دکھایا خواب میں جلوہ مجھے ہر بار آقا ﷺ نے
دکھایا خواب میں جلوہ مجھے ہر بار آقا ﷺ نے
عطا کر دی ہے مجھ کو دولتِ بیدار آقا ﷺ نے
یہ شہرِ آرزو پہلے بہت ویران لگتا تھا
مرصّع کر دیے اِس کے در و دیوار آقا ﷺ نے
یہ میری خوش نصیبی ہے، یہی میری سعادت ہے
مرا دل رکھ لیا آ کر مرے دلدار آقا ﷺ نے
میں چشمے ڈھونڈتا پھرتا تھا دشتِ زندگانی میں
مرے من کو تسلّی دی مرے منٹھار آقا ﷺ نے
صحابہؓ اور بھی موجود تھے ہجرت کی شب لیکن
لقب صدیقؓ کا چاہا تھا یارِ غار آقا ﷺ نے
یہ جو عورت کے حق کی بات کرتے ہیں ذرا پڑھ لیں
کیا ہے کس قدر بیٹی سے اپنی پیار آقا ﷺ نے
یہی معراجِ انساں تھی، یہی تھی شانِ پیغمبر ﷺ
وہ جس دن روک دی تھی وقت کی رفتار آقا ﷺ نے
میں ظالم حکمراں کے سامنے کہتا ہوں حرفِ حق
عطا کی ہے مجھے یہ جُرْأَتِ گفتار آقا ﷺ نے
یہ مجھ ناچیز پر اُن کی کرم فرمائی ہے یاور!
حروفِ نعت کو بخشی ہے جو مہکار آقا ﷺ نے
Title Image by Abdullah Shakoor from Pixabay

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں