سنہری کار
افسانہ نگار: سید حبدار قائم
غربت انسان کو آزماتی ضرور ہے، مگر بعض اوقات دولت انسان کے کردار کا وہ چہرہ دکھا دیتی ہے جسے وہ خود بھی پہچان نہیں پاتا۔ عاصم کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی تھی، جس نے ایک سنہری کار کی چمک میں اپنے رشتوں کی ساری روشنی کھو دی۔
عاصم ایک غریب گھرانے کا چشم و چراغ تھا۔ اس کے والد پاک فوج میں ملازمت کرتے تھے۔ محدود آمدنی میں گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل تھا، مگر باپ کے دل میں اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دلانے کا خواب پلتا تھا۔ اس نے اپنی خواہشات کو قربان کیا، دن رات محنت کی اور بڑی مشکلوں سے عاصم کو بی کام تک تعلیم دلوائی۔
عاصم نے تعلیم مکمل کی تو اسے ایک بینک میں ملازمت مل گئی۔ گھر میں خوشیوں نے دستک دی۔ باپ کی برسوں کی محنت رنگ لائی تھی۔ عاصم کی شادی کے لیے اس کے والد نے دوستوں سے قرض لیا اور گاؤں کی آبائی حویلی بھی فروخت کر دی۔ یوں اپنے بھائی کی بیٹی، یعنی اپنی بھتیجی، کو بہو بنا کر گھر لے آیا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کا بیٹا ایک خوش حال زندگی گزارے اور اس کا گھر محبتوں سے آباد رہے۔
شادی کے بعد زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی۔ اللہ تعالیٰ نے عاصم کو ایک پیاری سی بیٹی سے نوازا۔ اس کی بیوی شوہر کی خدمت کرتی، بیٹی باپ کی آغوش میں کھیلتی اور بوڑھے والدین اپنے بیٹے کی خوشیوں میں خوش رہتے۔
پھر وقت نے کروٹ بدلی۔
عاصم نے ملازمت میں ترقی کی اور ایک انشورنس کمپنی میں ڈپٹی ڈائریکٹر بن گیا۔ اس کی آمدنی بڑھنے لگی۔ لباس مہنگا ہو گیا، رہن سہن بدل گیا اور دوستوں کا حلقہ بھی تبدیل ہونے لگا۔ وہ دولت جمع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی حیثیت کا اظہار کرنے کا خواہش مند ہو گیا۔
ایک دن اس نے ایک چمچماتی ہوئی سنہری کار خرید لی۔
کار واقعی خوب صورت تھی۔ اس کی چمک دور سے نگاہوں کو اپنی طرف کھینچتی تھی۔ عاصم کو بھی اپنی اس نئی سواری پر بڑا ناز تھا۔ اب وہ پہلے والا سادہ مزاج عاصم نہیں رہا تھا۔ خوشبوؤں میں بسا، قیمتی لباس پہنے اور سنہری کار میں گھومتا ہوا وہ اپنے ماضی کو بھولتا جا رہا تھا۔
مگر اسے معلوم نہ تھا کہ اسی کار کی چمک اس کی زندگی کے اندھیروں کا سبب بننے والی ہے۔
اس کی کمپنی میں مالہ نامی ایک عورت ملازم تھی۔ وہ مغربی طرزِ زندگی سے متاثر تھی اور اپنے سابق شوہر سے علیحدگی اختیار کر چکی تھی۔ عاصم کی دولت، اس کا عہدہ اور سنہری کار اسے بہت متاثر کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ اس نے عاصم سے قربت بڑھانا شروع کر دی۔
عاصم کو بھی اپنی تعریف سننے کی عادت پڑ چکی تھی۔ مالہ کی باتوں میں اسے وہ کشش محسوس ہوتی جو گھر میں موجود رشتوں کی خاموش محبت میں دکھائی نہیں دیتی تھی۔ وہ یہ بھول گیا کہ بیوی کی خاموش خدمت، بیٹی کی معصوم مسکراہٹ اور والدین کی دعائیں کسی بھی دنیاوی آسائش سے زیادہ قیمتی ہوتی ہیں۔
مالہ کی والدہ بھی اسے عاصم کی رہائش گاہ پر بھیج دیتی تھیں۔ یوں دونوں کی ملاقاتوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ عاصم کے قدم اپنے گھر سے دور اور مالہ کے قریب ہوتے چلے گئے۔
گھر میں اس کی بوڑھی ماں دروازے کی آہٹ پر چونک اٹھتی۔ باپ بیٹے کے انتظار میں بیٹھا رہتا۔ بیوی فون کرتی تو عاصم کال منقطع کر دیتا۔ پھر اس نے بیوی کا نمبر بلاک کر دیا۔ جس بیٹے کی تعلیم کے لیے باپ نے اپنی آبائی حویلی فروخت کر دی تھی، وہ اب اسی باپ کی آواز سننے سے بھی گریز کرنے لگا تھا۔
ایک شام عاصم کا والد اپنے کمرے میں بیٹھا پرانی یادوں میں کھویا ہوا تھا۔ اسے وہ دن یاد آیا جب عاصم بچپن میں اس کی انگلی پکڑ کر چلتا تھا۔ وہ اسکول سے واپس آتا تو باپ کے گلے لگ جاتا اور اپنی چھوٹی چھوٹی فرمائشیں پیش کرتا۔ باپ اپنی استطاعت کے مطابق ہر فرمائش پوری کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
آج وہی بیٹا دولت کی بلندیوں پر پہنچ کر اپنے والدین کو بھول چکا تھا۔
باپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
ماں نے بھی کئی مرتبہ عاصم کو سمجھانے کی کوشش کی۔ اس نے اسے یاد دلایا کہ بیٹا، دولت زندگی کی ضرورت ضرور ہے، مگر رشتوں کا نعم البدل نہیں۔ جس عورت نے تمہارے ساتھ غربت کے دن گزارے، جس نے تمہاری بیٹی کو جنم دیا، تمہاری خوشی اور غم میں شریک رہی، اس کا بھی تم پر حق ہے۔
مگر عاصم پر مالہ کی محبت کا ایسا خمار چھایا ہوا تھا کہ اسے ماں کی نصیحت بھی ناگوار گزرنے لگی۔
ادھر گھر کے اخراجات بھی بند ہو گئے۔ بیوی اپنی بیٹی کے مستقبل کے بارے میں فکر مند رہنے لگی۔ والدین کی دواؤں کے لیے پیسے نہ رہے۔ جس گھر میں کبھی عاصم کی آمد پر خوشیاں منائی جاتی تھیں، وہاں اب خاموشی اور بے بسی نے ڈیرے ڈال لیے تھے۔
باپ کو دل کا عارضہ لاحق ہو گیا۔ ماں مسلسل روتی رہتی، یہاں تک کہ اس کی بینائی بھی شدید متاثر ہو گئی۔ ان دونوں کے لیے سب سے بڑا دکھ بیماری نہیں، بلکہ بیٹے کی بے اعتنائی تھی۔
آخر ایک دن عاصم کی کال آئی۔
اس کی بیوی نے فون اٹھایا تو دوسری طرف سے عاصم کی آواز سنائی دی۔
’’میں نے مالہ سے شادی کر لی ہے۔ اب تم اپنی زندگی کا فیصلہ خود کر لو۔‘‘
چند لمحوں کے لیے فون پر خاموشی چھا گئی۔
عاصم کی بیوی کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس نے اپنی معصوم بیٹی کی طرف دیکھا، جو اپنے باپ کی تصویر سینے سے لگائے بیٹھی تھی۔ اس بچی کو کیا معلوم تھا کہ اس کا باپ اب کسی اور عورت کے ساتھ نئی زندگی شروع کر چکا ہے۔
بیوی نے اپنے بھائیوں کو بلایا اور بیٹی کو ساتھ لے کر گاؤں واپس چلی گئی۔ اس کے قدم بھاری تھے، مگر خودداری نے اسے ٹوٹنے کے باوجود سنبھال رکھا تھا۔
گھر کے بزرگوں کو جب عاصم کی دوسری شادی کا علم ہوا تو ان کے دل پر جیسے قیامت گزر گئی۔ باپ نے دکھ سے کہا:
’’میں نے اپنے بیٹے کے لیے اپنی زندگی کی کمائی قربان کر دی۔ اپنی حویلی تک بیچ دی، مگر مجھے کیا معلوم تھا کہ ایک دن یہی بیٹا ہمارے بڑھاپے کا سہارا بننے کے بجائے ہمارے دکھوں کا سبب بن جائے گا۔‘‘
ماں نے روتے ہوئے اپنے ہاتھ اٹھائے اور کہا:
’’یا اللہ! میں نے اسے اپنی گود میں پالا تھا۔ میں نے اس کے لیے کتنی دعائیں مانگی تھیں۔ آج اس کے پاس سب کچھ ہے، مگر ہمارے لیے اس کے دل میں جگہ نہیں رہی۔‘‘
وقت گزرتا رہا۔
عاصم کے پاس اب بھی سنہری کار تھی۔ اس کے لباس قیمتی تھے، رہائش آسائشوں سے بھرپور تھی اور اس کے عہدے میں بھی کوئی کمی نہ آئی تھی۔ مگر جس گھر میں اس کی بیٹی کی ہنسی گونجتی تھی، وہ گھر اب اس کے لیے اجنبی ہو چکا تھا۔ والدین نے بھی دل شکستہ ہو کر اس سے تعلق محدود کر لیا۔ ان کے لیے اس کی دولت سے زیادہ عزیز ان کی عزتِ نفس تھی۔
مالہ کے ساتھ عاصم کی زندگی بظاہر آسودہ تھی، لیکن اسے اب اپنے ماضی کی یادیں ستانے لگی تھیں۔ کبھی بیٹی کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا، کبھی ماں کی آواز کانوں میں گونجتی اور کبھی باپ کا وہ تھکا ہوا چہرہ یاد آتا جو اس کی تعلیم کے لیے ساری زندگی محنت کرتا رہا تھا۔
ایک روز عاصم اپنی سنہری کار میں بیٹھا کہیں جا رہا تھا۔ ٹریفک سگنل پر گاڑی رکی تو اس کی نظر سڑک کے کنارے کھڑے ایک بوڑھے باپ پر پڑی، جو اپنے چھوٹے سے بچے کا ہاتھ تھامے اسے محبت سے سمجھا رہا تھا۔ بچہ خوشی سے باپ کی انگلی پکڑے آگے بڑھ رہا تھا۔
عاصم کا دل ایک لمحے کے لیے ٹھہر سا گیا۔
اسے اپنا بچپن یاد آ گیا۔ اسے وہ باپ یاد آیا جس نے اس کی خاطر اپنی حویلی فروخت کی تھی۔ اسے وہ ماں یاد آئی جس کی دعاؤں نے اسے زندگی کی راہوں پر آگے بڑھایا تھا۔ اسے اپنی بیوی یاد آئی، جس نے غربت میں بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا۔ اسے اپنی بیٹی یاد آئی، جو شاید آج بھی اس کی واپسی کی منتظر تھی۔
سگنل کھل گیا، مگر عاصم کی گاڑی آگے نہ بڑھ سکی۔ پیچھے سے ہارن بجنے لگے تو اس نے گاڑی آگے کر لی، لیکن اس کے دل میں ماضی کی دستک مسلسل گونجتی رہی۔
اسے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ اس نے ترقی تو کی تھی، مگر انسانیت کی منزل سے دور نکل گیا تھا۔ اس نے دولت تو جمع کر لی تھی، مگر اپنے رشتوں کا سرمایہ کھو دیا تھا۔
سنہری کار کی چمک اب بھی برقرار تھی، مگر اس کے اندر بیٹھا انسان اپنے ہی فیصلوں کے بوجھ تلے دب چکا تھا۔
عاصم نے ایک کار خریدی تھی، مگر اس کی قیمت صرف روپے نہیں تھے؛ اس کی قیمت اس کے والدین کی خوشیاں، بیوی کا اعتماد، بیٹی کا بچپن اور ایک آباد گھر تھا۔
یہ کہانی محض عاصم کی نہیں، ہر اس انسان کے لیے ایک سبق ہے جو دولت، عہدے اور ظاہری چمک دمک کو اپنے رشتوں سے زیادہ اہمیت دینے لگتا ہے۔
دولت انسان کو بڑا گھر، قیمتی لباس اور سنہری کار تو دے سکتی ہے، مگر والدین کی دعائیں، بیوی کا خلوص اور اولاد کی بے لوث محبت بازار سے نہیں خریدی جا سکتی۔
کیونکہ زندگی کی اصل کامیابی سنہری کار میں سفر کرنا نہیں، بلکہ ان رشتوں کے ساتھ سفر کرنا ہے جنہوں نے ہماری منزل تک پہنچنے میں اپنی زندگی کے قیمتی سال قربان کیے ہوں۔
اور جب انسان ان رشتوں کو کھو دیتا ہے تو دنیا کی ہر چمک اس کے لیے بے معنی ہو جاتی ہے۔
سنہری کار سڑکوں پر دوڑتی رہی، مگر عاصم کی زندگی محبت کے راستے سے بھٹک گئی۔
غربت انسان کو آزماتی ضرور ہے، مگر بعض اوقات دولت انسان کے کردار کا وہ چہرہ دکھا دیتی ہے جسے وہ خود بھی پہچان نہیں پاتا۔ عاصم کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی تھی، جس نے ایک سنہری کار کی چمک میں اپنے رشتوں کی ساری روشنی کھو دی۔
عاصم ایک غریب گھرانے کا چشم و چراغ تھا۔ اس کے والد پاک فوج میں ملازمت کرتے تھے۔ محدود آمدنی میں گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل تھا، مگر باپ کے دل میں اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دلانے کا خواب پلتا تھا۔ اس نے اپنی خواہشات کو قربان کیا، دن رات محنت کی اور بڑی مشکلوں سے عاصم کو بی کام تک تعلیم دلوائی۔
عاصم نے تعلیم مکمل کی تو اسے ایک بینک میں ملازمت مل گئی۔ گھر میں خوشیوں نے دستک دی۔ باپ کی برسوں کی محنت رنگ لائی تھی۔ عاصم کی شادی کے لیے اس کے والد نے دوستوں سے قرض لیا اور گاؤں کی آبائی حویلی بھی فروخت کر دی۔ یوں اپنے بھائی کی بیٹی، یعنی اپنی بھتیجی، کو بہو بنا کر گھر لے آیا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کا بیٹا ایک خوش حال زندگی گزارے اور اس کا گھر محبتوں سے آباد رہے۔
شادی کے بعد زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی۔ اللہ تعالیٰ نے عاصم کو ایک پیاری سی بیٹی سے نوازا۔ اس کی بیوی شوہر کی خدمت کرتی، بیٹی باپ کی آغوش میں کھیلتی اور بوڑھے والدین اپنے بیٹے کی خوشیوں میں خوش رہتے۔
پھر وقت نے کروٹ بدلی۔
عاصم نے ملازمت میں ترقی کی اور ایک انشورنس کمپنی میں ڈپٹی ڈائریکٹر بن گیا۔ اس کی آمدنی بڑھنے لگی۔ لباس مہنگا ہو گیا، رہن سہن بدل گیا اور دوستوں کا حلقہ بھی تبدیل ہونے لگا۔ وہ دولت جمع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی حیثیت کا اظہار کرنے کا خواہش مند ہو گیا۔
ایک دن اس نے ایک چمچماتی ہوئی سنہری کار خرید لی۔
کار واقعی خوب صورت تھی۔ اس کی چمک دور سے نگاہوں کو اپنی طرف کھینچتی تھی۔ عاصم کو بھی اپنی اس نئی سواری پر بڑا ناز تھا۔ اب وہ پہلے والا سادہ مزاج عاصم نہیں رہا تھا۔ خوشبوؤں میں بسا، قیمتی لباس پہنے اور سنہری کار میں گھومتا ہوا وہ اپنے ماضی کو بھولتا جا رہا تھا۔
مگر اسے معلوم نہ تھا کہ اسی کار کی چمک اس کی زندگی کے اندھیروں کا سبب بننے والی ہے۔
اس کی کمپنی میں مالہ نامی ایک عورت ملازم تھی۔ وہ مغربی طرزِ زندگی سے متاثر تھی اور اپنے سابق شوہر سے علیحدگی اختیار کر چکی تھی۔ عاصم کی دولت، اس کا عہدہ اور سنہری کار اسے بہت متاثر کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ اس نے عاصم سے قربت بڑھانا شروع کر دی۔
عاصم کو بھی اپنی تعریف سننے کی عادت پڑ چکی تھی۔ مالہ کی باتوں میں اسے وہ کشش محسوس ہوتی جو گھر میں موجود رشتوں کی خاموش محبت میں دکھائی نہیں دیتی تھی۔ وہ یہ بھول گیا کہ بیوی کی خاموش خدمت، بیٹی کی معصوم مسکراہٹ اور والدین کی دعائیں کسی بھی دنیاوی آسائش سے زیادہ قیمتی ہوتی ہیں۔
مالہ کی والدہ بھی اسے عاصم کی رہائش گاہ پر بھیج دیتی تھیں۔ یوں دونوں کی ملاقاتوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ عاصم کے قدم اپنے گھر سے دور اور مالہ کے قریب ہوتے چلے گئے۔
گھر میں اس کی بوڑھی ماں دروازے کی آہٹ پر چونک اٹھتی۔ باپ بیٹے کے انتظار میں بیٹھا رہتا۔ بیوی فون کرتی تو عاصم کال منقطع کر دیتا۔ پھر اس نے بیوی کا نمبر بلاک کر دیا۔ جس بیٹے کی تعلیم کے لیے باپ نے اپنی آبائی حویلی فروخت کر دی تھی، وہ اب اسی باپ کی آواز سننے سے بھی گریز کرنے لگا تھا۔
ایک شام عاصم کا والد اپنے کمرے میں بیٹھا پرانی یادوں میں کھویا ہوا تھا۔ اسے وہ دن یاد آیا جب عاصم بچپن میں اس کی انگلی پکڑ کر چلتا تھا۔ وہ اسکول سے واپس آتا تو باپ کے گلے لگ جاتا اور اپنی چھوٹی چھوٹی فرمائشیں پیش کرتا۔ باپ اپنی استطاعت کے مطابق ہر فرمائش پوری کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
آج وہی بیٹا دولت کی بلندیوں پر پہنچ کر اپنے والدین کو بھول چکا تھا۔
باپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
ماں نے بھی کئی مرتبہ عاصم کو سمجھانے کی کوشش کی۔ اس نے اسے یاد دلایا کہ بیٹا، دولت زندگی کی ضرورت ضرور ہے، مگر رشتوں کا نعم البدل نہیں۔ جس عورت نے تمہارے ساتھ غربت کے دن گزارے، جس نے تمہاری بیٹی کو جنم دیا، تمہاری خوشی اور غم میں شریک رہی، اس کا بھی تم پر حق ہے۔
مگر عاصم پر مالہ کی محبت کا ایسا خمار چھایا ہوا تھا کہ اسے ماں کی نصیحت بھی ناگوار گزرنے لگی۔
ادھر گھر کے اخراجات بھی بند ہو گئے۔ بیوی اپنی بیٹی کے مستقبل کے بارے میں فکر مند رہنے لگی۔ والدین کی دواؤں کے لیے پیسے نہ رہے۔ جس گھر میں کبھی عاصم کی آمد پر خوشیاں منائی جاتی تھیں، وہاں اب خاموشی اور بے بسی نے ڈیرے ڈال لیے تھے۔
باپ کو دل کا عارضہ لاحق ہو گیا۔ ماں مسلسل روتی رہتی، یہاں تک کہ اس کی بینائی بھی شدید متاثر ہو گئی۔ ان دونوں کے لیے سب سے بڑا دکھ بیماری نہیں، بلکہ بیٹے کی بے اعتنائی تھی۔
آخر ایک دن عاصم کی کال آئی۔
اس کی بیوی نے فون اٹھایا تو دوسری طرف سے عاصم کی آواز سنائی دی۔
’’میں نے مالہ سے شادی کر لی ہے۔ اب تم اپنی زندگی کا فیصلہ خود کر لو۔‘‘
چند لمحوں کے لیے فون پر خاموشی چھا گئی۔
عاصم کی بیوی کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس نے اپنی معصوم بیٹی کی طرف دیکھا، جو اپنے باپ کی تصویر سینے سے لگائے بیٹھی تھی۔ اس بچی کو کیا معلوم تھا کہ اس کا باپ اب کسی اور عورت کے ساتھ نئی زندگی شروع کر چکا ہے۔
بیوی نے اپنے بھائیوں کو بلایا اور بیٹی کو ساتھ لے کر گاؤں واپس چلی گئی۔ اس کے قدم بھاری تھے، مگر خودداری نے اسے ٹوٹنے کے باوجود سنبھال رکھا تھا۔
گھر کے بزرگوں کو جب عاصم کی دوسری شادی کا علم ہوا تو ان کے دل پر جیسے قیامت گزر گئی۔ باپ نے دکھ سے کہا:
’’میں نے اپنے بیٹے کے لیے اپنی زندگی کی کمائی قربان کر دی۔ اپنی حویلی تک بیچ دی، مگر مجھے کیا معلوم تھا کہ ایک دن یہی بیٹا ہمارے بڑھاپے کا سہارا بننے کے بجائے ہمارے دکھوں کا سبب بن جائے گا۔‘‘
ماں نے روتے ہوئے اپنے ہاتھ اٹھائے اور کہا:
’’یا اللہ! میں نے اسے اپنی گود میں پالا تھا۔ میں نے اس کے لیے کتنی دعائیں مانگی تھیں۔ آج اس کے پاس سب کچھ ہے، مگر ہمارے لیے اس کے دل میں جگہ نہیں رہی۔‘‘
وقت گزرتا رہا۔
عاصم کے پاس اب بھی سنہری کار تھی۔ اس کے لباس قیمتی تھے، رہائش آسائشوں سے بھرپور تھی اور اس کے عہدے میں بھی کوئی کمی نہ آئی تھی۔ مگر جس گھر میں اس کی بیٹی کی ہنسی گونجتی تھی، وہ گھر اب اس کے لیے اجنبی ہو چکا تھا۔ والدین نے بھی دل شکستہ ہو کر اس سے تعلق محدود کر لیا۔ ان کے لیے اس کی دولت سے زیادہ عزیز ان کی عزتِ نفس تھی۔
مالہ کے ساتھ عاصم کی زندگی بظاہر آسودہ تھی، لیکن اسے اب اپنے ماضی کی یادیں ستانے لگی تھیں۔ کبھی بیٹی کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا، کبھی ماں کی آواز کانوں میں گونجتی اور کبھی باپ کا وہ تھکا ہوا چہرہ یاد آتا جو اس کی تعلیم کے لیے ساری زندگی محنت کرتا رہا تھا۔
ایک روز عاصم اپنی سنہری کار میں بیٹھا کہیں جا رہا تھا۔ ٹریفک سگنل پر گاڑی رکی تو اس کی نظر سڑک کے کنارے کھڑے ایک بوڑھے باپ پر پڑی، جو اپنے چھوٹے سے بچے کا ہاتھ تھامے اسے محبت سے سمجھا رہا تھا۔ بچہ خوشی سے باپ کی انگلی پکڑے آگے بڑھ رہا تھا۔
عاصم کا دل ایک لمحے کے لیے ٹھہر سا گیا۔
اسے اپنا بچپن یاد آ گیا۔ اسے وہ باپ یاد آیا جس نے اس کی خاطر اپنی حویلی فروخت کی تھی۔ اسے وہ ماں یاد آئی جس کی دعاؤں نے اسے زندگی کی راہوں پر آگے بڑھایا تھا۔ اسے اپنی بیوی یاد آئی، جس نے غربت میں بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا۔ اسے اپنی بیٹی یاد آئی، جو شاید آج بھی اس کی واپسی کی منتظر تھی۔
سگنل کھل گیا، مگر عاصم کی گاڑی آگے نہ بڑھ سکی۔ پیچھے سے ہارن بجنے لگے تو اس نے گاڑی آگے کر لی، لیکن اس کے دل میں ماضی کی دستک مسلسل گونجتی رہی۔
اسے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ اس نے ترقی تو کی تھی، مگر انسانیت کی منزل سے دور نکل گیا تھا۔ اس نے دولت تو جمع کر لی تھی، مگر اپنے رشتوں کا سرمایہ کھو دیا تھا۔
سنہری کار کی چمک اب بھی برقرار تھی، مگر اس کے اندر بیٹھا انسان اپنے ہی فیصلوں کے بوجھ تلے دب چکا تھا۔
عاصم نے ایک کار خریدی تھی، مگر اس کی قیمت صرف روپے نہیں تھے؛ اس کی قیمت اس کے والدین کی خوشیاں، بیوی کا اعتماد، بیٹی کا بچپن اور ایک آباد گھر تھا۔
یہ کہانی محض عاصم کی نہیں، ہر اس انسان کے لیے ایک سبق ہے جو دولت، عہدے اور ظاہری چمک دمک کو اپنے رشتوں سے زیادہ اہمیت دینے لگتا ہے۔
دولت انسان کو بڑا گھر، قیمتی لباس اور سنہری کار تو دے سکتی ہے، مگر والدین کی دعائیں، بیوی کا خلوص اور اولاد کی بے لوث محبت بازار سے نہیں خریدی جا سکتی۔
کیونکہ زندگی کی اصل کامیابی سنہری کار میں سفر کرنا نہیں، بلکہ ان رشتوں کے ساتھ سفر کرنا ہے جنہوں نے ہماری منزل تک پہنچنے میں اپنی زندگی کے قیمتی سال قربان کیے ہوں۔
اور جب انسان ان رشتوں کو کھو دیتا ہے تو دنیا کی ہر چمک اس کے لیے بے معنی ہو جاتی ہے۔
سنہری کار سڑکوں پر دوڑتی رہی، مگر عاصم کی زندگی محبت کے راستے سے بھٹک گئی۔
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔