عاصم بخاری کی شاعری میں کربلائی تلازمے
تجزیہ کار راحت امیر نیازی
عاصم بخاری کی تقدیسی اور کربلائی شاعری میں کربلائی تلازمے یعنی وہ الفاظ، علامات، استعارے، شخصیات، واقعات اور اشارات جن کا تعلق واقعۂ کربلا سے جُڑتا ہو ، بہ کثرت پائے جاتے ہیں ۔ان میں لفظ کربلا ،امام حسینؑ ،حضرت عباسؑ ،حضرت زینبؑ ،علم ،فرات ،پیاس ، خیمے ، عاشورا ،شہادت ، نیزہ ، سجدہ ، حق و باطل ، یزید ، وفا ،صبر ، ایثار ، قربانی یہ ، وہ تلازمے ہیں جنہیں عاصم بخاری نے اپنی شاعری میں انتہائی پُر درد اور پُر اثر انداز میں برتا ہے۔بخاری سادات ِ پکی شاہ مردان میانوالی سے ہیں۔کربلا ان کے دل و دماغ میں بستی ہے۔عالمی منظر نامے کو بھی کربلائی فلسفہ کے تناظر میں ہی دیکھتے ہیں۔
شعر ملاحظہ ہو۔
ظلم کے سامنے جو ڈٹ جائے
وہ ہی عاصم حسینی ہوتا ہے
اس مضمون اور فکر کو ایک نئے زاویے سے یوں نبھانےکی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
شعر
کٹ تو سکتے ہیں جھک نہیں سکتے
یہ بخاری ہیں ، کربلا والے
حسنیت کی تاریخ کا نچوڑ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تاریخ کی ورق گردانی کر کے دیکھ لیں۔ہمیشہ حق کے ساتھ بَہتَّر اور کم ہی ملیں گے۔لہذا عصر ِ حاضر کی کربلا میں بھی حسین اور حسینیت آپ کو تنہا ہی ملے گی ، مگر استقامت کے ساتھ۔ ایک شعر
ساتھ ظالم کے، دنیا ہوتی ہے
تنہا کربل ، حسین ہوتا ہے
عاصم بخاری فلسفہ ء کربلا کی تائید تجدید ایک نئے اور رمزیہ پُر عزم انداز میں اپنی پہچان و تعارف کی صورت یوں بیان کرتے ہیں۔
ہم ہیں آل ِ رسول سے عاصم
آپ بیعت کی بات ، کرتے ہیں
اگر چہ حق گوئی کار ِ دشوار ہے مگر عاصم بخاری چوں کہ قلمی جہاد پر یقین رکھتے ہیں۔اس قبیل کےفرد ہیں جو ہمیشہ سچ کا طرف دار رہا ، لہذا وہ اسی خیال اور مفہوم کااظہار کچھ ایسے کرتے ہیں۔
شعر
خوشبو آئے گی میرے شعروں سے
حق صداقت کی تجھ کو کربل کی
کربلائی تلازمے اور علامتیں عاصم بخاری کی شاعری کی جان ہیں۔ حسینیت کا مرکزی نکتہ کچھ اس پیرائے میں بیان کرتے ہیں۔
شعر
ساتھ مظلوم کا ہی دیتا ہے
اک حسینی تو ، کربلائی تو
اسلام کا پرچم مختلف شخصیات کے ہاتھوں سے ہوتا ہوا کربلا میں حضرت عباس علیہ السلام اور ان کے عقیدت مندوں کے ہاتھ میں ہے۔لہذا وفا کا تقاضا ہی یہی ہے کہ حق کی پاس داری کی جائے۔
شعر
حمایت حق کی عاصم ، ہم کریں گے
ہمارے ہاتھ ، میں پرچم حسینی
محرم الحرام سوگ اور دکھ کا موسم ہے۔ہر سمت افسردگی سی چھائی ہے۔دکھ کی کیفیت کا بیان دیکھیں۔
شعر
دس محرم حسین ہے تنہا
دل فسردہ ہے ، کربلا ہے آج
بخاری صاحب اس حقیقت سے بہ خوبی آشنا ہیں کہ حق کا راستہ آزمائشوں کا راستہ ہوتا ہے۔اس میں تکالیف کو ہنس مسکرا کر سہنا ہوتا ہے۔لہذا اس رَہ پر چلتے ہوئے یہ ذہن میں رہے۔
شعر
حق کے رستوں میں مشکلیں ہوتیں
ہم حسینی ہیں ، صبر کرتے ہیں
حق گوئی پر ، زمانہ مخالف ہو جاتا ہے۔ طائف ہو یا شعب ِ ابی طالب تاریخ گواہ ہے۔لہذا ہم نے بھی سچ کا دامن تھام لیا ہے ۔دیکھیں دنیا داروں کی طرف سے کس کس سمت سے تیر نہیں آتا۔
شعر
حق کا عَلم اٹھا تو لیا ہم نے دوستو
کس کس طرف سے آتے ہیں اب تیر دیکھیے
واقعی اگر بخاری کی شاعری کا بہ غور مطالعہ کیا جائے تو اس کی تقدیسی و کربلائی شاعری کے علاوہ مختلف زایوں سے یہ عالمگیر موضوع زندگی کے مختلف پہلوؤں اور حوالوں سے ان کے حیات بخش اور حیات آموز انداز میں پایاجاتا ہے۔یہاں انھوں کوفے اور مدینے کے لفظ کو وسیع اور تاریخی تناظر میں کنایتہ” برتا ہے۔
شعر
دل تمنائی تھا، مدینے کا
عمر کوفے میں ،اپنی سب گزری
واقعہء کربلا نےایک ایسا پیغام دیا جس نے فکری منظر نامہ بدل کے رکھ دیا ہے۔کربلا میں زندگی اور موت کا فلسفہ بالکل واضح طور پر سامنے آ گیا ہے کہ جسم اور کردار کی کتنی اہمیت ہے۔
شعر
موت کا مفہوم بھی میری سمجھ میں آ گیا
کربلا سے پایا ہے میں نے سراغ ِ زندگی
کربلا میں عظمتیں اگر ملیں تو قربانی بھی عظیم دی گئی۔ بخاری کے ہاں کمال جذبات نگاری پائی گئی ہے۔ محاکاتی تصویر کشی اور منظر کشی ملتی ہے۔ ایسی العطش کی صدائیں ہم نے کربلائے دہر اور کربلائے عصر میں بھی سنی ہیں۔ اسی بات کی طرف اشارہ دیکھیے۔
شعر
العطش کی صدائیں آتی ہیں
چھوٹے بچے ہیں اور صحرا ہے
حق کے رستے پر چلنے کے لیے جگر گردے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی ذات پر غیر متزلزل یقین لازم ہوتا ہے۔ ورنہ ،دُر مراد ایسے ہاتھ نہیں آتا۔آزمائشوں میں ثابت قدمی ہر اک کے بس کا روگ بھی نہیں ۔بڑے بڑے ڈگمگا جاتے ہیں یہ عظمت صرف امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کے نام ہے۔
شعر
اہل ِ ایماں کو کربلا عاصم
درس دیتی ہے استقامت کا
مَشی ،ہو یا اربعیں امام ِ حسین علیہ السلام کی عظیم قربانیوں کی عظیم یادیں ہیں۔
شعر
کربلا جو ، بے گنہ مارا گیا
آج ہے چہلم اسی مظلوم کا
عاصم بخاری نے کربلائی شاعری کو آفاقی زاویے سے لیا ہے۔یہ آدمیت اور انسانیت کے لیے پیغام ہے
یہ کربلائی شاعری صرف تاریخی واقعے کی یاد نہیں بل کہ ظلم کے خلاف مزاحمت، حق پر استقامت، وفاداری، صبر اور قربانی جیسے آفاقی انسانی اقدار کی بہترین علامت ہے اور عاصم بخاری کی شاعری میں کربلائی موضوع کے بیش تر استعارت اور تلازمے بدرجہ ء اتم موجود ہیں
***

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں