پیر حمید خان سرکار المعروف خان بابا سے وابستہ یادیں
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
پیر حمید خان سرکار المعروف خان بابا پاکستان کی معروف روحانی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا تعلق گاؤں کنڈی عمر خانہ، تحصیل غازی، ضلع ہری پور سے تھا اور وہ مشوانی پشتون قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے عقیدت مندوں کی تعداد لاکھوں میں بیان کی جاتی ہے، جن میں ملک کے مختلف علاقوں اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ ان کا ڈیرہ ایک عرصے تک روحانی، سماجی اور عوامی میل جول کا مرکز رہا، جہاں سیاست دانوں، جج صاحبان، وکلا، صحافیوں، تاجروں، بیوروکریٹس اور عام لوگوں کی آمدورفت رہتی تھی۔ سادگی، بے نیازی، مہمان نوازی، وسیع لنگر اور خدمتِ خلق ان کی شخصیت کے نمایاں پہلو تھے۔ 12 فروری 2025ء کو 89 برس کی عمر میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کی وفات کے بعد بھی ملک بھر سے عقیدت مند ان کے مزار پر حاضری دیتے، فاتحہ خوانی کرتے اور اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں آپ کا شمار بھی ان ہی ہستیوں میں ہوتا ہے جو دنیا سے رخصت ہو کر بھی دلوں سے کبھی رخصت نہیں ہوتیں ۔ ان کی باتیں، ان کا اندازِ گفتگو، محبت بھرا برتاؤ اور ان سے وابستہ یادیں وقت گزرنے کے ساتھ مزید گہری ہوتی جاتی ہیں۔ ایسے لوگ اپنے پیچھے صرف یادیں نہیں چھوڑتے بلکہ محبت، خلوص اور انسان دوستی کی ایسی داستان رقم کر جاتے ہیں جو مدتوں لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتی ہے۔ پیر حمید سرکار بھی ایسی ہی شخصیت تھے۔ ان کی محفلوں میں گزرے ہوئے لمحات آج بھی میرے حافظے میں محفوظ ہیں اور جب کبھی ان کا ذکر آتا ہے تو ماضی کے کئی خوب صورت منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں۔
پیر حمید خان سرکار سے میری ملاقاتوں کا سلسلہ 2003ء میں شروع ہوا۔ اس کے بعد وقتاً فوقتاً ان کی خدمت میں حاضری ہوتی رہی۔ عموماً اتوار کے روز ڈیرے پر جانے کا موقع ملتا، کبھی دوستوں اور احباب کے ہمراہ اور کبھی خصوصی لنگر کی محفلوں میں شرکت کے لیے۔ ان ملاقاتوں کے دوران ان کے مزاج، معمولات، مہمان نوازی اور لوگوں سے برتاؤ کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ رفتہ رفتہ ان کی شخصیت کے کئی پہلو میرے ذہن میں نقش ہوتے چلے گئے، جو آج بھی اسی طرح تازہ ہیں۔
ان کا ڈیرہ محض خانقاہ یا ملاقات کی جگہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا مرکز تھا جہاں معاشرے کے مختلف طبقات کے لوگ ایک ساتھ بیٹھتے تھے۔ وہاں سابق چیف جسٹس صاحبان، ریٹائرڈ جج، نامور وکلا، اخبارات کے مالکان، صحافی، تاجر، سیاسی رہنما، بیوروکریٹس، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے منتخب نمائندے اور بڑی تعداد میں درویش منش افراد آتے جاتے دکھائی دیتے تھے۔ اس محفل کی خوب صورتی یہ تھی کہ کسی شخص کو اس کے عہدے، دولت یا سماجی مرتبے کی بنیاد پر نہیں پرکھا جاتا تھا۔ وہاں آنے والا ہر شخص ان کے لیے ایک مہمان اور قابلِ احترام انسان تھا۔
اس ڈیرے پر ملک کی کئی معروف سیاسی اور سماجی شخصیات کی آمدورفت رہی۔ سابق صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق کے صاحبزادے انور الحق اور اعجاز الحق ان کی صاحبزادی زین ضیاء بھی اکثر اتوار کے روز حاضری دیا کرتے تھے۔ مجھے خود اعجاز الحق سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان شیخ ریاض احمد و دیگر کئی اہم شخصیات کے ساتھ وہاں لنگر تناول کرنے کا موقع ملا۔ یہ میرے لیے ایک یادگار تجربہ تھا کہ ایک ہی دسترخوان پر مختلف پس منظر اور مرتبے کے لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی اور دیگر سیاسی شخصیات کی آمد کا ذکر بھی ان یادوں میں شامل ہے۔ سابق وزیراعظم غلام مصطفیٰ جتوئی، معراج خالد محترمہ بے نظیر بھٹو، سردار عتیق احمد خان، سید نیئر حسین بخاری اور بابر اعوان جیسی شخصیات کے حوالے سے بھی اس ڈیرے کا تذکرہ کیا جاتا رہا ہے اسی طرح میں نے وہاں سابق ایم این اے و وفاقی وزیر شیخ آفتاب احمد، سابق ضلع ناظم میجر طاہر صادق، ایم این اے ملک سہیل اور گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ان شخصیات کی آمدورفت سے اندازہ ہوتا تھا کہ ان کا حلقۂ احباب کسی ایک طبقے یا علاقے تک محدود نہیں تھا۔
قانون کے شعبے سے وابستہ افراد بھی ان محفلوں میں شریک ہوتے تھے۔ اٹک کے معروف قانون دان، ادیب اور شاعر احمد علی ثاقب المعروف ثاقب شاہزیب وہاں دکھائی دیتے تھے۔ اسی طرح عابد قاضی ایڈووکیٹ سے بھی ڈیرے پر ملاقات ہوتی رہی۔ اہلِ قلم، شعراء اور قانون دانوں کی موجودگی ان محفلوں کو ایک الگ رنگ عطا کرتی تھی۔
میرے اپنے کئی احباب بھی ان ملاقاتوں میں شریک رہے۔ سابق صدر اٹک چیمبر آف کامرس طارق محمود میرے ہمراہ ان کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے۔ میرے دوست طارق بنگش اور ماما منظور، سبزی فروش سول بازار اٹک، بھی کئی مرتبہ میرے ساتھ وہاں گئے۔ ماما منظور کے ساتھ ان کا ایک خاص بے تکلفانہ انداز تھا۔ انہیں دیکھ کر محبت سے فرمایا کرتے تھے: ’’تم خود فقیر ہو، تمہیں کسی کے پاس آنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ بظاہر یہ ایک مختصر سا جملہ تھا، مگر اس میں ان کی مردم شناسی، بے ساختہ مزاح اور فقیر منش لوگوں کی قدر شناسی جھلکتی تھی۔ ان کے نزدیک فقیری کا تعلق مال و دولت یا ظاہری وضع قطع سے نہیں بلکہ دل کی کیفیت اور خلوص سے تھا۔ میرے والد ملک بہرام خان، جو بولیانوال کے سابق کونسلر رہے، اور میرے صاحبزادے ملک امان شجاع کو بھی میرے ساتھ ان کی محفل میں حاضری کا موقع ملا۔ یہ ملاقاتیں میرے لیے زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔
ان کے اندازِ گفتگو میں ایک خاص اپنائیت اور احترام پایا جاتا تھا۔ وہ ہر شخص کو ’’صاحب‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ سامنے والا کسی بھی طبقے یا مرتبے سے تعلق رکھتا ہو، ان کے لہجے میں احترام نمایاں رہتا۔ کبھی کبھی ایسی بات فرماتے جو بظاہر سادہ ہوتی، لیکن اس میں انسانی مزاج کی گہری سمجھ پوشیدہ ہوتی۔ فرمایا کرتے تھے: ’’ہر شخص اپنے مقصد سے آتا ہے، کوئی تصویر بنانے، کوئی دعا لینے۔‘‘ کوئی لنگر کھانے واقعی ان کے ڈیرے پر آنے والوں کے مقاصد مختلف ہوتے تھے۔ کوئی عقیدت کے اظہار کے لیے آتا، کوئی دعا کی امید لے کر، کوئی ملاقات کے لیے اور کوئی اس ماحول کو دیکھنے اور یادگار تصویر بنانے کے لیے۔ وہ ہر شخص کو اس کے مقصد کے مطابق قبول کرتے اور کسی کے آنے پر ناگواری کا اظہار نہیں کرتے تھے۔
ان کی مردم شناسی اور معاملہ فہمی کے کئی واقعات مشہور تھے۔ عوامی حلقوں میں مقبول ایک سیاست دان نے ایک سیاسی جماعت میں شمولیت سے پہلے ان سے مشورہ کیا تو فرمایا: ’’آپ کی اور اس جماعت کے سربراہ کی طبیعت نہیں ملتی، آپ نقصان اٹھائیں گے۔‘‘ بعد کے حالات نے ان کے اس اندازے کو درست ثابت کر دیا۔ اسی طرح سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی اٹک قلعہ میں اسیری کے زمانے کا ایک واقعہ بھی ان سے منسوب ہے۔ جب نواز شریف قید تھے اور بظاہر ان کی رہائی کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی تو پیر حمید سرکار نے محترمہ کلثوم نواز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف اٹک قلعہ سے نکل کر بحفاظت دوسرے ملک پہنچ جائیں گے اور ان کا بال بھی بیکا نہیں ہوگا۔ کچھ عرصے بعد حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ نواز شریف رہائی کے بعد سعودی عرب کے شہر جدہ پہنچ گئے۔ ان واقعات کو ان کے عقیدت مند ان کی معاملہ فہمی اور پیش بینی کے حوالے سے یاد کرتے ہیں۔
خان حبیب خان آف بوڑا ان کے منظورِ نظر اور خدمت گزاروں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ ان کے قریب رہتے اور خدمت کے کاموں میں پیش پیش دکھائی دیتے تھے۔ ڈیرے کی روزمرہ زندگی، مہمانوں کی آمدورفت اور خدمت کے ماحول میں ان جیسے مخلص افراد کا بھی اہم کردار تھا۔ پیر حمید سرکار کی گفتگو میں عام لوگوں اور درویش صفت انسانوں کا ذکر بھی خاص اہمیت رکھتا تھا۔ ایک مرتبہ اپنی زندگی کا ایک واقعہ سناتے ہوئے فرمانے لگے کہ میں حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ کے دربار پر منت کی دیگیں تقسیم کرنے گیا۔ دربار کے باہر ایک موچی کے پاس سے گزر رہا تھا کہ اس نے مجھے آواز دی اور کہا: ’’آپ تیرھویں دفعہ تشریف لا رہے ہیں۔‘‘ یہ سن کر میں سمجھ گیا کہ یہ صاحبِ حال آدمی ہے۔ آپ کے بقول وہ موچی صبح سے عصر تک اپنے پیشے سے وابستہ کام کرتا اور اس کے بعد اپنا وقت دربار کے احاطے میں گزارتا تھا۔ اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے وہ اس موچی کی ظاہری حیثیت کے بجائے اس کی باطنی کیفیت کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ ان کے نزدیک اللہ والوں کی پہچان لباس، پیشے یا معاشرتی مرتبے سے نہیں ہوتی۔ ایک عام سا موچی بھی صاحبِ حال ہو سکتا ہے
ان کا اندازِ دعا بھی سادہ اور منفرد تھا۔ جب کوئی شخص دعا کی درخواست کرتا تو عموماً فرماتے: ’’رب خیر کرے گا۔‘‘ وہ ہر آنے والے کے لیے بار بار الگ الگ دعا کرنے کے بجائے رات کے وقت سب کے لیے اجتماعی دعا کیا کرتے تھے۔ ان سے منسوب ان کے الفاظ مجھے آج بھی یاد ہیں: ’’اے اللہ کریم! جو بھی بندے دن کو میرے پاس آئے ہیں، اپنے حکم سے ان کی ضروریات و حاجات پوری فرما، ان کی مشکلات دور فرما۔‘‘ اس دعا میں دن بھر آنے والے لوگوں کے لیے ان کی خیر خواہی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت پر بھروسا نمایاں تھا۔ وہ لوگوں کو امید دلاتے اور انہیں مایوسی سے بچنے کی تلقین کرتے تھے۔ ایک اور بات جو میں نے وہاں دیکھی، وہ یہ تھی کہ بعض شوگر کے مریض ان کے پاس آتے تو وہ چینی پر دم کرکے انہیں دیتے تھے۔ یہ ان کے عقیدت مندوں میں رائج ایک روحانی روایت تھی، جس کا ذکر ان کے ڈیرے کے ماحول کے حوالے سے کیا جا سکتا ہے ان کے ڈیرے کی سب سے نمایاں روایت لنگر تھی۔ وہاں بڑے بڑے دیگچے چڑھتے، مونگ مسور کی دال سمیت مختلف کھانے تیار ہوتے اور آنے والے مہمانوں کو کھلائے جاتے۔ بڑے اجتماعات کے موقع پر لنگر کا اہتمام غیر معمولی پیمانے پر ہوتا تھا۔ بڑے لنگروں میں کئی بیلوں کا گوشت بھی تیار کیا جاتا تھا اور ہزاروں افراد اس میں شریک ہوتے تھے۔ کسی کو یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ وہ کسی دوسرے سے کم اہم ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے کئی معروف شخصیات کو اپنے ہاتھوں سے لنگر تقسیم کرتے دیکھا۔ روزنامہ اوصاف کے مالک مہتاب عباسی، ان کے بھائی مبارس خان عباسی، آل پاکستان نیوز پیپر سیلرز یونین کے صدر اور وزیراعظم کے سابق مشیر ٹکا خان سمیت دیگر احباب بھی لنگر کی خدمت کرتے دکھائی دیتے تھے۔ ان مناظر میں ایک خوب صورت پیغام پوشیدہ تھا کہ خدمت کا اصل حسن اسی وقت ہے جب انسان خود آگے بڑھ کر دوسروں کو کھلائے۔
مہمان خانہ اور لنگر خانہ بلاامتیاز چلتا تھا۔ وہاں آنے والے سے نہ حسب و نسب پوچھا جاتا، نہ مالی حیثیت اور نہ عہدہ و مرتبہ۔ کسی کو بھوکا واپس نہ لوٹانا اور ہر آنے والے کو مہمان سمجھنا اس ڈیرے کی روایت تھی۔ بڑے عہدوں پر فائز شخصیات بھی عام لوگوں کے ساتھ بیٹھتی تھیں اور بعض اوقات خود اپنے ہاتھوں سے لنگر تقسیم کرتی تھیں۔ یہ دسترخوان محض کھانا کھلانے کا انتظام نہیں تھا بلکہ محبت، مساوات، سخاوت اور انسان دوستی کا عملی اظہار تھا۔
دنیاوی مال و دولت سے بے نیازی بھی ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھی۔ ان کے عقیدت مندوں میں ایک غیر ملکی سفیر بھی شامل تھا، جس نے انہیں کثیر تعداد میں ویزے بطور تحفہ دینے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے بڑی سادگی سے جواب دیا: ’’میں کوئی ایجنٹ نہیں، مجھے ویزوں سے کیا لینا دینا؟‘‘ اسی طرح ایک جاگیردار کی طرف سے انہیں سینکڑوں کنال زمین دینے کی پیشکش بھی کی گئی، لیکن انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ ان واقعات سے ان کی طبیعت کی بے نیازی اور دنیاوی آسائشوں سے عدم دلچسپی کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ کسی چیز کو جمع کرکے رکھنے کے قائل نہیں تھے۔ جو کچھ میسر آتا، اسے ضرورت مندوں، مہمانوں اور آنے والوں پر خرچ کر دیتے۔ ان کے نزدیک اصل اہمیت اس بات کی تھی کہ انسان کے پاس جو کچھ ہے، وہ دوسروں کے کام آئے۔
ان سے وابستہ میری یادوں میں ایک واقعہ ایسا ہے جو آج بھی میرے دل پر نقش ہے۔ ہماری برادری کے ایک بزرگ ملک شہزادہ خان آف بولیانوال کے ان کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات تھے۔ شہزادہ خان اونٹوں کی خریدوفروخت کا کاروبار کرتے تھے اور سنجوال کی اونٹ منڈی میں ان کی آمدورفت رہتی تھی۔ پیر حمید خان سرکار بھی کئی مرتبہ ان سے ملنے کے لیے اونٹ منڈی تشریف لائے۔ وہ شہزادہ خان کا ذکر بڑی محبت سے کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ان کے بارے میں فرمایا: ’’شہزادہ خان بھی فقیر آدمی ہے۔‘‘ یہ الفاظ میرے لیے بہت معنی رکھتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک فقیری کا تعلق ظاہری لباس یا دنیا سے کنارہ کشی سے نہیں بلکہ دل کی کیفیت، خلوص اور انسان کے مزاج سے تھا ان سے میری آخری ملاقاتوں میں سے ایک موقع پر میں نے ملک شہزادہ خان کا ذکر کیا تو انہوں نے ایک عجیب بات کہی: ’’اب میں بھی جانے والا ہوں اور شہزادہ خان بھی جانے والا ہے۔‘‘ اس وقت ان الفاظ کی گہرائی کا شاید مجھے پوری طرح احساس نہ ہوا۔ کچھ عرصے بعد پیر حمید سرکار اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور ان کے کچھ عرصے بعد ملک شہزادہ خان بھی انتقال کر گئے۔ آج جب اس گفتگو کو یاد کرتا ہوں تو دل میں ایک عجیب کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ میری ذاتی یادداشت کا حصہ اور دونوں شخصیات کی محبت و قربت کی ایک خاص نشانی ہے۔
پیر حمید سرکار کی زندگی میں سادگی صرف گفتگو تک محدود نہیں تھی بلکہ ان کے روزمرہ معمولات میں بھی دکھائی دیتی تھی۔ زمین اور مویشیوں سے ان کا تعلق تھا بیل پالنے کے شوقین تھے مویشیوں کی خریدوفروخت کے معاملات سے بھی واقف تھے۔ ان کے طرزِ زندگی میں بناوٹ اور نمودونمائش نظر نہیں آتی تھی۔ وہ اپنے کام خود کرنے کو ترجیح دیتے اور سادہ زندگی گزارتے تھے۔ ان کے ہاں بڑے عہدوں پر فائز افراد بھی اسی ماحول میں بیٹھتے جہاں عام آدمی بیٹھا ہوتا تھا۔ یہی برابری اور بے تکلفی ان کے ڈیرے کی اصل پہچان تھی۔
آپ کی وفات سے عقیدت مندوں، احباب اور محبت رکھنے والوں کو ایک خلا محسوس ہوا۔ لیکن ان سے وابستہ عقیدت کا سلسلہ ان کی وفات کے بعد بھی جاری ہے۔ آج بھی ملک کے مختلف علاقوں سے لوگ ان کے مزار پر حاضری دیتے ہیں، فاتحہ خوانی کرتے ہیں اور اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں لنگر کا سلسلہ بھی اسی طرح جاری و ساری ہے
میرے لیے پیر حمید سرکار سے جڑی یادیں محض ایک بزرگ سے ملاقاتوں کا تذکرہ نہیں بلکہ ایک ایسے دور کی یادیں ہیں جب ان کا ڈیرہ مختلف طبقوں کے لوگوں کو جوڑنے کا وسیلہ تھا۔ وہاں سیاست دان بھی آتے تھے، وکلا اور صحافی بھی، تاجر بھی اور عام لوگ بھی۔ کوئی دعا لینے آتا، کوئی ملاقات کے لیے، کوئی لنگر کھانے اور کوئی صرف تصویر بنانے۔ ہر شخص اپنے مقصد کے مطابق آتا، مگر واپس ایک ایسی محفل کی یاد لے کر جاتا جہاں عزت، محبت اور مہمان نوازی کا ماحول قائم تھا۔
آج بھی جب ان کا جملہ ’’رب خیر کرے گا‘‘ یاد آتا ہے تو دل کو ایک خاص سکون محسوس ہوتا ہے۔ داتا دربار کے موچی کا واقعہ، سفیر کی طرف سے ویزوں کی پیشکش کو رد کرنا، جاگیردار کی زمین قبول نہ کرنا، میاں نواز شریف کے حوالے سے ان کی پیش گوئی اور ملک شہزادہ خان کے بارے میں کہے ہوئے الفاظ ذہن میں تازہ ہو جاتے ہیں۔ یہ سب واقعات ان کی شخصیت کے مختلف رنگ ہیں، جنہیں میں نے ان کی محفلوں میں سنا، دیکھا اور اپنی یادداشت میں محفوظ کیا کسی انسان کی زندگی کا اصل حاصل اس کے جمع کیے ہوئے مال، اس کے عہدے یا اس کی شہرت میں نہیں ہوتا، بلکہ اس محبت میں ہوتا ہے جو وہ دوسروں کے دلوں میں چھوڑ جاتا ہے۔ پیر حمید سرکار کا کھلا ڈیرہ، آباد مہمان خانہ، وسیع دسترخوان اور ہر آنے والے کے لیے احترام کا جذبہ اسی محبت کی علامت تھے۔ آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کے ڈیرے کی رونقیں، ان کی بے ساختہ باتیں، ان کا ’’صاحب‘‘ کہہ کر مخاطب کرنا اور ہر مشکل میں ’’رب خیر کرے گا‘‘ کہہ کر حوصلہ دینا یادوں میں زندہ ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ بہت سے نام دھندلا جاتے ہیں، مگر کچھ لوگ اپنے کردار سے وقت کے دامن پر ایسی نشانیاں چھوڑ جاتے ہیں جنہیں مٹانا آسان نہیں ہوتا۔ پیر حمید سرکار بھی انہی لوگوں میں سے تھے۔ ان کے مزار پر حاضری دینے والے عقیدت مند ہوں یا ان کے ڈیرے پر کبھی لنگر کھانے والے مہمان، ہر شخص کے پاس ان سے وابستہ کوئی نہ کوئی یاد ضرور ہے۔ میرے پاس بھی ان کی محفلوں کی یادیں ہیں، ان کے کہے ہوئے چند جملے ہیں اور وہ محبت ہے جو ان کی شخصیت نے میرے دل میں چھوڑی۔ شاید یہی کسی انسان کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہے کہ اس کے جانے کے بعد بھی لوگ اسے دعاؤں، محبت اور احترام کے ساتھ یاد کریں۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔