ترقیِ اٹک کا سنہری دور
” وہ آیا، اُس نے دیکھا اور فتح کر لیا ” مؤرخ کے قلم نے تاریخ کے اوراق میں یہ الفاظ سکندر اعظم کے لیے لکھے تھے. جس نے ملکوں اور زمینوں کو فتح کیا تھا. لیکن میں یہ الفاظ ایک ایسی شخصیت کے بارے میں لکھ رہا ہوں جس نے اٹک کے باسیوں کے دلوں کو فتح کر لیا ہے. اٹک کی آئندہ لکھی جانے والی تاریخ میں بلا شبہ اُن کا نام بی.این.بوسورتھ سمتھ اور سی.سی گاربٹ جیسے اعلیٰ پائے کے منتظمین کی فہرست میں لکھا جائے گا . بی.این.بوسورتھ سمتھ اولین معمارِ اٹک تھے اور یہ جدید معمارِ اٹک کہلانے کے حق دار ثابت ہو چکے ہیں. 7 جنوری 2023 میں بطور ڈپٹی کمشنر اٹک تعینات ہوئے اور 7 جولائی 2026 تک اس عہدہ پر موجود رہے . چارج سنبھالتے ہی عوامی نوعیت کے بہت سے ایسے منفرد کاموں کی شروعات کیں. جو ابتداء میں ناممکن دکھائی دیتے تھے. مگر اپنی ہمت، بے لوث جذبے، انتھک محنت اور سب سے بڑھ کر عوام کے بھرپور تعاون سے اپنے احداف کو پا لینے میں کامیاب و کامران ٹھہرے. ان کی نیک نیتی اور خلوص اللہ رب العزت کو اس قدر بھایا کہ اپنے خاص لطف و کرم کو شاملِ حال فرمایا کہ خود ان ہی کے ہاتھوں وہ تمام منصوبے ایک ایک کر کے تکمیل آشنا ہو چکے ہیں. جی ہاں آپ بالکل ٹھیک سمجھ رہے ہیں. میں اٹک کے ہر دلعزیز ڈپٹی کمشنر راؤ عاطف رضا صاحب کے بارے میں ہی بات کر رہا ہوں.
جنابِ راؤ عاطف رضا 13 دسمبر 1980 کو ضلع سرگودھا کی تحصیل سلانوالی کے گاؤں چک 124 جنوبی میں راؤ اللہ رکھا کے ہاں پیدا ہوئے. آپ اپنے والدین کی تیسری اولاد ہیں. سب سے بڑی ہمشیرہ سیکنڈری سکول ٹیچر تھیں. جب کہ بڑے بھائی راؤ آصف رضا بھی شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں اور پنجاب گروپ آف کالجز کے ڈائریکٹر اور خود اپنی سکول چین چلا رہے ہیں. راؤ عاطف رضا اپنے والدین کے سب سے چھوٹے فرزند ہیں.
آپ کا خاندان 1947 کے بٹوارے سے شدید متاثر ہوا. جو کہ تقسیم سے پہلے مشرقی پنجاب کے ضلع انبالہ کے دیہات سر دھیاڑی میں آباد تھا اور گاؤں کے نصف رقبے کا مالک تھا. عاطف رضا صاحب کے دادا راؤ عبدالمجید گاؤں کے لمبر دار تھے. اُن کی وفات کے بعد آپ کے والد راؤ اللہ رکھا کو صرف آٹھ سال کی عمر میں گاؤں کا لمبر دار مقرر کر دیا گیا. اور صرف دس سال کی عمر میں اپنا سب کچھ آزادی کے لیے قربان کرتے ہوئے اپنی والدہ، بھائی اور ہمشیرہ کے ہمراہ ہجرت کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا. پنجاب کے مختلف مہاجر کیمپوں میں انتہائی تکلیف دہ اذیتیں برداشت کرنے کے بعد چک 124 جنوبی میں زمین الاٹ ہوئی. آپ کے والد نے انتھک محنت کے بعد اس زمین کو آباد کیا. آپ کی والدہ بھی گورنمنٹ سکول میں ٹیچر تھیں.
راؤ عاطف رضا اپنی بنیادی تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی کا تمام تر سہرا اپنے والدین کے سر سجاتے ہیں. اور اپنی دینی و دنیاوی تعلیم و تربیت اور تمام کامیابیوں کو والدین کے مرہونِ منت گردانتے ہیں. بلا شبہ قابلِ تحسین و ستائش ہیں ایسے والدین جو معاشرے کے لیے ایسی کامیاب و مفید اولاد ورثہ میں چھوڑتے ہیں.
نرسری سے انٹر مینڈیٹ تک تعلیم ائر بیس انٹر کالج سرگودھا سے حاصل کی. اس ادارے میں بہترین راہنما و مربی اُستاد محترمہ میڈم غزالہ راؤ کو قرار دیتے ہیں. انٹر تک بیالوجی کے مضمون میں زیادہ دلچسپی رہی. اور مسیحائی کے شوق میں ڈاکٹر بننا چاہتے تھے مگر بالوجوہ ایسا نہ ہو سکا.
طالب علمی کے دور میں عمر فاروق سے دوستی ہوئی جن کی وجہ سے علم و ادب دوستی میں اضافہ ہوا. عمر فاروق صاحب کے ماموں ملک محمد امیر رانجھا اُس وقت گورنمنٹ کالج سرگودھا کے پرنسپل اور ادب شناس و ادب پرور شخصیت تھے. انہیں کی وجہ سے ڈاکٹر وزیر آغا، ریاض شاہد، ظل حسنین اور عبدالرحمن ڈھابی جیسے ادیبوں اور شعراء کی محفلوں میں بیٹھنے اور مشاعروں میں شرکت کا موقع ملا. ادب کے ساتھ ساتھ تاریخ، فلسفہ خصوصاً اسلامی فلسفہ میں گہری دلچسپی رہی اور ہے. بڑے اسلامی سکالرز کو پڑھا اور سنا. راؤ عاطف رضا فطری ارضیاتی خُوبصُورتی کے دلدادہ ہیں. صحراؤں کی وسعت اور پہاڑوں کی بلندی کو حقیقت کے تناظر میں دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں.
2000 میں بی اے پنجاب یونیورسٹی سے پاس کرنے کے بعد قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے انٹر نیشنل ریلیشنز میں 2003 میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی. 2004 میں انگلینڈ کے مشہور تعلیمی ادارے یونیورسٹی کالج لندن (U C L) میں انوائرمنٹل سائنس کورس میں داخلہ لیا. لیکن ایک سمسٹر کے بعد وطن واپس لوٹ آئے. مقابلے کے امتحان میں حصہ لیا اور کامیاب رہے. اور بطور کامرس اینڈ ٹریڈ آفیسر اسلام آباد میں تعینات رہے. 2009 میں دوبارہ مقابلے کے امتحان میں شریک ہوئے اور کامیاب ہو کر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس جوائن کی. پہلی تعیناتی بطور اسسٹنٹ کمشنر 2010 میں صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹھہ کی تحصیل سجاول میں ہوئی. اور 2015 تک اندرون سندھ میں ہی خدمات سر انجام دیں. یہ بھی شاید ایک ریکارڈ ہی ہو کہ بہ یک وقت چھ تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنر کا چارج اُن کے پاس رہا. اور راؤ صاحب کے بقول یہ اُن کی سروس کا مشکل ترین دور تھا. اسی عرصہ میں شدید سیلاب نے تباہی مچائی. مگر عظم اور حوصلے سے ان مشکلات کا نہ صرف سامنا کیا بلکہ حل نکالا اور عوام کی بھرپور خدمت کی. انٹر نیشنل این جی اوز سے رابطے کر کے عوام تک آسانیاں بہم پہنچائیں. 2014 میں بدین میں تھیلیسیمیا سنٹر بنوایا.
2014 میں ہی راؤ عاطف رضا شادی جیسے خُوبصُورت اور پاکیزہ بندھن میں بندھے. آپ کی اہلیہ بھی مقابلے کے امتحان میں کامیابی کے بعد پولیس میں بطور اے ایس پی شامل ہوئیں. محترمہ جویریہ جمیل اٹک میں بطور ایس پی انویسٹیگیشن فرائض سرانجام دیتی رہیں. یہ بھی ایک اہم اتفاق ہے کہ اس دوران دونوں میاں بیوی بطور ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بھی تعینات رہے. راؤ صاحب کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے.
راؤ عاطف رضا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خلفائے راشدین کے طرزِ حکمرانی سے بہت متآثر ہیں. اور اپنے زمانہءِ طالبعلمی سے ہی عبدالستار ایدھی اور ڈاکٹر رتھ فاؤ کی عوامی فلاحی خدمات کے قائل ہیں. اپنے دین سے سچی محبت رکھتے ہوئے انسانی خدمت پر یقین رکھتے ہیں.
راؤ عاطف رضا نے بطور ڈپٹی کمشنر اٹک 7 فروری 2023 کو چارج سنبھالا. اور پھر مسلسل محنت اور لگن سے اہم ترین اور تاریخی نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا. حکومتی سطح پر سرکاری فنڈز سے جو بھی کام ہوئے وہ اُن کی ڈیوٹی کا حصہ تھے. مگر عوامی مخیر حضرات کے تعاون سے اور ملکی اور بین الاقوامی این جی اوز کے ساتھ مل کر جو تاریخ ساز منصوبے مکمل ہوئے اُن کی وجہ سے راؤ عاطف رضا صاحب کا نام اٹک کی تاریخ میں سنہری حروف کے ساتھ ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے گا. اور میں یہاں انہی کاموں کا ذکر کروں گا جن پر سرکار کی ایک پائی بھی خرچ نہیں ہوئی.
عاطف رضا صاحب نے چارج سنبھالتے ہی تمام شعبوں میں قابلِ ذکر ترقیاتی کام شروع کیے. سرکاری اراضی کا ریکارڈ چیک کروایا اور سرکاری زمین کو غیر قانونی قابضوں سے واگزار کروایا. سب سے پہلے تین میلہ چوک کے قریب 26 کنال زمین حکومت پنجاب کو واپس دلائی. اس اراضی کو 50 سالہ لیز پر منظوری حاصل کر کے 6 مارچ 2023 کو یہاں پودے لگا کر ڈسٹرکٹ پبلک سکول اینڈ کالج کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا. راؤ صاحب کی سچی لگن، شب و روز کی مسلسل محنت، مقامی مخیر حضرات، عوام اور مقامی و بین الاقوامی این جی اوز کے تعاون سے بظاہر ناممکن دکھائی دینے والا یہ عظیم منصوبہ 7 اپریل 2025 کو مکمل ہوا. ڈی. پی ایس میں تین جدید ترین کمپیوٹر لیبز ہیں جن میں بڑی ایل ای ڈیز، 75 سے زائد کمپیوٹر ہیں. اور ایک بڑی اور جدید آلات سے لیس سائنس لیبارٹری ہے. ایک وسیع و عریض چلڈرن لائبریری ہے. اس ادارے میں اس وقت طلباء و طالبات کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور ہزاروں انتظار میں ہیں. 21 کنال پر محیط اس وسیع کمپلیکس میں آئی ٹی پارک، کمیونٹی ایجوکیشن اینڈ سپورٹس کمپلیکس، بیت الحکمۃ جیسے ادارے قائم ہو چکے ہیں. بیت الحکمۃ میں دینی اور عربی لینگویج کورس کروائے جا رہے ہیں. آئی ٹی پارک میں نوجوانوں کے لیے لرن اینڈ ارن پروگرام کے تحت اے آئی، گرافک ذیزائننگ، ویب ڈویلپننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور آن لائن کورسز کروائے جا رہے ہیں. پانچ کنال زمین پر ریڈ کراس اور عوامی تعاون سے خواتین کے لیے نرسنگ کالج زیرتعمیر ہے.
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اٹک میں بھی قابلِ قدر کام کروائے. ڈائلسز سنٹر میں بستروں کا اضافہ اور نئی جدید مشینوں کا اضافہ کیا. تھیلیسیمیا سنٹر کو مزید وسعت دے کر جدید آلات سے مزین کر کے مزید بہتر اور کار آمد بنایا. اس کے علاوہ نادار اور مالی کمزور بیمار بچوں کے لیے دعا ہوم کی بنیاد رکھی جو ابھی مکمل نہیں ہوا.
جی ٹی روڈ سے اٹک کی طرف مڑیں تو آپ کو ایک تعمیراتی شاہکار دروازہ دکھائی دے گا. فن تعمیر کا یہ خُوبصُورت نمونہ بھی راؤ عاطف رضا صاحب کے ذوقِ جمالیات کا عکاس ہے. باب اٹک اور اس کے ارد گرد راشد منہاس شہیدِ پارک 18 کنال پر محیط ہے. یہ سرکاری زمین ناجائز قابضین سے لے کر پاک فضائیہ کے تعاون سے تعمیر کیا گیا ہے. یہاں پر پارک، مسافر شیڈز، مسجد، مسافر خانہ موجود ہے. یہ داخلی دروازہ اور پارک اٹک کی تاریخی شان و شوکت میں خُوبصُورت اضافہ قرار دیا جا رہا ہے.
راؤ عاطف رضا کا اٹک کے عوام کے لئے ایک اور بڑا تحفہ جمخانہ کلب اٹک کی صورت میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا. اسی طرح رئیس خانہ مارکیٹ، خواتین بازار، بوٹا بھٹیوٹ روڈ پر سرسبز و شاداب پہاڑوں کے دامن میں پاکستان پوائنٹ، انتہائی مخدوش حالت میں معدوم ہوتے سنبل پانی بنگلہ کی اصل حالت میں بحالی، پورے ضلع میں سڑکوں پر بس سٹاپس کی تعمیر اور مسافروں کے بیٹھنے کے لیے بینچ لگوائے. پورے ضلع اٹک کے تمام سرکاری سکولوں میں کمپیوٹر لیبز بنوائیں. 2023 میں پہلی دفعہ تمام سکولوں اور سرکاری عمارتوں میں بارش کے پانی کو محظوظ کر کے واپس زمین کے حوالے کرنے کے لیے بالکل نیا آئیڈیا رین واٹر ہارویسٹنگ منیجمنٹ سسٹم متعارف کیا اور عملی طور پر کر کے دکھایا. اس سے زیرِ زمین پانی کی سطح بلند ہوئی. راؤ صاحب کا یہ سود مند خیال بہت زیادہ پسند کیا گیا اور حکومت پنجاب نے پورے پنجاب میں اس پر عمل درآمد کروایا.
راؤ عاطف رضا صاحب کو علم و ادب سے ایک خاص دلچسپی اور وابستگی تھی. سکولوں، کالجوں میں طلباء کے ساتھ وقت گزارنے میں دلی خوشی محسوس کرتے تھے. سائنس اور آرٹس کی نمائشیں منعقد کروانا، کتاب میلے اور کھیلوں کا انعقاد اور پھر وہاں جانا اور بچوں اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرنا یہ سب خوبیاں اہلیانِ اٹک کبھی فراموش نہ کر پائیں گے. اٹک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پھولوں کی نمائش، فوڈ گالا کا اہتمام کیا گیا. اکادمی ادبیات کیمبل پور اٹک کا قیام بھی راؤ صاحب کی ادبی دلچسپی کے ثبوت کے طور ہمیشہ یاد رکھا جائے گا.
راؤ عاطف رضا صاحب کے ساڑھے تین سالہ دور کو ایک مضمون میں سمیٹنا ناممکن ہے. ان شآءاللہ جلد ہی مکمل تفصیلات کے ساتھ کتابی صورت میں آپ کے سامنے لاؤں گا.
ریٹائرڈ او رینٹل ٹیچر
گورنمنٹ پائیلیٹ ہائر سیکنڈری اسکول
اٹک شہر
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |