پہلے آپ حقدار تو بنو
ایک دن سخت پیاس لگی تھی۔ میں ساتھ ہی ایک مسجد میں داخل ہو گیا۔ باجماعت نماز ہو چکی تھی، اور اگلی صف پر قرآن پاک کے نسخے تلاوت کے لیئے رکھے تھے۔ قرآن مجید کے ہر سٹینڈ (ریئل) کے ساتھ پانی کی بوتلیں بھی پڑی تھیں۔ پہلے سوچا کہ پانی اٹھا کر پی لیتا ہوں، پھر خیال آیا کہ پانی تو قرآن پاک پڑھنے والوں کے لیئے رکھا ہے، میں یہ پانی پینے کا تبھی حقدار ہوں، جب میں بھی قرآن پاک کی تلاوت کروں۔
اس ایک لمحے نے زندگی کا سب سے بڑا سبق دیا۔ دنیا میں ہر چیز کو حاصل کرنے کا ایک "میرٹ” ہے۔ آپ کسی چیز کو تبھی حاصل کرتے ہیں، جب آپ اس میرٹ پر پورا اترتے ہیں۔ حقدار بنے بغیر خواہش کرنا خود فریبی ہے۔
ہم زندگی میں اکثر وہ چیز مانگتے ہیں جس کی ہمیں شدید ضرورت ہوتی ہے، لیکن ہم اس کے حصول کے لیئے مطلوبہ قیمت نہیں چکاتے۔ ہم نوکری چاہتے ہیں مگر مہارت نہیں رکھتے۔ ہم عزت چاہیے لیکن کردار نہیں رکھتے۔ ہمیں سکون چاہیے مگر عبادت نہیں کرتے۔
دنیا کے نظام کا اصول ایک ہی ہے۔ ارشاد ربانی ہے: "انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے سعی کی” (سورہ النجم آیت نمبر 39)۔ کامیابی کا دروازہ محنت کی کنجی سے کھلتا ہے۔ جس نے راتیں جاگ کر پڑھا وہی ڈاکٹر بنا۔ جس نے محنت کی، پسینہ بہا کر کاروبار کیا وہی کامیاب تاجر بنا۔ جس نے نفس کو مارا وہی ولی بنا۔
ہم زندگی میں اکثر و بیشتر وہ چیز بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں، جس کی ہمیں شدید ضرورت ہوتی ہے، لیکن ہم اسے حاصل کرنے کے حقدار نہیں ہوتے۔ ہمیں دنیا کی کسی چیز کی طلب اسی صورت میں کرنی چایئے جب ہم اسکی قیمت و قدر کے برابر محنت اور جدوجہد کریں۔ تکالیف اٹھائے بغیر سکھ نہیں ملتا۔ نہ ہی دنیا کی کوئی چیز مفت ملتی ہے۔ ہر چیز اور کامیابی کی کچھ قیمت چکانی پڑتی ہیں۔
یہ سچ ہے کہ کچھ چیزیں ہمیں بغیر محنت کے مل جاتی ہیں۔ والدین کی دعا، استاد کی شفقت، اچانک کوئی موقع، اور رزق کا دروازہ ہماری قابلیتیں نہیں، یہ اللہ کی "رحمتیں” ہے۔
انسان کو جو کامیابیاں قسمت یا آسانی کے ساتھ اور کچھ کیئے بغیر ملتی ہیں، وہ ہمارے لیئے قدرت کی طرف سے "کرم” ہوتی ہیں۔ ہمیں چایئے کہ کوئی چیز ہمیں جتنی آسانی سے ملے ہم اسے اتنی ہی آسانی کے ساتھ دوسروں میں تقسیم کریں۔ دوسروں کو اپنی چیزوں اور کامیابیوں میں شامل کرنا ہی "شکران نعمت” ہے۔
اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کے مالک ہم نہیں۔ چیزوں کی ملکیت صرف ذات باری تعالٰی کی ہے، جس نے چیزوں کو تخلیق کیا ہے۔ ہم چیزوں کے نگہبان، داروغے اور زیادہ سے زیادہ "تقسیم کنندہ” ہیں۔
جن چیزوں اور کامیابیوں کو آگے تقسیم نہیں کیا جاتا اور ان میں دوسروں کا حصہ نہیں نکالا جاتا، وہ ایک تو دیرپا نہیں ہوتیں، اور انہیں اپنی ہی ذات تک محدود رکھا جائے تو وہ ہمارے لیئے دنیا اور آخرت میں "عذاب” بنتی ہیں۔
حقیقی اور سچی کامیابی وہی ہے جسے خون جگر سے حاصل کیا گیا ہو۔ کوئی کامیابی کا حقدار بھی اسی صورت میں ٹھہرتا ہے، جس کے حصول پر اس نے دن رات ایک کیا ہو۔
انگریزی کا یہ محاورہ کہ: "پہلے حقدار بنو پھر خواہش کرو” First you deserve then you desire کو اسی لیئے پسند کرتا ہوں کہ "میرٹ” پر چیزوں کے حصول کا یہی فطری اور قابل قدر درجہ ہے۔
ہمارا اجتماعی المیہ ہے کہ ہم ہر وہ چیز چاہتے ہیں جس کے ہم حقدار نہیں۔ یہ میرٹ کا قتل یے۔ بدقسمتی سے ہماری قوم کا سب سے بڑا زخم یہی ہے کہ ہم نے میرٹ کا گلہ گھونٹ دیا ہے۔ جب حقدار کو حق نہیں ملتا تو نااہل لوگ اوپر آ جاتے ہیں، اور جب نااہل اوپر آتے ہیں تو پورا نظام "تباہ” ہو جاتا ہے۔
ہم نے محنت کے بغیر کامیابی حاصل کرنے کی عادت ڈال لی ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ بغیر بیج بوئے فصل اگ آئے، پھلے پھولے اور ہم اسے کاٹ لیں۔ بغیر دریا میں چھلانگ لگائے کبھی کنارا نہیں ملتا۔
اللہ تعالی رحیم و کریم ہے، وہ بغیر مانگے بھی دیتا ہے۔ لیکن جو درجے ہیں، جو مقامات ہیں، وہ محنت ہی سے ملتے ہیں۔ انسانی جدوجہد اور محنت شاقہ کا یہ بہترین انعام ہے۔ اس قسم کی کامیابی انصاف پر مبنی ہوتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں میرٹ کا گلہ گھونٹ دیا گیا ہے جس وجہ سے ہمارے ہر دوسرے کام میں اقرباء پروری، رشوت اور دھوکہ دہی عام ہو گئی ہے۔ کرپشن کی بنیادی وجہ بھی چیزوں اور کامیابی کے حاصل کرنے میں "میرٹ” کا خاتمہ ہے۔
بنی نوع انسان فطرتا آرام پرست ہے۔ وہ "شارٹ کٹ” ڈھونڈتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ محنت کم ہو اور پھل زیادہ ملے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں اور وہی افراد ترقی کرتے ہیں جو آرام کو لات مار کر محنت کا راستہ چنتے ہیں۔
گرمی کے موسم میں پکنے والا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ خون جگر سے حاصل کی گئی کامیابی کا مزہ ہی الگ ہے۔ وہ کامیابی عزت دیتی ہے، نیند دیتی ہے، اور سکون دیتی ہے، کیونکہ ایسی کامیابی کے حصول میں آپ دل سے مطمئن ہوتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے اسکی قیمت ادا کی ہوتی ہے۔ اللہ سے جو بھی مانگو، پہلے سوچو کیا آپ اس کے حقدار ہو؟ اگر جواب "ہاں” میں ہے تو مانگنے کی دیر ہے، ملنے کی دیر نہیں۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں