تیل کی معیاری قیمتوں کا تعین
تحریر: جوسف علی
تیل کسی بھی ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ جب تیل کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کے اثرات براہِ راست اشیائے خوردونوش، ٹرانسپورٹ اور صنعت پر پڑتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تیل کی قیمتوں کا تعین کسی واضح، شفاف اور عوام دوست پالیسی کے تحت کیا جائے نہ کہ روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔
حالیہ دنوں میں جو طریقہ اپنایا جا رہا ہے وہ عوام کے لیے پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ چند روز پہلے تیل کی قیمت میں چند پیسے کمی کی گئی اور فوراً بعد پیٹرول کی قیمت میں 7 روپے 87 پیسے کا یکدم اضافہ کر دیا گیا۔ آئے روز قیمتوں میں یہ رد و بدل نہ صرف صارفین کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرتا ہے بلکہ کاروباری طبقے کے لیے بھی منصوبہ بندی کو ناممکن بنا دیتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں یہ غیر یقینی صورتحال براہِ راست معیشت پر ضرب لگاتی ہے۔
ہمارے ہاں بدقسمتی سے زیادہ تر اضافے ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔ جیسے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک ڈالر بڑھتی ہے، پاکستان میں سو روپے تک اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ مگر جب عالمی سطح پر قیمت کم ہوتی ہے تو جواب ملتا ہے کہ "ابھی کروڈ آئل پہنچے گا، ریفائنری میں صاف ہو کر مارکیٹ میں آئے گا، تب کمی کے ثمرات عوام تک پہنچیں گے”۔ یہ دوہرا معیار سمجھ سے بالاتر ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مہنگائی کا طوفان آتا ہے اور غریب عوام کی قوتِ خرید مسلسل کم ہوتی جاتی ہے۔
موجودہ پالیسی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے عام آدمی کے بجائے صرف آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور اس متعلقہ دیگر مخصوص حلقوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اس دفعہ بھی پیٹرول اور ڈیزل میں اضافہ آئل کمپنیوں اور ایسوسی ایشن کے مطالبات پر کیا گیا۔ یہ حکومت لیوی اور ٹیکسز کی آڑ میں عوام پر بوجھ بڑھاتی ہے جبکہ دوسری طرف اشرافیہ اور بیوروکریسی کو پیٹرول، بجلی اور دیگر مراعات مفت فراہم کرتی ہے۔
اگر حکومت مخلص اور عوام دوست ہے تو اس مسئلے کا حل مشکل نہیں۔ حکومت کو چایئے کہ وہ اپنی پالیسی میں بہتری لائے اور تیل کی قیمتوں کا معیاری تعین کرے۔ اس سے عوام کو براہ راست بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔ قیمتوں کا تعین ہفتہ وار یا ماہانہ بنیاد پر کیا جائے تاکہ اتار چڑھاؤ کم ہو۔ دوسرا اہم قدم یہ ہے کہ اشرافیہ کی مراعات میں کمی کی جائے۔ جن لوگوں کو سرکاری خزانے سے مفت پیٹرول اور بجلی ملتی ہے، ان سہولیات کو محدود کر کے جو بچت ہو گی وہ براہِ راست عوام تک پہنچائی جا سکتی ہے۔
جمہوریت کا بنیادی مفہوم ہی عوام کی فلاح و بہبود ہے۔ ایک حکومت تب ہی مضبوط ہوتی ہے جب وہ عوام کے زخموں پر مرہم رکھے نہ کہ ان سے خون نچوڑے۔ اگر حکومت لیوی کے نام پر عوام کا خون چوسنے والی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور اشرافیہ کی مراعات میں کٹوتی کرے تو تیل سستا ہو گا، مہنگائی کم ہو گی اور عوام کا حکومت پر اعتماد بحال ہو گا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ فیصلہ ساز طبقہ عارضی ریلیف کے بجائے دیرپا معاشی پالیسیاں بنائے۔ تیل کی قیمتوں میں استحکام ہی اصل استحکام ہے۔ بصورت دیگر مہنگائی کا یہ چکر غریب کو مزید غربت کی دلدل میں دھکیلتا رہے گا۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |