ڈگریوں کے ڈھیر اور سماجی شعور
نصاب میں "اخلاقیات اور شہری حقوق” کو لازمی مضمون بنانا ہوبگا۔ ہر کلاس میں ایک گھنٹہ "کردار سازی” کے لیے مختص ہو۔
ڈگریوں کے ڈھیر اور سماجی شعور
تحریر: جوسف علی
ہمارا نظامِ علم آج سب سے بڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کتنے بچے سکول جا رہے ہیں یا کتنے یونیورسٹیوں سے ڈگریاں لے رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ تعلیم قوم کی کردار سازی کر رہی ہے یا نہیں؟ بدقسمتی سے جواب "نہیں” میں ہے۔
ہر سال لاکھوں طلباء ڈگریاں لے کر نکلتے ہیں، لیکن روزگار کی منڈی میں دھکے کھاتے ہیں۔ انجینئرنگ کی ڈگری والا رکشہ چلا رہا ہے، ایم اے پاس نوجوان انٹرویو دے دے کر تھک چکا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ تعلیم یافتہ طبقے میں مایوسی، بے چینی اور ریاست سے بداعتمادی بڑھتی جا رہی ہے۔ ہم نے ڈگری کو علم اور علم کو صرف نوکری کا ٹکٹ سمجھ لیا ہے۔
ہمارے ناقص تعلیمی نظام کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ بچوں کو یہ نہیں سکھاتا کہ تعلیم سے "علم” کی صورت میں کیسے بہرہ ور ہونا ہے۔ ہم رٹا لگواتے ہیں، نمبر دیتے ہیں، پوزیشن دیتے ہیں، لیکن سوچ نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارے پاس سرٹیفکیٹ یافتہ لوگ تو بہت ہیں، لیکن صاحبِ علم بہت کم ہیں۔
عام طور پر علم کے پانچ بنیادی کام بتائے جاتے ہیں جو خود شناسی، زمانہ شناسی، تنقیدی سوچ، اخلاقیات اور کنٹریبیوشن ہیں۔ میں ان پانچوں میں "اخلاقیات” کو پہلے نمبر پر رکھتا ہوں۔ انگریزی میں اسے ‘موریلٹی’ Morality کہتے ہیں۔
دیکھیے، ہمارے تعلیمی اداروں میں "اسلامیات” اور "عربی” کے مضامین ضرور پڑھائے جاتے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے۔ لیکن "اخلاقیات” کا کوئی باقاعدہ مضمون، کوئی باقاعدہ کلاس، کوئی باقاعدہ امتحان نہیں۔ ہم بچے کو نماز کا طریقہ تو بتا دیتے ہیں، لیکن سچ بولنے، وعدہ پورا کرنے، دوسرے کا حق نہ مارنے، لائن میں لگنے اور صفائی کا شعور نہیں دیتے۔ ہم بچوں کا حافظہ تو بڑھا دیتے ہیں، لیکن ہم انہیں انسان بننے کی تربیت نہیں دیتے۔
معاشرے میں تعلیم اور ڈگریاں تبھی فرق پیدا کرتی ہیں جب وہ معاشرے کے آداب اور معیارات کی تعمیر میں حصہ ڈالیں۔ جاپان، کوریا اور ترکی کی ترقی کی بنیاد صرف ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ وہاں کا "سماجی شعور” Civic Sense ہے۔ ان ملکوں کا ہر شہری ذمہ دار ہے۔ کچرا نہیں پھینکتا، ٹیکس چوری نہیں کرتا، وقت کی پابندی کرتا ہے۔ ہمارا علمی معیار یہ ‘سوک سینس’ پیدا نہیں کر رہا۔ ہم ایسے گریجویٹ پیدا کر رہے ہیں جو بہترین سی وی تو بنا لیتے ہیں، لیکن ٹریفک سگنل توڑ دیتے ہیں۔ جو انگریزی میں پریزینٹیشن دے لیتے ہیں، لیکن دفتر میں کرپشن کو "چلتا ہے” کہہ کر جائز قرار دے دیتے ہیں۔
المیہ ہے کہ ہم ذمہ دار، فرض شناس اور ایماندار شہری پیدا نہیں کر رہے۔ کوئی قوم صرف ڈگریوں سے ترقی نہیں کرتی۔ ترقی کے لیے معاشرے کو "ایکٹو ممبرز” چاہیے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ جو سوال کریں، جو غلط پر آواز اٹھائیں، اور جو اپنی فیلڈ میں کچھ نیا "کنٹریبیوٹ” کریں۔
لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم "ڈیڈ افراد” پیدا کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ جو صرف اپنی ذات کی بقا کے لیے جیتے ہیں۔ جس کا مقصد صرف تنخواہ، پروموشن اور ذاتی مفاد ہو، وہ سوسائٹی کو کیا فائدہ پہنچائے گا؟ علم کا بنیادی مقصد ہی "احساسِ ذمہ داری” سکھانا ہے۔ یہ احساس کہ میں اس ملک، اس گلی، اس ادارے کا حصہ ہوں۔ میری چھوٹی سی غلطی بھی اجتماعی نقصان ہے۔
آج دنیا بھر میں ہمارے اخلاق و کردار کا مذاق بن رہا ہے۔ ویزے کے لیے جھوٹے کاغذات، باہر جا کر فراڈ، جگہ جگہ پاکستانیوں کا نام بدنام ہے۔ ہمارے پاسپورٹ کے کمزور ہونے کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ دنیا کو ہم پر اعتبار نہیں رہا۔ ہم نے نوجوان نسل پر ڈگریوں کا بوجھ تو لاد دیا، لیکن کردار کا وزن نہیں دیا۔
سوچیے، اگر کسی کے پاس ایک ڈاکٹر کی ڈگری ہے لیکن رحم نہیں، ایک وکیل کی ڈگری ہے لیکن انصاف کا شعور نہیں، ایک انجینئر کی ڈگری ہے لیکن دیانت نہیں، تو اس ڈگری کا کیا فائدہ ہے؟ یہ ڈگریاں ہمارے معاشرے کو فائدہ پہنچانے کی بجائے اس پر بوجھ بن رہی ہیں۔
ہمیں اپنے نظامِ تعلیم کو فوری طور پر از سر نو ترتیب دینا ہو گا۔ نصاب میں "اخلاقیات اور شہری حقوق” کو لازمی مضمون بنانا ہوبگا۔ ہر کلاس میں ایک گھنٹہ "کردار سازی” کے لیے مختص ہو۔ یونیورسٹیوں میں "کمیونٹی سروس” Community Service ڈگری کی شرط بنائی جائے۔ بچے کو بتایا جائے کہ تمہارا پہلا امتحان مارکیٹ میں نہیں، معاشرے میں ہے۔
ہمیں ایسے کردار چاہیے جن پر ہم فخر کر سکیں۔ ایسے ڈاکٹر جو مریض کو لوٹیں نہیں، ایسے استاد جو بچے کا مستقبل بیچیں نہیں، ایسے افسر جو فائل روک کر رشوت نہ مانگیں۔ اعلی معیار تعلیم یا ڈگری سے نہیں "علم” سے پیدا ہوتا ہے، یعنی ایسا علم جو خود شناسی اور زمانہ شناسی دے۔
اگر ہم نے اب بھی اپنی تعلیم کو صرف "روزگار کا ذریعہ” سمجھا تو ہماری اگلی نسلیں بھی ڈگری یافتہ بے روزگار ہی رہیں گی۔ اور اس سے بڑا المیہ یہ ہو گا کہ وہ "پڑھے لکھے جاہل” ہوں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں۔ ہمیں ڈگریاں چاہیے یا کردار؟ ہمیں نمبر چاہیے یا انسان؟ اگر جواب "کردار اور انسان” ہے، تو پھر ہمارے تعلیمی اداروں کو فیکٹریاں نہیں، "اخلاقیات کی درسگاہیں” بننا پڑے گا۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں