بھکر میں نظم نگاری
تحقیق :مقبول ذکی مقبول ، بھکر
بھکر نظم کا ضلع ہے جس کی ابتدا غلام سکندر خان غلام ( 1802ء ۔ 1902ء ) نے کی تھی بعد ازاں بہت سے نظم گو سخن ور پیدا ہوئے جنہوں نے شعر و سخن کو بامِ عروج بخشا اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے ۔ نا وسائلی کے باوجود بہت سے اہلِ سخن نے بین الاقوامی شہرت حاصل کی اور بھکر کو تھل کا لکھنؤ کہا جانے لگا ۔ اصنافِ سخن میں ہر ایک موضوع اور ہر ایک صنف میں شعراء کرام نے بھرپور طبع آزمائی کی ۔ جس میں حمد ، نعت ، سلام ، مناجات ، مرثیہ ، نوحہ ، غزل ، نظم ، قطعات ، رباعی ، فردیات ، گیت ، ہائیکو ، جیسا کہ پہلے ذکر کر چکا ہوں ہر صنف میں بھرپور طبع آزمائی ہوئی ہے اور ہو بھی رہی ہے ۔ میرے آج کے مضمون کا موضوع ہے بھکر میں نظم نگاری ہے
ظفر عباس ( محلہ حُسین آباد ، بھکر )
ظفر عباس بزرگ شاعر ہیں آپ عمر کے آخری حصّہ میں ہیں ۔ شاعرِ ہفت زبان ہیں ۔
آپ کا نظموں کا مجموعہ ٫٫ رُوحیں کیوں رات کو اُترتی ہیں ،، ( رُومانی اور مابعد الطبیعاتی شاعری ) اِس سے قبل تین مجموعے منصہء شہود پر آچکے ہیں ۔ اُن کے نام کچھ اِس طرح سے ہیں ۔
1 ٫٫ سات رنگ ،، ( سات زبانوں پر مشتمل شعری مجموعہ)
2 ٫٫ پولیس نامہ ،، ( ہماری پولیس کے مثالی اور موجودہ پہلوؤں کی عکاسی پر مشتمل شعری مجموعہ)
3 ٫٫ بازگشتِ اقبال ،، ( علامہ اقبال رح ( کی 60 معروف نظموں اور غزلوں کی مکمل تضمین )
٫٫ رُوحیں کیوں رات کو اُترتی ہیں ،، ( رُومانی اور مابعد الطبیعاتی شاعری )
اس مجموعہ نظم کو جنوری 2022ء کو علم و عرفان پبلشرز لاہور نے شائع کیا ہے ۔ صفحات 128 اور ڈبل ٹائیٹل ہے آپ پیشِ لفظ میں لکھتے ہیں اِس مجموعہء نظم کا نام ٫٫ رُوحیں کیوں رات کو اُترتی ہیں ،، میرے بیٹے ملک عارف حسین نے رکھا ہے جو کہ نظم کے عنوان سے تجویز کردہ ہے ۔ وہ خود بھی ذوقِ شاعری رکھتے ہیں ۔ ( ص 9 )
نظم
خُدا حافظ
کہا اُس نے : مجھے تم سے محبت ہے
کہا اُس نے : مجھے تو تم سے نفرت ہے
کہا اُس نے : خُدا حافظ یہاں سے جا رہا ہوں میں
کہا اُس نے : خُدا حافظ نہ آنا پھر یہاں ہر گز
کہا اُس نے : چلو اگلے جہاں میں تو ملیں گے ہم
کہا اُس نے : نہیں اہلِ جہنم ، اہلِ جنّت کا وہاں پر رابطہ ممکن
( ظفر عباس )
پروفیسر بشیر احمد بشر
پروفیسر بشیر احمد بشر ( پیدائش 1938ء ۔ وفات 13 جنوری 2011ء ) ایک عظیم شاعر تھے آپ کا اُردُو شعر و سخن میں ایک معتبر نام ہے ۔ آپ کی ادبی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں آپ کی شخصیت اور فن کے حوالے سے بات کرنا ایسا ہے جیسا کہ ایک مشہور کہاوت ہے سورج کو چراغ دکھانے والی بات ہے ۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کی کتاب ٫٫ برف کی کشتی ،، 2011ء کو اظہار سنز 19 ۔ اُردُو بازار ، لاہور سے شائع ہوئی ہے ۔ اِس میں غزلیں اور نظمیں شامل ہیں ۔ صفحات 198 ٫٫ ضیاءالبشر ،، نعتیہ مجموعہ 2014ء کو اظہار سنز 19 لاہور نے شائع کیا ۔ اِس کے علاوہ آپ کا نظموں کا مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے ۔
نظم
احسان شناسی
اے سورج !
تابندہ سورج!
ہم تیرے ممنون بہت ہیں
اتنے ہیں ممنون کہ تجھ سے آنکھ ملانا مشکل ہے
تیری شعاعوں کی یورش سے بام و در بیدار ہوئے
شل ہاتھوں میں قوت آئی ، جامد سر بیدار ہوئے
گلی گلی نے انگڑائی لی سوئے گھر بیدار ہوئے
اے سورج!
پائندہ سورج!
تیری کرنیں پی کر غنچے خوشبو سرشار ہوئے
برگ لبِ اظہار ہوئے
تیری للکاروں کو سن کر
سست پرندے بھی جاگے ، طائر سستی سے بیزار ہوئے
اُڑ نے کو تیار ہوئے
تیرے دم سے آنکھ کی زد میں سچائی کا چہرہ آیا
تیری آمد آمد کی جب خبر اُڑی تھی
بھوت پریت کے ہوش اُڑے تھے
اپنے آپ سے لوگ جڑے تھے
لیکن جب
غصیلی آنکھ کے دہشت ناک انگارے لے کر
آنے والی کالی رات سے ظلمت چیز اشارے لے کر
ہاتھ میں یک تلوار لئے
شام بڑی تھی تیری جانب
سب تیرے احسانوں کو گنوانے میں مصروف رہے
شام آئی اور تیرے خون کو چاٹ لیا
گر گئے ہم بھی نیند کی گہری وادی میں
اے سورج!
اے زندہ سورج ۔۔
ہم تجھ سے شرمندہ ہیں
اتنے شرمندہ کہ تجھ سے آنکھ ملانا مشکل ہے
( پروفیسر بشیر احمد بشر ، محلہ رحیم آباد ، بھکر شہر )
نجف علی شاہ بخاری(محلہ سادات نزد سردار بخش روڈ ، بھکر شہر )
نجف علی شاہ بخاری کا نظم کا مجموعہ ٫٫ برف میں لپٹی آگ ،،
اپریل 2012ء کو دِل کش پبلیکیشنز لاہور نے شائع کیا ہے ۔ اِس میں شامل نظموں کے عنوان انگریزی میں لکھے ہوئے ہیں یہی مجموعہ ٫٫ شجرہ نسب ،، ( کلیات ) میں بھی شامل ہے ۔ نجف علی شاہ بخاری کی کلیات کو جمال پبلی کیشنز ، ملتان نے شائع کیا ہے صفحات 356 ہیں ۔
نجف علی شاہ بخاری کی نظم کا رنگ ، نظم کی خوشبو ، نظم کی کشش قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے چھوٹی چھوٹی نظموں میں بڑے بڑے پیغامات پائے جاتے ہیں ۔ اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کا ایک شعر یاد آرہا ہے ملاحظہ فرمائیں :
دِل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں ، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
نظم
Fire within the snow
برف میں لپٹی آگ
خوشبو جیسا لہجہ تیرا
رخ مہتاب گلاب
گہری جھیل سی آنکھیں تیری
اور ان میں کچھ خواب
تیرے لب سے پھوٹیں اکثر
پیلوایمن راگ
تو منسوب اگر ہو مجھ سے
جاگیں میرے بھاگ
تیرے دھکتے جسم کی حدت
٫٫ برف میں لپٹی آگ ،،
( نجف علی شاہ بخاری )
پروفیسر ڈاکٹر سعید عاصم اکثر اصناف ِ شعری میں نہ صرف طبع آزمائی کتے ہیں۔ بلکہ ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں صرف غزل گوئی کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ نظم نگاری میں بھی آپ اپنی پچان ہیں ۔ ایک نظم پیشِ خدمت ہے ۔
نظم
سالگرہ
گردشِ وقت کے سفینے میں
حسرتیں کر کے دفن سینے میں
زندگی سے نباہ کرتے ہوئے
یعنی ماضی کے زخم بھرتے ہوئے
حال بھی حسبِ حال بیت گیا
آج اک اور سال بیت گیا
( پروفیسر ڈاکٹر سعید عاصم ، داجل ، بھکر )
الطاف اشعر بخاری کی نظم نگاری کے حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر سرور عظیم قریشی (صدر شعبئہ اُردُو تھل یونیورسٹی ، بھکر ) کی رائے پیشِ خدمت ہے ۔
٫٫ زیرِ نظر نظم عصری حالات کی مکمل تصویر کشی کرتی ہے اور انسانی معاشرت کے نشیب و فراز کو نہایت خوب صورتی سے بیان کرتی ہے۔ شاعر نے اس کلام میں طبقاتی فرق کو نمایاں کرتے ہوئے بورژوائی طبقے کے استحصالی رویے پر گہرا طنز کیا ہے اور پرولتاری طبقے کی محرومیوں اور بے بسی کو مؤثر پیرائے میں پیش کیا ہے۔
نظم کا فکری و فنی پہلو نہایت مضبوط ہے۔ شاعر کی گہری بصیرت اور انسان دوستی نظم کے ہر شعر میں نمایاں ہے۔ الفاظ کے چناؤ میں سادگی اور اثر انگیزی پائی جاتی ہے جو قاری کو جھنجھوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ استعاروں اور تشبیہات کے عمدہ استعمال نے نظم کو فکری بلندی عطا کی ہے ۔
یہ نظم صرف ایک ادبی تخلیق نہیں بلکہ ایک سماجی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے جو معاشرتی ناہمواریوں کو بے نقاب کرتی ہے اور استحصالی طبقے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتی ہے۔ شاعر کا یہ کلام نہ صرف جمالیاتی اعتبار سے حسین ہے بلکہ فکری سطح پر بھی قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے ۔
یہ نظم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی ادب وہی ہوتا ہے جو معاشرے کی عکاسی کرے اور قاری کے ذہن میں سوالات پیدا کرے ۔ شاعر نے بڑی مہارت سے اس تخلیق میں انسانی عروج و زوال کی کہانی کو سمو دیا ہے جو یقیناً قابلِ ستائش ہے ۔ ،،
نظم
حقیقی سوال
عِلم کی گتھیاں سُجھاتے ہوئے
ہندسوں کی ساحری دِکھاتے ہوئے
بڑے عدسوں کے پیچھے جھانکتے ہیں
سوچ اپنی کو ہم پَرکھتے ہیں
اِس کو جادو گری سمجھتے ہیں
ساری دُنیا ہے اپنی مٹھی میں
روشنی وہ بسی ہے آنکھوں میں
کو چشمی وجود کھو بیٹھی
فاصلے اُڑ گئے ہواؤں میں
رنگ اپنے ہیں ہیں شاعری اپنی
پھولوں میں بھی مصوری اپنی
بحر و بر ہم نے کھوج ڈالے ہیں
اور علَم پربتوں پہ گاڑے ہیں
اُڑ تے پھر تے ہیں اب فضاؤں میں
نئی تسحیر ہے ستاروں میں
سننا چاہیں تو مدھ بھرے نغمے
چکھنا چاہیں تو رَس بھرے پیالے
اپنی مرضی ہے اپنی دھرتی ہے
زندگی خود پہ ناز کرتی ہے
حُسن تک کو پچھاڑ سکتے ہیں
جب بھی چاہیں خرید سکتے ہیں
یہ تو اِک زاویہ ہے دیکھا ہے
ہم نے شاید عروج دیکھا ہے
اور کچھ اُس طرف دیکھتے ہیں
زیست مٹی میں گڑھتی جاتی ہے
خون کے چیتھڑے ہواؤں میں
طِفل اُڑ تے ہیں اب دھماکوں میں
درد سہما ہوا صداؤں میں
سسکیاں بے وقار لگتی ہیں
چادریں تار تار لگتی ہیں ۔
ہم نے دیکھے ہیں منصفوں کے دماغ
زَرکی گرمی میں یوں پگھلتے ہیں
جیسے چاہو یہ خود بدلتے ہیں
چھوڑیئے بحث یہ پرانی ہے
کیا سمجھ اِس میں ہم کو آنی ہے
دوہی تو زاویئے ہیں پیش نظر
یہ تنزلی ہے یا ترقی ہے
اب حقیقی سوال ابھرا ہے
یہ نئے دور کا تقاضا ہے
یہ ترقی یہ نعمتوں کے نجوم
یہ اَمارت ، سہولتوں کے ہجوم
چند مخصوص غاصبوں کے لیے
جھوٹ اور جھوٹے غاصبوں کے لیے
کیا یہ عیاری اور کمال نہیں
پوچھنے تھے جو یہ سوال نہیں
کوئی پوچھے اگر سوال ہے یہ
ہم مساوات کس کو کہتے ہیں ؟
جینے والے حیات جیتے ہیں
باقی سارے کیوں مرتے جاتے ہیں
ایک یہ بھی سوال بنتا ہے
گر ترقی جو ہو چکی ہے یہاں
کیا تفاخر سے جان چھوٹی ہے
ختم احساسِ برتری بھی ہے
سوچنا یہ بھی ہے ابھی ہم کو
اِس ترقی نے کیا دیا ہم کو
کیا سکوں عام ہے زمانے میں
کیا شکم سیر ہو گئے سارے
کیا یہ غیرت کے جھگڑے ختم ہوئے
امن کیا آ گیا زمانے میں
وحشتیں مر گئی ہیں دُنیا میں
کیا محبت کا بول بالا ہے
شاہ کے ساتھ بیٹھا اِک درویش
آج کیا اُس کا ہم نوالہ ہے
کیا مساوات ہو گئی ہے یہاں
کیا نئی بات ہو گئی ہے یہاں
اہل دانش سے بھی سوال ہے یہ
اِن سوالوں پہ غور کرتے ہیں ؟
چلو اب اِن کی کھوج کرتے ہیں
اِس حقیقت پہ غور کرتے ہیں ۔
( الطاف اشعر بخاری ، بھکر شہر )
علی شاہ ( محلہ عثمان آباد نزد کربلا روڈ ، منکیرہ شہر )
علی شاہ ( پیدائش یکم فروری 1966ء ۔ وفات 16 جون 2016ء ) کا مجموعہ نظم ٫٫ بارش مجھ کو راس نہیں ،، 2005ء کو فن پبلی کیشنز اسلام آباد سے شائع ہوا علی شاہ نظم نگاری میں ایک خاص مہارت رکھتے تھے نظم کی رُوح ، نظم کی بحر ، نظم کا خیال ، نظم پیغام اور مختصر نظم کہنے میں ملکہ حاصل تھا نظم کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج سے 20 / 25 سال قبل عید کارڈ کا دور تھا علی شاہ کی نظم عید کارڈ پر لکھی ہوتی تھی وہ نظم ملاحظہ فرمائیں :
نظم
عید
اب کے بار بھی عید پہ اُس نے
مجھ کو یہ سندیسہ بھیجا
شاید اگلے سال ملیں ہم
اِس نظم کا اثر دیکھئے علی شاہ نے غالبًا 2006ء میں یہ راقم الحروف کو سنائی تھی جو حفظ ہوگئ ۔ علی شاہ کی نظمیں رومانوی ہیں اپنے اندر ایک کشش رکھتی ہیں ۔
نظم
جدائی امتحاں ہے
جدائی ایسا موسم ہے
کہ اس موسم میں سپنے روٹھ جاتے
جدائی ایسا نغمہ ہے کہ اس کے سب سروں میں
رنج غم آپس میں ملتے ہیں
جدائی ایسا گلشن ہے کہ اس میں پھول کھل جائیں
تو خوشبو روٹھ جاتی ہے
جدائی جاں گُسل ہے ، بے بدل ہے
درد کے صحرا میں چلتے اک مسافر کا عمل ہے
جدائی کا تبھی تو اِک انوکھا ہی جہاں ہے
جدائی امتحاں ہے
( علی شاہ )
پروفیسر قلبِ عباس عابس ( گلشنِ مدینہ نزد مغل چوک ، بھکر )
پروفیسر قلبِ عباس عابس گورنمنٹ گریجویٹ کالج بھکر میں شعبئہ انگریزی کے لیکچرار ہیں ۔ آپ کو اللّٰہ پاک نے خوبصورت قد و قامت اور خدو خال سے نوازا ہے اور ساتھ اندازِ بیان بھی لاجواب ہے ۔ منفرد لب و لہجہ مزید شخصیت میں اضافہ کرتا ہے ۔ راقم الحروف کو آپ کے ساتھ کافی مشاعرے پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ جان دار کلام اور اندازِ بیاں سامع کو اپنے حصار میں لے لیتا ہے ۔ آپ اکثر مشاعرہ لوٹ لیتے ہیں ۔ شہرہِ آفاق نظم تل جو کہ ہر مشاعرہ میں سامعین فرمائش کرتے رہتے ہیں ۔
نظم
٫٫ تل ،،
چاند اور تارے رات کو چمکیں دیکھے دُنیا ساری
لیکن دن جب آنکھ دکھائے چھپ جائیں بے چارے
میرے ذہن کے پردے پر بھی ہے اک چاند ستارہ چاہے سورج آنکھ دکھائے
چاہے رات آ جائے
چاند بھی روشن رہتا ہے تارا بھی ساتھ نبھائے میرے ذہن کے پردے پر جو بنا ہے چاند ستارہ چاند ہے تیرا چہرہ
اور معلوم ہے تارا کیا ہے؟
تیرے نچلے ہونٹ کے نیچے
ہلکا سا اک تل
یعنی میرا دل
چھونا بھی مشکل
پانا بھی مشکل
( پروفیسر قلبِ عباس عابس )
نظم
تھل دھرتی کے لوگ
صحراؤں میں بسنے والے ، تھل دھرتی کے لوگ
محنت کش ، مزور ، جیالے ، تھل دھرتی کے لوگ
ریت اور دھوپ کے ویرانوں سے ہے ان کی پہچان
جلتے سورج کے متوالے ، تھل دھرتی کے لوگ
آندھی اور بگولوں سے ٹکرانا ان کا عزمِ جواں
گرم ہواؤں کے ہیں پالے تھل دھرتی کے لوگ
اپنی ہستی ، اپنی مستی اور اپنے دن رات
سب سے تنہا ، سب سے نرالے ، تھل دھرتی کے لوگ
ظلمت اور اندھیروں والے اس تاریک زمانے میں
بانٹ رہے میں جگ میں اجالے ، تھل دھرتی کے لوگ
تپتے صحراؤں سے الجھ کر رزق کریں تخلیق
محنت اور عظمت کے حوالے ، تھل دھرتی کے لوگ
اپنی زبان اور اپنی ثقافت کے مظہر جاوید
من کے اُجلے ، بظاہر کالے ، تھل دھرتی کے لوگ
( پروفیسر جاوید عباس جاوید ، مکان نمبر A ۔ 13 ، محلہ سردار بخش ، بھکر )
نظم
صُبحِ نَو
روشنی کے لئے
صُبحِ نَو کے لئے
دیپ ہم نے ہی خونِ جگر
اور خُونِ تمنّا سے روشن کئے
آندھیاں ہوں کہ ہوں ظلمتیں
زلزلے ہوں کہ طوفان ہوں
سینہ تانے ہوئے ہم کھڑے ہی رہے
ہم کسی گام پر ڈگمگائے نہیں
روشنی کی فقط اِک کرن کے لئے
آرزوؤں کو قربان ہم نے کیا
حسرتوں کا بھی بیوپار ہم نے کیا
ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا
جس نے تاریکیوں کو سرِ عام رُسوا کیا
( پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف کمال ، منڈی ٹاؤن ، بھکر )
نظم کا عنوان ہے
انقلاب
انقلاب ۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔ وقت پیہم بدل رہا ہے و ہم مسلسل بِکھر رہے ہیں۔۔ خزاں کی تاریک وادیوں سے بہار پھر سے نمٹ رہی ہے یہ بات بالکل نئی نہیں ہے ہمارے اندر کا خوف اب بھی روانیوں سے رواں دواں ہے ہمارے اندر کی خامشی کا مکان اب بھی دھواں دھواں ہے مگر یہ سچ ہے کہ خوف اور خامشی کے تمام منظر بدل رہے ہیں تمام شکلیں بدل رہی ہیں ۔۔ تمام منظر تمام شکلیں بدل بھی جائیں تو کیا یہ ممکن ہے جسم بدلے۔۔ نہیں یہ ممکن ہی بس نہیں ہے ہمیں خبر ہے کہ جسم جب بھی مکان بدلے تو گویا سارا جہاں بدلے۔۔ ۔۔
( تنویر حسین فائز بخاری ، چمنی محلہ نزد گورنمنٹ ماڈل ہائی اسکول ، بھکر )
نظم
ظفر کی موٹر کار
یہ نظم طویل ہے اس کا ایک بند پیشِ خدمت ہے
ظفر کی کار دُنیا بھر کی کاروں سے نرالی ہے
بھلے صدیوں پرانی ہے مگر نخوت مثالی ہے
پرانی کاروں کی رانی ہے یہ اس خستگی میں بھی
٫٫ تغافل دوست ہے لیکن مزاجِ عجز عالی ہے ،،
اسی حالت میں تھی موجود یہ ممدوحہ تب واں پر
٫٫ کہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوارِ دبستاں پر ،،
( عارف بخاری دریا خان روڈ ، حبیب ٹاؤن ، بھکر )
نظم
انتظار
ہر طرف خاموش وحشت رات کی
آسماں ویراں ہے
بیوہ کی کسی اُجڑی کلائی کی طرح
ایسے میں ہے ساتھ تنہائی مرے
رِستے ہوئے زخمِ جدائی کی طرح
دِل لیے پِھرتا ہے یادوں کی گلی میں
ہاتھ کو تھامے مرے
آج بھی ہوں منتظر میں اک ترا
کاش تُو آ کر مچادے دھڑکنوں میں میری ہچل
دِل کے تہ خانے میں چمکے کوئی جگنو اس گھڑی
جیسے ٹکرائے نظر اُترے بدن میں اک نشہ
تشنگی باقی رہے نہ پھر کوئی
اور کہہ دے
یوں نہ گھبرا تُو غمِ دوراں سے
میں ہوں صرف اِک تیرے لیے
ہر طرف پھر پھول کھِلتے جائیں گے
روشنی ہو جائے گی تاریک راتوں میں مری
( انیل چوہان منڈی ٹاؤن بھکر )
نظم
چلو اب مان بھی جاؤ
مجھے معلوم ہے تم بھی مرے بِن رہ نہیں سکتے
ستم سارے زمانے کے اکیلے سہہ نہیں سکتے
بہت بہتر ہے تنہائی میں تنہا ہو کر رونے سے
خود اپنے آنسوؤں سے
اپنے دامن کو بھگو نے سے
کہ تم اپنی انا کے سخت پہرے سے نکل آؤ
مجھے معلوم ہے
تم کو شکست آثار لمحوں کی اذیّت کا ہے اندازہ
سو یہ وعدہ رہا میرا
ہمیشہ ہار جانا اب
مرے حصے میں آئے گا
تمہیں معلوم تو ہوگا
تمہارے بِن مرا یہ جسم آدھا ہے
مری ہر شے ادھوری ہے
تمہیں ملنا ضروری ہے
چلو چھوڑو ہر اِک رنجش
چلو!اب مان بھی جاؤ
( ارشد حسین محلہ چمنی جنوبی، بھکر )
نظم
غربت
کیا کہئے رات بھر وہ، کیاناچتی رہی
شرفاء تھے جتنے ،سب کی قبا ناچتی رہی
ہم ناچتے نہ یارو ہماری کیا مجال
وہاں تو بڑے بڑوں کی ہوا ناچتی رہی
گزرے دنوں کے قصے خواب ہو کے رہ گئے
زمانے موجود میں تو ردا ناچتی رہی
ناچا کسی کا جسم کسی کا ضمیر بھی
ایسا بھی تھا کوئی کہ نگاہ ناچتی رہی
آصف احوال غربت نہ تم سے لکھا گیا
دیکھا ھے وہ تو اس سے سوا ناچتی رہی
( عبد المجید آصف لودھرا ، غلاماں ، کلورکوٹ )
نظم
میں اک فنکار ہوں ایسا
جو پتھروں کو تکلم دے
میں چاہوں گر کھلا دوں پھول صحرا میں
سبھی میرے تصرف میں
یہ کلیاں پھول خوشبو تک
اجازت دو اگر مجھ کو ترا پیکر تراشوں میں
تجھے وہ روپ دوں گا میں
فلک سے ا کے حوریں بھی مرا شاہکار دیکھیں گی
فسانہ رومیو جولٹ یہ قصے ہیر رانجھا کے
کہانی لیلی مجنوں کی
یہ دنیا سب بھلا دے گی
کتابوں میں نصابوں میں تمہارا نام ہوگا پھر
میں خوشبو کے جزیروں کو ترے قدموں میں رکھ دوں گا
یہ روشن چاند کا ہالہ یہ ہوگا جھمکا کانوں کا
ترے ماتھے کا جھومر یہ
اجالا صبح سویرے کا
ترا انچل یہ ست رنگا دھنک جو آسماں پر ہے
کشیدہ نور سے ہوگا مقدس پیرہن تیرا
میں تارے توڑ لاؤں گا دمکتی شوخ کرنوں میں
پرو کر ان ستاروں کو تری مالا بنا دوں گا
تری پاکیزہ انکھوں کا میں کاجل خود ہی لا دوں گا
میں یکجا کر کے راتوں کو یوں کا جل پھر بنا دوں گا
جو ہوگی بات ناممکن میں ممکن کر دکھا دوں گا
مگر ایک شرط پہ جانا
اگر یہ بات کہہ دو تم
مجھے تم سے محبت ہے۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تم سے محبت ہے
( پروفیسر ناصر گوندل ، گوھر والا ، منکیرہ )
نظم
سنو اسے کہنا
ہم ٹھہرے شاخ سے ٹوٹے پتوں کی مانند لوگ
ہمیں کیا لینا بہاروں یا خزاں سے
اک عرصہ ہوا جن کو ثہنی سے جدا ہوئے
رگیں تک مر چکیں جن کی
اب ہمیں کیا فرق پڑتا ہے
کوئی پاؤں تلے روندے یا جلا کر راکھ کر ڈالے
ہوا کے ہاتھ پر رکھ کر کہیں بھی پھینک دے ہم کو
یا سپرد خاک کر ڈالے
اب تمہیں کیا فرق پڑتا ہے
سنو اسے کہنا
اداسی جب ذرد رنگ لے کر درختوں پر اترتی ہے
ہوائیں جب رقص کرتی ہیں ٹہنیاں تب ہین کرتی ہیں سوکھے پتے بے جان ہو کر جب جھڑتے ہیں بکھرتے ہیں شاخیں خالی ہو جاتی ہیں
سنو اسے کہنا
نہنی سے ٹوٹے پتوں کا درد تم بھلا کیا جانو
تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی
یو نہی ٹوٹے ہیں یونہی بکھرے ہیں
سنو اسے کہنا
تمہیں کیا معلوم
جب دو دل محبت کرنے والے
اک دوجے سے بچھڑتے ہیں
یونہی تنہا ہو جاتے ہیں
یونہی فنا ہو جاتے ہیں
( غزالہ کشور ملک ، چاہ زوار آباد ڈاک خانہ کنیری ، بھکر )
نظم نگاری کے حوالے سے جو دیگر قابلِ ذکر نام ہیں اُن میں ۔
پروفیسر افضل راشد ، ( حبیب ٹاؤن دریا خان روڈ بھکر شہر ) شاہد بخاری ، ( بھکر شہر ) ڈاکٹر خالد اسراں ، ( منڈی ٹاؤن بھکر شہر ) کاظم حسین کاظم ، ( بستی آرئیانوالی دریا خان شہر ) ملک نعمان حیدر حامی ، ( چاہ اسراں والا ، چک نمبر 18 ٹی ، ڈی ، اے ، دریا خان) امجد کمال ، ( کلورکوٹ ) ابرار شاہ ، ( دریا خان ) اکرام نیازی ، ( بھکر شہر ) پروفیسر رامش پیر زادہ ( محلہ عمران آباد ، بہل ) اور عامر شاہ ( چونی شمالی ، بھکر ) شامل ہیں ۔
***

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |