البرٹ آئنسٹائن اور تخیل کی پرواز
جو آج خواب ہے، وہی کل کو حقیقت بنتا ہے۔ کامیابی چاہتے ہیں تو کبھی بھی خواب دیکھنا مت بھولیں۔
البرٹ آئنسٹائن اور تخیل کی پرواز
البرٹ آئنسٹائن کا ایک قول ملاحظہ فرمائیں: "علم آپ کو اے سے بی تک لے جاتا ہے، لیکن تخیل پوری کائنات کی سیر کرا دیتا ہے”۔ کامیابی کے لیے ڈگری ضروری ہے، لیکن دنیا بدلنے کے لیے "تخیل” چایئے۔ انقلاب بھی تعلیم اور ڈگریوں سے نہیں بلکہ سوچ اور تخیل سے برپا ہوتا ہے۔البرٹ آئنسٹائن اس کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔ ان کے پاس نہ کوئی بڑی لیبارٹری تھی، نہ جدید مشین، ان کے پاس صرف ایک تخیل کا سرمایہ تھا، اور اسی ایک چیز نے "نظریہ اضافیت” جیسی انقلاب آفریں تھیوری کو جنم دیا، جس کی پیش گوئیاں آج 100 سال بعد بھی حرف بہ حرف سچ ثابت ہو رہی ہیں۔
ایک مکمل سائنسی نظریہ، ہزار ایجادات کی بنیاد بنتا ہے۔ نظریہ اضافیت کوئی پہیہ، ریڈیو یا انٹرنیٹ جیسی "ایجاد” نہیں تھی۔ یہ خالص ایک نظریاتی تصور تھا۔ مگر آج یہی تصور کاسمولوجی، وقت، خلا اور کائنات کو سمجھنے کی بنیاد ہے۔ بلیک ہول Black Hole
سے لے کر "جی پی ایس” GPS کی دریافت تک، ہر جدید سائنس بالواسطہ طور پر اسی تخیل کی مرہون منت ہے۔
آئنسٹائن کو گزرے 147 سال ہو گئے، مگر ان کے نام کا چرچا آج بھی قائم ہے کیونکہ انہوں نے کتابوں سے آگے سوچنے کا حوصلہ کیا۔ اس مد میں "جاگتے میں خواب دیکھنا” Day Dreaming کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ آئنسٹائن تخیل پر غیرمعمولی یقین رکھتے تھے۔ وہ کہتے تھے: "تخیل علم سے زیادہ اہم ہے۔ علم محدود ہوتا ہے۔ تخیل پوری دنیا کا احاطہ کرتا ہے”:
"Imagination is more important than knowledge. Knowledge is limited. Imagination encircles the world”۔
آئنسٹائن کہا کرتے تھے کہ: "صرف درسی کتب ہی نہیں پڑھو، تخیل میں بھی سفر کرنا سیکھو”۔
بچہ چھت پر لیٹ کر ستاروں کے بارے سوچے۔ انجینئر پل بنانے سے پہلے اسے اپنے ذہن میں کھڑا کرے۔ ڈاکٹر مریض کو صحت یاب دیکھے۔ یہی اصل تخیل ہے۔
سائنس آج مانتی ہے کہ جو بچے اپنے بچپن میں جاگتے میں خواب دیکھتے ہیں، وہ بڑے ہو کر زیادہ تخلیقی اور مسائل حل کرنے والے بنتے ہیں۔ کیونکہ وہ ایسے سوال پوچھتے ہیں جو دوسرا کوئی نہیں پوچھ سکتا۔
ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم نے تخیل کو "وقت کا ضیاع” سمجھ لیا ہے۔ اسکول میں کہا جاتا ہے: "خواب دیکھنا بند کرو، پڑھو”۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر بڑی ایجاد پہلے ایک خواب تھی۔ جہاز اڑنے سے پہلے کسی کے ذہن میں اڑا تھا۔ موبائل بننے سے پہلے کسی نے اس کا تصور کیا تھا۔
آئنسٹائن کے تخیل کے بارے 3 سنہری اصول ہیں۔
اول سوال کرنا سیکھیں چاہے وہ کتنا ہی عجیب و غریب یا ناممکن ہی کیوں نہ ہو، جیسے کہ: "اگر میں روشنی کی رفتار سے دوڑوں تو کیا ہو گا؟” یہ ایک معصوم سوال تھا جس نے نظریہ اضافیت کو جنم دیا۔
دوم یہ کہ حدیں توڑیں جیسا کہ جب دنیا نے کہا "ناممکن ہے”، تو آئنسٹائن نے پوچھا "کیوں اور کیسے ناممکن ہے؟
” سوم یہ کہ تنہائی اور خلوت ہو یا ہجوم ہو، خود کو مثبت اور تعمیری طور پر سوچنے کا عادی بنائیں۔ جب شور ہو عموما نئے آئیڈیاز نہیں آتے۔ جب خاموشی اور سکوت ہو تو تخیل "پرواز” کرتا ہے۔
ہم انسان ہاتھ سے چیزیں بناتے ہیں، لیکن دماغ سے ہم اپنا مستقبل تیار کرتے ہیں۔ دماغ کا سب سے بڑا ہتھیار "تخیل” ہی ہے۔
آج کے نوجوان کو رٹے اور نوکری کے چکر سے کچھ وقت نکال کر صرف سوچنا چایئے۔ وہ مسائل کو نئے زاویئے سے دیکھے۔
جو آج خواب ہے، وہی کل کو حقیقت بنتا ہے۔ کامیابی چاہتے ہیں تو کبھی بھی خواب دیکھنا مت بھولیں۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں