کرسٹیانو رونالڈو کا رفاعی کینسر ہسپتال
کرسٹیانو رونالڈو نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ دنیا جانتی ہے کہ کھیل کا عروج وقتی ہوتا ہے۔ ٹرافی ایک دن پرانی ہو جاتی ہے، ریکارڈ دوسرے دن ٹوٹ جاتے ہیں، اسٹیڈیم کی تالیاں اگلے میچ میں کسی اور کے نام ہو جاتی ہیں۔ مگر انسانی فلاح کا کوئی کام کیا جائے تو وہ "صدقہ جاریہ” بن جاتا ہے، جو نسلوں تک چلتا رہتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے کھلاڑی میدان میں ہیرو ہوتے ہیں، لیکن جو میدان سے باہر انسانیت کے ہیرو بن جائیں وہ امر ہو جاتے ہیں۔
کرسٹیانو رونالڈو جہاں فٹبال کی تاریخ کا بادشاہ تھا، اب انسانیت کی خدمت کا خادم بن گیا ہے۔ رونالڈو کے نام پر 5 بار Ballon d’Or کا اعزاز ہے، اسکے کروڑوں مداح ہیں، اربوں کی دولت ہے، لیکن اسکا فٹبال ورلڈ کپ جیتنے کا خواب ادھورا رہ گیا اور وہ گروانڈ سے روتا ہوا نکلا۔ رونالڈو خوش قسمت ہے کہ اس نے کینسر ہسپتال قائم کرنے کا وعدہ پورا کر کے ورلڈ کپ جیتنے سے بڑا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔
ورلڈ کپ 2026ء کے آغاز پر رونالڈو نے کہا: "یہ میرا آخری ٹورنامنٹ ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد میں اپنے ملک پرتگال میں ایک کینسر ہسپتال بناؤں گا۔”
اور انہوں نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا۔ پرتگال کے شہر "فونچال” میں اس جدید کینسر ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا۔ افتتاح کے موقع پر رونالڈو کی آنکھیں نم تھیں۔ انہوں نے کہا:
"میں نے اپنے کیریئر میں وہ سب کچھ حاصل کیا جس کا خواب دیکھا تھا۔ صرف ایک افسوس ہمیشہ رہے گا کہ میں اپنے ملک کے لیے ورلڈ کپ نہیں جیت سکا۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ ہماری نئی نسل کے کھلاڑی یہ خواب ضرور پورا کریں گے۔ میری سب سے بڑی خواہش انسانیت کی خدمت ہے۔”
رپورٹس کے مطابق یہ ہسپتال دنیا کے بہترین کینسر مراکز میں شمار ہو گا۔ یہاں ہر مذہب، ہر قوم، ہر ملک کے مستحق مریضوں کا مفت علاج ہو گا۔ جو علاج افورڈ نہیں کر سکتے، رونالڈو کا یہ ہسپتال ان کے لیے امید بنے گا۔
رونالڈو نے فٹبال سےشہرت پائی، بہت عروج دیکھا، دولت دیکھی، شہرت دیکھی۔ لیکن اس کو ایک کمی محسوس ہوئی۔ وہ کمی تھی "انسانی خدمت” کی۔رونالڈو نے دنیا میں کینسر کے مریضوں کی بے بسی دیکھی۔ تو اس نے فیصلہ کیا کہ اپنی شہرت کو پیسے کمانے کی بجائے جان بچانے پر لگائے گا۔
یہی فرق ہے عام کھلاڑی اور لیجنڈ میں ہوتا ہے۔ عام کھلاڑی ریکارڈ بناتا ہے۔ لیجنڈ تاریخ بناتا ہے۔ انسان زندگی میں جتنا بھی عروج حاصل کر لے، اسے اطمینانِ قلب صرف دوسروں کے دکھ دور کر کے اور انہیں خوشیاں دے کر ملتا ہے۔ انسان خدمت عظیم الشان اور "باعث رحمت” جذبہ ہے۔ بینک بیلنس سے اتنا سکون نہیں ملتا، جتنی انسانی فلاح کے کام سے دعائیں اور سکون ملتا ہے یعنی خوشی پانے کے لیے جتنی نیکیاں کام آتی ہیں، اتنا سرمایہ نہیں آتا۔ روحانی ترقی ہی میں حقیقی سکون ہے۔
آج ہم نوجوانوں کو بتاتے ہیں: "بڑا بزنس مین بنو، بڑا افسر بنو”۔ لیکن کوئی نہیں بتاتا کہ "بڑا انسان بنو”۔ رونالڈو نے ہمیں یہ تاریخی سبق دیا۔
ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم کامیابی کو صرف اپنے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اصل کامیابی یہ ہے کہ اپنی کامیابی کو دوسروں کی کامیابی بنا دیں۔ یہ صدقہ جاریہ ہے۔
مولانا رومی فرماتے ہیں: "خدا کو پانے کے تمام راستے انسانی خدمت سے ہو کر جاتے ہیں۔” سوچیں، 50 سال بعد رونالڈو نہیں ہوں گے، تب بھی رونالڈو ہسپتال میں کوئی ماں، کوئی بچہ، کوئی باپ علاج کروا رہا ہو گا۔ اور وہ انہیں دل سے دعا دے گا۔ انسان کی یہی اصل "میراث” ہے۔
ہمیں بھی زندگی میں ترقی کرنی چاہیے۔ اور جب اللہ توفیق دے تو صدقہ جاریہ کا کوئی کام ضرور کرنا چاہیے۔ کوئی اسکول، کوئی ہسپتال، کوئی کنواں، کوئی وظیفہ۔ چھوٹا ہی سہی، لیکن مستقل ہو۔
فٹبال ورلڈ کپ ایک ہے۔ لیکن "انسانیت کا ورلڈ کپ” روزانہ کھیلا جاتا ہے۔ اس ورلڈ کپ میں نہ کوئی ہارتا ہے نہ جیتتا ہے۔ اس میں جو دوسرے کے آنسو پونچھتا ہے وہی فاتح ہے۔
اللہ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم بھی اپنے حصے کا چراغ جلا سکیں۔ کیونکہ مرنے کے بعد قبر میں نہ ٹرافیاں جائیں گی، نہ میڈل۔ وہاں صرف وہ نیکی جائے گی جو ہم نے کسی کے کام آ کر کی ہو گی۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں