چند ناقابل ہضم سائنسی سچائیاں

چند ناقابل ہضم سائنسی سچائیاں

Dubai Naama

چند ناقابل ہضم سائنسی سچائیاں

انسان واحد ایسی دریافتہ مخلوق ہے جو اپنے تخیل و شعور، مشاہدے اور جدید علوم کی طاقت سے ممکنہ طور پر پوری کائنات پر اپنا تصرف قائم کر سکتا ہے۔ انسان کے اندر وہ پوٹینشل موجود یے کہ وہ کائنات کو اپنی علمی ترقی سے فتح کر سکے۔ اس بات کا اشارہ قرآن پاک میں یوں آتا ہے کہ “کائنات کو تمھارے لیئے مسخر کر دیا گیا ہے”۔ ایک حدیث شریف انسان کے اندر ان لامحدود صلاحیتوں کی طرف یوں اشارہ کرتی ہے کہ جس سے کائنات کی تسخیر ممکن ہو، “جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پا لیا”۔ اس طرح تزکیہ نفس انسان کے لیئے لامحدود خدائی طاقت کی راہ ہموار کرتا ہے۔ اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ امن اور بھائی چارے پر مبنی ایسا احسن انسانی معاشرہ قائم کرے کہ جو اپنے علمی ارتقاء کے ذریعے کائنات کی تسخیر کی منزل کا حصول ممکن بنائے۔

سائنس کی بنیاد تجربات پر مبنی ہے مطلب یہ کہ سائنس جو بھی دعویٰ کرتی ہے اس کو کسی تجربہ گاہ میں دہرایا جا سکتا ہے اور ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے لیکن سورج کے معاملے میں مسئلہ یہ ہے کہ اس کے کسی حصے کو سیمپل کے طور پر ٹیسٹ کے لئے کسی بوتل میں بند کر کے زمین پر نہیں لایا جا سکتا، جس وجہ سے زمانہ قدیم میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ آگسٹ کومٹ درست ہیں اور سورج تاقیامت ہمارے لئے پہیلی ہی بنا رہے گا۔

یہ دعویٰ آگسٹ نے اپنی کتاب “دی پازیٹیو فلاسفی” میں کیا تھا، لیکن حیران کن طور پر اس کتاب کے چھپنے کے محض چند سال بعد ہی سائنسدانوں نے اِس پہیلی کا جواب معلوم کر لیا اور اعلان کیا کہ سورج ہائیڈروجن کا بنا ہوا ہے۔

آگسٹ اپنے طور پر درست ہی تھے لیکن وہ یہاں ایک تکنیکی غلطی کر گئے۔ یہ ٹھیک ہے کہ سائنسی دعوؤں کو تجربہ گاہ میں دہرایا جا سکتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سائنس میں ہم بہت سی چیزیں کو بالواسطہ بھی معلوم کر سکتے ہیں۔ مثلاً فروان ہوفر انیسویں صدی میں وہ پہلے سائنسدان تھے، جنہوں نے سپیکٹروگراف کے ذریعے ہزاروں سال سے جاری اس سوال کا جواب معلوم کیا۔ ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی چیز کو جب گرم کیا جاتا ہے تو وہ روشنی خارج کرتی ہے، اس روشنی کو پِرزم میں سے گزارا جاتا ہے تو یہ قوس قزاح کی طرح مختلف رنگوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، اگر آپ ان رنگوں کو غور سے دیکھیں تو اس میں کالے رنگ کی لائنز موجود ہوتی ہیں، یہ لائنز اس وجہ سے ہوتی ہیں کہ کسی چیز کو گرم کرنے پر اس میں موجود الیکٹرانز اندرونی مدار سے چھلانگ لگا کر بیرونی مدار میں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، اب چونکہ ہر عنصر میں الیکٹران کی تعداد مختلف ہوتی ہے جس وجہ سے ہر عنصر سے نکلنے والی روشنی میں یہ لائنز مختلف تعداد میں ہوتی ہیں، یہ ایک طرح کا فنگر پرنٹ ہوتا ہے جس کے ذریعے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ کسی بھی شے میں کونسا عنصر موجود ہے۔

یوں سورج کی روشنی کے طریقہ کار سے تجزیہ کرنے پر فروان ہوفر اور دیگر سائنسدانوں نے معلوم کیا کہ سورج دراصل ہائیڈروجن کا بنا ہوا ہے جبکہ بعد کے سائنس دانوں نے تجربات سے سورج کی روشنی سے ہلیئم کو بھی دریافت کر لیا۔

لیکن سچ یہ ہے کہ فطرت نے انسان پر اپنے وجود کا ابھی ایک فیصد کا ہزارواں حصہ بھی ظاہر نہیں کیا ہے۔

اس کے باوجود انسان کی علمی ترقی سے کچھ ایسی سائنسی سچائیاں سامنے آئی ہیں کہ جو حقیقت بھی ہیں اور انہیں ہضم کرنا بھی مشکل ہے مثلا کائنات اتنی بڑی ہے کہ اس کے ستارے اور کہکشائیں دنیا کی ساڑھے آٹھ ارب آبادی میں سے ہر انسان کو 200ارب ستارے اور اتنی ہی کہکشائیں دے دی جائیں تو پھر بھی اتنے ہی ستارے اور کہکشائیں بچ جائیں گی کہ جن کا پھر بھی شمار کرنا ممکن نہیں ہو گا۔

اگر آپ اپنے جسم میں موجود تمام ڈی این اے کو دھاگے کی طرح کھول کر سیدھا کر دیں تو ان کی لمبائی 55ارب کلومیٹر بنتی ہے، یہ کتنی زیادہ لمبائی ہے اس کا اندازہ ایسے لگایا جا سکتا ہے کہ زمین کا پلوٹو سے فاصلہ 6ارب کلومیٹر بنتا ہے، یعنی آپ ایک انسان کے ڈی این اے کے ذریعے ہمارے نظام شمسی کو (سورج سے پلوٹو تک) 4 مرتبہ لپیٹ سکتے ہیں، پھر بھی اربوں کلومیٹر ڈی این اے کا دھاگا آپ کے پاس باقی بچ رہے گا۔

ٹھوس اشیاء میں موجود ایٹمز اور ان کے سب ایٹامک پارٹیکلز کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہوتا ہے، ایک ایٹم 99.9999999 فیصد تک خالی ہوتا ہے، اگر آپ کسی طریقے سے تمام انسانوں میں موجود ایٹمز کو دبا کر اِن میں خالی جگہ فِل کر دیں تو آپ دنیا میں موجود تمام انسانوں کو ایک sugar cube (چینی کے ڈھیلے) میں فِٹ کر سکتے ہیں۔

آپ کے جسم میں موجود کیلشیم، آئرن اور دیگر عناصر کسی ستارے کے مرکز میں وجود میں آئے، بعدازاں اس ستارے کے پھٹنے کی وجہ سے بکھر کر زمین تک پہنچے، یہ عین ممکن ہے کہ آپ کے دائیں ہاتھ میں موجود ایٹمز کسی اور ستارے کے مرکز میں بنے ہوں، جبکہ بائیں ہاتھ میں موجود ایٹمز کسی اور ستارے کے مرکز میں وجود میں آئے ہوں۔

آپ کے جسم میں بگ بینگ کی باقیات بھی موجود ہیں، کیونکہ ہائیڈروجن ایٹم وہ ذرہ ہے جو بگ بینگ کے وقت وجود میں آیا۔

اکثر ٹی وی یا ریڈیو پہ آپ جو شور سنتے ہیں، یہ دراصل “کاسمک مائیکرو ویو بیک گراونڈ ریڈی ایشنز” ہوتی ہیں، یہ وہی لہریں، ریڈیشنز یا روشنی ہیں جو بگ بینگ کے تین لاکھ سال بعد پھُوٹ کر پوری کائنات میں پھیل گئی تھیں، لہٰذا کچھ سائنسدان اِن لہروں کو “بگ بینگ کی گونج” بھی کہتے ہیں۔

آج سے 50 سال پہلے انسان نے چاند پہ جو قدم رکھا، ان قدموں کے نشان اگلے کروڑوں سال تک (جب تک چاند موجود ہے) یونہی قائم و دائم رہیں گے کیونکہ چاند پہ ہوا اور پانی نہیں ہیں جو ان نشانات کو مٹا سکیں۔

ستارے ہم سے اتنے دور ہیں کہ ان کی روشنی ہم تک پہنچنے میں کروڑوں سال لیتی ہے، لہٰذا آپ جب کائنات کو دیکھ رہے ہوتے ہیں تو دراصل آپ کروڑوں اربوں سال ماضی میں جھانک رہے ہوتے ہیں، آج وہ ستارے اور کہکشائیں موجود بھی ہیں یا نہیں یا کائنات کی موجودہ حالت کیسی ہے؟ہمیں یہ بلکل معلوم نہیں ہے کیونکہ رات کو کچھ ستاروں کی جو روشنی ہم تک پہنچ رہی ہوتی ہے ممکن ہے وہ کب کے اپنی زندگی پوری کر کے مر چکے ہوں۔

Title Image by Stefan Keller from Pixabay

Josaf
سینئیر کالم نگار | [email protected]

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت" میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف" میں سب ایڈیٹر تھا۔

روزنامہ "جنگ"، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

Next Post

آغاجی ،چچا نفتی اور تیل کو سلام

جمعہ دسمبر 22 , 2023
ہمارے محلے میں ایک کوچوان رہتا تھا جو مٹی کا تیل بیچتا تھا، سب اسے چچا نفتی کہتے تھے۔
آغاجی ،چچا نفتی اور تیل کو سلام

مزید دلچسپ تحریریں