ترقی معکوس
صفدر علی حیدری
اس کا ادارہ روز بروز فروغ پا رہا تھا ۔ اٹھان بتاتی تھی کہ آگے ، بہت آگے جانے والا ہے ۔ مگر جوں جوں وہ آگے بڑھ رہا تھا اس کے ملازمین میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا چلا جا رہا تھا ۔
پھر وہ دن بھی آیا جب اس ادارے نے سب کو پچھاڑ دیا ۔ کوئی اس کے مقابلے میں نہ ٹھہر سکا اور وہ ادارہ اعلی کارکردگی کا ایوارڈ لے اڑا ۔ شہر کے قدیم اور مستحکم اداروں کی موجودگی میں ایک نسبتاً نئے ادارے کا میدان مار لینا واقعی حیرت انگیز امر تھا ، سچ میں ایک بڑا کارنامہ ۔۔۔
آگلے دن ادراے میں ایک بڑی دعوت کا انعقاد ہوا اور جشن فتح منایا گیا ۔ ہر ورکر خوش تھا کہ ان سب کی محنت رنگ لائی تھی ۔
مگر اس سے اگلے روز ادارے کے سربراہ نے پچاس پرانے ورکرز کو بیک جنش قلم نکال دیا ۔ وجہ یہ رہی کہ ان ملازمین نے سربراہ کو اچھی کارکردگی پر بونس دیے جانے کا وعدہ یاد دلایا تھا۔۔۔

میرا نام صفدر علی حیدری ہے ۔ پیدائش علی پور ضلع مظفر گڑھ کی ہے لیکن پلا بڑھا اوچ شریف میں ہوں اور رہائش بھی اسی شہر میں ہے ۔ایم فل اردو ہوں ایک استاد ہوں اور پچھلے تیس سال سے پڑھا رہا ہوں ۔ لکھنے کا آغاز بچپن سے کیا ۔ کالم نگاری بھی کی نامہ نگاری بھی ،پھر افسانہ نگاری اور افسانچہ نگاری کی طرف متوجہ ہوا ۔اب تک میری بارہ کتب شائع ہو چکی ہیں پچیس کتب زیر طبع ہیں شائع شدہ کتب کی تفصیل حسب ذیل ہے میری ایک کتاب کالمز پر ہے ” شہر خواب ” ایک ناول ہے ” عمران بٹہ عمران ” چار کتابیں ادب اطفال پر ہیں ” گھڑی کی ٹک ٹک ” ” ایک پہیے کی سائیکل” ” کمزور چوزا ” ” منٹو میاں ” چار افسانوں پر ہیں "مٹھی میں کائنات” ” ناقابل اشاعت ” ” من و سلویٰ ” ” الف سے یے تک ” ایک افسانچوں پر ہے ” ایک صفحے کے افسانچے ” میری تمام کتابوں پر ایم فل ، ایم اے اور بی ایس کی سطح پر کام ہو چکا ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |