شبِ سیاہ کی زنجیر کچھ تو ٹوٹی ہے
کلام: اکبر یوسف زئی مرحوم
تبصرہ نگار: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
اکبر یوسف زئی مرحوم کا تعلق اٹک کی اس مردم خیز سرزمین سے تھا جس نے علم و ادب کے کئی نام ور افراد کو جنم دیا۔ وہ ایک ایسے علمی و ادبی گھرانے کے چشم و چراغ تھے جہاں شعر و سخن محض ذوق نہیں، بلکہ ایک تہذیبی روایت کی حیثیت رکھتا تھا۔ ان کے والد ڈاکٹر اظفر حسین خان اظفر حصاری اور بھائی انوار فیروز بھی صاحبِ ذوق شاعر تھے۔ اسی ادبی ماحول میں اکبر یوسف زئی کی شعری شخصیت نے نشوونما پائی اور انھوں نے اپنے شعری ذوق کو اہلِ خانہ سے اصلاح لے کر جلا بخشی۔
صحافت اور ادب دونوں میدانوں میں ان کی وابستگی نمایاں رہی۔ روزنامہ جنگ سے منسلک ہونے کے علاوہ وہ ماہنامہ اسلوب کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ ڈگری کالج اٹک میں بزمِ ادب کی سرپرستی اور کالج میگزین مشعل کی ادارت کے ذریعے انھوں نے نئی نسل میں ادبی ذوق کی آبیاری میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔ ان کی شخصیت کا یہ ادبی و صحافتی پس منظر اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ محض شعر کہنے والے تخلیق کار نہیں تھے، بلکہ اپنے عہد، اس کے فکری رجحانات اور اجتماعی زندگی کے مسائل سے بھی گہری وابستگی رکھتے تھے۔
اکبر یوسف زئی کی زیرِ نظر نظم اسی حساس شعری شعور کی عکاس ہے۔ اس میں ایک ایسے انسان کی آواز سنائی دیتی ہے جو زندگی کی تاریکیوں، محرومیوں اور طویل آزمائشوں سے گزرنے کے باوجود امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔ شاعر کے ہاں رات اور سحر، زنجیر اور آزادی، زخم اور پھول جیسی علامتیں محض شعری پیکر نہیں، بلکہ انسانی جدوجہد اور اجتماعی بیداری کے استعارے ہیں۔ نظم کا لہجہ جہاں ایک طرف کامیابی کی نوید سناتا ہے، وہیں دوسری طرف اس حقیقت کا احساس بھی دلاتا ہے کہ کسی تبدیلی کا آغاز، منزل کا حصول نہیں ہوتا۔ یہی امید اور حقیقت شناسی کا امتزاج اس نظم کو خصوصی معنویت عطا کرتا ہے۔
اکبر یوسف زئی کے اس کلام میں ان کے عہد کے اجتماعی احساسات، انسانی حوصلے اور روشن مستقبل کی آرزو کو سمجھنے کے کئی پہلو موجود ہیں۔ قارئین کی نذر ان کی یہ نظم، جس میں تاریکی سے روشنی تک کے سفر کو ایک دل نشیں شعری تجربے کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔
نظم
شب سیاہ کا جادو تو آج ٹوٹ گیا
خوشہ کہ دامن رنگیں فضا میں لہرایا
وہ گیت جس پہ اندھیرے کی مہر تھی یارو
میری زبان پہ وہ گیت بار بار آیا
سیاہ خانہ دل میں امید روشن ہے
یہ بات کیا ہے خلاؤں سے روشنی پھوٹی
بڑے ہیں چاند ستارے بھی خیر مقدم کو
لچک کے صحن گلستاں میں شاخ بھی ٹوٹی
طویل راہ تھی لیکن بڑے عزم سے
بڑے خلوص سے ہمت سے ہم نے کاٹی ہے
اگرچہ ایک مسلسل کڑی تھی اے لوگوں
سیاہ رات کی زنجیر ہم نے کاٹی ہے
اسی چمن میں حقیقت بنیں گے خواب حسین
اگرچہ دل میں ہمارے ہیں سینکٹروں گھاؤ
یہ گھاؤ پھول بنیں گے ہمارے سینے میں
نئی سحر ہے جلو میں خوشی کے دیپ جلاؤ
تمھاری منزل مقصود اور آگے ہے
ابھی کچھ اور زمانے کے ظلم و جور سہو
اگر ہے رات اندھیری تو دل کے داغ جلاؤ
چمن میں تھک کے نہ بیٹھو ابھی تو یہی کہو
شب سیاہ کی زنجیر کچھ تو ٹوٹی ہے
افق پہ ایک سنہری کرن تو پھوٹی ہے
اکبر یوسف زئی مرحوم کی اس نظم کو ان کے ادبی پس منظر اور اجتماعی شعور کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا بنیادی تاثر مزید واضح ہو جاتا ہے۔ صحافت سے وابستگی اور ادبی سرگرمیوں میں شرکت نے ان کے لیے اپنے عہد کے حالات کو قریب سے دیکھنے اور محسوس کرنے کے امکانات پیدا کیے۔ زیرِ نظر نظم میں بھی ایک ایسی ہی حساس نگاہ دکھائی دیتی ہے جو تاریکی کو محض ایک کیفیت کے طور پر نہیں دیکھتی، بلکہ اس کے اسباب، اس کے اثرات اور اس سے نکلنے کی انسانی جدوجہد کو بھی اہمیت دیتی ہے۔ یوں نظم شاعر کی امید پرستی کے ساتھ اس کی حقیقت شناسی کا اظہار بھی بن جاتی ہے۔
نظم کا مرکزی استعارہ ’’شبِ سیاہ‘‘ ہے، جو جبر، محرومی، مایوسی اور اجتماعی زندگی کی دشواریوں کی علامت بن کر سامنے آتا ہے۔ اس کے مقابلے میں سحر اور سنہری کرن امید، تبدیلی اور نئے امکانات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ شاعر ان علامتوں کے ذریعے ایک ایسی فضا تخلیق کرتا ہے جس میں طویل آزمائشوں کے بعد زندگی میں کسی مثبت تبدیلی کا احساس جنم لیتا ہے۔ اس احساس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ شاعر تاریکی کے وجود سے انکار نہیں کرتا، بلکہ اس کے مقابلے میں انسانی عزم کی قوت کو نمایاں کرتا ہے۔
اس نظم میں امید محض ایک انفرادی جذبہ نہیں، بلکہ اجتماعی تجربے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر کا لہجہ اپنے ہم عصروں اور ہم سفروں سے مخاطب ہے۔ وہ کامیابی کو کسی ایک شخص کی فتح نہیں سمجھتا، بلکہ اسے مشترکہ جدوجہد اور اجتماعی حوصلے کا ثمر قرار دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نظم پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے جیسے شاعر اپنے عہد کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے، ان کے دکھوں کو محسوس کرتا ہے اور ان کے بہتر مستقبل کی آرزو میں شریک ہے۔ یہ اجتماعی وابستگی نظم کو ذاتی جذبات کے محدود دائرے سے نکال کر وسیع انسانی معنویت عطا کرتی ہے۔
اکبر یوسف زئی کی فکری پختگی اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ کامیابی کے لمحے میں بھی اپنے قاری کو حقیقت سے غافل نہیں ہونے دیتے۔ رات کی زنجیر ٹوٹنے کا احساس اپنی جگہ خوش آئند ہے، مگر شاعر جانتا ہے کہ ہر تبدیلی کے بعد نئے تقاضے سامنے آتے ہیں۔ اسی لیے نظم میں مسرت کے ساتھ احتیاط، امید کے ساتھ ذمہ داری اور فتح کے احساس کے ساتھ مسلسل جدوجہد کی تلقین بھی موجود ہے۔ شاعر کے نزدیک منزل کا حصول کسی ایک مرحلے کی کامیابی نہیں، بلکہ ایک مسلسل عمل ہے جس کے لیے حوصلہ اور استقامت ناگزیر ہیں۔
نظم میں زخموں کا پھول بن جانا ایک نہایت دل نشیں علامتی تصور ہے۔ اس میں شاعر کا یہ یقین جھلکتا ہے کہ زندگی کی سختیاں اور قربانیاں کسی بامقصد جدوجہد سے وابستہ ہوں تو مستقبل کی تعمیر میں قوت بن سکتی ہیں۔ یہ تصور قاری کو دکھ کے سامنے بے بس ہونے کے بجائے اسے حوصلے اور آگہی میں ڈھالنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اسی طرح چمن اور خواب کی علامتیں اس اجتماعی آرزو کی نمائندگی کرتی ہیں جس میں ایک بہتر معاشرے، پُرامن زندگی اور روشن مستقبل کا تصور پوشیدہ ہے۔
فنی اعتبار سے نظم کی سادگی، علامتی اظہار اور خطیبانہ آہنگ اس کے پیغام کو مؤثر بناتے ہیں۔ شاعر نے مانوس الفاظ اور واضح علامتوں کے ذریعے ایک ایسی شعری فضا قائم کی ہے جو قاری کے احساسات تک براہِ راست رسائی حاصل کرتی ہے۔ شبِ سیاہ اور سنہری کرن کا تضاد نظم کو فکری وحدت عطا کرتا ہے، جب کہ زنجیر، چمن، زخم اور سحر کے استعارے اس کے مرکزی خیال کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ بعض مقامات پر پیغام کی صراحت شعری لطافت پر غالب آتی ہے، لیکن نظم کا ترغیبی مزاج اور اجتماعی لہجہ اس اسلوب سے مناسبت رکھتے ہیں۔
نظم کا اختتام اس کے پورے فکری سفر کو ایک متوازن اور پُراثر نقطۂ انجام عطا کرتا ہے۔ شاعر یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ تمام تاریکیاں ختم ہو چکی ہیں، بلکہ اس حقیقت پر اطمینان کا اظہار کرتا ہے کہ زنجیر کچھ تو ٹوٹی ہے اور افق پر ایک کرن تو نمودار ہوئی ہے۔ یہاں ’’کچھ تو‘‘ کے الفاظ شاعر کی حقیقت پسندی کو نمایاں کرتے ہیں، جب کہ ’’سنہری کرن‘‘ مستقبل کے امکانات پر اس کے اعتماد کی علامت ہے۔ یہ محدود مگر حقیقی پیش رفت ہی نظم کی امید کو قابلِ اعتبار بناتی ہے۔
مجموعی طور پر اکبر یوسف زئی مرحوم کی یہ نظم ان کے اس شعری رویے کی نمائندگی کرتی ہے جس میں عہد کا شعور، اجتماعی احساس اور مستقبل سے وابستہ امید ایک دوسرے سے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی شاعری کا یہ پہلو ہمیں بتاتا ہے کہ اندھیروں کو پہچاننا ضروری ہے، مگر ان کے سامنے ہتھیار ڈال دینا ناگزیر نہیں۔ زندگی کی اصل قوت اسی عزم میں پوشیدہ ہے جو نامساعد حالات کے باوجود سفر جاری رکھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔
بلاشبہ، ’’شبِ سیاہ کی زنجیر کچھ تو ٹوٹی ہے‘‘ محض طلوعِ سحر کا نغمہ نہیں، بلکہ اس جدوجہد کا شعری اظہار ہے جو روشنی کی پہلی کرن کو ایک روشن مستقبل میں تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ یہی اس نظم کا بنیادی پیغام، اس کی فکری معنویت اور اکبر یوسف زئی مرحوم کے شعری احساس کی نمایاں خوبی ہے۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔