صدائے وطن : مجموعہ کلام بابا جمال بہرائچی
تبصرہ : وصی اللہ قاسمی ، بہرائچ
اس وقت ”صدائے وطن“ نامی کتاب میرے سامنے ہے، جو کہ مجموعہ کلام ہے بابا جمال بہرائچی کا۔ طباعت و اشاعت شاعرِ مرحوم کے وصال کے چار دہائیوں بعد ہو رہی ہے۔ مقام مسرت بھی ہے، اور حیرت و استعجاب بھی۔ مسرت اس بات پر کہ ایک استاد شاعر کی زندگی بھر کی کمائی اور اصل پونجی مصنہ شہود پر آئی۔ حیرت و استعجاب اس لیے کہ چالیس تک ہو گئے اب تک کوئی جوہری پیدا نہ ہوا ؟ جو اس تک رسائی حاصل کرکے اس سے پردہ خمول سے ہٹاتا۔ بھلا کوئی کرتا بھی کیسے ؟ جب کہ کاتب تقدیر نے یہ خوش بختی جنید احمد نور کے حق میں لکھ دی تھی۔
”بابا جمال بہرائچی “ ماضی قریب کے ایک معروف و ممتاز استاد شاعر تھے۔ صرف شاعر نہیں، ماہر سخن شناس، مایہ ناز عالم دین، ساتھ میں نیک نام و خوب سیرت انسان تھے۔ بابا جمال کا پورا نام جمال الدین احمد تھا اور ان کی پیدائش ۱۹۰۱ء میں شہر بہرائچ میں ہوئی۔ انہوں نے عربی و فارسی کی تعلیم حکیم سید ولایت حسین وصلؔ نینوتوی (تلمیذ میر نفیس ابن میر انیس) سے حاصل کی، جو اپنے عہد کے عربی و فارسی کے قادرِ کلام شاعر تھے۔
بابا شاعر کی شکل میں متشاعر نہیں تھے؛ بلکہ فن شاعری کے باقاعدہ اسباق پڑھ کر شاعری شروع کی تھی۔ اس لیے ان کے پاس جو علم تھا وہ پختہ تھا، خام کچھ نہیں تھا۔ اُنھیں علومِ ادبیہ پر مکمل گرفت تھی، وہ اس کے ماله و ماعلیه سے بھرپور واقف تھے۔ ان کے یہاں لفظوں کا وافر ذخیرہ تھا اور قحطِ لفظی کی کوئی صورت نہیں۔ وہ اپنے ہر شعر کو کئی کئی مرتبہ عروض و بیان کی کسوٹی پر پرکھتے تھے۔ اصولِ شعر و سخن پر دسترس رکھنے کی وجہ سے کلام ہر طرح کی ہزہ سرائی سے پاک تھا۔
ترقی پسند تحریک جس میں خدا اور رسولﷺ کی شان میں گستاخی، بڑوں کا تذکرہ دقیانوسی سوچ کے حامل افراد کی حیثیت سے، اور مغربی کلچر کا کھل کر نہ سہی دبے لفظوں ضرور ذکر کیا جاتا ہے، بابا اس تحریک سے متنفر و گزیراں تھے۔ اُن کا شمار قدامت پرستی کے علم بردار شعراء میں ہوتا تھا۔ اُن کے یہاں تجربات و مشاہدات کی بھی کمی نہیں تھی۔
بابا جمال صرف مایہ ناز شاعر ہی نہیں تھے، بلکہ شاعر گَر بھی تھے۔ اُن کا ادبی اسکول چلتا پھرتا ہوا کرتا تھا، ایسا اسکول جو زمان و مکان سے آزاد تھا۔ اُسے نہ کسی عمارت و بلڈنگ کی ضرورت تھی، نہ میز و کرسی اور ٹپائی و چٹائی کی حاجت۔ جب بھی دو چار متلاشیانِ علم و فن اکٹھا ہوتے، مناسب و معقول جگہ دکھائی دیتی؛ بابا کی درس گاہ سج جاتی۔ مدتوں بابا کا اسکول گھنٹہ گھر کے سبزہ زار پر بھی لگتا رہا ہے۔ اُن کے متعدد تلامذہ نے شعر و ادب کی دنیا میں اہم مقام حاصل کیا، جن میں نعمت بہرائچی، رزمی بہرائچی، پارس ناتھ بھرمر اور صابر جمالی خصوصیت کے حامل ہیں۔ موجودہ دور کے معروف شاعر ”شاعر جمالی“ بھی انہی کی ادبی درس گاہ کے شاگرد ہیں۔
بابا کا انداز بیان بڑا دل آویز و دلکش ہے، ایسا دلکش کہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی صفحہ کھل جائے اور پھر ختم کیے بغیر آپ کو چھوڑنے کا جی چاہے۔ کلام مختلف اصناف؛ غزل، نظم، قطعات، نعت و سلام وغیرہ کے تحت منقسم ہے۔ صفحہ ۴۲ سے ۱۰۴ تک مختلف کلام شامل ہے، عنوانات کے ذریعہ تنوع کا اندازہ لگائیے۔ بارش نور، اللہ رے جلوہ زار مدینہ کلی کلی (نعت) انسانیت کے چار چاند( مدح صحابہؓ) ہمت مدرانہ، چتا میں زندگی، زمانے کا چلن، جواب کہکشاں، تصویر آشیاں، عصمت گلزار، محو جمال، گھر پر رہا اور ہمیں کچھ خبر نہیں، اک حشر بپا ہوگا، رونق ویرانہ نہیں، حسن اثر، طلسم زیست، بہار نودمیدہ، شادابی گلشن، وغیرہ وغیرہ. صفحہ ۱۰۵ سے ۱۳۶ تک نظمیات، قطعات اور رباعیات شامل ہیں، ان کی فہرست بھی ملاحظہ ہو۔ آم، جوہر باطنی، روح ادب، جاری زیست، بن ودِّیا کے جینون نسپھل (बिन विद्या के जीवन निसफल)، جنون آزادی، لباس اتحاد، آوازہ اتحاد، تصویر ماضی، عید ملن، وطن کی خاطر وغیرہ وغیرہ ایک نظم بہ رنگ غزل پنڈت ترلوکی ناتھ کول، سابق ایم ایل اے بہرائچ پر بھی شامل ہے، ہر مصرع پنڈت جی کے حروف تہجی سے شروع ہوتا ہے، مثلا پہلا مصرع ت سے، دوسرا ر سے، تیسرا ل سے اسی طرح آخر تک۔
صفحہ ۱۳۹ سے بعد آزادی کی غزلیں شامل ہیں، غزلیں کس انداز کی ہیں، اس کے لیے یہ نمونہ کافی ہوگا۔
یہی دل کے زاوئے تھے جو چھپے نظر سے پہلے
رہے مدتوں یونہی ہم کبھی بے خبر سے پہلے
کیا عزم کس نے محکم تری رہگذر سے پہلے
وہ گیا ہے کون آخر تو بتا ادھر سے پہلے
جو اسیر ساتھ دیتے تو یہ قید و بند کیا تھے
سبھی تیلیاں بکھرتیں مرے بال و پر سے پہلے
یہ کشش یہ ضبط گریہ ، یہ اثر مری فغاں کا
کئی آنکھ ڈیڈ بائیں مری چشم تر سے پہلے
کہاں سر کوئی جھکاتا کسے سجدہ گہہ بناتا
کوئی اور در کہاں تھا ترے سنگ در سے پہلے
اسی میں ایک کلام ”صدائے وطن“ کے نام سے شامل ہے، یہی عنوانِ کتاب ہے۔ پڑھیے اور بابا کے ادبی شاہ پارہ سے حظ اٹھائیے۔
صدائے وطن
زباں زباں پر ہر اک نعرہ فدائے وطن
چمن میں گونج رہی ہے یہی صدائے وطن
خمیر اہل وطن کیا ہے ماسوائے وطن
خاکہائے وطن ہے یہ خاکہائے وطن
تمام قوموں کی ، گنگ و جمن کا اک سنگم
بریں لحاظ مقدم سی ہے رضائے وطن
ملی ہے جو بڑی قربانیوں سے آزادی
وہی ہے حسن کی دیوی یہ مہہ لقائے وطن
یہ مسئلہ بھی حقیقت میں نفسیاتی لہے
رہے وطن میں کوئی کیسے بیوفائے وطن
تمام نعمتیں اس کی ہیں مستعار اس سے
تو کیوں نہ وادئی جنت میں یاد آئے وطن
نظر نظر یہ سر چشمِ امتیاز جمال
جمالیات سے مملو ہیں جلوہ ہائے وطن
صفحہ ۱۵۱ سے پھر نظموں کا سلسلہ شروع ہو کر آخر کتاب پر اختتام پذیر ہوا ہے۔ وطن و حب وطن سے متعلق بھی بہت سا کلام شامل مجموعہ ہے، بلکہ اکثریت اسی پر مشتمل ہے۔ بابا نے جہدوجہد آزادی کو ہوش کی آنکھوں دیکھا تھا، اس لیے ان کے کلام میں جا بجا استخلاص وطن کی فکر اور جذبہ نظر آتا ہے، بہت سی نظمیں نوجوانان وطن کو مخاطب کرکے کہی گئی ہیں۔ جب ہندوستان آزاد ہوا تو بابا نے اس وقت اپنے جذبات و احساسات کا اظہار ایک قطعہ کے ذریعہ کیا، مصرعے ایسے چست کیے کہ وقت تک محفوظ ہو گیا۔ آپ بھی ملاحظہ کیجیے؛
سیکڑوں دن غم کے سانچے میں ڈھلے
مدتوں قید قفس میں ہم رہے
تاروں کی چھاؤں میں آزادی ملی
رات کے بارہ بجے بارہ بجے
یوں تو شعر و شاعری بدنام ہے، کہ جو اس کا ہوا وہ کسی کام کا نہ رہا۔ مگر کچھ لوگ ہیں جو بامقصد شاعری کرتے ہیں، یقیناً بابا جمال انھیں میں سے ایک ہیں۔
صدائے وطن کے اصل مرتب بابا کے فرزند ”نجمی“ ہیں، اشاعت کا اردہ کیا مگر کسی وجہ سے شائع نہ کرا سکے۔ اب یہ جنید احمد نور کی محنتوں سے شائع ہو رہی ہے۔ محنت سے مراد یہ ہے کہ انھوں نے اس کی کتابت و اشاعت میں خاصہ وقت صرف کیا ہے۔ ابتداء میں بابا جمال کی سیرت و سوانح اور فن پر اِن کا ایک مضمون بھی شامل ہے، جو تفصیلی بھی ہے اور معلومات سے پُر بھی۔ اِس سے ایک طرف بابا جمال کے شخصی حالات کا علم ہوتا۔ دوسری طرف ان کی ادبی خدمات سے نقاب کشائی بھی ہوتی ہے۔
مرتب کتاب کے علاوہ، معروف سوانح نگار عرفان عباسی، پروفیسر سید طاہر محمود (سابق چیئرمین قومی اقلیتی کمیشن، دہلی)، مصباح الحسن علوی، ماسٹر عبدالرحیم (شاگردان بابا جمال) کی تحریریں بھی شامل ہیں، جن میں بابا کی شخصیت اور فن پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
بلکل ابتداء میں منشی عبدالوحید مکرانی رزمی بہرائچی کی ایک نظم بابا کی شان میں ”نذر جمال“ کے نام سے درج ہے۔ شان دار و جان دار خراج عقیدت پیش کیا ہے اپنے استاد کو۔
کتاب فخرالدین علی احمد میموریل اکیڈمی کے جزوی مالی تعاون سے شائع ہوئی ہے۔ کتابت کی غلطیاں ہیں۔ مواد کو مختلف عنوانات کے تحت منقسم کرنے سے پہلے ترتیب درست کر لیتے تو ایک ہی قسم کے کلام کے بکھر جانے سے جو نقص ہو محسوس ہو رہا وہ نہ ہوتا۔ بہ ہر حال، اس کے باجود جنید احمد نور شکریہ کے مستحق ہیں کہ انھوں نے صدائے وطن کی اشاعت کے ذریعے بابا جمال کے فن کو ضائع ہونے سے بچا لیا، اب پذیرائی اور قدردانی کا معاملہ عہد حاضر کے ادبی حلقہ کے سپرد ہے۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |