خالد مصطفیٰ سے گفتگو

خالد مصطفیٰ

انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات ، اسلام آباد

انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر پنجاب پاکستان

خالد مصطفیٰ کا اصل نام خالد محمود ہے جب کہ قلمی نام خالد مصطفیٰ ہے جو آپ کے دادا غلام مصطفیٰ کی نسبت سے انھوں نے اختیار کیا ۔ خالد مصطفیٰ 21 مئی 1966ء کو گاؤں حطار تحصیل فتح جنگ ضلع اٹک میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد عبدالخالق صاحب علاقے کی علمی شخصیت ہیں جو 40 برس تک درس وتدریس سے وابستہ رہے ۔ خالد مصطفیٰ نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول حطار سے حاصل کی ۔ میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 فتح جنگ سے کیا ۔ گورنمنٹ کالج اصغر مال روڈ راولپنڈی سے بی اے کرنے کے بعد پاک فوج میں بحیثیت کمیشنڈ آفیسر شمولیت اختیار کی ۔ تعلیم سے محبت کا یہ عالم ہے کہ ملازمت کے دوران ایم اے اردو اور ایم ایس سی ابلاغیات کی ڈگریاں حاصل کیں ۔ 2014 ء میں بحیثیت لیفٹیننٹ کرنل عساکر پاکستان سے ریٹائر ہوئے ۔ خالد مصطفیٰ بہت ساری خوبیوں کے حامل ہیں ۔ اردو زبان کے مشہور و معروف شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ادیب ، محقق اور نقاد بھی ہیں ۔ ملازمت کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں رہ چکے ہیں تاہم ریٹائرمنٹ کے بعد اسلام آباد میں مستقل سکونت اختیار کرلی ۔ چند روز قبل خالد مصطفیٰ سے جو علمی و ادبی گفتگو ہوئی وہ نذر قارئین ہے ۔

خالد مصطفیٰ سے گفتگو

سوال : آپ دنیائے ادب میں کس طرح وارد ہوئے ۔؟
جواب : شعر گوئی کا شوق تو شروع سے تھا مگر1981ء میں میٹرک کے بعد گورنمنٹ کالج اصغر مال روڈ راولپنڈی میں داخلہ ہوا تو وہاں پروفیسر یوسف حسن اور ماجد صدیقی جیسے ماہرین فن ہمارے اساتذہ میں سے تھے ۔ ان لوگوں کی تحریک سے شاعری کا باقاعدہ آغاز کیا ۔ کالج کے رسالے “کوہسار” میں میری تخلیقات شائع ہوئیں تو حوصلہ بڑھا ۔ تو یوں ہم دنیائے ادب میں وارد ہوئے ۔
سوال : کیا آپ کو یاد ہے پہلا شعر کب اور کہاں کہا تھا ۔؟
جواب : پہلی غزل اس وقت کہی تھی جب میں کالج میں سال اول کا طالب علم تھا ۔
سوال : آپ کا ادبی سفر ۔؟
جواب : میرا شعری سفر میرے پہلے شعری مجموعے “خواب لہلہانے لگے” (2004) سے شروع ہوا ۔ تاہم بعد ازاں میں تحقیق کی طرف نکل گیا ۔
سوال : آپ کی تحقیقی کتب کون کون سی ہیں ۔ ؟
جواب : میرا پہلا تحقیقی کام “وفیات اہل قلم عساکر پاکستان” تھا ۔ میری یہ کتاب 2014ء میں شائع ہوئی ۔ “وفیات پاکستانی اہل قلم خواتین” میری دوسری کتاب تھی جو ۔ 2016ء میں شائع ہوئی ۔
“وفیات پاکستانی اہل قلم علماء” میری تیسری کتاب تھی جو 2018ء میں شائع ہوئی ۔
2017 ء میں اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد کے پلیٹ فارم سے میری تحقیقی کتاب “قابل اجمیری شخصیت اور فن” شائع ہوئی ۔ اسی سال یعنی 2017ء میں نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد کے پلیٹ فارم سے میرا مرتب کردہ “منتخب کلام قابل اجمیری” شائع ہوا ۔
سوال : شاعری کی نسبت آپ کا نثر میں کام زیادہ ہے ۔ اس کی کیا وجہ ہے ۔؟
جواب : اچھا شعر تخلیق کرنا ایک مشکل کام ہے جب کہ نثر نگاری قدرے آسان ہے اس لئے نثر میں میرا کام زیادہ ہے ۔
سوال : آپ کو اشعار کہنے میں لطف آتا ہے یا نثر نگاری میں ۔؟
جواب : دونوں کا اپنا مزہ ہے مگر شعر گوئی کے لئے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے جب کہ نثر کم وقت میں زیادہ لکھی جا سکتی ہے ۔ مزہ بہرحال شعر گوئی میں ہی آتا ہے ۔
سوال : زیادہ تر نوجوان نسل کے اشعار شعریت سے خالی پائے جاتے ہیں ۔ اس پر کیا کہیں گے ۔؟
جواب : مطالعہ کی کمی اور محنت سے جی چرانے کی وجہ سے ایسا ہے ۔
سوال : فیس بُک اور گوگل کو تحقیق کے میدان میں حوالے کے طور پر قبول کیا جاسکتا ہے ۔؟
جواب : تحقیقی حوالہ تو کتاب ہی ہے البتہ ان ذرائع سے مدد لی جا سکتی ہے ۔
سوال : نثر میں آپ کس صنف میں لکھتے ہیں ۔؟
جواب : نثر میں میرا اصل میدان تحقیق ہے اور تحقیقی کام میں وفیات نگاری میرا موضوع ہے جس پر کم لوگوں نے لکھا ہے ۔
سوال : کیا نثر میں خیالات کا اظہار شعر کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوتا ہے ۔؟
جواب : جی نثر میں اپنے خیالات کے اظہار کے لیے آپ پر پابندیاں نہ ہونے کے برابر ہیں جب کہ شعر گوئی میں آپ خیالات کو ردیف قافیہ اور دیگر شعری قواعد کی چھلنی سے گزار کر پیش کرتے ہیں جو کہ مشکل کام ہے ۔
سوال : آپ کا پسندیدہ نثر نگار اور شاعر کون ہے ۔؟
جواب : مختلف اصناف میں مختلف لوگ پسند ہیں جن کی اسم شماری مشکل ہے ۔
سوال : آپ اپنی نثر کے ذریعے کیا پیغام قاری کو دینا چاہتے ہیں ۔؟
جواب : ہر تخلیق کار چاہتا ہے کہ اس کے لکھے ہوئے ہر لفظ سے لوگ استفادہ کریں ۔ استفادہ حاصل کرنے کا طریقہ قاری پر منحصر ہے ۔ میں بھی چاہتا ہوں کہ لوگ میرے لکھے گئے لفظوں سے حظ اُٹھائیں اور ان سے فیض یاب ہوں ۔

maqbool

مقبول ذکی مقبول

بھکر، پنجاب، پاکستان

مقبول ذکی مقبول

Next Post

بزمِ اوج ادب بھکر کی طرف سے ایوارڈ

پیر دسمبر 26 , 2022
ڈاکٹر طارق محمود آکاش ، ارشاد ،ڈیروی اور ساجن جی انصاری کو ادبی خدمات پر ایوارڈز سے نوازا گیا
بزمِ اوج ادب بھکر کی طرف سے  ایوارڈ

مزید دلچسپ تحریریں