قانون کی پاسداری
تحریر: اظہر سجاد
مشہور عربی قول ہے کہ سفر انسان کے اخلاق و کردار کو ظاہر کر دیتا ہے۔یہ قول تو شاید ذاتی حوالے سے ہے۔ لیکن سفر صرف کسی ایک شخص کا ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا ہی نام نہیں، بل کہ اس میں سواری، ہمسفر اور راستوں سے متعلق دیگر معاملات بھی شامل ہیں۔ اِس لیے اجتماعی طور پر دیکھا جائے تو کسی ملک و قوم کی ٹریفک کو دیکھ کر اُن کے اخلاقی معیار، مذہبی اثرات اور سماجی رویوں کو باآسانی جانچا جا سکتا ہے۔ ہم خود کو جتنا بھی سچا مسلمان، محب وطن پاکستانی اور بہترین انسان ثابت کرنے پر زور دیتے رہیں، سفر اور راستے ہماری اصلی اور سچی تصویر سامنے لے آتے ہیں۔
اِن دنوں ہمارے ہاں مغرب اور عشاء کے درمیانی اوقات میں خواتین و حضرات اور بچے اپنے گھر کی قریبی سڑکوں پر چہل قدمی کرتے نظر آتے ہیں۔ اُن میں وہ افراد بھی شامل ہوتے ہیں جنھیں ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق پیدل چلنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ گرمیوں میں لوگوں کی تعداد معمول سے کافی زیادہ ہوتی ہے۔ مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اُنھی اوقات میں سڑکوں پر ایسے کم عمر بچوں کی کثرت نظر آتی ہے جو موٹر سائیکل پر کرتب دِکھا رہے ہوتے ہیں۔ حیرانی ہوتی ہے کہ موٹر سائیکل کے حادثات میں اضافہ بھی والدین کی آنکھیں کھولنے میں ناکام رہا ہے۔ جب بھی متعلقہ اداروں کی طرف سے سختی اور محاسبے کا عمل شروع کیا جاتا ہے تو والدین اور سیاسی کارکن بچوں کی معصومیت اور نادانی کا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ معاملہ صرف ٹریفک قوانیں کی خلاف ورزی تک ہی محدود نہیں، بل کہ ان میں موٹر سائیکلوں پر لگے غیر قانونی ہارن، چمکیلی روشنیاں اور ہیڈ لائٹس کے بغیر موٹر سائیکل بھی شامل ہیں۔ حال ہی میں سکوٹیوں میں اضافے نے جہاں خواتین کے لیے نئی راہیں کھولی ہیں وہیں اُن کے لیے کئی مشکلات بھی کھڑی کر دی ہیں۔ خواتین کے ساتھ اِن غیر تربیت یافتہ اور کم عمر موٹر سائیکل سواروں کا رویہ انتہائی نامناسب اور غیر اخلاقی ہوتا ہے۔ یقیناً اس قسم کے حالات میں نہ صرف حادثات میں اِضافہ ہوتا ہے بل کہ خواتین کی حوصلہ شکنی بھی ہوتی ہے۔
جہاں تک ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کرنے اور کروانے کی بات ہے تو دیکھنے میں آیا ہے کہ متعلقہ محکمہ اور عوام دونوں ہی اِس کی دھجیاں اُڑانے میں برابر کے شریک ہیں۔
سرِشام سڑک پر دوڑتے بھاگتے بھوسے بھرے ٹریکٹر اور ٹرک، بغیر اشاروں کے بھاری لوڈر ٹریلے اور سفید تیز روشنی والی گاڑیاں حادثات کا سبب بنتی ہیں۔ رات کے وقت بڑی بڑی لوڈر گاڑیوں کی دو دو فٹ باہر نکلی ہوئی باڈی، نوکیلے کُنڈے اور رنگ برنگی جلتی بجھتی روشنیاں خصوصاً چھوٹی گاڑیوں کے لیے مشکلات کا باعث بنتی ہیں۔ کچھ ٹرک دائیں بائیں چار پانچ فٹ تک لوڈ ہوتے ہیں۔ پھر اطراف میں کوئی روشنی یا اشارہ بھی نہیں ہوتا جس سے پتا چلے کہ پھیلاؤ کہاں تک ہے۔ اوپر سے آنکھوں کو چندھیا دینے والی سفید اور تیز روشنی حادثے کا یقینی سبب ہے۔ حیران کن بات ہے کہ ملک میں جگہ جگہ ناکے لگے ہیں، ٹول ٹیکس موصول کیے جارہے ہیں، پولیس چوکیاں ہیں، پیٹرولنگ بھی ہوتی ہے، پھر بھی یہ عفریت سڑکوں پر دندناتے پھر رہے ہیں۔ اِس طرز عمل میں سدھار کیسے آئے گا؟ کون اِن چلتی پھرتی آفتوں پر قابو پائے گا؟ ہمارے ذہنوں میں قانون کے خلاف پلنے والی بغاوت کیسے ختم ہو گی؟
یقیناً سب سے زیادہ اہم درست تعلیمی نظام ہے۔ صحیح تعلیم ہی ہمیں اچھے بُرے کا ادراک بخشتی ہے۔اِس کے ساتھ ساتھ ہمیں زندہ رول ماڈل چاہیں۔ اِیسے ہیروز اور لوگ چاہیں جو ہمارے سامنے ہوں اور ایک مثالی انسان کا عملی نمونہ پیش کریں، یہ مثالی اور بااثر لوگ والدین اور اساتذہ کے علاوہ اور کون ہو سکتا ہے۔ والدین اور اساتذہ کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو باکردار اور مہذب انسان بننے میں مدد دیں۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بھی فرض ہے کہ وہ بے لوث ہو کر قانون پر عمل درآمد کروائیں۔
اِس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ہم اپنے معاشرے کو مثالی، پُرامن اور مہذب بنانا چاہتے ہیں تو سب کو مل جل کر اِن مسائل پر نہ صرف سوچنا ہوگا بل کہ عمل بھی کر کے دکھانا ہوگا۔

اظہر سجاد کا تعلق کھوڑ کمپنی، تحصیل پنڈی گھیب، ضلع اٹک سے ہے۔ وہ شاعر، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ ان کا افسانوی مجموعہ "تیسری دیوار” شائع ہو چکا ہے، جسے قارئین اور ناقدین کی جانب سے پذیرائی حاصل ہوئی۔ وہ حلقۂ اربابِ ذوق کھوڑ کے سابقہ سیکریٹری رہ چکے ہیں اور طویل عرصے سے ادبی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایم اے (انگریزی ادب) کیا ہے۔ پیشہ ورانہ زندگی میں سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (SCO) سے وابستہ رہے، جبکہ اس وقت شعبۂ درس و تدریس سے منسلک ہیں۔ ادب، معاشرتی مسائل اور انسانی نفسیات ان کی تحریروں کے نمایاں موضوعات ہیں
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔