جنوبی کوریا اور پاکستان کی ترقی کا موازنہ
دنیا کی تاریخ میں بعض ممالک کی ترقی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وسائل کی کمی ترقی کی راہ میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں بنتی۔ اس کی مثال جنوبی کوریا کی تیز ترین ترقی ہے۔ ترقی کا اصل راز قومی ترجیحات و عزم، پالیسیوں کے تسلسل اور اداروں کی مضبوطی میں پوشیدہ ہے۔ جنوبی کوریا اور پاکستان کی ترقی کا تقابلی موازنہ اس کی دلچسپ مثال ہے۔
جنوبی کوریا جاپان کے قبضے سے 15 اگست 1945ء کو آزاد ہوا تھا جب جاپان نے دوسری جنگ عظیم میں ہتھیار ڈالے تھے، جبکہ پاکستان نے برطانوی سامراج سے 14 اگست 1947ء کو آزادی حاصل کی۔ اس سے پہلے جاپان نے 1910ء سے 1945ء تک پورے کوریا پر قبضہ کر رکھا تھا۔ کوریا میں یوم آزادی کے دن کو "گوان گبوک جیول” Gwangbokjeol کہا جاتا ہے۔
دونوں ممالک نے تقریباً ایک ہی دور میں جدید ریاست کے طور پر اپنا سفر شروع کیا، دونوں کو غربت، کمزور انفراسٹرکچر اور محدود صنعتی بنیاد جیسے مسائل کا سامنا تھا، لیکن آج جنوبی کوریا ایک ترقی یافتہ صنعتی اور ٹیکنالوجی کی معیشت ہے جبکہ پاکستان اب بھی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کی منزل تلاش کر رہا ہے۔ جنوبی کوریا کی کامیابی کو سمجھنے کے لیے اس کے ابتدائی حالات کو دیکھنا ضروری ہے۔ کوریا کی جنگ کے بعد جنوبی کوریا شدید تباہی، غربت اور بے روزگاری کا شکار تھا۔ اس کے باوجود اس ملک نے تعلیم، صنعتی پیداوار، برآمدات اور انسانی وسائل کو اپنی قومی ترجیحات بنایا۔ حکومت نے نجی شعبے کو صنعتی ترقی کے لیے متحرک کیا اور ایسی معاشی پالیسی اختیار کی جس کا مرکز برآمدات میں اضافہ تھا۔ وقت کے ساتھ جنوبی کوریا کی بڑی صنعتی کمپنیوں نے عالمی منڈی میں جگہ بنائی اور ملک نے ٹیکنالوجی، گاڑیوں، الیکٹرانکس، جہاز سازی اور دیگر شعبوں میں اپنی شناخت قائم کر لی۔
پاکستان بھی اپنے قیام کے وقت وسائل کی شدید کمی کا شکار تھا۔ نئے ملک کے پاس محدود صنعتی بنیاد، کمزور انفراسٹرکچر اور مالی وسائل کی قلت تھی۔ اس کے باوجود ابتدائی برسوں میں پاکستان نے صنعتی اور زرعی شعبوں میں قابلِ ذکر پیش رفت کی۔ پاکستان میں بڑے ڈیم، صنعتیں، تعلیمی ادارے اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے قائم ہوئے۔ ایک وقت میں پاکستان کو ترقی پذیر دنیا کے لیے ایک کامیاب معاشی مثال بھی سمجھا جاتا تھا۔ سوال یہ ہے کہ پھر پاکستان جنوبی کوریا سے ترقی کی رفتار میں پیچھے کیوں رہ گیا؟
حالانکہ جنوبی کوریا کے ترقیاتی ماڈل پر پاکستان کے سابق ماہر معاشیات ڈاکٹر محبوب الحق کا گہرا اثر تھا۔ پاکستان کے دوسرے پانچ سالہ منصوبے 1960-65 کو دنیا کا بہترین معاشی منصوبہ سمجھا جاتا تھا جس کے چیف آرکیٹیکٹ ڈاکٹر محبوب الحق تھے۔
جنوبی کوریا نے اپنے پہلے پانچ سالہ منصوبے 1962-1966 کو اسی "پاکستانی ماڈل” کو دیکھ کر بنایا تھا۔ اس وقت کوریا کے دانشوروں اور حکام نے خود تسلیم کیا تھا کہ ان کا پہلا پانچ سالہ منصوبہ "First Five-Year Plan” ممتاز پاکستانی ماہر معاشیات ڈاکٹر محبوب الحق کا تحریر کردہ تھا۔
جنوبی کوریا کی تیز رفتار معاشی اور انفراسٹرکچر کی ترقی میں سب سے نمایاں فرق پالیسی کے تسلسل کا ہے۔ جنوبی کوریا نے مختلف ادوار میں اپنی بنیادی معاشی سمت تبدیل نہیں کی۔ حکومتیں بدلیں، سیاسی حالات تبدیل ہوئے، لیکن صنعتی ترقی، برآمدات، تعلیم اور ٹیکنالوجی پر توجہ برقرار رہی۔ پاکستان میں اس کے برعکس معاشی پالیسی اکثر حکومتوں اور سیاسی حالات کے ساتھ تبدیل ہوتی رہی۔ طویل المدت منصوبے شروع تو ہوئے لیکن ان کے تسلسل اور تکمیل میں مشکلات پیدا ہوتی رہیں۔
دوسرا بڑا فرق تعلیم اور انسانی وسائل کا ہے۔ جنوبی کوریا نے تعلیم کو محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے قومی پیداواری صلاحیت سے جوڑا۔ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور تحقیق کے شعبوں میں مسلسل سرمایہ کاری کی گئی۔ آج کوریا کی عالمی کمپنیوں کی اصل طاقت صرف مشینیں یا عمارتیں نہیں بلکہ ان کے پیچھے موجود تربیت یافتہ انسانی وسائل ہیں۔ پاکستان میں بھی باصلاحیت نوجوانوں کی کمی نہیں، مگر تعلیم کے معیار، فنی تربیت، تحقیق اور صنعت و تعلیم کے باہمی تعلق میں ابھی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
جنوبی کوریا نے اپنی معیشت کو عالمی منڈی سے جوڑا اور مسلسل ایسی مصنوعات تیار کیں جو دنیا بھر میں فروخت ہو سکیں۔ اس کے برعکس پاکستان کی برآمدات کا بڑا حصہ محدود شعبوں اور چند مصنوعات پر منحصر رہا ہے۔ ٹیکسٹائل پاکستان کی اہم برآمدی صنعت ہے، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ آئی ٹی، انجینئرنگ، فارماسیوٹیکل، زرعی مصنوعات، دفاعی پیداوار اور دیگر اعلیٰ قدر کی مصنوعات کو بھی عالمی منڈی تک پہنچایا جائے۔
پاکستان کا ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہماری معیشت میں پیداواری صلاحیت کے بجائے درآمدی ضرورت کا دباؤ زیادہ رہا ہے۔ توانائی، مشینری اور مختلف صنعتی اشیا کی درآمد کے مقابلے میں برآمدات میں مطلوبہ رفتار سے اضافہ نہ ہو سکا۔ جنوبی کوریا نے بھی ابتدا میں درآمدات کی ضرورت محسوس کی، مگر اس نے درآمد شدہ ٹیکنالوجی اور سرمایہ کو اپنی صنعتی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا۔ یہی فرق وقت کے ساتھ دونوں معیشتوں کے درمیان بڑا فاصلہ پیدا کرتا گیا۔ تاہم جنوبی کوریا کا ماڈل مکمل طور پر مثالی بھی نہیں۔ وہاں تیز رفتار صنعتی ترقی کے ساتھ طویل اوقاتِ کار، شدید مسابقت اور بڑے کاروباری گروپس کے معاشی اثر و رسوخ جیسے مسائل بھی ہیں۔ اس لیے پاکستان کے لیے ضروری نہیں کہ وہ کوریا کی ہر پالیسی کو جوں کا توں اپنائے۔ ہمیں اس کے تجربے سے اصول سیکھنے چاہئیں اور انہیں اپنی ضروریات کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔ پاکستان کے پاس آج بھی وہ صلاحیت موجود ہے جو اسے تیز رفتار ترقی کی طرف لے جا سکتی ہے۔ ہمارے پاس نوجوان آبادی، زرعی وسائل، جغرافیائی محلِ وقوع، قدرتی وسائل، بڑی اندرونی منڈی اور دنیا بھر میں موجود ہنرمند پاکستانی ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ قومی ترقی کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مستقل منصوبے کے طور پر اپنایا جائے۔
اگر پاکستان اگلے چند عشروں کے لیے واضح معاشی پالیسی بنائے، تعلیم اور فنی تربیت کو اولین ترجیح دے، توانائی کے مسائل حل کرے، صنعت کو سہولت دے، برآمدات میں تنوع پیدا کرے، ٹیکنالوجی اور تحقیق پر سرمایہ کاری کرے اور اداروں میں تسلسل و شفافیت پیدا کرے تو ترقی کا سفر دوبارہ تیز ہو سکتا ہے۔
جنوبی کوریا کی کہانی دراصل پاکستان کے لیے مایوسی نہیں بلکہ امید کا پیغام ہے۔ کوریا کے پاس ابتدا میں پاکستان سے زیادہ وسائل نہیں تھے، لیکن اس نے دستیاب وسائل کو ایک واضح قومی سمت میں استعمال کیا۔ پاکستان کے پاس آج کئی ایسے وسائل موجود ہیں جو ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم انہیں کس قدر مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہیں۔
ترقی کسی ایک حکومت، ایک منصوبے یا ایک شخصیت کا کارنامہ نہیں ہوتی۔ یہ نسلوں کی محنت، مستقل پالیسیوں، مضبوط اداروں، معیاری تعلیم اور قومی ترجیحات کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جنوبی کوریا نے یہ مثال عملی طور پر قائم کی ہے۔ اب پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ دوسروں کی کامیابی کا صرف موازنہ کرنے کے بجائے اس سے سبق حاصل کرے اور اپنے لیے ترقی کا ایک ایسا مستقل راستہ اختیار کرے کہ جس سے حکومتیں بدلنے کے باوجود ملکی ترقی کی سمت نہ بدلے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں