ورکروں کی نفرت اور بغاوت کا سدباب اور تجاویز
کسی بھی صنعتی ادارے یا فیکٹری کی اصل طاقت اس کی عمارت، جدید مشینری، بھاری سرمایہ کاری یا بڑے بڑے عہدوں پر فائز افسران نہیں ہوتے بلکہ اس کی اصل طاقت وہ کارکن ہوتے ہیں جو دن رات اپنی محنت، صلاحیت اور وقت صرف کر کے ادارے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کامیاب صنعت کار ہمیشہ اپنے کارکنوں کو سرمایہ کاری کا ایک اہم حصہ سمجھتے ہیں۔ کیونکہ مشینیں خریدی جا سکتی ہیں، عمارتیں تعمیر کی جا سکتی ہیں، لیکن مخلص اور وفادار کارکنوں کی ٹیم محبت، عزت اور اعتماد کے ذریعے ہی تیار ہوتی ہے۔
کسی ادارے کے کارکن عموماً محبت، عزت اور اچھے برتاؤ کی زبان سمجھتے ہیں۔ خاص طور پر فیکٹری کے مزدوروں پر غیر ضروری افسرانہ پن، رعب اور دبدبہ جمانے سے گریز کرنا چاہیے۔ بعض افسران اپنے عہدے اور اختیارات کو اپنی شخصیت کا حصہ سمجھ لیتے ہیں اور ماتحت عملے سے اس انداز میں پیش آتے ہیں جیسے وہ انسان نہیں بلکہ محض مشین کا کوئی پرزہ ہوں۔ اس رویے سے کارکن بظاہر خاموش رہتے ہیں، لیکن ان کے دلوں میں آہستہ آہستہ نفرت اور بغاوت جنم لینے لگتی ہے۔ وہ اپنی اور اپنے خاندان کی بقا کی خاطر ملازمت تو جاری رکھتے ہیں، مگر ان کی دلی وابستگی ادارے سے ختم ہونے لگتی ہے۔
اگر آپ کسی فیکٹری میں عملے اور ورکروں کے درمیان گھل مل جائیں تو آپ کو بہت جلد ان کی سوچ، مسائل اور احساسات سمجھ آنے لگیں گے۔ فیکٹری کے مزدور اکثر اکٹھے کام کرتے، کھاتے پیتے اور چھٹی کے اوقات میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ اس دوران وہ اپنے افسران کے رویوں اور انتظامی فیصلوں پر تبادلہ خیال بھی کرتے ہیں۔ اگر کوئی افسر بلاجواز سختی کرے، معمولی غلطی پر تذلیل کرے یا ہر وقت اپنے عہدے کا رعب جھاڑتا رہے تو اس کے خلاف کارکنوں میں نفرت پھیلنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔
اس صورتحال کا نقصان بظاہر متعلقہ افسر کو کم اور فیکٹری کے مالک کو زیادہ اٹھانا پڑتا ہے۔ مزدور وقت گزرنے کے ساتھ اس افسر کو بھول بھی جاتے ہیں، لیکن اس کے نامناسب رویے کی وجہ سے ان کے ذہنوں میں پیدا ہونے والا ردعمل اکثر پورے ادارے اور بالخصوص مالک کے خلاف منتقل ہو جاتا ہے۔ وہ فیکٹری کو اپنا ادارہ سمجھنے کے بجائے محض روزگار کا ذریعہ تصور کرنے لگتے ہیں۔ نتیجتاً کام میں دلچسپی کم، غیر حاضری زیادہ اور پیداوار کا معیار متاثر ہونے لگتا ہے۔
یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں خاموش بغاوت عملی شکل اختیار کرنا شروع کر دیتی ہے۔ کارکن بظاہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں، لیکن ان کے اندر کام سے لاتعلقی پیدا ہو چکی ہوتی ہے۔ بعض اوقات وہ جان بوجھ کر کام کی رفتار کم کر دیتے ہیں، مشینوں کی دیکھ بھال میں غفلت برتتے ہیں، ناقص مال کی تیاری پر توجہ نہیں دیتے یا ایک دوسرے کے ساتھ مل کر انتظامیہ کے خلاف منفی سرگرمیوں میں شریک ہونے لگتے ہیں۔ اس کا براہ راست اثر پروڈکشن، کوالٹی، ڈیلیوری اور بالآخر مارکیٹنگ پر پڑتا ہے۔ یوں وہی کارکن جو کسی ادارے کی ترقی کا ذریعہ ہوتے ہیں، نامناسب انتظامی رویوں کی وجہ سے اس کی تنزلی کا سبب بننے لگتے ہیں۔
ایک سمجھدار فیکٹری مالک یا ڈائریکٹر کو چاہیے کہ وہ اپنے افسران کے انتخاب میں صرف تعلیمی قابلیت، تجربے اور انتظامی صلاحیت کو ہی معیار نہ بنائے بلکہ امیدوار کے مزاج، برداشت، اخلاقی رویے اور مزدوروں کی نفسیات سمجھنے کی صلاحیت کو بھی اہمیت دے۔ کیونکہ ایک اچھا افسر وہ نہیں جو اپنے ماتحتوں کو خوفزدہ رکھے، بلکہ وہ ہے جو نظم و ضبط قائم رکھتے ہوئے ان کے دلوں میں اعتماد اور احترام پیدا کرے۔
اگر کسی افسر یا ڈائریکٹر کے جذباتی پن، غیر ذمہ داری یا نامناسب رویے کی وجہ سے عملے اور ورکروں کی کارکردگی متاثر ہونے لگے، پروڈکشن میں کمی آئے، مارکیٹنگ کا نظام خراب ہو یا تیار شدہ مال کی واپسی اور شکایات بڑھنے لگیں تو انتظامیہ کو فوری طور پر غیر جانب دارانہ تحقیق کرنی چاہیے۔ صرف افسر کی رپورٹ پر انحصار کرنے کے بجائے مزدوروں، سپروائزرز اور متعلقہ شعبوں کے افراد سے الگ الگ گفتگو کر کے اصل وجوہات معلوم کرنی چاہئیں۔
اس مسئلے کے حل کے لیے چند عملی اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔ سب سے پہلے کارکنوں کے لیے شکایات کا ایسا نظام قائم کیا جائے جہاں وہ بلاخوف اپنی بات اعلیٰ انتظامیہ تک پہنچا سکیں۔ دوسرا، افسران کے رویے اور کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ تیسرا، محنتی اور قابل کارکنوں کو بروقت بونس، انعامات اور ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ چوتھا، کارکنوں کے مسائل، تنخواہوں، چھٹیوں اور بنیادی سہولیات کے معاملات میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے۔ پانچواں، انتظامیہ اور مزدوروں کے درمیان براہ راست رابطے اور مشاورت کا ماحول پیدا کیا جائے۔
سمجھدار مالکان یہ بھی جانتے ہیں کہ بعض اوقات کسی ایک جذباتی یا غیر ذمہ دار افسر کی وجہ سے پوری فیکٹری کا ماحول خراب ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر تحقیقات سے اس کی کوتاہی ثابت ہو جائے تو اس کے خلاف مناسب تادیبی کارروائی کرنا ضروری ہے۔ ساتھ ہی کارکنوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ان کی محنت کا اعتراف، اضافی بونس اور انعامی اسکیمیں متعارف کروانا بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔
یاد رکھیے! مزدور کی خاموشی ہمیشہ اس کی رضامندی کی علامت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات یہی خاموشی کسی بڑے انتظامی بحران کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ ایک کامیاب صنعت کار وہی ہے جو کارکنوں کے چہروں کی مسکراہٹ، ان کے رویوں کی تبدیلی اور ان کے دلوں میں پیدا ہونے والی بے چینی کو بروقت محسوس کر لے۔
فیکٹری مشینوں سے چلتی ضرور ہے، لیکن اسے کامیابی کی منزل تک انسان پہنچاتے ہیں۔ اس لیے کارکنوں سے خوف کے ذریعے کام تو لیا جا سکتا ہے، وفاداری نہیں خریدی جا سکتی۔ وفاداری عزت، تحفظ، انصاف اور محبت ہی سے حاصل ہوتی ہے

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔