حاجی ملک خان بہادر خان — انسانیت کے سچے خدمت گزار
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
مولانا جلال الدین رومیؒ سے منسوب ہے: ’’خدا تک پہنچنے کے بہت سے راستے ہیں، لیکن میں نے خدا کا پسندیدہ ترین راستہ مخلوق سے محبت کو چُنا۔‘‘ یہ قول خدمتِ انسانیت کی روح اور زندگی کے ایک بڑے فلسفے کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنی ذات سے آگے بڑھ کر دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرتی ہیں اور اپنی صلاحیتوں، وقت اور وسائل کو انسانیت کی بھلائی کے لیے وقف کر دیتی ہیں۔ حاجی ملک خان بہادر خان مرحوم بھی ایسی ہی دردِ دل رکھنے والی شخصیت تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی سماجی خدمت، انسانی ہمدردی اور فلاح و بہبود کے لیے وقف کیے رکھی۔
ان کے آباؤ اجداد کا تعلق ریاستِ کوٹ فتح خان سے تھا۔ ان کے والد ملک سکندر خان ولد ملک احمد خان نے 1876ء میں کیمبل پور، موجودہ اٹک، میں سکونت اختیار کی۔ اسی خانوادے میں 5 جنوری 1928ء کو حاجی ملک خان بہادر خان کی ولادت ہوئی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اٹک میں حاصل کی۔ اس زمانے میں پائلٹ اسکول میں مڈل تک تعلیم کا انتظام تھا۔ بعد ازاں میٹرک ڈگری کالج اٹک سے کیا اور ایف اے کا امتحان راولپنڈی سے پاس کیا۔ تعلیم کے ساتھ انہیں کھیلوں سے بھی خاص لگاؤ تھا اور ہاکی ان کا پسندیدہ کھیل تھا۔ اپنی صلاحیتوں اور کھیل سے دلچسپی کے باعث وہ راولپنڈی ڈویژن کی ہاکی ٹیم کے کپتان رہے۔ آل پاکستان نیشنل ہاکی ٹورنامنٹ میں کامیابی حاصل کرنے پر 1953ء میں اُس وقت کے وزیرِ مال پنجاب چوہدری محمد حسین چٹھہ نے انہیں انعامی ٹرافی اور نقد انعام سے نوازا۔ یہ اعزاز ان کی زندگی کا ایک اہم حوالہ ہے۔
انہوں نے عملی زندگی کا آغاز ڈپٹی کمشنر آفس سے کیا۔ محنت، دیانت داری اور فرض شناسی کے باعث ترقی کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ کے عہدے تک پہنچے اور 1974ء میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔ دورانِ ملازمت ان کا رویہ ہمیشہ سائلین کے ساتھ ہمدردانہ رہا۔ وہ لوگوں کے مسائل حل کرنے اور دفتری امور میں ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کو اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ اسی دوران انہوں نے کیمبل پور کے ایک ڈپٹی کمشنر کو قرآنِ مجید کا انگریزی ترجمہ اپنی ٹائپنگ مشین پر ٹائپ کرکے فراہم کیا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب کمپیوٹر اور جدید طباعتی سہولیات عام نہیں تھیں۔ اس کام میں ان کی محنت، توجہ اور دینی ذوق نمایاں تھا۔ انہوں نے پرائس کنٹرول کمیٹی ضلع اٹک کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں اور ہمیشہ عوامی مفاد کو ترجیح دی۔
سرکاری ملازمت سے فراغت کے بعد انہوں نے اپنی توجہ سماجی اور رفاہی سرگرمیوں پر مرکوز کر دی۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اٹک میں انجمن بہبودِ مریضاں کے تحت ایک فری ڈسپنسری قائم کی، جہاں نادار اور مستحق مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جاتی تھیں تاکہ مالی مشکلات کسی بیمار کے علاج میں رکاوٹ نہ بنیں۔ اسی جذبۂ خدمت کے تحت اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر پرویز سلطان کے تعاون سے انجمن انسدادِ منشیات کی بنیاد رکھی۔ یہ اپنے وقت کا ایک منفرد فلاحی منصوبہ تھا، جس کا مقصد نشے کی لت میں مبتلا افراد کو علاج کی سہولت فراہم کرکے انہیں صحت مند اور باوقار زندگی کی طرف واپس لانا تھا۔ اس منصوبے میں معروف معالج ڈاکٹر ناصر عزیز باجوہ نے بھی اپنی خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ بواسیر کے مریضوں کو مفت طبی نسخے فراہم کرنے کا اہتمام بھی کرتے تھے۔ ان کا یقین تھا کہ معاشرے کے محروم اور کم وسائل رکھنے والے افراد کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
حاجی ملک خان بہادر خان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی دینی وابستگی اور مساجد سے گہرا تعلق تھا۔ انہیں مساجد سے خصوصی لگاؤ تھا اور انہوں نے زندگی بھر ان کی خدمت کو اپنے لیے اعزاز سمجھا۔ حجاج کرام کی رہنمائی بھی ان کے معمولات میں شامل تھی۔ حج بیت اللہ کے لیے روانہ ہونے والے افراد کو سفر سے پہلے مناسکِ حج سے متعلق تربیتی لٹریچر فراہم کرتے اور ضروری امور سے آگاہ کرتے تھے تاکہ وہ اس مقدس فریضے کی ادائیگی بہتر تیاری اور درست رہنمائی کے ساتھ کر سکیں۔ ان کا دینی ذوق اس بات کا مظہر تھا کہ وہ خدمتِ خلق کو صرف دنیاوی ضروریات تک محدود نہیں سمجھتے تھے بلکہ لوگوں کی دینی رہنمائی کو بھی اپنی ذمہ داری تصور کرتے تھے۔
راقم الحروف کو تقریباً دو سال تک حاجی صاحب کی سرپرستی میں انجمن انسدادِ منشیات کے وارڈ اور انجمن بہبودِ مریضاں کی ڈسپنسری میں کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ عرصہ میرے لیے ایک قیمتی تجربہ ثابت ہوا۔ ان کے ساتھ رہ کر خدمتِ خلق کا جذبہ، ضرورت مندوں سے شفقت اور لوگوں کے مسائل سمجھ کر ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا سلیقہ سیکھنے کو ملا۔ ان کی گفتگو میں اپنائیت، مزاج میں خوش گواری اور رویے میں خلوص نمایاں تھا۔ وہ اپنے عمل سے یہ سبق دیتے تھے کہ انسان کی اصل پہچان اس کے عہدے، دولت یا مرتبے سے نہیں بلکہ اس کے اخلاق اور دوسروں کے لیے اس کی افادیت سے ہوتی ہے۔
ان کی ظاہری شخصیت بھی نہایت باوقار، وجیہہ اور پُرکشش تھی۔ عموماً سفید لباس زیبِ تن کرتے، سر پر جناح کیپ اور سیاہ رنگ کی واسکٹ ان کے لباس کا خاص حصہ ہوتی تھی۔ بھاری بھرکم جسم، ہاتھ میں لاٹھی تھامے چلنے کا مخصوص انداز اور بارعب آواز ان کی شخصیت کو ایک منفرد شان و وقار عطا کرتے تھے۔ ان کی چال ڈھال اور اندازِ گفتگو سے ایک باوقار اور رعب دار بزرگ کا تاثر ابھرتا تھا۔ اگرچہ ان کی آواز میں رعب تھا، لیکن دل میں شفقت، گفتگو میں اپنائیت اور رویے میں خلوص نمایاں تھا۔ ان کی شخصیت میں ایک ایسی کشش تھی جو لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرتی تھی۔ ظاہری وجاہت کے ساتھ ان کے اعلیٰ اخلاق، ملنساری اور خدمتِ خلق کا جذبہ انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا تھا۔
خاندانی زندگی میں بھی وہ ایک شفیق اور محبت کرنے والے بزرگ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تین بیٹیوں اور پانچ بیٹوں سے نوازا۔ ان کے صاحبزادوں میں سابق کونسلر اٹک سٹی عبدالرحمٰن ملک مرحوم، پشاور نوشہرہ اڈے کے مالک ملک شفیق مرحوم، ملک حفیظ مرحوم، ملک رشید اور ملک سعید شامل ہیں۔
2007ء میں حاجی ملک خان بہادر خان اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے، مگر ان کی زندگی کے نقوش اور خدمتِ خلق کے حوالے سے ان کی کاوشیں آج بھی انہیں یاد رکھنے کا سبب ہیں۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی سے ثابت کیا کہ معاشرے میں حقیقی عزت و مقام انہی لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہوتے اور اپنے حصے کی آسانیاں دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ جب ہم ماضی کے دریچوں میں جھانکتے ہیں تو حاجی صاحب کی شخصیت ایک شفیق، مخلص اور باکردار انسان کے طور پر سامنے آتی ہے، جس نے اپنی زندگی کو محض ذاتی مصروفیات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی بھلائی کو اپنا مقصد بنایا۔ سفید لباس، جناح کیپ، سیاہ واسکٹ، ہاتھ میں لاٹھی اور ان کی بارعب آواز کا تصور آج بھی ان سے وابستہ یادوں کو تازہ کر دیتا ہے۔ ایسے لوگ دنیا سے رخصت ضرور ہو جاتے ہیں، لیکن ان کی نیکیاں، خلوص اور خدمت کے نقوش آنے والی نسلوں کے لیے مثال بنے رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ حاجی ملک خان بہادر خان مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کی سماجی و رفاہی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔