اسرائیلی دانشور نوح ہراری اور انسانی مستقبل
اسرائیلی مورخ یووال نوح ہراری، 24 فروری 1976ء کو حیفہ میں پیدا ہوئے۔ عمر صرف 49 برس ہے مگر انہیں 21ویں صدی کا سب سے بااثر "دانشور” کہا جاتا ہے۔ 17 سال کی عمر میں حیفہ یونیورسٹی جوائن کی۔ 1993-1998 میں تاریخ میں BA اور MA کیا۔ 2002ء میں آکسفورڈ سے PhD کی، موضوع تھا: "قرون وسطیٰ میں جنگ اور امن”۔ 2009ء سے وہ Hebrew University of Jerusalem میں تاریخ اور ارتقائی حیاتیات کے پروفیسر ہیں۔
ہراری نے لکھاری بننے کا سفر 2011ء میں کتاب Sapiens سے شروع کیا۔ پہلے یہ عبرانی زبان میں اسرائیل ہی میں "بیسٹ سیلر” بنی۔ 2014ء میں انگریزی ترجمہ آیا جس کی باراک اوبامہ، بل گیٹس اور مارک زکربرگ نے بھی تعریف کی۔ یہ کتاب 45 زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے۔ 2016ء میں Homo Deus اور 2018ء میں 21 Lessons for the 21st Century شائع ہوئی۔ 2022ء میں بچوں کے لیے Unstoppable Us سیریز لکھی۔ اب تک ان کی 30 ملین سے زیادہ کتابیں فروخت ہو چکی ہیں۔
ہراری کی تینوں کتابیں بنی نوع انسان کے مستقبل پر ہیں۔ وہ ایک ایسے مورخ ہیں جو 70,000 سال پیچھے جا کر انسان کا ماضی بتاتے ہیں، اور 70 سال آگے جا کر اس کے مستقبل کی پیش گوئی کرتے ہیں۔
ان کی پہلی کتاب کا پورا نام Sapiens: A Brief History of Humankind اور دوسری کا Homo Deus: A Brief History of Tomorrow ہے۔ ہراری کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ "انسان باقی جانوروں سے اس لیے آگے نکلا کیونکہ وہ ‘کہانیوں’ پر یقین کر سکتا ہے”۔ ان کے مطابق ملک، پیسہ، کمپنیاں اور مذہب سب "فرضی کہانیاں” ہیں۔ فطرت، پہاڑ اور شیر حقیقی ہیں۔ لیکن ڈالر کی ویلیو صرف اس لیے ہے کہ ہم سب اس کہانی پر یقین کرتے ہیں۔
ہراری کے خیال میں جو انسان خدا بننے کی تگ و دو میں AI، بائیو ٹیک اور ڈیٹا پر انحصار کر رہا ہے، یہی اس کے مستقبل کا سب سے بڑا "خطرہ” ہے۔ وہ 21ویں صدی کے سب سے بڑے مسئلے کو "معانی کا بحران” کہتے ہیں۔
ان کی نظر میں 21ویں صدی کا سب سے بڑا مذہب "ڈیٹا ازم” بنے گا۔ حکومت، گوگل اور میٹا آپ سے زیادہ آپ کو جانیں گے۔ AI کی وجہ سے کروڑوں لوگ "بے کار طبقہ” بن جائیں گے۔ انسان کی معاشی ویلیو کم ہو جائے گی۔ اسی لیے وہ AI کو "نیوکلیئر بم سے بڑا خطرہ” قرار دیتے ہیں۔
ہراری کہتے ہیں کہ انسانی تہذیب ہمیشہ بیانیوں کے نیٹ ورک پر قائم رہی ہے۔ ماضی میں کتاب یا خبر انسان کے ذہن سے نکلتی تھی۔ اب الگورتھم خود طے کرتے ہیں کہ کون سی خبر پھیلے گی، کون سا خیال زیادہ لوگوں تک پہنچے گا اور کون سا "بیانیہ” طاقتور بنے گا۔ یعنی معلومات کا کنٹرول اب انسان کے ہاتھ سے نکل کر AI کے پاس جا رہا ہے۔
ہم نے انٹرنیٹ کو اس امید سے قبول کیا تھا کہ یہ ہمیں زیادہ باخبر اور آزاد بنائے گا۔ مگر ہراری یاد دلاتے ہیں کہ تاریخ میں معلومات ہمیشہ سچائی کی خدمت نہیں کرتیں۔ سلطنتیں، مذاہب اور جدید میڈیا، ہر دور میں معلومات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔
بہت سے مورخین کہتے ہیں کہ ہراری تاریخ کو "اوور سمپلیفائی” کرتے ہیں تاکہ کہانی دلچسپ لگے۔ لیکن وہ ایک آئینہ دکھاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہم کہاں سے آئے، کیا بن چکے ہیں اور کس سمت جا رہے ہیں۔
آسان الفاظ میں: نوح ہراری وہ دانشور ہیں جو آپ کو خبردار کرتے ہیں کہ "آپ 70,000 سال پہلے کے ایک بندر کی نسل ہیں، اور اگلے 70 سال میں AI آپ کی جگہ لے سکتی ہے”۔ ان کی کتابیں پڑھنے کے بعد دنیا کو دیکھنے کا نظریہ بدل جاتا ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |