پروفیسر شائستہ سحر سے مکالمہ

انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات میر پور خاص ، سندھ

پروفیسر شائستہ سحر صاحبہ ، میر پور خاص

انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر پنجاب پاکستان

ان کا خاندانی نام شائستہ پروین ہے ۔ تخلص سحر ہے ۔ادبی نام شائستہ سحر ہے ۔ میر پور خاص شہر کی ہیں ۔ اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور 2017ء سے کراچی کے ایک سرکاری کالج میں اردو پڑھاتی ہیں۔ بچوں کی بہتر ، تعلیم اور تابناک مستقبل کے لئے ، میر پور خاص سے ٹرانسفر کروا کے کراچی چلی گئی ہیں ۔ یہ اعزاز بھی ان کو حاصل ہے کہ میر پور خاص کی پہلی صاحب کتاب شاعرہ ہیں ۔ شائستہ سحر خوبصورت خوبصورت لب و لہجہ کی حامل بھی ہیں۔ ان کی شاعری میں رومانوییت کم اور غم ِ ذات زیادہ ہے ۔روحانی مضامین بھی ملتے ہیں باضمیر, خوش اخلاق , معند سمندر جذبہ اعلان حق بامعنی پیغام دینےکا سلیقہ رکھتی ہیں۔

پروفیسر شائستہ سحر سے مکالمہ


شعر و ادب کےحوالے سے چند روز قبل ان کا انٹرویو کیا گیا جو گفتگو ہوئی ہے وہ نذر قارئین ہے
سوال : آپ دنیائے شعر میں آپ کے ورود کے بارے جاننا چاہیں گے ۔؟
جواب : میری شاعری کا آغاز اوائل عمری میں والدہ کی ناگہانی وفات سے ہوا ۔
سوال : آپ کی کتابوں کے نام کیا کیا ہیں ۔؟
جواب : میری پہلی کتاب” عذابِ آگہی “عنوان سے ، 1997ء میں شائع ہوئی
دوسری کتاب ، “متاعِ فکر” ، 2015ء
تیسری کتاب ، “کرب آرزو” ، 2016ء میں
چوتھی کتاب” بے دھیانی” ، 2019ء میں شائع ہوئی
پانچویں کتاب” آواز کی دھند” زیر طبع ہے
سوال : آپ کا ادبی سفر جاری و ساری ہے کہاں تک پہنچنے کا ارادہ ہے؟ ۔
جواب : میرا ادبی سفر جاری ہے اور یہ وہ سفر ہے جس کی کوئی منزل نہیں ہوتی مگر میری خواہش ہے کہ ایک نعتیہ مجموعہ مرتب کر سکوں
سوال : کیا آپ شاعری میں کسی سے اصلاح لیتی ہیں ۔؟
جواب : شعر و شاعری سے شغف بچپن ہی سے تھا، اور بہت کم عمری ہی میں بہت سے کلاسیکل شعراء اور جدید شعراء کرام کے کلام کا مطالعہ کیا اور بہت ساری کتابیں اس وقت بھی میرے زیرِ مطالعہ رہتی ہیں
جہاں تک شاگردی کا تعلق ہے میں نے باقاعدہ کسی سے اصلاح نہیں لی،
مگر کچھ عرصے کے لئے فون پر جناب شبیر ناقد اور، استاد ظہور احمد فاتح صاحب سے، فون پر ہی کلام کی اصلاح لی اور علِمِ عروض سے واقفیت حاصل کی یہ سلسلہ شاید، دو، سال پر محیط رہاہو،
طبیعت میں فطری موزونیت اور کثرتِ مطالعہ کے سبب اصلاح کی ضرورت کم ہی محسوس ہوئی
مگر اب بھی کہیں کبھی رہنمائی کی ضرورت پیش آتی ہے تو پرویز ساحر، رحمان حفیظ سے مشورہ کر لیتی ہوں ۔
سوال : آپ نے علم و ادب کے میدان میں شعر کہہ کر کہاں تک سکون محسوس کیا ۔؟
جواب : شاعری میرے لئے ہمیشہ ہی سے ذہنی سکون اور اپنی فرسٹریشن دور نکالنے کا ذریعہ رہی، والدہ کی وفات، والد کی دوسری شادی، عزیز و اقارب کے سنگدلانہ رویوں نے اپنی ذات کے خول میں بند کیا، شاعری کتھارسس کا ذریعہ بنی۔
سوال : بچوں کی پرورش اور خانہ داری ، ادبی مصروفیات حائل نہیں ہوتیں ۔؟
جواب : میری گھریلو اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے درمیان شاعری کبھی حائل نہیں ہوئی مگر ہاں اب کراچی جانے کے بعد وہاں کی تیز رفتار زندگی نے شعر گوئی کے آئینے کو کسی حد تک گدلا کر دیا ہے ملکی حالات نے بھی بہت حد تک مایوس اور تکلیف دہ صورتِ حال میں مبتلا کر دیا اسی سبب اب شعر کہنے پر طبیعت کم مائل ہوتی ہے ۔
سوال : ادب نے آپ کو کیا دیا ۔؟
جواب : ادب نے مجھے مجھ سے روشناس کروایا سوال یہ نہیں کہ ادب نے مجھے کیا دیا سوال یہ ہے ادب کو میں نے کیا دیا ۔
سوال : میر پور خاص کی ادبی تاریخ سے تھوڑا قارئین کو آگاہ کریں ۔؟
جواب : میر پور خاص کی ادبی تاریخ سے واقفیت کم ہے ۔ میرا ماحول اجازت نہیں دیتا تھا کہ یہاں کی شعری محافل میں شریک ہو سکوں ،
سوال : کیا ادب کے حوالے سے آپ کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے ۔؟
جواب : میر پور خاص میں میری پذیرائی ایک مشکل سوال ہے ۔ مجھے اصل شناخت کراچی جانے سے ملی اور سارے بڑے اور اچھے شاعروں کے ساتھ مشاعرہ پڑھنے کا بار بار موقعہ ملا ، جاذب قریشی ، انور شعور ، رفیع الدین راز ، رونق حیات ، شاداب احسانی ، ریحانہ روحی ، فہیم شناس ، رضیہ سبحان اور نزہت عباسی وغیرہ ان تمام لوگوں نے میرے کلام کو سراہا اور حوصلہ افزائی فرمائی ۔
سوال آپ کے نمائندہ اشعار ۔؟
جواب : جی ہاں ذکی صاحب ! اشعار تو میں خوشی سے سناتی ہوں

تم فرزاں ہو اک ستارے سے
میرے اندر ہے روشنی میری

میرے اندر کے جہنم ہو بھی ٹھنڈا کر دے
نار نمرود کو گلزار بنا نے والے

ایک جگنو تھا میری مٹھی میں
اک ستارہ مری نظر میں رہا

میری تصویر کیا کرے گا تو
میں ترے زاوئیوں سے باہر ہوں

بے خیالی میں ہاتھ ٹکرایا
کام کچھ بھی نہیں تھا پھولوں سے

سوال : آپ شاعری میں دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتی ہیں ۔؟
جواب : شاعری محبت اور امن و سکون کا پیغام دینا چاہتی ہے

maqbool

مقبول ذکی مقبول

بھکر, پنجاب, پاکستان

مقبول ذکی مقبول

Next Post

ادبی ستارے (جلد 4)

ہفتہ اکتوبر 22 , 2022
زاہد اقبال بھیل صاحب کا تعلق ننکانہ صاحب کی سر زمین سے ہے ۔ ادبی دنیا میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں ۔
ادبی ستارے (جلد 4)