آؤ میکسیکو Mexico چلیں
یہ عجیب رنگ ڈھنگ کا ملک ہے۔ ایک طرف غربت، گلیوں میں رنگین مکان، اور دوسری طرف دنیا کا سب سے خطرناک منشیات کا مافیا بھی اسی ملک میں ہے۔ یہاں ایک طرف تہواروں کا شور ہے تو دوسری طرف صحرا جیسی خاموشی بھی اسی ملک کا حصہ ہے!
لیکن یہی میکسیکو ہے جہاں 1995ء میں ایک غریب خاندان کا بیٹا "کارلوس سلم روز” بل گیٹس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے، دنیا کا امیر ترین آدمی بنا۔ جی ہاں، میکسیکو سٹی کے ایک درمیانے گھر میں پلنے والا لڑکا جس نے "ٹیلمیکس” Telmex اور "امریکہ موویل” América Móvil کے ذریعے پورے لاطینی امریکہ کی ٹیلی کام پر قبضہ کر لیا۔ 2010 سے 2013 تک وہ فوربس کی فہرست میں لگاتار دنیا کا نمبر 1 امیر آدمی رہا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میکسیکو میں غربت ہے، مگر وہاں مواقع بھی ہیں۔ اگر ہنر اور ہمت ہو تو "کھوپڑیوں کے دیس” میں بھی امارت کی سلطنت کھڑی کی جا سکتی ہے۔
میکسیکو کا 3145 کلومیٹر بارڈر امریکہ سے ملتا ہے۔ دنیا کی سب سے لمبی اسی سرحد پر دنیا کی سب سے بڑی تجارت بھی ہوتی ہے، اور دنیا کی سب سے بڑی ہجرت بھی اسی بارڈر کے ذریعے ہوتی ہے۔ یہ بارڈر میکسیکو کے لیے نعمت بھی ہے اور آزمائش بھی۔ نعمت اس لیے کہ امریکہ کی معیشت سے جڑ کر میکسیکو کی فیکٹریاں چلتی ہیں اور اسی راستے سے جہاں سامان اور منشیات کی سمگلنگ ہوتی ہے، وہان ایشیا سمیت دنیا بھر کے لوگ اسی راستے کو امریکہ جانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اسی میکسیکو نے جون جولائی 2026ء میں تاریخ رقم کی۔ وہ دنیا کا پہلا اور واحد ملک بن گیا جس نے "تیسری مرتبہ فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی” کی۔ 1970 میں پیلے، 1986 میں میراڈونا اور اب 2026 میں لینونل میسی اور دنیا کے نئے ہیرو لامین یامال (میسی ثانی) نے میکسیکو ہی میں ورلڈ کپ کے دوران اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ وہی میکسیکو سٹی کا تاریخی "ازٹیکا سٹیڈیم” Azteca Stadium جس کی گیلریوں میں کبھی فٹبال کے بادشاہوں نے جام اٹھائے تھے، اس بار پھر دنیا بھر کے تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اب اسٹیڈیم جدید تھے، ٹرانسپورٹ وقت پر چل رہی تھی، ہوٹل تیار تھے اور مہمان خوش ہو کر واپس گئے۔
یہ محض جدید دور کا اتفاق نہیں تھا۔ یہ میکسیکو حکومت کی 10 سال کی پلاننگ کا نتیجہ تھا۔ میکسیکو کا اصل خزانہ اس کا فیصلہ اور عمل ہے۔ ہمارے اور میکسیکو کے درمیان فرق صرف ایک ہے۔ ہمارے پاس بھی نوجوان ہیں، ٹیلنٹ ہے، مٹی سونے جیسی ہے لیکن میکسیکو کے پاس ایک ہنر زیادہ ہے کہ: "انہوں نے جو کام کرنا ہو وہ اس کا فیصلہ 10 سال پہلے کر لیتے ہیں اور پھر کر کے دکھاتے ہیں”۔
ورلڈ کپ 2026 کا فیصلہ 2018 میں ہو گیا تھا۔ 8 سال بعد جب وہاں پہلا میچ ہوا تو پوری دنیا نے کہا "واہ”۔ ہمارے ہاں فیصلہ کل پر ٹلتا ہے، کل پرسوں پر، اور پرسوں فائل گم ہو جاتی ہے۔ میکسیکو نے ہمیں سکھاتا ہے کہ قومیں وسائل سے نہیں، عزم اور عمل سے بنتی ہیں۔
میکسیکو میں ایسا دلچسپ اور عجیب و پرکشش کلچر ہے، جو ہر نئے آنے والے کو گلے لگا لیتا ہے۔ وہاں کا کلچر کمال کا دوستانہ ہے۔ یہاں کے باسیوں میں غرور نام کی کوئی چیز نہیں۔ رنگین لباس، ماریاچی کے گیت، دیواروں پر "مورلز” Murals، اور کھانے میں مرچ کی جتنی تندی اتنی ہی میزبانی میں مٹھاس ہے۔ یہاں ” ڈائی ڈے لوس میورٹس” Dia de los Muertos منایا جاتا ہے۔ مردوں کے دن لوگ قبرستان میں جا کر گاتے ہیں، کھاتے ہیں، ہنستے ہیں۔ وہ موت یا مردوں کو دیکھ کر ڈرتے نہیں، بلکہ انہیں دیکھ کر جشن مناتے ہیں۔ یہی خوش مزاجی ان کی زندگی کے ہر شعبے میں پائی جاتی ہے۔
اسی لیے جو بھی میکسیکو جاتا ہے، وہ وہاں کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ وہاں آپ کو کوئی اجنبی نہیں سمجھتا۔ ایک پلیٹ ٹیکو اور ایک کپ کافی میں آپ گھر والے بن جاتے ہیں۔
میکسیکو سٹی میں "ایکسو چملکو” Xochimilco کی نہروں پر رنگین کشتیاں چلتی ہیں۔ پانی کے اوپر سبزیاں اگائی جاتی ہیں۔ وہاں کے باسیوں کو کھوپڑیوں کا جنون ہے کیونکہ موت سے کسی کو خوف نہیں آتا۔ چینی اور چاکلیٹ کی رنگین کھوپڑیاں تحفے میں دی جاتی ہیں۔
وہاں سانپ والا ایک اہرام "چِچِن اِتزہ” ہے جس پر سورج کی روشنی سے ایک بڑے سانپ کا سایہ بنتا ہے۔ یہ 1000 سال پرانی انجینئرنگ ہے۔ میکسیکو میں "گزریوں کا جزیرہ” بھی ہے۔ اسے ایک آدمی نے 50 سال تک نہر سے ملنے والی گڑیوں کو درختوں پر لٹکا کر بنایا تھا۔ آج وہ دنیا کا سب سے "ڈراؤنا سیاحتی مقام” ہے۔
میکسیکو کی سیر سے آپکو سیکھنے کے 3 سبق ملیں گے۔ ایک یہ کہ غربت تقدیر نہیں ہوتی۔ کارلوس سلم روز جیسے محنتی لوگ اسے توڑ دیتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ بڑے کام راتوں رات نہیں ہوتے۔ ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے 10 سال پہلے اینٹ رکھنی پڑتی ہے۔ تیسرا یہ کہ کلچر ہی اصل طاقت ہے۔ جب لوگ مہمان نواز ہوں تو دنیا خود چل کر آتی ہے۔ میکسیکو صرف سیر کے لیے نہیں، سیکھنے کے لیے بھی جانا چایئے۔ یہ سیکھنے کے لیے کہ کیسے ایک قوم اپنی خامیوں کے باوجود دنیا کو حیران کر دیتی ہے۔ فیصلہ ہمارا ہے کہ ہم شکایت کریں گے یا میکسیکو کی طرح کچھ کر کے دکھائیں گے؟

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |