تنکا اور زندگی
افسانہ نگار: سید حبدار قائم
صبح کا وقت تھا۔ گاؤں کی کچی گلیوں میں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں تھی۔ کہیں گھروں سے دھواں اٹھ رہا تھا، کہیں مویشیوں کو چارہ ڈالا جا رہا تھا اور کہیں مائیں اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کی تیاری کر رہی تھیں۔
قاسم بھی آج حسبِ معمول اپنی موٹر سائیکل نکال رہا تھا۔ وہ ایک بیوہ ماں کا اکلوتا بیٹا اور سات بہنوں کا واحد بھائی تھا۔ اس کے والد کو دنیا سے رخصت ہوئے کئی برس گزر چکے تھے۔ گھر کی ساری ذمہ داریاں اسی کے کندھوں پر تھیں۔ ماں کی دعائیں، بہنوں کی امیدیں اور گھر کے مستقبل کے سارے خواب اسی ایک نوجوان سے وابستہ تھے۔
قاسم کی ماں نے دروازے پر کھڑے ہو کر آواز دی
بیٹا! ناشتہ تو کر لو، صبح سے بھاگ دوڑ میں لگے ہو۔
قاسم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:
"اماں! واپسی پر کر لوں گا۔ آج کچھ ضروری کام ہیں، پھر آپ کی دوائی بھی لانی ہے۔”
ایک بہن نے شرارت سے کہا:
"بھائی! واپسی پر میرے لیے چوڑیاں بھی لیتے آئیے گا۔”
قاسم نے ہنستے ہوئے کہا
ضرور! اور تم سب کے لیے بھی کچھ نہ کچھ لاؤں گا۔ بس میرے لیے دعا کیا کرو کہ اللہ تمہارے بھائی کو کامیابی عطا فرماۓ۔
ماں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا:
اللہ تمہیں سلامت رکھے، بیٹا! تم ہی تو اس گھر کی رونق ہو۔
قاسم نے موٹر سائیکل اسٹارٹ کی اور گلی سے باہر نکل گیا۔
راستے میں ولونڑے کی وجہ سے سڑک کے کنارے خشک گھاس اور مٹی اڑ رہی تھی۔ ہوا کے ایک تیز جھونکے نے وہاں پڑے ایک معمولی سے تنکے کو اڑایا اور فضا میں اچھال دیا۔ وہ تنکا نہ کسی درخت کی شاخ کا حصہ تھا، نہ کسی کی نظر میں اس کی کوئی اہمیت تھی۔ مگر قدرت کے نظام میں کبھی کبھی معمولی دکھائی دینے والی چیز بھی بڑے حادثے کا سبب بن جاتی ہے۔
قاسم اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا کہ اڑتا ہوا وہ تنکا آیا اور قاسم کی آنکھ میں جا پڑا۔ قاسم نے ہیلمٹ نہیں پہنا ہوا تھا اس لیے تنکے کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں تھی جو اسے آنکھ میں جانے سے روکتی
"آہ!”
اس نے بے اختیار آنکھ بند کی اور موٹر سائیکل پر قابو رکھنے کی کوشش کی۔ چند لمحوں کے لیے اس کی توجہ راستے سے ہٹ گئی۔ سامنے سے آنے والی گاڑی کو دیکھ کر اس نے موٹر سائیکل سنبھالنے کی کوشش کی، مگر حالات نے اسے مہلت نہ دی۔
ایک زور دار آواز فضا میں گونجی۔
موٹر سائیکل سڑک پر گر چکی تھی اور قاسم حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔
قریب سے گزرنے والے لوگوں نے اسے فوری طور پر ہسپتال پہنچایا۔ کسی نے اس کے گھر اطلاع دی۔
گھر میں اس وقت قاسم کی ماں تسبیح پڑھ رہی تھی۔ فون کی گھنٹی بجی تو اس نے جلدی سے فون اٹھایا۔
جی، کون؟
دوسری طرف سے آواز آئی:
بی بی! قاسم کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے، آپ جلدی اسپتال پہنچیں۔
ماں کے ہاتھ سے تسبیح چھوٹ گئی۔
کیا؟ میرا قاسم؟ نہیں، نہیں! میرا بیٹا تو ابھی گھر سے ہنستا ہوا نکلا تھا۔ اسے کچھ نہیں ہو سکتا۔
ساتوں بہنیں ماں کے گرد جمع ہو گئیں۔ ایک نے روتے ہوئے پوچھا:
اماں! بھائی کو کیا ہوا ہے؟
ماں کے پاس جواب دینے کے لیے الفاظ نہیں تھے۔ اس کی زبان پر صرف ایک ہی دعا تھی:
"یا اللہ! میرے بیٹے کو بچا لے۔ وہی تو میرا سہارا ہے۔”
ہسپتال کی ایمرجنسی وارڈ کے باہر قاسم کی ماں اور بہنیں بے چینی سے کھڑی تھیں۔ ہر گزرتا لمحہ ان کے لیے صدیوں کے برابر تھا۔
ایک بہن نے ڈاکٹر سے پوچھا
ڈاکٹر صاحب! ہمارا بھائی ٹھیک تو ہو جائے گا نا؟
ڈاکٹر نے سنجیدگی سے جواب دیا
ہم پوری کوشش کر رہے ہیں، آپ دعا کریں۔
ماں نے ڈاکٹر کے ہاتھ پکڑ لیے۔
ڈاکٹر صاحب! میرا شوہر پہلے ہی مجھے تنہا چھوڑ گیا ہے۔ میری سات بیٹیوں کا ایک ہی بھائی ہے۔ اس کے بغیر ہم کہاں جئیں گے؟ آپ میرے بیٹے کو بچا لیں۔ میں عمر بھر آپ کی احسان مند رہوں گی۔
ڈاکٹر خاموشی سے واپس اندر چلا گیا۔
کچھ دیر بعد ایک نرس باہر آئی۔ اس کی خاموشی اور چہرے کی سنجیدگی نے بہت کچھ کہہ دیا تھا۔
قاسم زندگی کی بازی ہار چکا تھا۔
یہ خبر سنتے ہی ماں کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔ وہ دیوار کا سہارا لے کر بیٹھ گئی۔ ساتوں بہنوں کی چیخیں ہسپتال کی راہداریوں میں گونجنے لگیں۔
بھائی! تم نے تو وعدہ کیا تھا کہ ہمارے لیے چوڑیاں لاؤ گے
بھائی! میری شادی پر سہرا کون باندھے گا؟
بھائی! ابا کے بعد تم ہی تو ہمارا سہارا تھے!
ماں کی آنکھیں پتھر ہو چکی تھیں۔ وہ کبھی دروازے کی طرف دیکھتی، کبھی ہسپتال کے اندر۔
اس کے لبوں پر ایک ہی جملہ تھا
میرا قاسم مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔ ابھی تو میں نے اس کے لیے روٹی بھی نہیں پکائی تھی۔ ابھی تو اس نے میری دوائی بھی لانی تھی۔
گاؤں میں خبر پہنچی تو ہر آنکھ اشک بار ہو گئی۔ وہ نوجوان جو اپنے گھر کی امید تھا، آج خود امیدوں کو یتیم کر گیا تھا۔
جنازے کے وقت ماں نے اپنے بیٹے کا چہرہ دیکھا تو اس کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔
بیٹا! تو تو میرا بڑھاپے کا عصا تھا۔ میں نے تجھے بڑی دعاؤں سے پالا تھا۔ تیرے باپ کے بعد تجھے ہی تو اپنے گھر کی چھت سمجھا تھا۔ اب میں اپنی سات بیٹیوں کو کیسے پالوں گی؟
قاسم کو مٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ گھر لوٹا تو اس کی موٹر سائیکل صحن میں خاموش کھڑی تھی۔ دروازے کے پاس اس کے جوتے رکھے تھے جن میں قاسم کا خون لگا ہوا تھا اور میز پر وہ فہرست پڑی تھی جس میں اس نے گھر کے لیے ضروری سامان لکھا تھا۔
ایک بہن نے وہ کاغذ اٹھایا۔ اس پر آخری سطر لکھی تھی:
اماں کی دوائی ضرور لانی ہے۔
وہ کاغذ سینے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے
دن گزرتے گئے، مگر گھر کی خاموشی ختم نہ ہوئی۔ ماں نے ایک ڈاکٹر سے میڈیکل رپورٹ چیک کرائی تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ قاسم کی آنکھ سے تنکا نکلا ہے جس نے آنکھ کو نقصان پہنچایا ہے
ماں ہر صبح دروازے کی طرف دیکھتی۔ اسے لگتا قاسم ابھی موٹر سائیکل پر آئے گا، اور آواز دے گا:
اماں! دروازہ کھولو، میں آ گیا ہوں۔
مگر اب دروازہ کھولنے کے لیے کوئی آواز نہیں آتی تھی۔
گاؤں کے لوگوں نے حادثے کو قسمت کا لکھا سمجھ کر بھلا دیا، لیکن اس گھر کے لیے وہ ایک ایسا زخم تھا جو کبھی مندمل نہیں ہو سکتا تھا۔
ایک دن قاسم کی ماں صحن میں بیٹھی تھی۔ اس کی نظر ہوا میں اڑتے ایک تنکے پر پڑی۔ اس نے اسے دیکھا اور بے اختیار بول اٹھی
اے معمولی تنکے! تجھے کیا خبر تھی کہ تیری ایک لمحے کی اڑان ایک ماں کی پوری زندگی اجاڑ دے گی، سات بہنوں کے خواب چھین لے گی اور ایک گھر کی خوشیاں نگل جائے گی!
ہوا نے تنکے کو اڑا کر کہیں دور جا گرایا۔
مگر اس کے پیچھے رہ جانے والا دکھ ایک گھر کی دہلیز سے باہر نہ نکل سکا۔
زندگی کبھی کبھی بڑے طوفانوں سے نہیں، ایک معمولی سی غفلت اور لمحاتی حادثے سے بکھر جاتی ہے۔ ایک تنکا اپنی جگہ معمولی تھا، مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ معمولی نہیں تھا۔
قاسم کی موت صرف ایک نوجوان کی موت نہیں تھی؛ وہ ایک ماں کے بڑھاپے کا سہارا، سات بہنوں کا محافظ، ایک گھر کی امید اور کئی ادھورے خوابوں کا اختتام تھا۔
کبھی کبھی زندگی کا سب سے بڑا المیہ کسی بڑے دشمن سے نہیں، ایک معمولی سے تنکے سے جنم لیتا ہے۔
تنکا اور زندگی
افسانہ نگار: سید حبدار قئم
صبح کا وقت تھا۔ گاؤں کی کچی گلیوں میں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں تھی۔ کہیں گھروں سے دھواں اٹھ رہا تھا، کہیں مویشیوں کو چارہ ڈالا جا رہا تھا اور کہیں مائیں اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کی تیاری کر رہی تھیں۔
قاسم بھی آج حسبِ معمول اپنی موٹر سائیکل نکال رہا تھا۔ وہ ایک بیوہ ماں کا اکلوتا بیٹا اور سات بہنوں کا واحد بھائی تھا۔ اس کے والد کو دنیا سے رخصت ہوئے کئی برس گزر چکے تھے۔ گھر کی ساری ذمہ داریاں اسی کے کندھوں پر تھیں۔ ماں کی دعائیں، بہنوں کی امیدیں اور گھر کے مستقبل کے سارے خواب اسی ایک نوجوان سے وابستہ تھے۔
قاسم کی ماں نے دروازے پر کھڑے ہو کر آواز دی
بیٹا! ناشتہ تو کر لو، صبح سے بھاگ دوڑ میں لگے ہو۔
قاسم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:
"اماں! واپسی پر کر لوں گا۔ آج کچھ ضروری کام ہیں، پھر آپ کی دوائی بھی لانی ہے۔”
ایک بہن نے شرارت سے کہا:
"بھئی! واپسی پر میرے لیے چوڑیاں بھی لیتے آئیے گا۔”
قاسم نے ہنستے ہوئے کہا
ضرور! اور تم سب کے لیے بھی کچھ نہ کچھ لاؤں گا۔ بس میرے لیے دعا کیا کرو کہ اللہ تمہارے بھائی کو کامیابی عطا فرماۓ۔
ماں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا:
اللہ تمہیں سلامت رکھے، بیٹا! تم ہی تو اس گھر کی رونق ہو۔
قاسم نے موٹر سائیکل اسٹارٹ کی اور گلی سے باہر نکل گیا۔
راستے میں ولونڑے کی وجہ سے سڑک کے کنارے خشک گھاس اور مٹی اڑ رہی تھی۔ ہوا کے ایک تیز جھونکے نے وہاں پڑے ایک معمولی سے تنکے کو اڑایا اور فضا میں اچھال دیا۔ وہ تنکا نہ کسی درخت کی شاخ کا حصہ تھا، نہ کسی کی نظر میں اس کی کوئی اہمیت تھی۔ مگر قدرت کے نظام میں کبھی کبھی معمولی دکھائی دینے والی چیز بھی بڑے حادثے کا سبب بن جاتی ہے۔
قاسم اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا کہ اڑتا ہوا وہ تنکا آیا اور قاسم کی آنکھ میں جا پڑا۔ قاسم نے ہیلمٹ نہیں پہنا ہوا تھا اس لیے تنکے کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں تھی جو اسے آنکھ میں جانے سے روکتی
"آہ!”
اس نے بے اختیار آنکھ بند کی اور موٹر سائیکل پر قابو رکھنے کی کوشش کی۔ چند لمحوں کے لیے اس کی توجہ راستے سے ہٹ گئی۔ سامنے سے آنے والی گاڑی کو دیکھ کر اس نے موٹر سائیکل سنبھالنے کی کوشش کی، مگر حالات نے اسے مہلت نہ دی۔
ایک زور دار آواز فضا میں گونجی۔
موٹر سائیکل سڑک پر گر چکی تھی اور قاسم حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔
قریب سے گزرنے والے لوگوں نے اسے فوری طور پر ہسپتال پہنچایا۔ کسی نے اس کے گھر اطلاع دی۔
گھر میں اس وقت قاسم کی ماں تسبیح پڑھ رہی تھی۔ فون کی گھنٹی بجی تو اس نے جلدی سے فون اٹھایا۔
جی، کون؟
دوسری طرف سے آواز آئی:
بی بی! قاسم کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے، آپ جلدی اسپتال پہنچیں۔
ماں کے ہاتھ سے تسبیح چھوٹ گئی۔
کیا؟ میرا قاسم؟ نہیں، نہیں! میرا بیٹا تو ابھی گھر سے ہنستا ہوا نکلا تھا۔ اسے کچھ نہیں ہو سکتا۔
ساتوں بہنیں ماں کے گرد جمع ہو گئیں۔ ایک نے روتے ہوئے پوچھا:
اماں! بھائی کو کیا ہوا ہے؟
ماں کے پاس جواب دینے کے لیے الفاظ نہیں تھے۔ اس کی زبان پر صرف ایک ہی دعا تھی:
"یا اللہ! میرے بیٹے کو بچا لے۔ وہی تو میرا سہارا ہے۔”
ہسپتال کی ایمرجنسی وارڈ کے باہر قاسم کی ماں اور بہنیں بے چینی سے کھڑی تھیں۔ ہر گزرتا لمحہ ان کے لیے صدیوں کے برابر تھا۔
ایک بہن نے ڈاکٹر سے پوچھا
ڈاکٹر صاحب! ہمارا بھائی ٹھیک تو ہو جائے گا نا؟
ڈاکٹر نے سنجیدگی سے جواب دیا
ہم پوری کوشش کر رہے ہیں، آپ دعا کریں۔
ماں نے ڈاکٹر کے ہاتھ پکڑ لیے۔
ڈاکٹر صاحب! میرا شوہر پہلے ہی مجھے تنہا چھوڑ گیا ہے۔ میری سات بیٹیوں کا ایک ہی بھائی ہے۔ اس کے بغیر ہم کہاں جئیں گے؟ آپ میرے بیٹے کو بچا لیں۔ میں عمر بھر آپ کی احسان مند رہوں گی۔
ڈاکٹر خاموشی سے واپس اندر چلا گیا۔
کچھ دیر بعد ایک نرس باہر آئی۔ اس کی خاموشی اور چہرے کی سنجیدگی نے بہت کچھ کہہ دیا تھا۔
قاسم زندگی کی بازی ہار چکا تھا۔
یہ خبر سنتے ہی ماں کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔ وہ دیوار کا سہارا لے کر بیٹھ گئی۔ ساتوں بہنوں کی چیخیں ہسپتال کی راہداریوں میں گونجنے لگیں۔
بھائی! تم نے تو وعدہ کیا تھا کہ ہمارے لیے چوڑیاں لاؤ گے
بھائی! میری شادی پر سہرا کون باندھے گا؟
بھائی! ابا کے بعد تم ہی تو ہمارا سہارا تھے!
ماں کی آنکھیں پتھر ہو چکی تھیں۔ وہ کبھی دروازے کی طرف دیکھتی، کبھی ہسپتال کے اندر۔
اس کے لبوں پر ایک ہی جملہ تھا
میرا قاسم مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔ ابھی تو میں نے اس کے لیے روٹی بھی نہیں پکائی تھی۔ ابھی تو اس نے میری دوائی بھی لانی تھی۔
گاؤں میں خبر پہنچی تو ہر آنکھ اشک بار ہو گئی۔ وہ نوجوان جو اپنے گھر کی امید تھا، آج خود امیدوں کو یتیم کر گیا تھا۔
جنازے کے وقت ماں نے اپنے بیٹے کا چہرہ دیکھا تو اس کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔
بیٹا! تو تو میرا بڑھاپے کا عصا تھا۔ میں نے تجھے بڑی دعاؤں سے پالا تھا۔ تیرے باپ کے بعد تجھے ہی تو اپنے گھر کی چھت سمجھا تھا۔ اب میں اپنی سات بیٹیوں کو کیسے پالوں گی؟
قاسم کو مٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ گھر لوٹا تو اس کی موٹر سائیکل صحن میں خاموش کھڑی تھی۔ دروازے کے پاس اس کے جوتے رکھے تھے جن میں قاسم کا خون لگا ہوا تھا اور میز پر وہ فہرست پڑی تھی جس میں اس نے گھر کے لیے ضروری سامان لکھا تھا۔
ایک بہن نے وہ کاغذ اٹھایا۔ اس پر آخری سطر لکھی تھی:
اماں کی دوائی ضرور لانی ہے۔
وہ کاغذ سینے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے
دن گزرتے گئے، مگر گھر کی خاموشی ختم نہ ہوئی۔ ماں نے ایک ڈاکٹر سے میڈیکل رپورٹ چیک کرائی تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ قاسم کی آنکھ سے تنکا نکلا ہے جس نے آنکھ کو نقصان پہنچایا ہے
ماں ہر صبح دروازے کی طرف دیکھتی۔ اسے لگتا قاسم ابھی موٹر سائیکل پر آئے گا، اور آواز دے گا:
اماں! دروازہ کھولو، میں آ گیا ہوں۔
مگر اب دروازہ کھولنے کے لیے کوئی آواز نہیں آتی تھی۔
گاؤں کے لوگوں نے حادثے کو قسمت کا لکھا سمجھ کر بھلا دیا، لیکن اس گھر کے لیے وہ ایک ایسا زخم تھا جو کبھی مندمل نہیں ہو سکتا تھا۔
ایک دن قاسم کی ماں صحن میں بیٹھی تھی۔ اس کی نظر ہوا میں اڑتے ایک تنکے پر پڑی۔ اس نے اسے دیکھا اور بے اختیار بول اٹھی
اے معمولی تنکے! تجھے کیا خبر تھی کہ تیری ایک لمحے کی اڑان ایک ماں کی پوری زندگی اجاڑ دے گی، سات بہنوں کے خواب چھین لے گی اور ایک گھر کی خوشیاں نگل جائے گی!
ہوا نے تنکے کو اڑا کر کہیں دور جا گرایا۔
مگر اس کے پیچھے رہ جانے والا دکھ ایک گھر کی دہلیز سے باہر نہ نکل سکا۔
زندگی کبھی کبھی بڑے طوفانوں سے نہیں، ایک معمولی سی غفلت اور لمحاتی حادثے سے بکھر جاتی ہے۔ ایک تنکا اپنی جگہ معمولی تھا، مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ معمولی نہیں تھا۔
قاسم کی موت صرف ایک نوجوان کی موت نہیں تھی؛ وہ ایک ماں کے بڑھاپے کا سہارا، سات بہنوں کا محافظ، ایک گھر کی امید اور کئی ادھورے خوابوں کا اختتام تھا۔
کبھی کبھی زندگی کا سب سے بڑا المیہ کسی بڑے دشمن سے نہیں، ایک معمولی سے تنکے سے جنم لیتا ہے۔
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔