اکادمی ادبیات کیمبلپور ایک خواب کی تعبیر
کالم نگار: سید حبدار قائم
ادب محض لفظوں کی آرائش، خیالوں کی پرواز اور جذبات کی ترجمانی کا نام نہیں، بلکہ یہ تہذیبوں کی بقا، معاشروں کی فکری آبیاری اور انسانی شعور کی بالیدگی کا ایک معتبر وسیلہ ہے۔ جو لوگ ادب کے لیے ادارے قائم کرتے ہیں، ادیبوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں اور علم و قلم کے چراغ روشن کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں، ان کی خدمات کو تاریخِ ادب میں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اکادمی ادبیات کیمبلپور کا قیام بھی اسی جذبۂ خدمت کی ایک داستان ہے، جس میں سید مونس رضا شاہ کی مسلسل محنت، لگن اور ادبی وابستگی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
یہ داستان اس وقت شروع ہوئی جب اٹک میں منعقدہ کتاب میلے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر راؤ عاطف رضا نے مصنفین کے بک اسٹالز کا مشاہدہ کیا۔ کتابوں سے محبت، اہلِ قلم کی موجودگی اور علم و ادب کے اس خوب صورت منظر نے انہیں اٹک شہر میں اکادمی ادبیات کے قیام کا وعدہ کرنے پر آمادہ کیا۔ یہ اعلان وہاں موجود مصنفین اور ادیبوں کے لیے خوشی کی نوید تھا۔ اہلِ قلم نے محسوس کیا کہ اگر اس وعدے کو عملی صورت مل گئی تو اٹک کی ادبی فضا کو ایک مستقل مرکز میسر آ سکتا ہے، جہاں مشاعروں، تنقیدی نشستوں اور علمی مباحث کے ذریعے ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے گا۔
اس مرحلے پر سید مونس رضا شاہ نے عملی پیش قدمی کی۔ وہ چند ادیبوں کو ساتھ لے کر ڈپٹی کمشنر کے دفتر پہنچے اور اکادمی کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ ڈپٹی کمشنر راؤ عاطف رضا نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے میونسپل لائبریری میں اکادمی ادبیات کیمبلپور کے دفتر کے قیام کی راہ ہموار کی۔ یوں ایک خواب نے عملی شکل اختیار کی اور 2025ء میں اس پلیٹ فارم کے تحت مشاعروں اور تنقیدی اجلاسوں کا انعقاد ممکن ہوا۔ یہ محض ایک دفتر کا قیام نہیں تھا، بلکہ اٹک کے ادیبوں کے لیے ایک ایسی ادبی بیٹھک کی بنیاد تھی جہاں الفاظ کو وقار، خیال کو اظہار اور اہلِ قلم کو اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا موقع مل سکتا تھا۔
تاہم، ہر اجتماعی کوشش کی طرح اس سفر میں بھی اختلافات نے جنم لیا۔ بعض احباب نے شکوہ کیا کہ انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، کچھ نے بائیکاٹ کا راستہ اختیار کیا اور سوشل میڈیا پر بھی اعتراضات سامنے آئے۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ ایک فطری امر ہے، لیکن اداروں کی تعمیر کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ تنقید کے ساتھ تعاون، شکوے کے ساتھ مکالمہ اور اختلاف کے ساتھ اصلاح کا دروازہ بھی کھلا رکھا جائے۔ اس تمام صورتِ حال میں سید مونس رضا شاہ نے اپنی کوششیں ترک نہیں کیں۔ انہوں نے ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا اور ایسے اہلِ ذوق و ادب کو ساتھ ملانے کی کوشش کی جو اس ادارے کو فعال رکھنے میں کردار ادا کر سکتے تھے۔
وقت گزرنے کے ساتھ بعض ناراض احباب نے بھی اس پلیٹ فارم سے رابطہ قائم کرنا شروع کیا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ اختلافات کے باوجود ادبی اداروں کی ضرورت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔ مونس رضا شاہ کے خلاف سوشل میڈیا پر تنقیدی تحریریں بھی سامنے آئیں۔ بعدازاں انہوں نے اپنی سابقہ نشست چھوڑ کر اکادمی میں بطور رکن کام جاری رکھا۔ ان کے اس طرزِ عمل کو اس زاویے سے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ کسی عہدے سے زیادہ اہمیت اس مقصد کی ہوتی ہے جس کے لیے ادارہ قائم کیا گیا ہو۔ عہدے بدل سکتے ہیں، ذمہ داریاں منتقل ہو سکتی ہیں، مگر اگر مقصد ادب کی خدمت ہو تو جدوجہد کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔
سید مونس رضا شاہ کی کوششوں کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ انہوں نے نئے آنے والے ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کے لیے تگ و دو کی اور چند ادیبوں کو ساتھ لے کر ان تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی، تاکہ اکادمی کی سرگرمیوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اس نوعیت کی کوششیں بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہیں، مگر کسی ادارے کو زندہ رکھنے کے لیے رابطہ کاری، وقت، محنت اور مسلسل توجہ درکار ہوتی ہے۔ ادارے صرف تختیاں لگانے سے نہیں بنتے انہیں فعال رکھنے کے لیے ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو مشکلات کے باوجود دست بردار نہ ہوں۔
میرے نزدیک اکادمی ادبیات کیمبلپور کے قیام کی داستان میں سید مونس رضا شاہ کی خدمات کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اگر انہیں اس اکادمی کا بانی قرار دیا جائے تو اس سے مراد یہ ہونی چاہیے کہ انہوں نے اس کے قیام کے لیے عملی جدوجہد کی، متعلقہ حکام سے رابطے کیے اور اس خواب کو حقیقت بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس اعتراف کے ساتھ ڈپٹی کمشنر راؤ عاطف رضا کے تعاون اور دیگر معاونین کی خدمات کو بھی یاد رکھنا ضروری ہے۔ ادارے کی تاریخ کسی ایک فرد کی محنت تک محدود نہیں ہوتی، البتہ بعض افراد اپنی مسلسل کاوشوں کے باعث اس تاریخ میں نمایاں مقام حاصل کر لیتے ہیں۔
اکادمی کی سالانہ کارکردگی کے حوالے سے اجلاسوں کی کارروائی اور تصاویر پر مشتمل رپورٹ کی اشاعت بھی ایک قابلِ ذکر قدم ہے۔ اس طرح کی دستاویزات ادارے کی سرگرمیوں کا ریکارڈ محفوظ رکھنے، ادبی تاریخ مرتب کرنے اور آئندہ نسلوں کو گزشتہ کام سے آگاہ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ البتہ ہر رپورٹ کا معیار اسی وقت بلند ہوتا ہے جب اس میں سرگرمیوں کی درست تفصیل، شرکاء کا منصفانہ ذکر اور خدمات کا غیر جانب دارانہ اعتراف شامل ہو۔
میرا مؤقف یہ ہے کہ سید مونس رضا شاہ کی محنت کو محض اختلافات کی عینک سے دیکھنے کے بجائے ان کی عملی کاوشوں کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اگر کہیں انتظامی کمزوریاں ہیں تو ان کی نشاندہی ضرور ہو، اگر کسی کو شکایت ہے تو اسے سنا بھی جائے، لیکن تنقید کا مقصد ادارے کو کمزور کرنا نہیں بلکہ بہتر بنانا ہونا چاہیے۔ اہلِ قلم کا منصب یہ ہے کہ وہ اختلاف کو ذاتی رنجش میں بدلنے کے بجائے اصلاح، مکالمے اور اجتماعی بہتری کا وسیلہ بنائیں۔
ایسے افراد کی خدمات کے اعتراف کے لیے تعریفی اسناد، ادبی اعزازات یا خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔ میری رائے میں اکادمی ادبیات کیمبلپور کو چاہیے کہ وہ سید مونس رضا شاہ کی خدمات کا باضابطہ جائزہ لے اور ان کی کوششوں کو مناسب انداز میں خراجِ تحسین پیش کرے۔ اس سے نہ صرف ایک محنت کرنے والے شخص کی حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ مستقبل میں دوسرے اہلِ قلم بھی اجتماعی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب پائیں گے۔
آخر میں عرض ہے کہ اکادمی ادبیات کیمبلپور کسی ایک شخص، گروہ یا حلقے کی جاگیر نہیں، بلکہ یہ اٹک کے تمام اہلِ قلم کی مشترکہ ادبی امانت ہے۔ اس کے دروازے سینئر ادیبوں، نوجوان لکھنے والوں، محققین، شاعروں اور کتاب دوستوں کے لیے یکساں طور پر کھلے ہونے چاہییں۔ سید مونس رضا شاہ کی جدوجہد کو اس ادارے کے ابتدائی سفر کا ایک اہم باب تسلیم کرتے ہوئے ہمیں اس کے مستقبل کی فکر بھی کرنی چاہیے۔ اختلافات کو پیچھے چھوڑ کر اگر سب اہلِ قلم ایک میز پر بیٹھ جائیں تو یہی اکادمی اٹک کی ادبی شناخت کو مزید روشن کر سکتی ہے۔
تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو خواب دیکھنے کے ساتھ انہیں حقیقت میں ڈھالنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ سید مونس رضا شاہ نے اکادمی ادبیات کیمبلپور کے قیام کے لیے جو عملی جدوجہد کی، اسے قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شخصیات کے اختلافات سے بلند ہو کر ادب، ادیب اور ادارے کی سربلندی کو اپنا مشترکہ مقصد بنائیں، تاکہ کیمبلپور کی ادبی روایت آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا مینار ثابت ہو۔
اس ساری گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ سید مونس رضا شاہ اکادمی ادبیات کیمبلپور کے معمار اور بانی ہیں ہم ان کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں
آخر میں سید مونس رضا شاہ کے لیے دعاگو ہوں کہ انہیں اللہ پاک مزید کام کرنے کی توفیق کے ساتھ ساتھ صحتِ کاملہ و عاجلہ عطا فرماۓ۔آمین
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔