نعمانی صاحب (مظفرآباد) پروفیسر عابد محمود عابد (میرپور)، مسعود ساگر صاحب (کوٹلی)، پروفیسر آصف اسحاق صاحب (پلندری) جناب اقبال اختر نعیمی (وادی نیلم) اور ہٹیاں بالا سے برارم خاور نذیر (راقم الحروف کا ہم جماعت) شامل ہیں۔

“بساط”امید کی ایک کرن

یہ مجلہ تین حصوں میں منقسم ہے پہلے حصے میں اردو ادب سے تعلق رکھنے والے احباب کے مضامین کو شامل کیا گیا ہے۔ “اہم سنگ میل” کے عنوان سے سیکرٹری پبلک سروس کمیشن آزاد کشمیر جاوید الحسن جاوید صاحب نے ادارے کی انتظامیہ کی اس کاوش کو سراہا ہے اور اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یہ مجلہ ادارے کی انتظامیہ کی علمی اور ادبی سرگرمیوں کا بہترین عکاس ہے۔” قابلِ ستائش کارنامہ” پروفیسر خواجا عبدالرحمان صاحب (ناظم اعلا ، کالجز،آزادکشمیر) کے خیالات اور ان کے نظریات پر مشتمل ہے جس میں انھوں نے اس یقین کا واضح اظہار کیا ہے کہ شمارہ اول کی طرح شمارہ دوم بھی لوگوں میں مقبولیت کے میدان سر کرے گا۔اس کے بعد ادارے کے سربراہ پروفیسر محمد رفیق صاحب نے “پیغام” میں اس بات کا دکھی دل سے اظہار کیا ہے کہ ادارے میں شان دار لیبارٹریز ہونے کے باوجود صرف آرٹس (علم و ادب) کے مضامین ہی پڑھائے جاتے ہیں۔ وقت کی ضرورت ہے کہ ادارے میں علم و ادب کے مضامین کے ساتھ ساتھ سائنس کے مضامین بھی پڑھائے جائیں تاکہ وہاں کے طلبہ کو معیاری تعلیم ان کی دہلیز پر میسر آسکے۔ اس کے بعد “عرضِ فگار” میں فرہاد احمد فگار صاحب نے بڑے خوب صورت اور جامع انداز میں اپنے خیالات کو بیان کیا ہے اور اپنی سست الوجودی کا برملا اظہار ہے تاہم میرے نزدیک فرہاد صاحب میں سست الوجود والی کوئی بات نہیں پائی جاتی۔ کیوں کہ صحتِ املا اور شعر کے اصل خالق کی کھوج لگانے کے لیے آپ نے پاکستان کے مختلف دیہات تک کے سفر کیے اور شعر کے اصل خالق اور اس کی کتاب کو حاصل کر کے ہی واپس آئے۔ اس لحاظ سے آپ سست الوجود نہیں بل کہ برق رفتار انسان ہیں۔ محمد سفیر صاحب نے “ماہ ربیع الاول۔۔۔ انسانیت اجالے کی تحویل میں” کے عنوان سے اس مجلے میں اپنے تاثرات کو قلم بند کیا اور انسانیت کو ماہ ربیع الاول کی حیثیت اور حقیقت سے آگاہ کیا۔
بوئی کے درویش آصف ثاقب صاحب نے “آزاد کشمیر کے منتخب غزل گو شعرا ” ( جو فرہاد احمد فگار صاحب کا ایم فل کا مقالہ ہے) کے حوالے سے ایک تاثراتی مضمون لکھا ہے جو کہ تحقیق اور تنقید کے طالب علم کے لیے ممد و معاون ثابت ہوگا۔ اس کے بعد “بیماریاں بھی باعث رحمت ہوتی ہیں” سید معراج جامی صاحب کے قلم سے نکلے ہوئے الفاظ کا وسیع ذخیرہ ہے۔ اس تحریر میں جامی صاحب نے انسانوں کو اس بات کی طرف متوجہ کیا ہے کہ بیماری بھی خدا کی طرف سے ایک رحمت ہوتی ہے انسان جب بیماری میں مبتلا ہو جائے تو اسے صبر سے کام لینا چاہیے نہ کہ وہ غم و غصّے کا اظہار کرے۔
زبان کسی بھی علاقے کی پہچان ہوتی ہے اور اس علاقے کے رہنے والوں کی ترقی کا باعث ہوتی ہے۔” جموں و کشمیر کی علاقائی زبانیں ایک مختصر تعارف” محمد سعید ارشد صاحب نے اس مضمون میں زبانوں کی افادیت اور اہمیت پر سیر حاصل گفت گو کی ہے جس میں علاقائی زبانوں کے مختلف تصورات کو اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ ” طلبہ تعلیم اور تعلیمی ادارے اس عنوان سے محمد رضا ربانی صاحب (سکردو) کا مضمون اس مجلے کی زینت بنا اور ربانی صاحب نے اپنے موضوع کے اعتبار سے مدلل انداز میں اپنے خیالات کو بیان کیا ہے۔
ایک انوکھے انداز کا مضمون میری نظر سے گزرا جس نے مجھے آباؤاجداد کے دور میں لاکھڑا کر دیا۔ ایک ایسا دور جس میں انسان کو شکم سیری کے لیے میلوں دور “جندر” پر جانا پڑتا تھا اور پھر آٹا پیس کر گھر والوں اور اپنے لیے روٹی کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ “ایک معدوم ہوتی تہذیب” جندر” معین اسلم بلوچ صاحب کا شاہ کار ہے جو اس مجلے کی اہمیت کو چار چاند لگا دیتا ہے۔
اسی طرح میری سہیلی (جویریہ غلام حیدر) “ماں کی خدمت”( ملک نادیہ اعجاز) ” کوئل کی کہانی”( سدرہ اعجاز) “رتی گلی جھیل” (ارم بٹ) ” مری کی سیر” (کشف نور اعوان) “معلومات کشمیر”(حماد زمان) یہ ایسے مضامین ہیں جو ایک طالب علم کو اخلاقیات کی تعلیم دیتے ہیں۔
دوسرے حصے میں مجلہ کی پہلی اشاعت کے بارے میں مختلف لوگوں کی آراء پیش کی گئی ہیں۔ جن میں جناب عطا الرحمان کا تبصرہ ( میرپورہ کالج کا مجلہ ” بساط”) شامل ہے جس میں انھوں نے قومی زبان کی اشاعت اور ترقی کا سہرا بساط کو قرار دیا ہے۔
محترمہ ثمینہ اسماعیل نے فگار صاحب کی اس کاوش کو سراہا ہے اور یہ امید ظاہر کی ہے کہ یہ مجلہ آنے والی نسلوں کے لیے راہ نمائی اور پل کا کام کرے گا۔ رانا توفیق صدیقی صاحب نے بڑے جامع انداز میں بساط کو زیرِ بحث لایا ہے اور کہتے ہیں کہ بساط کی مقبولیت کی وجوہات میں جو اصل وجہ ہے وہ اس کی جدید املا اور صحت الفاظ کی خوبی ہے۔ اور آخری حصہ شعر و شاعری سے شغف رکھنے والے احباب کے نام کیا گیا ہے۔ جس میں آزاد کشمیر اور پاکستان کے نام ور شعرا کے معروف اشعار کو شامل کیا ہے۔
یہ مجلہ اپنی نوعیت کا ایک اہم مجلہ ہے جو آزاد کشمیر کے دور افتادہ علاقے میرپورہ، نیلم سے منظر عام پر لایا گیا جہاں کے طلبہ علم ادب سے نا آشنا ہیں۔ یہ استادِ محترم اور ان کے معاونین کا اردو زبان سے محبت کا بین ثبوت ہے۔ اس مجلے میں خاص بات جو نظر آئی وہ یہ ہے کہ یہ روایتی انداز سے ذرا ہٹ کر ایک نئے اور جدید انداز کا حامل ہے۔ جس میں جدید املا کو خاص طور پر سامنے رکھا گیا ہے۔ اس کے ہر مضمون میں اردو زبان و ادب کے طالب علم کے لیے بیش بہا معلومات ہیں۔ اگر میں یہ کہوں کہ یہ مجلہ معلومات کا ایک خزانہ ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس مجلے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس میں ادارے کے طلبہ کی تحاریر کو خاص طور پر شامل کیا گیا ہے۔ جس سے طلبہ کے اندر چھپی ہوئی صلاحیت کھل کر سامنے آ گئی ہے اور یہ صرف وہی شخص کر سکتا ہے جسے اپنی زبان اور اپنے ادارے سے نہ مٹنے والا لگاؤ ہو۔ میں بابائے تلفظ فرہاد احمد فگار صاحب کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے طالب علم کا کتاب سے تعلق کو بحال رکھنے کے لیے اس مجلے کا آغاز کیا۔ خدائے لم یزل سے دست بہ دعا ہوں کہ اس ادارے کو صبحِ قیامت تک یوں ہی علم کی روشنی پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ مضطر نظامی مرحوم کا ایک شعر قارئین کی نظر کر کے اپنی بات کا اختتام کرتا ہوں۔
قسمتِ نوعِ بشر تبدیل ہوتی ہے یہاں
اک مقدس فرض کی تکمیل ہوتی ہے یہاں

بساط

حسیب احمد اعوان

لیکچرر اردو اقرا سکول اینڈ کالج چڑالہ (دھیرکوٹ)

سونیا بخاری

Next Post

پروفیسر ڈاکٹر اکبر علی غازی سے مکالمہ

اتوار دسمبر 11 , 2022
گاؤں چھبیل پور تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ کے رہائشی ہیں ان کا خاندانی نام اکبر علی ہے ، تخلص غازی اور قلمی نام اکبر علی غازی ہے ۔
پروفیسر ڈاکٹر اکبر علی غازی سے مکالمہ

مزید دلچسپ تحریریں