آرزوئے “سائبان”

آرزوئے “سائبان”

تبصرہ نگار:۔ سید حبدار قائم

آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عالم گیر رحمت کی بہار آفریں گھٹاوں سے انسانیت کی کھیتی سیراب ہوتی ہے اور اس میں کئی گلرنگ سویرے نویدِ زندگی دے کر چلے جاتے ہیں سرکار ﷺ کی شفاعت اور عَلَم کا سایہ محشر کی حدت کو کم کر دے گا جنہیں میسر ہو گا وہ کامراں ٹھہریں گے اور جو محروم ہوں گے وہ آقا آقا پکاریں گے شبِ سیاہ کی ظلمتیں انجام کو پہنچیں گی جب مدنی تاجدار شفاعت سے ہمکنار کریں گے۔

آرزوئے “سائبان”

سید شاکر القادری چشتی نظامی کا دل بھی سرکار ﷺ سے امیدیں لگائے بیٹھا ہے  ان کے دل کو پتہ ہے کہ محشر میں سرکار ﷺ کی جلوہ سامانیاں منظر کو بدل دیں گی اور مایوس لوگ بھی اس دن سرکار ﷺ کی شفاعت سے بہرہ مند ہوں گے حالات کیسے بھی ہوں حضرت شاکر دھڑکتے دل کے ساتھ حضور ﷺ کی زیارت کریں گے کیونکہ دنیا سے انتقال سرکار ﷺ کی ملاقات کا موجب بنے گا ہم سب کی امیدوں کا محور آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں گے کیونکہ شفاعتِ سرکار ﷺ ہی رب کی رحمت کا باعث بنے گی کیونکہ وہ فخرِ جہاں ہیں وہ عرشِ مکاں ہیں وہ شاہِ شہاں ہیں وہ نیرِ درخشاں ہیں وہ نجمِ تاباں ہیں وہ ماہِ فروزاں ہیں وہ صبحِ درخشاں ہیں وہ نور بد اماں ہیں وہ جلوہ ساماں ہیں وہ مونسِ دلِ شکستگاں ہیں وہ راحتِ قلوبِ  عاشقاں ہیں وہ نورِ دیدہ مشتاقاں ہیں وہ صورتِ صبحِ درخشاں ہیں وہ پشت پناہِ رفتگاں ہیں وہ موجبِ نازِ عارفاں ہیں وہ باعث فخرِ صادقاں ہیں وہ رحیمِ بے کساں ہیں وہ حبِ غریباں ہیں  وہ شاہِ جناں ہیں وہ جانِ جاناں ہیں وہ قبلہ زہراں ہیں وہ کعبہ قدسیاں ہیں کمالِ فکر میں ایسے عظیم آقا کا تصور ایک مضبوط آسرا ہے جب یہ آسرا پختہ ہو جائے تو سید شاکر القادری چشتی نظامی کی فکری انبساط سخن کے ایسے گوہر تراشتی ہے ملاحظہ کیجیے :۔

ترے کرم کی بہار آفریں گھٹاؤں سے

نہال فکر کو سینچوں ، گھنا درخت کروں

ترے  بھروسے کڑی دھوپ سے الجھ جاؤں

شبِ سیاہ کے اژدر کو لخت لخت کروں

ترے نقوش کف پا ہوں رہ نما میرے

ترے خیال کی خوشبو کو اپنا رخت کروں

سجاؤں محفل یاران نعت اگر شاکر

دھنک کو فروش کروں خوشبوؤں کو تخت کروں

نعت لکھنا نعت سوچنا نعت پڑھنا ہر کسی کے مقدر میں کہاں ہے یہ  اللہ تعالٰی کے خصوصی کرم سے عطا ہوتی ہے فروغِ نعت ایک ایسا عمل ہے  جس کے اثرات انسان تو کیا اس کے گھر کے  در و دیوار پر بھی پڑتے ہیں اللہ کے فضل و کرم سے موجودہ صدی نعت کی صدی ہے اور مجھ جیسے ہزاروں طالب علم نعت کہنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

سید شاکر القادری چشتی نظامی بھی اپنے آپ کو ان خوش بخت انسانوں میں تب ہی سمجھتے ہیں جب وہ نعت کہتے ہیں اور نعت لکھ کر اپنے آپ کو سرخرو کہتے ہیں :۔

روشن جبینِ لوح ترے نقش سے ہوٸی

لکھ کر تمھارا اسم ، قلم سرخ رو ہوا

شاکر پہ کس قدر ہے عنایت حضور ﷺکی

کر کے پھر  ایک  نعت رقم  سرخ  رو  ہوا

زندگی قفس کی طرح دکھ دیتی ہے انسان اس کی سلاخوں میں پھڑپھڑاتا ہے اپنے پر زخمی کرتا ہے اس کے دکھ جینا دشوار کر دیتے ہیں زندگی کے زنداں میں اگر آپ کی فکر میں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق و مودت کے تازہ گلاب ہیں تو اس قیدِ قفس میں بھی کامیابی کے آثار ہوتے ہیں سید شاکر القادری نے بھی زندگی کے قفس کو تشبیہ کے طور پر برتا ہے لیکن اس قفس کی تمام تر تکالیف کے باوجود ان کے پاس قلم قرطاس اور ثنا کے مہکتے پھول ہیں وہ اپنے خیالوں کو ریاض الجنہ میں معتکف پاتے ہیں ان کی بالیدگی ٕ فکر میں الفاظ کے خوب صورت گوہر ملاحظہ کیجیے :۔

نہیں ہیں زنداں میں غم گساری کو اور کوئی

ثنا    ہے   قرطاس   ہے قلم  ہے  ترا   کرم   ہے

ریاضِ جنت میں معتکف ہے خیال میرا

نظر میں آئینہ  حرم  ہے   ترا    کرم    ہے

درود اور سلام دو ایسے وظیفے ہیں جن کے ثمرات رہتی دنیا تک دیکھے جائیں گے تاریخ شاہد ہے کہ جتنے اولیا صوفیا اور کامیاب لوگ دنیا سے گزرے ہیں یا موجود ہیں ان سب کی کامیابی درود و سلام سے مستنیر ہے میں نے اپنی زندگی میں ایسا کوٸی بندہ نہیں دیکھا جسے درودوں کے وظیفوں نے فائدہ اور کامیابی نہ دی ہو لیکن یہ سب اسی کریم رب کے فیض و کرم سے ملتا ہے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود آفرینی نے سید شاکر القادری چشتی نظامی کا بھی بھرم قائم رکھا ہوا ہے جس کا مہکتا اظہاریہ ان اشعار میں ملاحظہ کیجیے :۔

نہیں ہے مطلوب مجھ کو مال و منال دنیا

ہر اک نعمت مجھے بہم ہے ، ترا کرم ہے

اے جانِ شاکر درود تجھ پر سلام تجھ پر

تجھی سے قائم مرا بھرم ہے، ترا کرم ہے

آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مودت نہ رکھنا اور دشمنی کرنا صورتیں بگاڑ دیتا ہے ایسے افراد کو اللہ رب العزت نے غضب ناک الفاظ سے کلام پاک میں کہا ہے

 “ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ ہلاک ہو”

لیکن دوسری طرف اللہ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کے بے شمار فوائد بیان کیے ہیں اور اسے اجرِ رسالت سے تشبیہ دی ہے بلکہ آپ کی اطاعت کو اپنی اطاعت کہا ہے نعت لکھنا بھی خدائی عمل اور خدا کو پسند ہے مکمل اوصافِ حمیدہ لکھنا  انسان کے بس کی بات نہیں ہے اگر ساری دنیا کے قلم متحرک ہو جائیں تو بھی سرکار ﷺ کے اوصاف و کمالات اور فضائل و شمائل نہیں لکھ سکتے کیونکہ اللہ نے انہیں وہ مقام دے دیا ہے جو اور کسی کو میسر نہیں کیونکہ آپ رہبرِ موسی  ہادی عیسٰی  شانِ کریمی خلقِ خلیلی  نطقِ کلیمی  زہدِ مسیحا  عفتِ مریم  حسنِ مجرد  دولتِ سرمد  ساقی ٕ کوثر  شافعِ محشر  مقطر  موبر بدرِ منور  حامی ٕ مفطر  روحِ مصور  مرسلِ داور  زلفِ معتبر  اشرف و اکمل  احسن و اجمل  احمدِ مرسل  مظہرِ اول  قلبِ مجلی  مہرِ نبوت  مہرِ رسالت  مہرِ جلالت  عین عدالت  خضر و ولایت  قسیم و جسیم  تسنیم وسیم  روف و رحیم  خلیل و حکیم  حاملِ قرآں  باطنِ قرآن  مظہرِ رحمت  مصدرِ راحت  مخزنِ شفقت عین عنایت  مظہرِ انوارِ حق  مصدرِ اسرار حق ہادی روشن ضمیر  خواجہ بیکس نواز  بشری القوی خیرالورٰی  محب الوری  آخرِ زماں  جمیل القسیم  شفیع الامم  منبر جود الکرم  شہر یارِ حرم  سحابِ کرم  مہرِ کرم گنجِ نعم  شاہِ امم ہیں آپ کے کمالات کون لکھ سکتا ہے۔

لیکن جتنی توفیق میسر ہو اپنی حاضری بارگاہِ رسالت میں لگانی چاہیے سید شاکر القادری چشتی نظامی نے جس کمال سے سرکار ﷺ کی بارگاہ میں سر خم رکھا ہے وہ دیدنی ہے ایک ایک لفظ موتی اور ستارے کی طرح جڑا ہے ان کی فکرِ رسا کو میں نے بارگاہِ نبوی ﷺ میں دو زانو پایا ہے کوئی کیسے ان کے اس مرتبے کو کم کر سکتا ہے اگرچہ ستم گار ستم سے باز نہیں آتے لیکن پھر بھی آپ بارگاہِ نبوی میں اپنی مناجات کے آبگینے یوں لے کر حاضر ہوتے ہیں :۔

ستم گروں کی ہے یلغار ، سیدِ ابرار

اے میرے مونس و غم خوار ، سیدِ ابرار

جڑے ہیں گنبدِ خضرٰی کی سبز کرنوں سے

مری نگاہ کے سب تار، سیدِ ابرار

دعاۓ نیم شبی میں جو تیرا نام لیا

تو شب ہوئی سحر آثار ، سیدِ ابرار

ترے تبسم قدسی کے رنگ و نکہت کا

ہر اک گل ہے طلب گار، سیدِ ابرار

فلاح و فوز کا ضامن ترا پیامِ جمیل

زمانہ ساز ہے کردار ،سیدِ ابرار

طلب جو تو نے کیا جھومتے ہوۓ آۓ

ترے حضور میں اشجار ، سیدِ ابرار

نثار ہونے کو بس اک ترے اشارے پر

فلک پہ چاند ہے تیار ، سیدِ ابرار

ہر اک عروج تری گرد رہ ہوا آقا

براق ہے ترا رہوار ، سیدِ ابرار

کھلے ہیں شاخ تمنا پہ پھول مدحت کے

خیال و فکر ہیں گل بار ، سیدِ ابرار

نگاہ لطف و کرم اس پہ رحمت عالم

گناہ گار ہے ابرار ، سیدِ ابرار

عطاٸے “سائبان” پر میری آرزوٸے ” سائبان” پوری ہوئی تو مجھے سید شاکر القادری کی قادر الکلامی کا پتہ چلا۔ ماشاءاللہ کیا بات ہے میں یقینِ کامل سے کہہ رہا ہوں کہ بعض کتب کے مطالعہ پر شعر چنتا ہوں کہ کس شعر پر تبصرہ کروں لیکن سائبان میں معاملہ اور ہے اور وہ یہ کہ کس شعر کو چھوڑ دوں کیوں کہ اس کتاب کا ہر شعر ہی کامل ہے اور اس میں رعنائی ٕ خیال عروج پر ہے۔

مستقل لکھاری

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

Next Post

مقبول ذکی کی ذکاوت

منگل دسمبر 26 , 2023
مقبول ذکی وسیع حلقہ احباب رکھتے ہیں ان طبیعت میں جہدمسلسل،عزم وہمت اور خلوص کا بیش قیمت خزانہ موجود ہے۔
مقبول ذکی کی ذکاوت

مزید دلچسپ تحریریں