ٹرک کے بمپر کا ڈیزائنر شاہد خان بلینیئر کیسے بنا
واحد پاکستانی نژاد امریکی شاہد خان سنہ 2019ء کے بعد مشہور امریکی جریدے فوربز کی جاری کردہ دنیا کے 400 امیر ترین افراد کی فہرست میں مسلسل 3 سال تک شامل رہا۔ دنیا کی مشہور ترین کمپنیوں ٹیسلا، نیورا لنک اور اسپیس ایکس کے مالک ایلون مسک، آن لائن ریٹیل کمپنی امازون کے بانی اور سابق سی ای او جیف بزوز اور فیس بک کے مالک مارک زکربرگ جیسے افراد کے ساتھ شائع ہونا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔
شاہد خان جب 16 برس کی عمر میں امریکہ گئے تو اس وقت ان کے پاس 500 ڈالر کی معمولی رقم اور جہاز کے ٹکٹ کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔انہوں نے امریکہ میں اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک ریسٹورنٹ میں برتن مانجھنے سے کیا، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے آگے سے آگے بڑھتے چلے گئے !
انجینیئر شاہد خان نے 1980ء میں اپنے سابق مالک سے آٹو پارٹس کی "فلیکس این گیٹ” نامی ایک دیوالیہ کمپنی خریدی تو ان کی کامیابی کی وجہ ان کا ڈیزائن کیا گیا ٹرک کا ایک "بمپر” بنا۔ اس وقت دنیا بھر میں ان کی کمپنی کے 66 کارخانے اور پلانٹس ہیں جن میں 24 ہزار ملازمین کام کر رہے ہیں۔ جب شاہد خان نے یہ کمپنی خریدی، تو وہ دیوالیہ ہو چکی تھی۔ شاہدخان نے نئے سرے سے اسے پاوں پر کھڑا کیا اور آج یہ کمپنی شمالی امریکہ میں فاضل پرزہ جات بنانے والی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ سنہ 2011ء میں فلیکس این گیٹ نے 3 ارب 40 کروڑ ڈالر (یعنی 326 ارب 40 کروڑ پاکستانی روپے) کا مال فروخت کیا۔ امرا کی جائیدادوں کا حساب لگانے والے اس مشہور امریکی رسالہ کے مطابق شاہد خان واحد پاکستانی امریکی ہیں جو سب سے زیادہ معروف ہیں جنہیں امیرترین پاکستانی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ شاہد خان کی داستان جدوجہد بے مثال کامیابیوں سے عبارت ہے۔ وہ سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا نہیں ہوئے تھے بلکہ ان کا تعلق پاکستانی متوسط طبقے سے ہے۔ والد نے عمر بھر کی جمع پونچی خرچ کر کے اپنے ہونہار بیٹے کو امریکہ بھجوایا تاکہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکے۔ جب بیٹے نے تعلیم مکمل کی، تو انہوں نے ابتدائی مزدوری کے بعد اپنے کاروبا کا آغاز کیا اور پھر امریکہ ہی میں بس گئے۔
جنوری 2012ء میں شاہد خان نے امریکی فٹ بال کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ "نیشنل فٹ بال لیگ” (این ایف ایل) میں شامل ٹیم، ’’جیگ وار‘‘ کو 700 ملین ڈالر (تقریباً پاکستانی سات ارب روپے) میں خریدا۔ یوں انھیں یہ منفرد اعزاز حاصل ہوا کہ وہ کسی بھی اقلیتی نسل سے تعلق رکھنے والے پہلے فرد بن گئے جو این ایف ایل میں کسی ٹیم کے مالک ہیں۔ امریکی عوام نیشنل فٹ بال لیگ کے دیوانے ہیں۔ جب اس چیمپیئن شپ کے مقابلے ہوں، تو وہ سبھی کام چھوڑ کر انھیں دیکھتے ہیں۔ ان مقابلوں کا فائنل "سپر بال سنڈے” کہلاتا ہے۔ یہ ایک مخصوص امریکی چیمپیئن شپ ہے، لیکن یہ امریکہ کی آزادی اور کھلے پن کا اعجاز ہے کہ اس میں پاکستانی بھی میں شامل ہے۔
بقول شاہد خان این ایل ایف میں جیگ وارز کو خریدنا ان کی کاروباری صلاحیتوں کا امتحان تھا کیونکہ این ایل ایف میں جیگ وارز ہی 32 ٹمیون میں سب سے زیادہ کمزور ٹیم تھی لیکن شاہد خان کی محنت اور صلاحیتوں نے اسے چار چاند لگا دیئے۔ ایک حالیہ جائزے میں پتہ چلا ہے کہ جیگ وارز جو تمام ٹیموں میں آخری نمبر پر تھی آج امریکیوں اور برطانویوں کی پسندیدہ ترین ٹیم ہے۔ جیکسن ویل شہر کا میٹروپولٹین علاقہ اس کی پسندیدگی کا گڑھ ہے۔ اس علاقہ کی آبادی تقریباً 15 لاکھ ہے۔
امریکی جریدے کے مطابق 2019 ء میں کورونا وبا کے باوجود امریکہ کے چار سو ارب پتیوں کی دولت میں کمی واقع نہیں ہوئی تھی۔ اس وقت بھی شاہد خان کی کمپنی کے اثاثوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 8 فی صد اضافہ ہوا تھا۔ اب بھی 7 اعشاریہ 8 ارب ڈالر سے زیادہ اثاثوں کے ساتھ شاہد خان دنیا بھر کے امیر ترین افراد کی اس فہرست میں 66 ویں نمبر پر ہیں۔
اب شاہد خان ارب پتی تو بن گیا لیکن اسے احساس ہوا کہ سفید فام رئیس اسے کم تر سمجھتے ہیں۔ براؤن رنگ، دیسی قد کاٹھ اور نوکیلی مونچھوں والے شاہد خان کو گورے ارب پتی ماننے کے لیئے تیار نہیں تھے۔ شاہد خان نے یہ دیوار توڑنے کا فیصلہ کیا۔ امریکہ میں "رگبی” کے کھیل کو فٹ بال کہتے ہیں۔ جس روز اس لیگ کا فائنل ہوتا ہے امریکہ میں عام تعطیل ہوتی ہے اور سڑکیں بازار سنسان ہو جاتے ہیں۔
شاہدخان نے سوچا کہ وہ ایک کمزور ٹیم کو خرید کر رئیس ارب پتیوں کی لیگ میں شامل ہو جائے گا۔ یہاں کہانی شاہد خان کی کہانی میں ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب فوربس میگزین والوں نے امریکہ کے 40 امیر ترین افراد میں سے ایک نوکیلی مونچھوں والا پاکستانی بھی شامل تھا۔ جب شاہد خان کی تصویر پہلی بار فوربز کے ٹائیٹل پر چھپی تو شاہد خان پوری دنیا میں ایک برانڈ بن چکا تھا۔
اس نے جیکسن جیگ وارز کی ایسی کایا پلٹی کہ امریکی کھیل کی تاریخ دنگ رہ گئی۔ وہ یہ جانتا تھا کہ یہ چھوٹا شہر کبھی بھی لاس اینجلس یا نیویارک کی ٹیموں جیسا منافع نہیں کما سکے گا۔ یہاں اس نے ایک ایسا "ماسٹر سٹروک” کھیلا جو ایک چھوٹی ٹیم کو بلندیوں پر لے گیا بلکہ شاھد خان کا نام امریکہ سے نکل کر پوری دنیا میں پھیل گیا اور شاہد خان شہرت میں امریکہ کے دیگر عام ارب پتیوں سے بھی آگے نکل گیا۔ وہ اپنی ٹیم کو لندن لے گیا اور ویمبلے سٹڈیم سے ایگریمنٹ کیا کہ امریکن نیشنل لیگ (این ایف ایل) کا ایک میچ ہر سال اس سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ جیکسن جیگ وارز پر ڈالر اور پاؤنڈ بارش کی طرح برسنے لگے۔ لندن کے برطانوی جو پہلے امریکی این ایف ایل کو ایک تماشہ سمجھتے تھے انہیں اس کا ایسا چسکا لگا کہ اب وہ جیکسن جیگ وارز کو اپنی ٹیم ماننے لگے جس کے میچ کی ٹکٹیں آج بھی منٹوں میں فروخت ہو جاتی ہیں۔ جب شاہد خان کے پاس ڈالر اور پاؤنڈ برسنے لگے تو شاہد خان نے بہترین کھلاڑی خریدے۔ شاہد خان نے جیکسن وئیل فلوریڈا کا ایک پورا ڈاؤن ٹاون خرید کر وہاں فائیو اسٹار ہوٹل بنا دیا اور سٹڈیم کو جدید ترین بنایا، اتنی بڑی سکرینیں لگائیں کہ جتنی کسی امریکی نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھیں۔ سٹڈیم میں تماشائیوں کے سوئمنگ پول تک بنا دیئے۔
لندن کے میچوں نے شاہد خان کو انگلینڈ اور یورپ کی اشرافیہ میں شامل کر دیا جس کے بعد ان کے تعلقات برطانوی شاہی خاندان سے بھی بن گئے۔ شاہد خان جو 18 جولائی 1950ء کو لاہور میں پیدا ہوئے اور جو اب تک زندگی کی 75 بہاریں دیکھ چکے ہیں۔ ان کے پاس امریکی شہریت ہے اور وہ فلوریڈا میں مقیم ہیں، اور ابھی ان کی ترقی کا یہ سفر جاری ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |