دھوکے بازوں سے بچیے

دھوکے بازوں سے بچیے

کیا آپ کا یہ مسئلہ ہے کہ آپ اپنے دوستوں ، رشتہ داروں اور جاننے والوں سے دھوکہ کھا جاتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ ایک دفعہ دھوکہ کھانے کے بعد دوبارہ ان پہ اعتماد کر لیتے ہیں اور وہ پھر آپ کو اسانی سے دھوکہ دے جاتے ہیں اگر آپ کا واقعی یہ مسئلہ ہے تو یہ تحریر آپ کے لیے ہے


ہم اپنے کاروباری ساتھیوں سے لے کر سیاسی لیڈروں سے دھوکہ کھا جاتے ہیں ۔ مایوس نہ ہو ہر انسان زندگی میں کبھی نہ کبھی دھوکا کھاتا ہے سمجھدار وہ ہے جو اس سے سبق سیکھے وہ کسی دانا کا قول ہے
عقل بادام کھانے سے نہیں بلکہ دھوکہ کھانے سے آتی ہے۔
اسی سلسلے میں ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو تمام انسانیت کی رہنمائی کا ذریعہ ہیں آپ کا ارشاد مبارک ہے کہ “جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں”
انسان کے دھوکہ کھانے کی چار بنیادی وجوہات ہیں ان کا سد باب کر کے قوی امکان ہے کہ بڑے نقصان سے بچ سکتے ہیں ۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ آپ انتہائی سادہ ہیں آپ سادہ کپڑے پہنتے ہیں سادہ زندگی تو یہ ایک اچھی بات ہے یہاں سادگی سے مراد میری یہ ہے کہ آپ معاملہ فہم نہیں ہے اپ لوگوں کی باتوں اور چاپلوسی کو اچھی طرح نہیں سمجھ پاتے ۔ عام طور پر لوگوں کی تین قسمیں ہوتی ہیں
ایک جو دوسروں کی ہر بات کو ہی سچ سمجھ لیتے ہیں اکثر دھوکہ کھا جاتے ہیں ۔ دوسرا وہ جو ہر بات کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں کسی بات پر بھی اعتبار نہیں کرتے یہ لوگ بھی آئیڈیل نہیں ہوتے ہر وقت الجھاؤ کا شکار رہتے ہیں تیسرا وہ لوگ جو نہ ہر بات کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور نہ ہر بات پہ آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتے ہیں ، بلکہ ہر معاملے پر تحقیق کر کے اس پر اعتماد کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو دھوکہ دینا آسان نہیں ہوتا
دھوکہ کھانے کی دوسری وجہ ہے لالچ آپ نے سنا ہوگا کہ
ٹھگ نہیں مر سکتے جب تک لالچی زندہ ہے
اس کی مثال عام ہے ایک شخص کو کال آتی ہے کہ آپ کی گاڑی نکلی ہے اور اس کو آپ تک پہنچانے کے لیے اتنے پیسے درکار ہیں یا بے نظیر انکم پروگرام میں آپ کے اتنے پیسے نکلے ہیں وغیرہ وغیرہ یا سوشل میڈیا پر ویڈیو کے شروع میں لکھا ہوتا ہے یہ صرف ایک شربت ایک ہفتہ پینے سے آپ پتلے ہو جائیں گے آپ اس ویڈیو کو فورا دیکھتے ہیں حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ایسے لوگ بھی ویڈیو دیکھ رہے ہوتے ہیں جن کے جسم پر بوٹی کا نام و نشان نہیں ہوتا اب وہ اس بات میں اپنا دماغ استعمال نہیں کرتے کہ اگر ایک شربت پینے سے کوئی شخص پتلا ہو سکتا ہے تو دنیا میں کوئی شخص موٹا ہی نہ ہوتا اور اگر جس کمپنی نے لاکھوں روپے کی گاڑی آپ کو دی ہے تو وہ اب گاڑی آپ تک پہنچانے کے لیے آپ سے کچھ پیسے کیوں مانگ رہے ہیں اس لیے اپنے آپ کو لالچ سے بچائیں پھر آپ کو کوئی دھوکہ نہیں دے سکے گا۔
دھوکہ کھانے کی تیسری وجہ آپ کے ارد گرد شاطر لوگ ہیں جو اپ کو اپنی گھٹیا چالوں میں پھنسا لیتے ہیں جیسے آپ کو نئے کاروبار کے لیے کسی کو ملنے جانا ہے تو وہ بندہ اپ کے سامنے فقیر کو 10 روپے کی بجائے 100 روپے دے دیتا ہے یا رشتے کے لیے آنے والے مہمانوں کے سامنے لوگ خود کو دیندار بنا کر پیش کرتے ہیں لیکن ایک دفعہ دھوکہ تو کوئی بھی دے سکتا ہے لیکن اگر آپ بار بار دھوکہ کھاتے ہیں تو قصور آپ کا اپنا ہے آپ اناڑی ہیں آپ کو معاملہ فہمی نہیں آتی ۔ یہاں آپ کو لوگوں سے فورا متاثر ہونے کی عادت ہو چھوڑنا ہوگا


دھوکہ کھانے کی چوتھی اور سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ خود کو نہیں جانتے آپ اپنے بارے میں لوگوں کی رائے پر بھروسہ کرتے ہیں جیسے آپ عام خدوخال کے مالک ہوں اور خود کو بہت خوبصورت سمجھتے ہو دوسرا آپ کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھائے گا اور اپ کو یہ یقین دلے گا کہ آپ بہت خوبصورت ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بہت سی دوسری باتوں پر یقین دلا کر اپنا کام نکال لیتا ہے اور آپ دھوکہ کھا جاتے ہیں اس لیے اپ کو چاہیے کہ ہر ایک کی بات پر فورا یقین نہ کریں ، خود کو لالچ سے کوسو دور رکھیں ، لوگوں سے جلد اور بلا وجہ متاثر نہ ہوں اور اپنے بارے میں خود جانے اور اپنی رائے خود بنائیں اس کے برعکس جب کوئی آپ کو پھنسانے کے لیے کوشش کرے گا تو حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں کوئی آپ کو دھوکہ نہیں دے پائے گا ذرا نہیں مکمل غور کریں

Title Image by Mohamed Hassan from Pixabay

Zeshan

محمد ذیشان بٹ جو کہ ایک ماہر تعلیم ، کالم نگار اور موٹیویشنل سپیکر ہیں ان کا تعلق راولپنڈی سے ہے ۔ تدریسی اور انتظامی زمہ داریاں ڈویژنل پبلک اسکول اور کالج میں ادا کرتے ہیں ۔ اس کے علاؤہ مختلف اخبارات کے لیے لکھتے ہیں نجی ٹی وی چینل کے پروگراموں میں بھی شامل ہوتے ہیں

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

Next Post

یونان میں گرفتار پاکستانی صحافی کی قونصلر تک رسائی

اتوار مئی 26 , 2024
حال ہی میں یونان میں پاکستانی صحافی اور میراتھن رنر مونا خان کی گرفتاری کا معاملہ خبروں کی زینت بنا ہوا ہے
یونان میں گرفتار پاکستانی صحافی کی قونصلر تک رسائی

مزید دلچسپ تحریریں