طاؔہر شہزاد : فکری جمالیات کا شاعر
کھوڑ ایک ایسا قصبہ ہے جو ملک بھر کے ادبی حلقوں میں جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ کوؔثر جعفری مرحوم جیسے ملک گیر شہرت کے حامل شاعر کا تعلق بھی اِسی سرزمن سے ہے۔ ملکی سرحدوں کی حفاظت کا تذکرہ ہو، پٹرولیم کی بات ہو یا گندم ، مُنگ پھلی اور صحت مند مویشیوں کا ذکر ہو، کھوڑ کی دھرتی ملک بھر میں منفرد پہچان رکھتی ہے۔ صوبیدار محمد بشیر کے فرزند طاؔہر شہزاد کا تعلق بھی اِسی زرخیز زمین سے ہے۔ طاؔہر شہزاد ایک عمدہ شاعر، حلقہ اربابِ ذوق کھوڑ کا جنرل سیکرٹری اور فعال کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ شہید آصف شہزاد کا بھائی بھی ہے۔ آصف شہزاد نے 19 اپریل 2010ء میں وانا میں دشمن کے ساتھ جنگ میں شہادت پائی۔
طاؔہر شہزاد برقی آلات کی تاروں کو سُلجھانے کے ساتھ ساتھ اُلجھے تخیلات کو سلیقے سے پیش کرنے کے فن سے بھی بخوبی آشنا ہے۔ اِس کے سینے میں ایک حساس دل دھڑکتا ہے۔ رنگ برنگی تاروں سے کھیلنے والا طاؔہر شہزاد جب فطرت کے رنگ دیکھتا ہے تو اُنھیں ایک نئی جمالیاتی جہت عطا کرتا ہے:
یہ تتلی ہے کہ تصویرِ چمن ہے
پروں میں اِک جہاں رکھا ہوا ہے
تتلیاں اُڑ رہی ہیں چاروں طرف
آج کل موسمِ بہار میں ہوں
حلقہ اربابِ ذوق کھوڑ کے شعراء اپنا الگ الگ اسلوب رکھتے ہیں۔ مگر جہاں معاشی اور معاشرتی ناہمواریوں، سماجی ناانصافیوں اور ریاستی جبر کی بات ہو تو سب ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ طاؔہر شہزاد بھی اُسی طبقے کا نمائندہ ہے جو مزاحمتی مزاج رکھتا ہے:
سلسلے اور بڑھائیں گے اماں ہونے تک
دشت میں فصل گلابوں کی جواں ہونے تک
مر گیا دل تری بستی میں بسر کرتے ہوئے
خواب پورے نہ ہوئے جسم کماں ہونے تک
طاؔہر شہزاد دراصل رومانیت پسند شاعر ہے۔اٹھارویں صدی کے آخر میں یورپ میں شروع ہونے والی رومانیت کی تحریک کے اثرات طاؔہر شہزاد کی شاعری پر بکثرت نظر آتے ہیں۔ تخیل، جذبات اور وجدان کے ساتھ ساتھ روایات سے بغاوت، فطرت سے محبت اور ماضی و مستقبل سے لگاؤ وہ رومانوی خصوصیات ہیں جو طاؔہر شہزاد کی شاعری میں نمایاں طور پر نظر آتی ہیں:
نرگسی آنکھ کے مدار میں ہوں
مرمریں حُسن کے خمار میں ہوں
تو نے بانہوں میں کیا لیا تھا مجھے
میں ابھی تک اُسی حصار میں ہوں
طاؔہر شہزاد فطرت سے اپنے گہرے لگاؤ کو بڑی سہولت سے آسان لفظوں میں بیان کر دیتا ہے۔ سہلِ ممتنع طاؔہر شہزاد کی ایسی خوبی ہے جو اِس کے شعری جمال میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ وہ مشکل مضامین کو اِس مہارت سے آراستہ کرتا ہے کہ شعر اپنے تمام ظاہری اور باطنی مطالب کے ساتھ قاری کی سماعتوں سے گزرتا ہوا دل تک پہنچ جاتا ہے:
تِتلیاں تو اُڑ رہی ہیں باغ میں
پھول کو گُل دان میں دیکھا گیا
پرندوں میں یہ ہنگامہ بپا ہے
شجر کٹنے کا موسم آ گیا ہے
ایک جگنو میرے کمرے کو کرے گا روشن
قُفل کُھل جائیں گے بستی مں اذان ہونے تک
درختوں کا کٹنا، گھونسلوں کا اُجڑ نا اور باغوں کا ویران ہونا، طاؔہر شہزاد کے ہاں دُکھ کا ایسا منظر پیش کرتا ہے جو بیک وقت انسانوں کے بہیمانہ رویوں کا نوحہ بھی ہے اور فطرت کے مظاہر کے اَن کہے دکھ کا اظہار بھی:
لگی جو آگ تو پنچھی بھی باغ چھوڑ گئے
مگر تھا ربط ہی ایسا کہ باغباں نہ گیا
کجھور کٹتے ہی چڑ یوں کے وہ گلوب سے گھر
ابھی تلک مری نظروں سے وہ سماں نہ گیا
شجر بوڑھا تھا کب تک چھاؤں دیتا
سو آبادی کی زد میں آ گیا ہے
طاؔہر شہزاد کے پاس تلمیع، اِستعاروں، علامتوں اور تجرید کی کمی نہیں۔ منفرد خیالات، جذبات اور احساسات کو موزوں الفاظ دے کر بہترین بحر اور قافہ و ردیف کے ساتھ پیش کرنا طاؔہر شہزاد کا خاصہ ہے:
نگل ڈالا ہے دیمک نے عصا کو
بھروسے پر تماشا چل رہا ہے
یہ لحد میں اُتار دیں گے تمھیں
لوگ کاندھوں پہ جو اُٹھا رہے ہیں
نئے کِردار سائے کی طرح ہیں
جنھیں چھاؤں نگلتی جارہی ہے
ہر دردمند دل رکھنے والے انسان کی طرح طاؔہر شہزاد کے ہاں کربلا کا استعارہ بہت نمایاں ہے۔ کربلا کو طاؔہر شہزاد جب دورِ حاضر کے تناظر میں دیکھتا ہے تو الگ ہی مضامین دیکھنے کو ملتے ہیں۔ درج ذیل اشعار میں کربلا، فرات ، پانی وغیرہ نئے معانی دے رہے ہیں:
مدینہ مرکز و محور ہے دل کا
اور اِس کے چار جانب کربلا ہے
ہر کربلا کے ساتھ میں چلتا ہے اِک فرات
دیکھو تو سب کو آج بھی پانی کی فکر ہے
یوں لگتا ہے میں کربل آ گیا ہوں
یہاں ہر اک عدو ہونے لگا ہے
فصاحت و بلاغت شعری حسن اور فنی عظمت کا اظہار ہے اور طاؔہر شہزاد شعری صنعتوں کو مہارت سے برتنا جانتا ہے۔ اِسی لیے طاؔہر شہزاد کی شاعری میں تشبیہات، استعارے اور کنایہ کےساتھ ساتھ تضاد اور تکرار کی خوبیاں بھی بکثرت پائی جاتی ہیں:
زمیں پہ آسماں رکھا ہوا ہے
جو دل ہے درمیاں رکھا ہوا ہے
دُشمن بھی کوئی کم تو نہیں ہم کو میسر
یاروں کی اگرچہ ابھی تعداد بہت ہے
ہر طرف یوں ہی نہیں یہ روشنی
اِک دیا طوفان میں دیکھا گیا
یقین اور گمان کی سرحدوں کا مسافر، طاؔہر شہزاد یادوں کو ہمیشہ اپنے ساتھ لے کے چلتا ہے۔ جدا ہونے والوں سے محبت ایک ہمہ گیر تعلق کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کو ظاہر کرتا ہے:
ابھی ابھی تو میرے ساتھ چل رہا تھا کوئی
یقین پہنچا وہاں پر جہاں گُماں نہ گیا
دِل خوش ہے کہ اب راہ میں اُفتاد بہت ہے
بھولا بھی بہت کچھ ہوں مگر یاد بہت ہے
طاؔہر شہزاد کےلیے یاد ایک مشعل کی طرح ہے، یاد امید ہے، یاد ایک ساتھی بھی ہے ۔ درج ذیل اشعار میں یاد اور امید زندگی میں رنگ، جوش اور جذبہ پیدا کرتے نظر آتے ہیں:
تمھاری یاد کے دیپک ابھی بھی روشن ہیں
فضا سے اب بھی وہ مخملی دُھواں نہ گیا
ہم نے امید تو نہیں چھوڑی
ہم تو اب تک دیے جلا رہے ہیں
شاعر چوں کہ معاشرے کا حساس ترین شخص ہوتا ہے۔ وہ ہر لمحہ باطنی و خارجی کرب سے گزرتا ہے۔ اِس لے اُسے کسی خاص طبقے، تحریک یا نظریے تک محدود کرنا مناسب نہیں۔ ممکن ہے کہ مخصوص معاشی و معاشرتی پسِ منظر کے حامل افراد کا رجحان کسی خاص موضوع کی طرف زیادہ ہو سکتا ہے، مگر وہ دیگر مسائل ، موضوعات اور رجحانات پر بھی سوچتا اور لکھتا ہے۔ طاؔہر شہزاد بھی فکری اعتبار سے وسیع النظر شاعر ہے۔ وہ ایک ہی وقت میں ہمہ جہت فکری میلان رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اتنے عمدہ شاعر اور مخلص شخص کی فکری ، علمی اور فنی بلندی کو ایک مختصر مضمون میں سمیٹنا بہت مشکل ہے۔ آخر میں اتنا ضرور کہوں گا کہ ہمیں آئندہ بھی طاؔہر شہزاد کے لاجواب اور منفرد اشعار پڑھنے اور سُننے کو ملتے رہیں گے۔ یہ کہنا بھی بجا ہے کہ نسبتاً پسماندہ قصبے سے تعلق رکھنے والا یہ شاعر ایک دن اُردو ادب میں اپنی گراں قدر خدمات کی وجہ سے پہچانا جائے گا:
کوئی دستک کوئی آہٹ کوئی آواز نہیں
کوئی مخلص کوئی ہمدم کوئی ہمراز نہیں
جھیل کے کان مں یہ چاند نے سرگوشی کی
آج کی رات کوئی قیسں کا دمساز نہیں

اظہر سجاد کا تعلق کھوڑ کمپنی، تحصیل پنڈی گھیب، ضلع اٹک سے ہے۔ وہ شاعر، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ ان کا افسانوی مجموعہ "تیسری دیوار” شائع ہو چکا ہے، جسے قارئین اور ناقدین کی جانب سے پذیرائی حاصل ہوئی۔ وہ حلقۂ اربابِ ذوق کھوڑ کے سابقہ سیکریٹری رہ چکے ہیں اور طویل عرصے سے ادبی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایم اے (انگریزی ادب) کیا ہے۔ پیشہ ورانہ زندگی میں سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (SCO) سے وابستہ رہے، جبکہ اس وقت شعبۂ درس و تدریس سے منسلک ہیں۔ ادب، معاشرتی مسائل اور انسانی نفسیات ان کی تحریروں کے نمایاں موضوعات ہیں
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔