ہمارے رول ماڈل نبی مکرم ﷺ ہیں
آج کا نوجوان کنفیوز ہے۔ وہ سوشل میڈیا کھولتا ہے تو سوال کرتا ہے: "میں کس کو فالو کروں؟”
انسٹاگرام پر لاکھوں فالوورز والے، یوٹیوب پر وائرل ہونے والے، مہنگی گاڑیوں اور برانڈز والے ہیں، یہ سب خود کو "رول ماڈل” کہتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے: کیا فالوورز کی تعداد کردار کی گارنٹی ہے؟ کیا وائرل ہونا ہی کامیابی ہے؟
اصل بات کسی کو فالو کر کے اپنی اور معاشرتی اصلاح کرنا ہے۔ اور اصلاح کا واحد پیمانہ "کردار” ہے۔ ہم مسلمان ہیں۔ ہمارے رول ماڈل، ہمارے ہیرو، ہمارے آئیڈیل صرف اور صرف محمد ﷺ ہیں۔ وہ نبی بھی تھے، لیڈر بھی، تاجر بھی، شوہر بھی، باپ بھی، سپہ سالار بھی، اور سب سے بڑھ کر "رحمت للعالمین” بھی تھے، اور آج بھی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خود فرمایا: _”بے شک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے”۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم مسلمان نہ قرآن پاک کی تعلیمات پر مکمل عمل کرتے ہیں، نہ سیرت طیبہ ﷺ کو فالو کرتے ہیں۔ نتیجہ بے سکونی، بے راہ روی، اور شناخت کے بحران کی صورت میں نکلا ہے۔ آج بھی ہماری "نجات” کا واحد ذریعہ قرآن و سنت ﷺ ہے۔ ماسوائے قرآن و سنت ﷺ کے دنیا کی کوئی دوسری کتاب، کوئی کورس، اور کوئی موٹیویشنل اسپیکر ہمارے اس خلا کو پر نہیں کر سکتا ہے۔
آج کے نقلی رول ماڈل کی نشانی کیا ہے؟ وہ صرف لائکس اور شیئرز لیتا ہے۔ وہ صرف اپنی زندگی دکھاتا ہے، دوسروں کی زندگی نہیں سنوارتا۔
وہ کہتا ہے "میری طرح بنو” لیکن یہ نہیں بتاتا کہ "اچھا انسان کیسے بننا ہے۔ جبکہ اصل رول ماڈل وہ ہے جو کردار دے۔ جو گر کر اٹھنا سکھائے۔ جو عروج میں عاجزی سکھائے۔
سچے رول ماڈل کی 3 نشانیاں ہیں۔ نوجوان نسل کو رول ماڈل چنتے وقت 3 باتیں دیکھنی چاہیے:
اول وہ خود کر کے دکھائے۔ صرف تقریں نہ کرے۔ عمل سے ثابت کرے۔ ہمارے اصل ہیرو اور رول میڈل نبی پاک ﷺ نے 23 سال میں ایک پورا معاشرہ بدل کر دکھایا۔
دوم وہ دوسروں کے کام آئے۔ اپنی کامیابی کو قوم کے لیے وقف کرے۔ اپنی دولت، علم، شہرت کو "صدقہ جاریہ” بنا دے۔
سوم وہ اصول نہ بیچے۔
مشکل میں بھی سچ بولے۔ عروج میں بھی زمین سے جڑا رہے۔ طاقت ملنے پر بھی رحم کرے۔
یہ تینوں صفتیں صرف نبی کریم ﷺ کی ذات مبارکہ میں مکمل طور پر موجود ہیں، بلکہ آپ محمد الرسول ﷺ کائنات کی ہر اعلی صفت کا نمونہ ہیں۔
جب نبی پاک ﷺ پر پہلی وحی اتری تو آپ ﷺ رسالت کی ذمہ داری کے بوجھ تلے پسینے سے شرابور ہو گئے۔ آپ ﷺ گھر آئے اور چادر اوڑھ کر لیٹ گئے۔ تب وحی نازل ہوئی جس کا ترجمہ اور مفہوم ہے: "اے کالی کملی اوڑھنے والے! اٹھو اور دنیا کو میرا پیغام پہنچاؤ”۔
غور کریں۔ اللہ نے کیسے نبی پاک ﷺ نبوت، رہنمائی اور امامت کا کالم لیا۔ فرمایا "اٹھو”۔ دنیا کا کوئی بھی سچا لیڈر لیٹ نہیں سکتا۔ رول ماڈل سوتا نہیں، وہ قوم کو جگاتا ہے۔
آج پیغام ہے۔ اٹھو۔ اپنے گھر سے شروع کرو۔ اپنی کلاس سے شروع کرو۔ اپنی سوشل میڈیا ٹائم لائن سے شروع کرو۔
آج ہمیں کیسے نوجوان چاہیے؟
ہمیں ایسے نوجوان چاہیے جو فخر سے کہیں:
"میں ٹک ٹاک اسٹار نہیں، میں نبی پاک ﷺ کا سچا امتی بنوں گا۔”
"میں انفلوئنسر نہیں، میں استاد بنوں گا۔” کیونکہ نبی کریم ﷺ کو "معلم” ہونا سب سے زیادہ پسند تھا۔
"میں برانڈ کے کپڑے نہیں پہنوں گا، میں اپنی برانڈ ویلیو اپنے کردار سے بناؤں گا۔”
"میں انجینئر بن کر ملک کا مسئلہ حل کروں گا، شکایت نہیں کروں گا۔”
ہمیں وہ ڈاکٹر چاہیے جو مریض کو دوا کے ساتھ دعا بھی دے۔
وہ بزنس مین چاہیے جو منافع کے ساتھ زکوٰۃ اور وظیفے بھی دے۔
وہ کھلاڑی چاہیے جو میچ جیت کر گراؤنڈ بھی صاف کرے۔
آپ کا پروفیشن جو بھی ہو، آپ کی اصل شناخت یہ ہے: "آپ کتنے اچھے انسان ہیں”۔
والدین اور اساتذہ کا کردار
اعلی پائے کے رول ماڈل تیار کرنا والدین اور اساتذہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
ہم بچے کو کہتے ہیں "بڑا افسر بنو، بڑا بزنس مین بنو”۔ لیکن "بڑا انسان بنو” کوئی نہیں کہتا۔
ہم بچے کے ہاتھ میں مہنگا موبائل تو دے دیتے ہیں، مگر اس کے ہاتھ میں "سیرت النبی ﷺ” کی کتاب نہیں دیتے۔ ہم اسے گیم کھلانا سکھاتے ہیں، لیکن سیرت سے "ہمدردی اور انصاف” کا گیم نہیں سکھاتے۔
یاد رکھیں، رول ماڈل گھر سے شروع ہوتا ہے۔ اگر باپ سچا ہے، ماں خدمت گزار ہے، استاد مخلص ہے… تو بچے کو باہر رول ماڈل ڈھونڈنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔
آپ خود رول ماڈل بنیں
مولانا رومی فرماتے ہیں: "دنیا کو بدلنا ہے تو پہلے خود کو بدلو۔”
نوجوانو! انتظار مت کرو کہ کوئی مشہور شخصیت آ کر آپ کو رول ماڈل دے گی۔ آپ خود کسی کے رول ماڈل بن جاؤ۔
اپنی کلاس میں سب سے پہلے مدد کرنے والا بنو۔
اپنے محلے میں سب سے زیادہ بزرگوں کی عزت کرنے والا بنو۔
اپنے سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ مثبت اور سچ بات پھیلانے والا بنو۔
50 سال بعد لوگ آپ کی گاڑی کا ماڈل نہیں پوچھیں گے۔ وہ پوچھیں گے: "اس نے اپنی زندگی میں کیا چھوڑا؟”
اگر جواب "نیکی، علم، اور اچھا کردار” ہے تو سمجھو آپ امر ہو گئے۔
اختتام
نبی مکرم ﷺ سے بڑا "ہیرو” اور "رول ماڈل” نہ کوئی تھا، نہ ہے، نہ ہو گا۔
ان کی سیرت میں سیاست بھی ہے، معیشت بھی، جنگ بھی، صلح بھی، تجارت بھی، عبادت بھی۔ یعنی مکمل ضابطہ حیات۔
اگر ہم نے نبی معظم ﷺ کو اپنا رول ماڈل اور اپنا ہیرو بنا لیا تو یقین رکھیں، ہماری دنیا بھی سنور جائے گی اور آخرت بھی۔
اللہ پاک ہم سب کو قرآن و سنت ﷺ پر چلنے، سیرت کو پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
Title Photo by Md Amir Umar

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں