علی شاہ کی کتاب ‘اُجلے رنگ محبّت کے ‘
تحریر : مقبول ذکی مقبول ، بھکر
علی شاہ کی کتاب ‘اُجلے رنگ محبّت کے ‘ ( رومانوی نظمیں ، غزلیں ) اِس کتاب کی اشاعت سال 2010 ء میں صدق رنگ پبلی کیشنز ، ملتان سے شائع ہوئی ہے ۔
انتساب !
اپنی پہلی محبّت کے نام
کتاب کے نام کی طرح انتساب اور اسی طرح سے نظمیں اور غزلیں پائی جاتی ہیں ۔ جو کہ خوش گوار و سدا بہار خوشبو لیے ہوئے قاری کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی خصوصیات سے مالامال ہیں ۔ علی شاہ مرحوم ایک پاک باز انسان تھے ۔ میری ان کے ساتھ بڑی محفلیں ہوا کرتی تھی ۔ من کے سچے دل کے اچھے انسان تھے ۔ ان کا وہی عکس ان کی شاعری میں بھی جھلکتا ہے ۔
زیرِ نظر کتاب ٫٫ اُجلے رنگ محبّت کے ،، پاکیزہ جذبات ، پاکیزہ خیالات ، پاکیزہ احساسات اور پاکیزہ کردار نمایاں طور پر نظر آتے ہیں ۔
یہ سچ ایسا سچ جو علی شاہ کے اندر سے نکلا اور قرطاس پر آیا ۔ اُن کے دُنیا سے چلے جانے کے بعد آج بھی کتاب کی صورت میں موجود ہے ۔ جو اُن کے زندہ ہونے کی دلیل بھی ہے ۔ گفت گو میں ہو یا نثر نگاری میں ہو یا کسی بھی صورت میں ہو ہر وہ چیز جس سے انسانی جذبات اُبھریں برائی جنم لے اور معاشرے میں بگاڑ پیدا کریں تو وہ سب حرام ہیں ۔ پاکیزہ سوچ کا پاکیزہ عکس ملاحظہ فرمائیں ۔
گھپ اندھیروں میں سدا جس نے اُجا لے پتھر
زیوروں میں ہیں جَڑے اس کے نرالے پتھر
غالباً 2005ء کے بعد کی بات ہے ۔ شعرا کرام کا ایک خاص موضوعِ سخن آنکھیں رہی ہیں ۔ اس پر اُردو ، سرائیکی اور پنجابی زبان میں طبع آزمائی کی گئی تھی ۔ اسی حوالے سے ایک شعر ملاحظہ فرمائیں ۔
سب یہ کہتے ہیں آنکھ قاتل ہے
کون کرتا گمان پلکوں پر
یہ موضوع کافی دیر تک چلتا رہا ۔ اس کے بعد شعرا کرام نے موضوعِ سخن چوڑیاں پر بھر پور طبع آزمائی شروع کر دی ۔ منکیرہ شہر میں ایک ادبی تنظیم ٫٫ تھل ادبی سجوک ،، کی ماہانہ نشست میں یہ موضوع بھی بڑی دیر تک چلتا رہا ۔ جہاں سے سب شعرا کرام اپنے اپنے انداز میں چوڑیاں پر طبع آزمائی کی وہاں علی شاہ نے ایک منفرد انداز میں غزل کہی جو طاق میں تھی ۔ ہر ایک شعر فنِ کمال کے ساتھ ساتھ شعریت بھی اوج پر دکھائی دیتی ہے ۔ جس نے تمام تر شعرا کرام کو داد دینے پر مجبور کیا ۔ اسی غزل سے ایک شعر ملاحظہ فرمائیں ۔
اُس کی گوری کلائی میں کچھ بھی نہ تھا
جس کے سر پہ تھیں رکھی ہوئی چوڑیاں
اس شعر میں معاشرے کی غربت کا درد بھی موجود ہے ۔ جو قاری کو سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے ۔ ایسے اشعار بھی کثرت سے ملتے ہیں ۔ جو مشاہدہ کے ساتھ ساتھ انسانی درد کی آواز بھی ہیں اور حق گوئی کی علامت بھی ۔
علی شاہ کی کتاب میں دوسرا اور آخری حصّہ نظمیں پر مشتمل ہے ۔ غزل کی طرح نظم میں بھی پیغام ، جان ، روح اور نظم کے مقام کے ساتھ انصاف کرنے کا سلیقہ بھی جھلک رہا ہے ۔ یہ سب اللّٰہ پاک کی دی ہوئی صلاحیت ہی تھی جو علی شاہ کے کلام میں پائی جاتی ہے ۔ ایک نظم ملاحظہ فرمائیں ۔
نظم
دوستی کیسی؟
ہماری اور تمہاری
دوستی کیسی؟
کہ ہم تو زرد پتّے ہیں خزاؤں کے
جو یخ بستہ ہواؤں میں
زمیں کے بھی نہیں رہتے
مگر تم تو شگفتہ پھول ہو
مہتاب رُت کے
تازہ گلشن کا
اگر چاہو تو ہم سے دوستی کر لو
مگر سوچو
ہماری اور تمہاری
دوستی کیسی؟
***
اسلامی نگاہ میں یہ سچ ہے صنفِ نازک سے دوستی کیسی؟ ، زرد پتّے ، خزاؤں ، ہواؤں ، پھول ، گلشن ، وغیرہ جیسے تشبیہات استعمال کر کے نظم میں جان ڈال کر اس میں وہ مقام کو قائم رکھا گیا ہے ۔ جو ایک اچھی نظم میں ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ اس نظم پر بات کرنا اتنا ہی کافی ہے نہیں تو مضمون طویل ہو جائے گا ۔ کتاب میں شامل ہر ایک نظم اپنی انتہا پر پہنچی ہوئی ہے ۔ جن میں زیادہ تر جو قابلِ ذکر ہیں اُن میں ۔ مِرا بچپن ، اسیری ، من کی رانی ، ٹاس ، سراب ، اور نظم مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا ۔
کتاب میں شامل آرا معروف دانشوروں ، شعرا کرام اور شاعرات کی آراء شامل ہیں ۔ جن میں ڈاکٹر عبد القدیر خان ( شہرۂ آفاق ایٹمی سائنسدان ) جبار مرزا ( اسلام آباد ) فاخرہ بتول ، بشریٰ رحمٰن ، خاور نقوی ( اسلام آباد ) عذرا اصغر ( کراچی ) کشور ناہید ( اسلام آباد ) مسرت کلانچوی ( لاہور ) اور بلال مہدی ( اسلام آباد ) کی آرا شامل ہے ۔ مسرت کلانچوی کی آرا ملاحظہ فرمائیں ۔
علی شاہ کی شاعری بھکر کی ریت کے ذروں میں تاروں کی طرح جگمگاتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں جھانکتی اور اُن کے جذبات کو لفظوں کا پیرہن پہناتی ہے ۔ وہ فطرت سے پیار کرتا ہے اور قدرت کے مناظر اور موسموں کے سارے رنگ اپنی شاعری میں بھر دیتا ہے ۔ چمکتی ریت کے ٹیلے ہوں یا دریاؤں کی موجیں ، گرم ہوا کے جھکڑ ہوں یا ساون کی سُہانی رُت پھولوں کی رنگینی کا بیان ہو یا اُڑ تے خشک پتوں کا رقص ، یہ سب مناظر اُن کی شاعری کی ہر صنف میں سمائے ہوئے ہیں ۔ علی شاہ کی شاعری رومانوی اور معاشرتی رنگوں سے مزین ہے ۔ ( ص : 8 )
کتاب کے بیک ٹائٹل پر ایک غزل شائع ہوئی ہے ۔ اس غزل کی ردیف سے کتاب کا نام اخز کیا گیا ہے ۔ اُسی ہی غزل سے ایک شعر ملاحظہ فرمائیں ۔
سوہنی ، سسی ، لیلیٰ ، جگنی ، ہیر کی قبریں دیکھو
قبرستان میں ہر سو بِکھرے اُجلے رنگ محبّت کے

اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔