خوشبو پھندہ بنی
افسانہ نگار: سید حبدار قائم
راجو درویش ایک محنتی، دیانت دار اور وضع دار انسان تھا۔ اس کے تین بیٹے تھے۔ شہر میں اس کا اپنا ہوٹل تھا جہاں دن بھر گاہکوں کا تانتا بندھا رہتا۔ اللہ نے رزق میں برکت دے رکھی تھی۔ راجو نے ہمیشہ حلال کی کمائی پر اکتفا کیا اور اپنے بچوں کی تربیت میں کبھی کوتاہی نہ برتی۔ اس کی خواہش تھی کہ اس کے بیٹے نہ صرف معاشی طور پر خودمختار ہوں بلکہ کردار کی دولت سے بھی مالا مال رہیں۔ اسی لیے اس نے اپنے ایک بیٹے کے لیے الگ ہوٹل بنوا دیا تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔
اس کا بیٹا سلیم بھی باپ کی طرح محنتی تھا۔ صبح گھر سے نکلتا تو رات گئے واپس آتا۔ راجو نے اس کی شادی ایک تعلیم یافتہ، حسین و جمیل لڑکی نائلہ سے کی تھی۔ نائلہ کے چہرے پر ایسی دل کشی تھی کہ دیکھنے والا اس کے حسن کی تعریف کیے بغیر نہ رہتا۔ راجو کے گھر میں آسودگی تھی، بزرگوں کا احترام تھا اور رشتوں کی ایک خوب صورت زنجیر تھی۔ بظاہر زندگی اپنے تمام رنگوں کے ساتھ مسکرا رہی تھی، مگر بعض اوقات زندگی کے روشن دریچوں کے پیچھے ایسے اندھیرے پل رہے ہوتے ہیں جن کا اندازہ گھر کے مکینوں کو بھی نہیں ہوتا۔
نائلہ نے سوشل میڈیا پر وقت گزارتے گزارتے اپنے ہی گاؤں کے ایک نوجوان سے دوستی کر لی۔ ابتدا میں چند پیغامات کا تبادلہ ہوا، پھر باتوں نے بے تکلفی کا روپ دھارا اور بے تکلفی آہستہ آہستہ ایسی قربت میں بدل گئی جس کی خبر نہ سلیم کو تھی، نہ راجو کو اور نہ اس عورت کو جو نائلہ کو اپنی بیٹیوں کی طرح سمجھتی تھی۔
سلیم اپنے ہوٹل پر چلا جاتا تو نائلہ کے لیے گھر کی تنہائی ایک سانپ بن جاتی۔ وہ اپنے آشنا کو گھر بلا لیتی۔ جس گھر میں اعتماد کو عزت سمجھا جاتا تھا، اسی گھر میں اعتماد کو دھوکا دینے کا سلسلہ جاری تھا۔
ایک روز سلیم حسبِ معمول ہوٹل پر چلا گیا۔ راجو بھی شہر میں ہوٹل کے کسی کام کے لیے نکل گیا۔ گھر میں عورتیں اور بچے رہ گئے۔ نائلہ نے موقع غنیمت جانا اور اپنے آشنا کو گھر بلا لیا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ آج کی یہ ملاقات اس کے لیے خوشبو کا ایسا پھندا ثابت ہوگی جس سے نکلنے کا راستہ شاید اسے کبھی نہ مل سکے۔
دوپہر کا وقت تھا۔ گھر کے صحن میں خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔ اچانک راجو کی ننھی پوتی اپنی دادی کے پاس آئی اور معصومیت سے بولی، ’’دادی اماں! آج ہمارے گھر سے بڑی عجیب سی خوشبو آ رہی ہے۔‘‘
دادی نے حیران ہو کر پوچھا،
’’کیسی خوشبو، بیٹی؟‘‘
بچی نے ناک سکیڑتے ہوئے کہا، ’’مجھے معلوم نہیں، دادی! بس ایسی خوشبو ہے جو پہلے کبھی نہیں آئی۔‘‘
دادی مسکرائی، ’’شاید تمہاری امی نے کوئی نیا عطر لگایا ہوگا۔‘‘
’’نہیں دادی اماں، خوشبو امی کے کمرے کی طرف سے آ رہی ہے۔‘‘
یہ سن کر دادی کے قدم بے اختیار اس سمت اٹھنے لگے۔ کمرے کے قریب پہنچی تو دروازہ بند تھا۔ اندر سے دبی دبی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ اس نے دروازے پر ہاتھ رکھا، مگر اگلے ہی لمحے اس کا ہاتھ کانپنے لگا۔ دروازہ کھلا تو اس کی آنکھوں کے سامنے ایسا منظر تھا جس نے برسوں کی محبت، اعتماد اور خاندانی وقار کو ایک ہی لمحے میں لرزا دیا۔
نائلہ اپنے آشنا کے ساتھ ایک بستر پر موجود تھی۔
دادی کے لبوں پر جیسے خاموشی کے تالے پڑ گئے۔ کچھ دیر وہ پتھر کی مورت بنی کھڑی رہی، پھر اس کی آواز نکلی، ’’نائلہ! یہ تم کیا کر رہی ہو؟‘‘
نائلہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ اس کا آشنا گھبرا کر اٹھا اور کپڑے سنبھالنے لگا۔
’’اماں، آپ میری بات تو سنیں۔۔۔‘‘ نائلہ نے لڑکھڑاتی آواز میں کہا۔
دادی کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ ’’کیا سنوں؟ وہ کون سی بات باقی رہ گئی ہے جو میری آنکھوں نے نہیں دیکھ لی؟ جس گھر نے تمہیں عزت دی، جس بیٹے نے تمہاری خوشیوں کے لیے دن رات ایک کیا، تم نے اسی گھر کی دہلیز کو اپنے لیے رسوائی کا راستہ بنا لیا؟‘‘
اسی دوران سلیم بھی کسی ضروری کام کے سلسلے میں گھر واپس آ گیا۔ صحن میں اپنی ماں کو روتے اور کمرے کے سامنے کھڑے دیکھ کر اس کے قدم رک گئے۔
’’امی! کیا ہوا ہے؟ آپ رو کیوں رہی ہیں؟‘‘
ماں جواب نہ دے سکی۔ اس نے صرف کمرے کی طرف اشارہ کر دیا۔
سلیم اندر داخل ہوا تو اس کے لیے دنیا جیسے اپنی جگہ سے ہل گئی۔ چند لمحے وہ نائلہ کو دیکھتا رہا، پھر اس کی نگاہ اس اجنبی نوجوان پر جم گئی جو اس کے لحاف میں تھا۔
’’کون ہو تم؟ اور میرے گھر میں کیا کر رہے ہو؟‘‘
نوجوان خاموش رہا۔
’’میں تم سے پوچھ رہا ہوں، بولتے کیوں نہیں؟‘‘ سلیم کی آواز پورے گھر میں گونج اٹھی۔
نائلہ آگے بڑھی، ’’سلیم! میری بات سنو، یہ لڑکا میں نے خود بلایا ہے‘‘
سلیم کے چہرے پر کرب کی ایک لکیر ابھری۔ ’’ ایسا کیوں کیا ہے، کیا یہ میرے پیار کا صلہ ہے نائلہ؟
نائلہ نے شرمندہ ہوۓ بغیر کہا
مجھے دن بھر تنہائی ڈستی تھی مجھے کسی کا ساتھ چاہیے تھا
سلیم نے کہا
کیا میری آنکھیں مجھے دھوکا دیتی رہی ہیں؟ کیا اس گھر کی دیواریں جھوٹ بولتی رہی ہیں کہ تم میری ہو ؟‘‘
اس نے غصے میں آ کر نوجوان کا گریبان پکڑ لیا۔ ’’تمہیں میرے گھر میں آنے کی جرأت کیسے ہوئی؟‘‘
بات بڑھ گئی۔ سلیم نے اسے مارنا شروع کر دیا۔ شور کے دوران راجو بھی واپس آ گیا۔ گھر کے دوسرے افراد جمع ہوگئے۔ کسی نے نوجوان کو پکڑا، کسی نے سلیم کو روکنے کی کوشش کی۔ مگر اس وقت سلیم کے اندر برسوں کا اعتماد ٹوٹ کر بکھر چکا تھا۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی نے اس کی محنت، اس کی محبت اور اس کے گھر کی بنیادوں کو ایک ہی وار میں مسمار کر دیا ہو۔
اسی ہنگامے میں نائلہ کی آواز بلند ہوئی۔ اسے میں نے بلایا ہے جس کام کے لیے آیا ہے اسے کرنے دو اور
’’خدا کے لیے! پہلے اسے وہ کام تو کر لینے دو جس کے لیے میں نے اسے بلایا ہے، پھر جو چاہے کر لینا!‘‘
نائلہ کی اس بے غیرتی پر ایک لمحے کے لیے گھر میں ایسی خاموشی چھا گئی جیسے وقت نے اپنی سانس روک لی ہو۔
سلیم کے ہاتھ وہیں رک گئے۔ اس نے حیرت سے نائلہ کی طرف دیکھا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ جس عورت کو اس نے اپنی زندگی کا ساتھی سمجھا تھا، وہ اس وقت بھی اپنے آشنا کی فکر میں مبتلا تھی، جب اس کے سامنے اس کا گھر اجڑ رہا تھا۔
’’نائلہ!‘‘ سلیم کے لبوں سے صرف اتنا نکلا۔
اس ایک لفظ میں سوال بھی تھا، شکایت بھی، نفرت بھی اور وہ دکھ بھی جسے بیان کرنے کے لیے دنیا کی تمام لغتیں ناکافی معلوم ہوتی ہیں۔
نائلہ نے نظریں جھکا لیں، مگر اس کے چہرے پر شرمندگی کی بجائے بے چینی زیادہ نمایاں تھی۔
راجو درویش نے دیوار کا سہارا لیا۔ اسے اپنی زندگی کی وہ ساری صبحیں یاد آنے لگیں جب وہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے ہوٹل کا شٹر سب سے پہلے اٹھاتا تھا۔ اسے وہ راتیں یاد آئیں جب تھکن سے چور ہونے کے باوجود بچوں کی خواہشیں پوری کرنے کے لیے حساب کتاب کرتا رہتا تھا۔ اس نے رزق کمایا، اولاد کو پالا، گھر بسائے، رشتوں کو جوڑا مگر آج اس کے اپنے گھر میں اعتبار کی لاش پڑی تھی۔
اس نے دھیمی آواز میں کہا، ’’سلیم! انسان کی سب سے بڑی کمائی اس کا کردار ہوتا ہے۔ مال چلا جائے تو دوبارہ کمایا جا سکتا ہے، مگر اعتبار ٹوٹ جائے تو اس کی کرچیاں عمر بھر دل میں چبھتی رہتی ہیں۔‘‘
سلیم نے باپ کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں، مگر اب وہ خاموش تھا۔
راجو نے نائلہ سے پوچھا، ’’بیٹی، تمہیں اس گھر میں کس چیز کی کمی تھی؟ عزت کی؟ آسائش کی؟ محبت کی؟ یا تمہارے دل میں کوئی ایسی خواہش تھی جسے ہم سمجھ نہ سکے؟‘‘
نائلہ کے پاس جواب تھا، مگر شاید اسے الفاظ نہیں مل رہے تھے۔ وہ کبھی سلیم کو دیکھتی، کبھی اپنے آشنا کو، اور کبھی دروازے کی طرف جیسے وہاں سے کوئی راستہ نکل آئے گا۔
نوجوان نے موقع پا کر خود کو چھڑانے کی کوشش کی۔ گھر کے مرد اسے پکڑ کر کھڑے تھے۔ راجو نے سب کو روک دیا۔
’’بس! اب کوئی ہاتھ نہیں اٹھائے گا۔ جو کچھ سامنے آ چکا ہے، اسے مزید شور کی ضرورت نہیں۔ ہر فیصلہ غصے میں نہیں کیا جاتا۔‘‘
اس نے نوجوان کو دروازے کی طرف جانے کا اشارہ کیا۔ وہ نظریں چرائے باہر نکل گیا۔ نائلہ وہیں کھڑی رہی۔ جس خوشبو کو اس نے اپنی ملاقات کا حصہ سمجھا تھا، وہ اب اسے اپنے ہی گھر کی فضا میں اجنبی محسوس ہو رہی تھی۔ خوشبو باقی تھی، مگر اس کا مفہوم بدل چکا تھا۔
سلیم نے کمرے کی کھڑکی کھول دی۔ باہر سے ہوا کا ایک جھونکا اندر آیا اور عطر کی تیز مہک کو گھر کے دوسرے حصوں میں پھیلا گیا۔ ننھی پوتی دادی کے دامن سے لپٹ کر بولی، ’’دادی اماں! اب بھی خوشبو آ رہی ہے۔‘‘
دادی نے بچی کو سینے سے لگا لیا۔ اس کے لب کانپے، مگر وہ کچھ نہ بولی۔
سلیم نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ سامنے گلی میں لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ کسی کو خبر نہ تھی کہ اس گھر میں چند لمحوں کے اندر کتنے خواب ٹوٹ گئے ہیں۔ اسے خیال آیا کہ اگر آج وہ کسی کام سے واپس نہ آتا، اگر اس کی بیٹی نے خوشبو کی طرف دادی اماں کی توجہ نہ دلائی ہوتی، تو شاید اس گھر کی دیواریں ایک ایسے راز کی محافظ بنی رہتیں جس کی بنیاد میں دھوکا دفن تھا۔
مگر پھر اس کے ذہن میں ایک اور سوال اٹھا کیا راز کا ظاہر ہو جانا ہی اصل المیہ تھا، یا وہ بے خبری جس میں سب ایک دوسرے پر اعتماد کرتے رہے؟
راجو درویش خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔ اس کے قدموں میں پہلے جیسی مضبوطی نہ تھی۔ سلیم ایک طرف کھڑا تھا، نائلہ دوسری طرف، اور درمیان میں وہ گھر تھا جسے سب اپنا کہتے تھے، مگر اب کسی کو معلوم نہ تھا کہ اس گھر میں اپنا کون تھا اور پرایا کون۔
نائلہ کے آشنا کی کمرے میں رکھی عطر کی شیشی میز سے ٹکرا کر زمین پر گر گئی۔ شیشی ٹوٹی تو خوشبو مزید پھیل گئی۔
سلیم نے ٹوٹی ہوئی شیشی کی طرف دیکھا اور دھیرے سے کہا، ’’کبھی کبھی خوشبو بھی پھندا بن جاتی ہے۔‘‘
اس کے بعد اس نے کچھ نہ کہا۔
رات ڈھلتی رہی، مگر اس گھر میں کسی کو نیند نہ آئی۔ دیواریں خاموش تھیں، دروازے بند تھے اور سوال کھلے ہوئے تھے۔ اگلی صبح اس گھر میں کیا فیصلہ ہونے والا تھا، یہ کسی کو معلوم نہ تھا۔
البتہ ایک بات واضح تھی: خوشبو کا سفر ختم ہو چکا تھا، مگر اس کے پیچھے رہ جانے والے سوال ابھی باقی تھے۔
اور اب دیکھنا یہ ہے کہ اس گھر میں اصل شکست کس کی ہوئی ؟
نائلہ کی، سلیم کی، راجو کی برسوں کی تربیت کی، یا اس معاشرے کی جو اکثر کردار کو چہرے کی خوب صورتی اور گھر کی آسودگی کے پردوں میں تلاش کرتا ہے۔
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔