ایک فرشتہ نما انسان
زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ہم سب کو کسی ایسے انسان سے ضرور واسطہ پڑتا ہے جسے دیکھ کر بے اختیار دل سے نکلتا ہے: "یہ تو فرشتہ ہے”۔ وہ شکل و صورت میں عام انسانوں جیسا ہوتا ہے”، نہ اس کے سر کے اوپر پر لگے ہوتے ہیں، نہ اس کے ہاتھ میں نور کی چھڑی ہوتی ہے۔ وہ بالکل عام آدمی ہوتا ہے مگر اس کے عمل، اس کے ظرف اور اس کی بے غرضی اسے عام انسانوں سے ممتاز کرتی ہے۔ اسی قسم کا آدمی "فرشتہ نما انسان” کہلاتا ہے۔
دنیا فرشتوں کو غیب کی مخلوق مانتی ہے جو اللہ کے احکامات پر عمل کرتے ہیں، لیکن زمین پر بھی اللہ نے اپنے کچھ بندے ایسے پیدا کیے ہیں جو فرشتوں والا کام کرتے ہیں۔ وہ کسی کی دعا بن کر آتے ہیں، کسی کی امید بن کر ابھرتے ہیں، اور کسی کے اندھیرے میں روشنی بن کر ظاہر ہوتے ہیں۔
فرشتہ نما انسان کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ "بے لوث” ہوتا ہے اور دوسرے انسانوں کی خدمت کو زندگی کا مقصد بناتا ہے۔ ان کا خواب شہرت حاصل کرنا نہیں ہوتا، وہ تعریف اور صلہ نہیں چاہتے۔ وہ بس دے کر نکل جاتے ہیں۔ اسکول کی فیس ادا کر کے کہتے ہیں "نام مت بتانا”۔ ہسپتال کے بل میں مدد کر کے کہتے ہیں "اللہ آپ کو صحت دے”۔ بے روزگار نوجوان کو نوکری دے یا دلا کر کہتے ہیں "محنت کرنا، آگے بڑھنا”۔ اور پھر وہ اس طرح غائب ہو جاتے ہیں، جیسے کبھی آئے ہی نہ تھے۔
انسان کی زندگی میں جب اسباب ختم ہو جاتے ہیں تو وہاں سے کوئی فرشتہ نما انسان نمودار ہوتا ہے۔ وہ ماں جس کے گھر چولہا نہیں جل رہا تھا، رات کو سوئی تو صبح دروازے پر راشن کا تھیلا رکھا تھا۔ وہ قرضدار جس کی نیند حرام تھی، اچانک کوئی اجنبی آ کر کہتا ہے "آپ کا سارا قرض میں اتار دیتا ہوں”۔ وہ یتیم بچہ جس کی یونیفارم پھٹی ہوئی تھی، اگلے دن کلاس میں نئی یونیفارم آ جاتی ہے۔ ہم کہتے ہیں "معجزہ ہو گیا”۔ دراصل وہ معجزہ نہیں تھا، ایسا کام کوئی فرشتہ نما انسان ہی کرتا ہے۔
قرآن پاک میں اللہ فرماتا ہے: ” جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی، گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی”۔ فرشتہ نما لوگ روزانہ درجنوں جانیں بچاتے ہیں۔ کسی کو ڈپریشن سے بچاتے ہیں، کسی کو خودکشی کے خیال سے بچاتے ہیں، کسی کے ٹوٹے ہوئے گھر کو بچاتے ہیں۔ وہ لفظوں سے، عمل سے، وقت سے، پیسے سے، وہ جس طرح بھی بن پڑے، دکھی انسانوں کے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں۔
ان کی ایک اور نشانی یہ ہے کہ یہ "وقت پر” آتے ہیں۔ نہ بہت پہلے، نہ بہت بعد میں۔ وہ بالکل اس لمحے آتے ہیں جب آپ ٹوٹنے والے ہوتے ہیں۔ جب آپ کہتے ہیں "یا اللہ اب بس”۔ اسی لمحے کوئی کال آ جاتی ہے، کوئی میسج آ جاتا ہے، کوئی دروازہ کھٹکا دیتا ہے۔ اللہ ان کے ذریعے آپ کو پیغام دیتا ہے: "میں تمہارے ساتھ ہوں”۔
ضروری نہیں کہ فرشتہ نما لوگ دولت مند یا پیسے والے ہی ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ایک مزدور اپنی ایک دن کی دیہاڑی میں سے 200 روپے نکال کر کسی بھوکے کو کھانا کھلا دیتا ہے۔ ایک طالبہ اپنی پاکٹ منی سے کسی کو کتاب خرید دیتی ہے۔ ایک ڈرائیور کرایہ معاف کر کے کسی مجبور کو گھر پہنچا دیتا ہے۔ فرشتہ ہونے کا تعلق جیب سے نہیں، دل سے ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے ہم اس دوڑ کی دنیا میں ایسے لوگوں کو پہچان نہیں پاتے۔ ہم مصروف ہیں، خودغرض ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہر مدد کے پیچھے کوئی مطلب ہو گا۔ اسی لیے جب کوئی بے غرض مدد کرتا ہے تو ہمیں یقین ہی نہیں آتا۔
لیکن سچ یہ ہے کہ دنیا ابھی ختم نہیں ہوئی کیونکہ فرشتہ نما لوگ ابھی ختم نہیں ہوئے۔ وہ خاموشی سے اپنا کام کر رہے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر نہیں آتے، وہ انٹرویو نہیں دیتے۔ اپنی تصویریں نہیں چھپواتے۔ وہ بس چلتے پھرتے صدقہ ہوتے ہیں۔
ہم سب بھی فرشتہ نما انسان بن سکتے ہیں۔ اس کے لیے کوئی بڑا سرمایہ نہیں چاہیے۔ بس تین باتیں چاہییں:
1. آنکھ کھلی رکھیں۔ اپنے اردگرد دیکھیں۔ کون تکلیف میں ہے؟ کون خاموشی سے رو رہا ہے؟
2. چھوٹی سی نیکی سے شروع کریں۔ کسی کا بوجھ اٹھا دیں، کسی کو حوصلہ دے دیں، کسی کا بل بھر دیں۔ 3. نام اور شہرت کی پرواہ نہ کریں۔ دائیں ہاتھ سے دیں تو بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو۔
یاد رکھیں، آپ نہیں جانتے کہ آپ کا ایک چھوٹا سا نیک عمل کسی کے لیے کتنا بڑا "معجزہ” بن سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کے 5 منٹ کسی کی زندگی بچا لیں۔ ہو سکتا ہے آپ کے 2 حوصلے کے بول کسی کو دوبارہ اپنے پاوں پر کھڑا کر دیں۔
لوگ کہتے ہیں فرشتے نظر نہیں آتے۔ میں کہتا ہوں نظر آتے ہیں۔ بس انہیں پہچاننے کے لیے دل کا نور چاہیے۔ وہ نور ہمیں تب ملتا ہے جب ہم خود بھی دوسروں کے لیے جینا شروع کرتے ہیں۔
اگر زندگی میں کبھی کوئی فرشتہ نما انسان آپ کی مدد کو آئے تو اس کا شکریہ ادا کرنا مت بھولیے۔ اور اگر اللہ نے آپ کو موقع دیا ہے تو خود کسی کے لیے فرشتہ نما بن جائیے۔ کیونکہ دنیا کو اس وقت سب سے زیادہ فرشتہ نما لوگوں ہی کی ضرورت ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں