ادبی ستارے (جلد 4)

زاہد اقبال بھیل صاحب کا تعلق ننکانہ صاحب کی سر زمین سے ہے ۔ ادبی دنیا میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں ۔ عرصہ دراز سے خدماتِ ادب میں پیش پیش ہیں ۔ بھیل ادبی سنگت انٹر نیشنل کے روح رواں ہیں ۔ ہر سال مارچ میں ایوارڈ تقسیم پروگرام کراتے ہیں ۔ جس میں ملک بھر کے شعراء و ادباء شرکت کرتے ہیں ۔ بلکہ بیرونی ممالک سے بھی قلم کار تشریف لاتے ہیں ۔ جس میں گولڈ میڈلز ، اسناد ، ایوارڈز ، شیلڈز ، کتب اور دیگر تحائف سے بھی نواز تے ہیں ۔ قلم و قرطاس کے نام سے ایک سالانہ میگزین بھی نکالتے ہیں ۔ محقق مولف اور شاعر و ادیب ہیں ۔ بہت سی خوبیوں کے حامل ہیں ۔ مگر شاعری بہت کم کرتے ہیں ۔ ہاں راقم الحروف سے اظہارِ محبت کرتے ہوئے فن و شخصیت پر شاعری میں ایک خوبصورت نظم بھی کہی ہے ۔ پیار محبت کرنے والے انسان ہیں ۔ دوستی کا رشتہ نبھانا جانتے ہیں ۔ دوستوں کے غم میں غمگین اورخوشی کے موقع پر خوش نظر آتے ہیں ۔ سفر سے گھبراتے نہیں ، رشتہ دوستی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔ زیر نظر کتاب ادبی ستارے جلد نمبر چار انتساب اپنے محترم استاد اور قلم کی دنیا میں راہنما پروفیسر سید شبیر حسین شاہ زاہد کے نام ہے ۔ صحفات 184 ہیں ۔

ادبی ستارے (جلد 4)

ملک پاکستان کے نام ور قلم کاروں کو ایک گلدستہ میں پیش کیا گیا ہے ۔ ان کے فن و شخصیت پر مختصر مگر جامع انداز میں تذکرہ کیا گیا ہے ۔ جس میں قاری کو ایک دلچسپی کا سامان ہی نہیں ملتا بلکہ علم میں اضافے کا سبب بھی بننتا ہے ۔ زاہد اقبال بھیل کی تحریر و تحقیق منفرد حسن و بیان میں پائی جاتا ہے ۔ مختلف رنگ و خوشبو میں رچی بسی شان دار تحریریں جو قاری کے لئے ایک اچھا تاثر پیدا کرتی ہیں ۔ چند کے نام درج ذیل ہیں ۔ ڈاکٹر ہلال نقوی ، ریاض ندیم نیازی ، وحید قریشی ، اقبال حسین ، نیاز فتح پوری ، جسارت خیالی ، ڈاکٹر عبدالرحمن تائب وٹو ، محمد احسان کنجاہی ، اکبر علی اکبر ، سجاد ساجن انصاری ، جمشید احمد شاکر ، محمد نعیم یاد ، محمد اقبال بالم اور راقم الحروف بھی شامل ہے ۔ ایک سو بیس کے قریب شعراء ادباء کو شامل کیا گیا ہے ۔ تحریر کے آخر میں نمونہ کلام بھی پیش کیا گیا ہے ۔ جس سے قلم کار کی علمی و ادبی قابلیت سامنے آتی ہے ۔ زاہد اقبال بھیل کی نثر جان دار نثر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک تسلسل کو قائم رکھے ہوئے ہے ۔ جس میں روانی اور پختگی کو دیکھا جا سکتا ہے ۔ ایسی تحریر و تحقیق کتاب کی شکل میں موجود ہے یہ تو کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ آج کل کا دور بڑا مصروف دور ہے اور مہنگائی عروج پر ہے ایسے دور میں ایسے کام کرنا جوۓشیر لانے کے مترادف ہے ۔ ڈاکٹر محمد مشرف حسین انجم کے قلم سے لکھی ہوئی رائے بھی شامل کتاب ہے ۔سچ تو یہ ہے کہ زاہد اقبال باکمال ہیں۔

maqbool

مقبول ذکی مقبول

بھکر, پنجاب, پاکستان

مقبول ذکی مقبول

Next Post

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

ہفتہ اکتوبر 22 , 2022
محترم پروفیسر صاحب بلاشبہ ایک نابغہءِ روزگار ہستی تھے , آپ نے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اٹک میں تقریباً 34 سال تک تدریسی فرائض سرانجام دیئے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

مزید دلچسپ تحریریں