گلزار دانش کا افسانہ “وصال” کا تنقیدی مطالعہ

گلزار دانش کا افسانہ “وصال” کا تنقیدی مطالعہ

گلزار دانش کا تعلق نارووال کے نواحی گاوں ہلووال سے ہے، آپ اسوقت ساوتھ افریقہ میں مقیم ہیں. آپ نوجوان شاعر و ادیب ہیں آپ کی تخلیقات کے حوالے سے آپ کو مختلف ایوارڈ و اعزازات سے نوازا گیا ہے آپ کو ایک ادبی تنظیم کی طرف سے چاندی کا قلم بطور اعزاز دیا گیا ہے۔


گلزار دانش کا تحریر کردہ اردو افسانہ “وصال” محبت، خواہش اور نجات پر مبنی بہترین کہانی ہے جو کہ مصنف کے قلم کے ذریعے روحانی بیداری کے پیچیدہ موضوع پر روشنی ڈالتی ہے۔ ایک متقی مسلمان کی مکہ مکرمہ کی زیارت کے پس منظر میں یہ افسانہ لکھا گیا ہے، یہ داستان مرکزی کردار شاہ صاحب کے اندرونی انتشار کو سامنے لاتی ہے جب وہ اپنی خواہشات کے ساتھ خود کو جکڑا ہوا پاتا ہے اور بالآخر روحانیت کے حصول سے سکون پاتا ہے۔ گلزار دانش لکھتے ہیں “میری تین نمازیں اس خاتون کے چکر میں باطل ہو گئیں، باقی ایک قضاء۔ میں بختوں کا ہارا کہاں جا کر عشق کے لپیٹے میں آ گیا”
کہانی کا آغاز نماز کے دوران شاہ صاحب کے عجیب رویے سے ہوتا ہے، جہاں وہ اپنی جماعت کو حیران کر کے کئی بار اچانک نماز چھوڑ کر مسجد سے نکل جاتے ہیں۔ یہ حالت شاہ صاحب کی اندرونی کشمکش کے گرد گھومنے والے مرکزی تصادم کی منزلیں طے کرتا ہے، جو ایک معتمد کے ساتھ دھیرے دھیرے مکالمے کے ذریعے آشکار ہوتے ہیں۔
داستان اس وقت سامنے آتی ہے جب شاہ صاحب اپنے مکہ مکرمہ کے سفر کا ذکر کرتے ہیں، جہاں ان کا سامنا ایک ایسی عورت سے ہوتا ہے جس کی خوبصورتی انہیں مسحور کرتی ہے، جس سے وہ اپنے ایمان اور اپنے مذہبی فرائض سے وابستگی پر سوال اٹھاتے ہیں۔ شاہ صاحب کے جذباتی اتھل پتھل اور اندرونی کشمکش کے ذریعے مصنف نے بڑی مہارت سے آزمائش، توبہ، اور روحانی روشن خیالی کی جستجو کے آفاقی موضوعات کو تلاش کیا ہے۔
گلزار دانش لکھتے ہیں “نماز اشراق کے بعد میں نے ایک خاتون دیکھی یوں لگتا تھا جیسے یوسف و زلیخا کی نسل سے ہے ۔ اس قدر حسین عورت میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی گویا زلیخا کو ملی ہوئی دوسری جوانی ہو ۔ بڑی بڑی غزال آنکھوں میں پر کشش سحر ابلیس جو انسان کے ایمان کو پس پردہ کر دے اور خواہشوں کو اتنی قوت دے کے وہ ضمیر پر قابض ہو جائیں۔ اسکا ٹھوڑی تک حجاب سے باہر نکلا ہوا چہرہ جسے دیکھ کر بندہ حوروں کے اس تصور میں چلا جائے جو بطور انعام جنتیوں کو ملیں گی ۔ اس عورت کو دیکھ کر مجھے اپنی بیوی بچے بھول گئے میں کعبے میں کھڑا ہو کر اسکی خواہش کرتا رہا”
کہانی کی ایک خوبی شاہ صاحب کی داخلی تبدیلی کی تصویر کشی میں مضمر ہے، کیونکہ وہ اپنی خواہشات کا مقابلہ کرتے ہیں اور بالآخر خود شناسی اور خود کی دریافت کے ذریعے نجات پاتے ہیں۔ روحانی عقیدت کے ساتھ دنیاوی خواہشات کا امتزاج داستان میں گہرائی کا اضافہ کرتا ہے، انسانی فطرت کی پیچیدگیوں اور مادی اور الٰہی قدرت کے درمیان مسلسل جدوجہد کو اجاگر کرتا ہے۔
مزید برآں گلزار دانش کی فکر انگیز نثر اور واضح منظر نگاری قاری کو مکہ مکرمہ کے نظاروں اور آوازوں میں غرق کرتی ہے، جس سے داستان کی صداقت اور جذباتی گونج میں اضافہ ہوتا ہے۔ کہانی کا بھرپور ثقافتی اور مذہبی پس منظر معنی کی تہوں کو جوڑتا ہے اور قارئین کو ایمان، محبت اور نجات کی نوعیت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
گلزار دانش ایک جگہ لکھتے ہیں “اس عورت نے کہا تم پر مجھے ترس آیا ہے خدا نے تم کو یہاں بلا تو لیا لیکن یہاں بلا کر بھی دنیاوی لذت کی خواہش میں ڈال دیا ۔ شاہ جی کہتے ہیں یہ بات سن کر میں میں اپنے آپ سے ملنے لگا ۔ مجھے یوں عزت دے کر رسوا کیا گیا کے میری شرمندگی پر میرا خوف بھاری پڑنے لگا ۔ کھجور ہاتھ میں پکڑے اٹھا ہی تھا کے اس عورت نے مخاطب کر کے کہا جس وجود کو دیکھ کر تم کعبے کی حرمت بھول گئے ہو وہ ایک طوائف کا وجود ہے جو ہزاروں لوگوں کی جوٹھن ہے، یہ بات سن کر میرے وجود پر سکتہ طاری ہو گیا رونگٹے کھڑے ہو گئے دماغ جیسے مفلوج ہو گیا میرے اندر دھواں سا بھر گیا۔ جس کی کڑواہٹ نے کچھ اس طرح میرے وجود کو اپنی لپیٹ میں لیا کہ آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے ۔ میں وہاں سے بھاگا اور سیدھا کعبے کے سامنے سجدے میں گر گیا”۔


خلاصہ کلام یہ ہے کہ گلزار دانش کا افسانہ “وصال” روحانیت، خواہش، اور نجات کی ایک فکر انگیز تحقیق پر مبنی بہترین کہانی ہے جو ہر عمر کے قارئین میں مقبول ہوسکتی ہے۔ شاہ صاحب کے خود شناسی کے سفر کے ذریعے گلزار دانش انسانی حالت اور معنویت اور ماورائیت کی ابدی جستجو کے بارے میں بہترین کہانی تخلیق کی ہے میں مصنف کو اتنی بہترین کہانی تخلیق کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

Title Image by Petra from Pixabay

رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق چترال خیبرپختونخوا سے ہے، اردو، کھوار اور انگریزی میں لکھتے ہیں۔ آپ کا اردو ناول ''کافرستان''، اردو سفرنامہ ''ہندوکش سے ہمالیہ تک''، افسانہ ''تلاش'' خودنوشت سوانح عمری ''چترال کہانی''، پھوپھوکان اقبال (بچوں کا اقبال) اور فکر اقبال (کھوار) شمالی پاکستان کے اردو منظر نامے میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں، کھوار ویکیپیڈیا کے بانی اور منتظم ہیں، آپ پاکستانی اخبارارت، رسائل و جرائد میں حالات حاضرہ، ادب، ثقافت، اقبالیات، قانون، جرائم، انسانی حقوق، نقد و تبصرہ اور بچوں کے ادب پر پر تواتر سے لکھ رہے ہیں، آپ کی شاندار خدمات کے اعتراف میں آپ کو بے شمار ملکی و بین الاقوامی اعزازات، طلائی تمغوں اور اسناد سے نوازا جا چکا ہے۔کھوار زبان سمیت پاکستان کی چالیس سے زائد زبانوں کے لیے ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیوں کا کیبورڈ سافٹویئر بنا کر عالمی ریکارڈ قائم کرکے پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کرنے والے پہلے پاکستانی ہیں۔ آپ کی کھوار زبان میں شاعری کا اردو، انگریزی اور گوجری زبان میں تراجم کیے گئے ہیں ۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

Next Post

ڈھُونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

ہفتہ جون 1 , 2024
گزشتہ روز ناسا کے امریکی سائنس دانوں نے کائنات کی سب سے دور افتادہ کہکشاں دریافت کی۔ اس قدیم ترین فلکی
ڈھُونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

مزید دلچسپ تحریریں