رزق کا نیا دروازہ
علی نے گھبرا کر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ ماں دروازے پر کھڑی تھیں۔
ماں نے پوچھا: "علی، تم کب آئے؟ کیا بنا نوکری کا؟ رپورٹس میں کیا آیا؟”
علی نے ایک گہری سانس لی اور مسکرا کر بولا: "ماں، شکر ہے اللہ کا۔ مجھے نوکری مل گئی ہے۔”
ماں کی آنکھوں میں خوشی چمک گئی۔ بولیں: "سچ؟ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ اور رپورٹس؟”
علی نے کہا: "رپورٹس بھی آ گئی ہیں۔ ڈاکٹر نے کہا ہے بس تھوڑی سی دوا سے آپ بالکل ٹھیک ہو جائیں گی۔ پریشانی کی کوئی بات نہیں۔”
ماں نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی: "شکر الحمدللہ۔ بیٹا تنخواہ کتنی لگی؟”
علی ایک سیکنڈ کے لیے چپ ہوا۔ پھر بولا: "ابھی تنخواہ کی بات فائنل نہیں ہوئی ماں۔ شام تک پتہ چل جائے گا۔ آپ فکر نہ کریں۔”
ماں نے سر ہلا دیا۔ علی کمرے میں گیا اور دراز کھولی۔ اس میں پڑے ہوئے 5000 روپے نکالے جو اس نے مشکل سے جمع کیے تھے۔
علی نے وہ پیسے جیب میں رکھے اور گھر سے نکل گیا۔ سیدھا بازار گیا۔
اس نے بریڈ، جام، بسکٹ، دودھ، پھل اور سلاد کا سامان خریدا۔ ساتھ میں دادا جی کے لیے پیزا بھی لیا۔
دل میں سوچا: "ان کے گھر پکانے والا کوئی نہیں، یہ چیزیں وہ خود کھا سکیں گے۔”
دادا جی کے گھر پہنچ کر سامان رکھتے ہوئے بولا: "دادا جی، یہ لیں۔ بریڈ، جام، پھل اور پیزا ہے۔ آپ کو پکانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اور یہ کچھ پیسے بھی رکھ لیں، جو دل کرے منگوا لینا۔”
دادا کی آنکھیں بھر آئیں۔ بولے: "بیٹا، اللہ تمہیں بہت ترقی دے۔ تم فرشتہ بن کر آئے ہو۔”
علی نے کہا: "بس میرے لیے دعا کریں کہ مجھے جلدی کوئی اچھی جاب مل جائے۔ میں اب چلتا ہوں، جلد واپس آؤں گا۔”
دادا نے علی کے سر پر ہاتھ رکھ کر ڈھیروں دعائیں دیں۔
علی واپس آ رہا تھا کہ راستے میں ایک بوڑھے شخص کو دیکھا۔ وہ دکان کے باہر پریشانی سے موبائل دیکھ رہا تھا اور بول رہا تھا: "ہائے، یہ آن لائن آرڈر کیسے لگاتے ہیں؟ بیٹا تو دبئی میں ہے۔ کوئی مدد کرنے والا نہیں۔”
علی رک گیا۔ اس نے دل میں سوچا: "شاید یہی میرا رزق ہے۔”
علی آگے بڑھا اور بولا: "السلام علیکم چچا۔ کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا ہوں؟”
بوڑھے نے سر اٹھا کر کہا: "بیٹا، مجھے آن لائن کام کروانا ہے۔ اگر تم کر سکو تو میں تمہیں نوکری دوں گا۔”
علی نے ایک لمحے کے لیے سوچا۔ پھر دل مضبوط کر کے بولا: "جی چچا، میں کوش کروں گا۔”
اور علی نے موبائل ہاتھ میں پکڑ لیا۔
اب آگے کیا ہوگا؟ کیا علی یہ کام کر پائے گا؟
جاری ہے…
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔